ہمارا پیارا خدا

(Abdul Hameed, Lahore)

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

اﷲ آسمان و زمین کا نور ہے۔ قرآن و حدیث میں اﷲ تعالیٰ کے وجودکو خوب کھول کر بیان کر دیا گیا ہے تاکہ وہ نور مومنوں کے دلوں کو منور کر سکے۔
دینِ اسلام کا خلاصہ اور لبِ لباب اﷲ تعالیٰ کی ذات و صفات ہیں اور انہیں کے گرد اسلامی تعلیمات گھومتی ہیں۔ہستی باری تعالیٰ اور اس کی احدیت اسلام کا نہ صرف بنیادی عقیدہ ہے بلکہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ تمام ایمانیات اس پاک ذات سے پھوٹتی ہیں۔ گویا وہ مبدء بھی ہے اور مرجع بھی ۔ وہ اوّل بھی ہے اور آخر بھی ۔
اﷲ تعالیٰ کی ہستی اپنی ذات اور صفات کے لحاظ سے واحد ہے، وہ تمام قدرتوں اور طاقتوں کا مالک ہے۔اﷲ وہ ہستی ہے جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا۔ اس کی ذات میں سب خوبیاں پائی جاتی ہیں اور وہ ہر نقص اور کمزوری سے پاک ہے ۔ہر تعریف اسی کے لئے ہے۔
خدا تعالیٰ کا تصور دنیا میں اتنا ہی پرانا ہے جتنی کہ مذہب کی تاریخ ۔دنیا کی تمام اقوام میں کسی نہ کسی طور پر خدا تعالیٰ کا تصور پایا جاتا ہے جس کا اظہار ان کی روایات و اطوار سے بھی ہوتا ہے۔ خدا کا تصور ان لوگوں میں بھی پایا جاتا ہے جو موجودہ دور میں مذہب سے بیگانہ لگتے ہیں۔ ایک برتر ہستی کی تلاش کا مادہ انسان کی فطرت میں رکھا گیا ۔
قرآنِ کریم ہستی باری تعالیٰ کی ایک عقلی دلیل یہ پیش کرتا ہے ۔فرمایا : اَ فِی اللّٰہِ شَکٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط
(سورۃ ابراہیم آیت:۱۰)
کہ اے لوگو! کیا تمہیں اس خدا میں شک ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے۔
یہ دلیل بہت ہی آسان اور عام فہم ہے۔ حتیٰ کہ عرب کے ایک بدو سے جب کسی نے پوچھا کہ تیرے پاس خدا کے ہونے کی کیا دلیل ہے ؟ اس نے جواب دیا:جب کوئی شخص جنگل میں سے گزرتا ہوا ایک اونٹ کی مینگنی دیکھ کر سمجھ لیتا ہے کہ اس جگہ سے کسی اونٹ کا گزر ہوا ہے،اور جب وہ صحرا کی ریت پر کسی آدمی کے پاؤں کا نشان پاتاہے تو یقین کر لیتاہے کہ یہاں سے کوئی مسافر گزرا ہے، تو کیا تمہیں یہ آسمان مع اپنے سورج اورچاند اور ستاروں کے اور یہ زمین مع اپنے وسیع راستوں کے دیکھ کر خیال نہیں جاتا کہ ان کا بھی کوئی بنانے والا ہوگا؟
اُس عرب بدوّ نے فطرتِ انسانی کی کیسی عمدہ سچی اور پیاری ترجمانی کی۔
’’ حضرت امام شافعی ؒ سے کسی ملحد نے سوال کیا کہ خدا کے وجود کی دلیل کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا یہ سامنے والا شہتوت کا درخت۔وہ حیران ہوکر بولا کس طرح؟حضرت امام نے کہا اس کے پتے دیکھو ۔بظاہر کتنے حقیر نظرآتے ہیں۔لیکن ان کی گوناگوں خاصیتوں پرنگاہ ڈالی جائے تو انسان ورطہ ء حیرت میں ڈوب جاتا ہے ۔ان پتوں کو ہرن کھاتاہے تو مشک بن جاتے ہیں۔ مکھی کھاتی ہے تو شہد بن جاتے ہیں۔کیڑا کھاتا ہے تو ریشم بن جاتے ہیں ۔مگر جب بکری کھاتی ہے تو مینگنیوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں ۔کیایہ بات عقل میں آ سکتی ہے ،کہ ان حقیر پتوں میں یہ متنوع خصوصیات آ پ سے آپ آگئی ہیں۔اور کوئی ان کا پیدا کرنے والا نہیں ہے؟‘‘
