میرا جسم میری مرضی

(Rafia Batool, Gujrat)
میں۔۔۔ اسی طبقہ کا حصہ ہونے کے ناطے،جس کے "حقوق" کے لیے خواتین آواز اٹھا رہی ہیں،اُن کے ہر slogan کے خلاف ہوں۔ "میرا جسم میری مرضی، تمہارا موزہ میں کیوں ڈھونڈوں،اپنا کھانا خود بناؤ،شادی کے علاوہ بھی بہت کام ہیں " کہنے والیوں پر لعنت بھیجتی ہوں۔ الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاء بِمَا فَضَّلَ اللّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُواْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللّهُ وَاللاَّتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلاَ تَبْغُواْ عَلَيْهِنَّ سَبِيلاً إِنَّ اللّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا سورۃ النساء ۳۴ آیت" 34) مرد عورتوں کے حاکم اور نگراں ہیں ان فضیلتوں کی بنا پر جو خدا نے بعض کو بعض پر دی ہیں اور اس بنا پر کہ انہوں نے عورتوں پر اپنا مال خرچ کیا ہے- پس نیک عورتیں وہی ہیں جو شوہروں کی اطاعت کرنے والی اور ان کی غیبت میں ان چیزوں کی حفاظت کرنے والی ہیں جن کی خدا نے حفاظت چاہی ہے اور جن عورتوں کی نافرمانی کا خطرہ ہے انہیں موعظہ کرو- انہیں خواب گاہ میں الگ کردو اور مارو اور پھر اطاعت کرنے لگیں تو کوئی زیادتی کی راہ تلاش نہ کرو کہ خدا بہت بلند اور بزرگ ہے

میں۔۔۔ اسی طبقہ کا حصہ ہونے کے ناطے،جس کے "حقوق" کے لیے خواتین آواز اٹھا رہی ہیں،اُن کے ہر slogan کے خلاف ہوں۔ "میرا جسم میری مرضی، تمہارا موزہ میں کیوں ڈھونڈوں،اپنا کھانا خود بناؤ،شادی کے علاوہ بھی بہت کام ہیں " کہنے والیوں پر لعنت بھیجتی ہوں۔ الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاء بِمَا فَضَّلَ اللّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُواْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللّهُ وَاللاَّتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلاَ تَبْغُواْ عَلَيْهِنَّ سَبِيلاً إِنَّ اللّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا سورۃ النساء ۳۴ آیت" 34) مرد عورتوں کے حاکم اور نگراں ہیں ان فضیلتوں کی بنا پر جو خدا نے بعض کو بعض پر دی ہیں اور اس بنا پر کہ انہوں نے عورتوں پر اپنا مال خرچ کیا ہے- پس نیک عورتیں وہی ہیں جو شوہروں کی اطاعت کرنے والی اور ان کی غیبت میں ان چیزوں کی حفاظت کرنے والی ہیں جن کی خدا نے حفاظت چاہی ہے اور جن عورتوں کی نافرمانی کا خطرہ ہے انہیں موعظہ کرو- انہیں خواب گاہ میں الگ کردو اور مارو اور پھر اطاعت کرنے لگیں تو کوئی زیادتی کی راہ تلاش نہ کرو کہ خدا بہت بلند اور بزرگ ہے "

جب مرد کو خود اللہ پاک نے قرآن میں گھر کا حاکم کہا ہے اور عورت کو اُس کے تابع کیا ہے۔ تو تم سب کون ہوتی ہو اُس سے یہ حق چھیننے والی۔۔! مرد ،، وہ جو ناز اٹھاتا ہے اپنی عورت کے۔۔ وہ دن بھر مارا مارا پھرتا ہے،اپنے سے اونچے طبقے کی لعن طعن سنتا ہے، کما کے لاتا ہے، بارہ بارہ گھنٹے کام کرتا ہے،،،، کس لیے۔۔؟ صرف اس لیے کہ اُس کی عورت اور اُس کے بچوں کےسارے حقوق پورے ہو سکیں۔۔۔۔۔ اور وہ کسی اور کے سامنے ہاتھ نہ پھیلائیں،شرمندہ نہ ہوں بلکہ سر اٹھا کے جی سکیں کے اُس کا شوہر اُس کا اور اپنے بچوں کا سارا خرچ اٹھاتا ہے اور کبھی نہیں کہتا کہ تم بوجھ ہو میرے پر، کہیں سنا تھا میں نے، کے شادی مرد پر بہت مہنگی پڑتی ہے۔۔ اس سے تو کہیں بہتر ہوتا ہے کہ وہ طوائف کے پاس چلا جائے، چند گھنٹوں کی قیمت ادا کی اور وآپس، نہ کوئی اضافی بوجھ،نہ کوئی ٹینشن،نہ کسی کی فکر،نہ کسی کا نان نفقہ دینے کی پریشانی،بس اپنے نفس کی قیمت ادا کی اور عیش۔۔۔۔۔