(ان دیکھی حقیقتیں ص۲۵،۲۶۔کوثر نیازی ،مطبع اردو پریس لاہو ر طبع دوم فروری۶۳)
ہرسانس تیرے ہونے کا دیتی رہی ثبوت ہر معجزے نے عقل کوحیران کردیا
یوں تو بصیرت کی آنکھ سے دیکھنے والوں کے لئے خدا تعالیٰ کی ہستی کے بارے میں ذرہ بھر شکوک و شبہات نہیں رہتے اور مذہب کی دنیا میں پیش آنے والے ان گنت واقعات نہ صرف خداتعالیٰ کی ہستی بلکہ اس کے اپنے بندوں سے براہ ِ راست قریبی تعلق رکھنے کے بارے میں شاہد ناطق ہیں ۔لیکن اگر سائنسی ریسرچ کے حوالے سے بھی پرکھا جائے، تو وہی حقائق جن کوخدا تعالیٰ کی ہستی سے انکار کرنے والے اپنے دلائل کی بنیاد بناتے ہیں، خود خدا تعالیٰ کی ہستی کو ثابت کرنے کا بہت بڑا ذریعہ بن جاتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ جہاں بعض سائنس دانوں نے خشک منطق کے گورکھ دھندوں میں پھنس کر خدا تعالیٰ کی ہستی سے انکار کیا ہے، وہاں انہیں کے مرتبہ کے دوسرے سائنس دانوں نے اگرچہ خدا تعالیٰ سے ذاتی تعلق کا مزا تو نہیں چکھا لیکن یہ تسلیم کرنے پر ضرور مجبور ہو گئے ہیں کہ اس کارخانہءِ قدرت کی پیچ در پیچ صناعی کا ضرور کوئی خالق ہے۔
یہ دنیا ایک مربوط انتظام کے تحت جاری و ساری ہے۔ یہ دن رات ، موت و حیات، زمین و آسمان کا نظام ایک منتظم اور بالاہستی کے ہاتھ میں خوش اسلوبی سے انجام پا رہا ہے ۔
اﷲ تعالیٰ کی قدرت کے نظارے بے مِثل ، یکتا اور عقل و فہم سے بالاتر ہیں۔ کائنات کا ذرہ ذرہ اس کی صناعی کا شاہکار ہے۔اس کی ہر تخلیق سے اس کی کبریائی ،عظمت اور کمالات کا دل و دماغ کو چکا چوند کرنے والا نور چھلکتا ہے ۔جو کن فیکون کا مظہر ہے ۔
گلستانوں میں پھول اورجا بجا پھلوں کے خوبصورت پودے ،جن سے شہد کی مکھیاں اﷲ کے حکم کی اطاعت میں رس چوستی ہیں۔بھنورے اور خوبصورت تتلیاں پھولوں اور پھلوں پر منڈلاتے ہوئے اﷲ تعالیٰ کی حسین تخلیق کے گن گا گا کر اس کے حضور نذرانہ عقیدت پیش کرتے ہیں ۔پھول فضاؤں میں اپنی خوشبو بکھیر کر اﷲ تعالیٰ کے حضور اپنے حسن اور پاکیزگی کی ودیعت پر شکر ادا کرتے ہیں۔ہوا کے جھونکے سے پھولوں سے لدی شاخیں ہواؤں میں کبھی دائیں کبھی بائیں کو جھکتی ہیں اور رب العزت کے حضور سجدہ ریز ہوکر حمد و ثناء اور تسبیح بجا لاتی ہیں ۔
خالق ِارض و سماء کی شان نرالی ہے اور اس کے رنگ انوکھے ہیں کہیں تو حدِ نظر تک پھیلے ہوئے سر سبز میدان اور کہیں سر بلند کوہسار ، بے آب و گیاہ تپتے صحرا اور کہیں ہری بھری شاداب کھیتیاں ،کہیں ننھے ننھے پودے اور کہیں بلند و بالا جھومتے اشجار ،کہیں گنگناتی ندیاں اور کہیں خاموش جھیلیں ، کہیں دوڑتا بھاگتا شور مچاتا دریا اور کہیں بپھرے ہوئے سمندر ، کہیں خوبصورت بولیوں والے رنگا رنگ پرندے اور کہیں چیر پھاڑ کرنے والے درندے ،