لیکن شادی کر کے تو بُرا پھسا نہ وہ، تا عمر بغیر کسی معاوضے کے اتنا suffer کرتا ہے وہ صرف شادی کر کے۔۔۔۔

جب وہ اتنا کرتا ہے تمہارے لیے۔۔۔۔ تو تمھارا یہ فرض نہیں بنتا کے جب وہ باہر کی خود غرض دنیا کو نبٹا کے اپنے گھر کو آئے،تو تم دیکھ کے اُس کی ساری تھکن اتر جائے، تم جب اسے دیکھ کے مسکراؤ تو اُسے لگے جیسے بہار اتر آئی ہو، تم اپنے ہاتھوں سے اُس کے کپڑے استری کر کے اسے تھماؤ تو اُسے لگے باہر کی ساری تھکاوٹ کی گرد اُس سے دور چلی جائے، محبت اور چاہ سے کھانا بناؤ تو وہ سمجھے کے تم بغیر کسی لالچ خود غرغی اور منافقت سے پاک بس اُس کی ہو، اور وہ تمہارے چاہ اٹھاتا چلا جائے،جب وہ لوگوں کے زہر خند رویے سہہ سہہ کر تھکنے لگے تو اُس کی ساری تھکن تم سمیٹ لو، وہ اگر کبھی تلخ ہو جائے تو اُس کو موقع دو کے وہ اپنا غبار نکال سکے،

کیا ہیں ہے ان خواتین کے گھٹیا salogns۔۔۔؟ دس کروڑ خواتین کی نمائندگی کرنے نکلی ہیں یہ دو ھزار بازاری عورتیں۔۔۔! یہ کہتی ہیں کے یہ حقوق ہیں ہمارے کہ ہمیں معاشرے میں ننگا نکلنے کی اجازت دی جائے۔۔! اور کوئی ان پر فقرے بھی نہ کسے۔۔۔! کوئی ایسی عورتوں کو گالی بھی نہ دے۔۔! خیر ان سب کے لئے تو یہی بات کافی ہے کو ان کو صحیح define کرتی ہے۔۔۔۔
اٖذَا لَم تَستَحیِ فَاصنَع مَا شِئتَ۔

(جب تم حیا نہ کرو تو جو چاہے کرو) (الحدیث)

اللہ نے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر اُتارے،، سارے کے سارے مرد تھے ایک بھی عورت نہیں۔۔۔ کیوں۔۔! نعوذ باللہ کیا اللہ سے غلطی ہو گئی کے اُس نے gender discrimination کر دی۔۔۔ کوئی تو وجہ ہو جی آخر۔۔! کے عورت کو طلاق کا حق نہیں دیا بلکہ مرد کے ہاتھ میں تھما دیا۔۔۔۔۔
خدارا اپنے اصل مقام کو پہچانئے۔۔۔ ہم احساسِ کمتری کے مارے ہووے لوگ، borrowed culture،borrowed fashion,and retarded mentally slave ہم۔۔۔۔
ہم خواتین۔۔۔۔ یہ اپنے "حقوق" کے لئے آواز بلند کرنے والی ۲۰۰۰ بیبیاں جو ۱۰ کروڑ بنت خوا کی نمائندہ بن کر آئی ہیں یہ آخر اپنا role model کہتی کسے ہیں۔۔؟اُنہیں۔۔۔۔۔
The ladies who are against 2NATION THEORY.
The ladies who negates IQBAL'S ROLE IN PAKISTAN.
The ladies who abused BEARD AND TURBAN.
The ladies who supports HOMOSEXUALITY.
The ladies who abused Men infront of society...
The ladies who preaches vulgarity.
کون ہیں یہ سب۔۔۔؟ کہاں سے آئی ہیں۔۔۔! کس morality کی بات کرتی ہیں۔۔! کون سی values ہیں ان کی۔۔۔!
جو ایک normal muslim کی سمجھ سے بالاتر تر ہیں۔۔۔۔
ہم تو حوا کی بیٹیاں ہیں۔۔۔ ہم تو اسلام کی دی گئی خدود آزادی اور عزت کو دل و جان سے تسلیم کرنے والی ہیں۔۔۔۔۔

جبکہ یہ معاشرے میں پھیلائی کا رہی وہ گندگی ہیں جس کا ۱۰ کروڑ خواتین کے نہ تو حقوق سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی یہ ہماری demnads ہیں جن کو پورا کرنے اور "حقوق" دلوانے کے لیے پاگل ہوئی جا رہی ہیں۔۔۔۔۔۔

ان سب کی Norms ان کے اندر کی گندگی کی عکاسی کرتی ہیں،ان کے اندر کی آگ ہے جو مدم ہونے کہا نام نہیں لے رہی۔۔۔۔ انہی کی وجہ سے معاشرے میں قندیل بلوچ اور حریم شاہ جیسے ناسور جنم لیتے ہیں۔۔۔
از قلم : ریحاب تصدق
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rafia Batool
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Mar, 2020 Views: 159

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