جِس سَمت نظر اُٹھی، بس وہی دِکھائی دے ہر حُسن کے منظر میں اُس حُسن کی چھایا ہے
خُورشید نے تاروں نے، پُر کیف نظاروں نے باغوں نے بہاروں نے، گِیت اُس کا ہی گایا ہے
کوئلے کی کان سے ہیرا ‘ سیپ کے منہ سے موتی اور بیج کا مٹی میں مل کر گلزارہونا۔۔۔ہزار رنگ لئے ہوئے اِس کارخانہءِ قدرت کی پیچ در پیچ صناعی کا خالق ہمارا پیارا خدا ہے۔انسان اگر غور کرے تو کائنات کا ذرہ ذرہ پکار پکار کر اعلان کررہا ہے کہ اﷲ تعالیٰ ہی خالق ِحقیقی و مالک کُل ہے وہی معبود و کبریا ہے ۔
پھر ہم دیکھتے ہیں کہ اس کائنا ت کی تما م اشیاء بہت طاقت ور ہیں۔ سورج نظامِ حیات کو جلا کر بھسم کر سکتا ہے ۔پانی طوفان لا کر ہر چیز کو فنا کر سکتا ہے۔ جنگلی جانور بنی نو ع انسان کا نشان مٹا سکتے ہیں ۔خوفناک اور وحشی پرندے یہ طاقت رکھتے ہیں کہ بقیہ حیات کو نوچ کر کھا جائیں ۔لیکن وہ ہستی جسے خدا کہتے ہیں جو ہر زندگی کی حفاظت کر کے اپنی ہستی کا ثبوت دے رہی ہے کہ ہر چیز اپنے دائرے اور محور میں جاری ہے جس سے دوسری حیات کو خطر ہ تو ہے مگر خدا تعالیٰ نے زندگی کی رنگینی کو قائم رکھنے کے لئے ایک دوسرے کی ضروریات کو پورا کرنے او ر اس کی حفاظت کے سامان کر رکھے ہیں ۔
خدا تعالیٰ کی ہستی کا تصورہی اس کی ہستی کی دلیل ہے کیونکہ یہ تصورایک لطیف روحانی احساس ہے۔انسان کے خیالات بہت وسیع ہیں ۔جب وہ ہر جگہ اﷲ کی قدر ت کے نظارے دیکھتا ہے تو وہ خدا تعالیٰ کو اپنے دل کی دھڑکنوں کے ساتھ محسوس کرتا ہے۔
جو سانسوں میں بستا ہے، جو روح میں سمایا ہے ہم نے بڑے جتنوں سے دِلدار وہ پایا ہے
پس ہستی باری تعالیٰ کے دلائل تو ہر لحاظ سے موجود ہیں، عقلی اور نقلی لحاظ سے بھی ، روحانی اور سائنسی لحاظ سے بھی۔ الغرض اﷲ تعالیٰ ہر جہت سے اپنی ہستی کا خود ثبوت دے رہاہے اور ہر چیز خدا کی ہستی پر گواہ بن رہی ہے۔
قرآن شریف نے جس خالق کائنات اور قادر مطلق ہستی کا ہمیں پتہ دیا وہ بادشاہ بھی ہے غنی بھی جبار بھی قہار بھی اور متبرک بھی اس کے سامنے انسان وہ عاجز مخلوق ہے جو ہر لحظہ اس کا محتاج ہے اﷲ تعالیٰ نے اسے احسن تقویم یعنی بہترین صورت میں اپنی فطرت پر پیدا کیا ہے اور اسکی پیدائش کا مقصد عبودیت ٹھہرایاہے۔
تو رحیم بھی ‘ تو کریم بھی ‘ تو حلیم بھی ‘ تو بصیر بھی کسی آئینے میں نہ مل سکی تیری رحمتوں کی نظیر بھی
اﷲ تعالیٰ نے ہمیں پیدا کیا اور وہ سب کچھ دیا جس کی ہمیں ضرورت ہے ۔وہ اپنے بندوں پر بہت مہر بان اور ماں باپ سے بڑھ کر محبت کرنے والاہے ۔
وہ ایسا رحیم ہے کہ جب اس کے بندے خشک سالی سے مایوس ہوجاتے ہیں تو بارانِ رحمت سے ہر طرف سبزہ ہی سبزہ نظر آتا ہے اور نباتات و ثمرات کی فراونی ہوجاتی ہے۔جس ربِ رحیم نے ظاہری حیات کے لئے تمام ضروریات مہیا فرمائیں وہ روحانی ضروریات سے کیسے غافل رہ سکتا تھا۔ چنانچہ جب بھی زمین روحانی طور پر خشک اور بے ثمر ہوئی تو خالقِ کائنات نے بنی نوع انسان کو اپنی محبت کا جام پلانے اور فلاح و کامرانی کے راستہ پر چلانے کے لئے انبیاء کو دنیا میں بھیجاجو آسمانی پانی سے زمین پر رحمت پھیلاتے اور پیاسی مخلوق کو وصل الٰہی کے جام شیریں سے سیراب کرتے ہیں۔
انسان اپنے پیارے خدا کو اسکی صفات سے پہچان سکتاہے۔اﷲ تعالیٰ کی بہت سی صفات ہیں اسکی ایک صفت یہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کی دعائیں سنتا ہے۔
دعا خدا تعالیٰ کی ہستی کا زبردست ثبوت ہے ۔ دنیا میں آنے والے لاکھوں انبیاء اور ان کے ماننے والے اس بات کے گواہ ہیں کہ ایک بالا ہستی ہے جو ان کی دعائیں سن کر انہیں جواب دیتا ہے۔
رات کے پچھلے پہر بادِ نسیم جنت کی خوشبو لئے فضاؤں کو معطر کرتی ہوئی مستی میں سرشار ربِ جلیل کا پیغام اس کی مخلوق کو پہنچاتی ہے۔اٹھو یہ وقت قبولیت ِدعا کا ہے ۔
جب دنیا خوابِ غفلت کے مزے لے رہی ہوتی ہے محبوبانِ الٰہی اپنی گریہ و زاری سے اپنے مولیٰ کے قرب کی لذت کا مزہ چکھتے اور قیام و رکوع و سجود سے رضوان ِیار کی محبت کا شربت پیتے ہیں ۔
فرشتے حمد و ثناء کرتے ہوئے اﷲ کے عبادت گزار بندوں کی گزارشات خالق ِحقیقی کے حضورر پیش کر کے اُن کے لئے خیر و برکت کے طلبگار ہوتے ہیں۔
جب سارا زمانہ سوتا ہے اور ہُو کا عالم ہوتا ہے وہ چرخ سے خود نیچے آکر دنیا کا نظارا کرتے ہیں
توبہ کی درخشاں راتوں میں مَسنَد پہ نُور کی بیٹھ کے پھر سجدوں میں گِرے بندوں کے لئے بخشش کا اشارا کرتے ہیں
میرا پیارا خدا ،جسے حا لتِ مرض میں پکارا تو شفا دی ، بھوک میں پکارا تو غذا دی ،پیاس میں پکارا تو پانی پلا دیا ، ذلت میں پکارا تو عزت دی ، جہالت میں پکارا تو نورِ مصطفٰی ﷺ دیا ،راہ میں بھٹک گیا تو راستہ دکھا دیا ، غربت میں پکارا تو غنی کردیا۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالنے اور آگ کا گلزار ہو جانا ،حضرت نوح علیہ السلام کی قوم پر پانی کے طوفان آنے سے قبل کشتی تیار کرنا،حضرت موسٰی علیہ السلام کی قوم کے سمندرمیں سے پار اُتر جانے کے بعد فرعون کا لشکر سمیت اسی سمندر میں اترنا اور غرق ہو جانا ،ان سب انبیاء علیہم السلام نے خدا کا حوالہ ہی تو دیا ۔
آؤ اک سجدہ کریں عا لمِ مدہوشی میں لوگ کہتے ہیں کہ ساغر کو خدا یاد نہیں
اس دنیا کی حقیقت لآ الٰہ الا اﷲ ہے جو ہزارہا مطہرانبیاء کے سینوں سے ہوتی ہو ئی محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانے میں اپنے کمال کو پہنچنا مقدر تھی۔
قیامِ توحید کے لئے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی غارِ حرا سے لیکر غارِ ثور تک، مسجد حرام سے لیکر مسجد نبوی تک، شعبِ ابی طالب کی جیل سے لیکر معرکہءِ حنین تک ، جنگِ بدر سے جنگِ تبوک تک اور ازواجِ مطہّرات کے حجروں سے لیکر شاہانِ عالم کے عالی درباروں تک پھیلی ہوئی دلگداز جدوجہدہے۔
آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی جدوجہد کا نکتہ ءِ آغاز بھی توحید تھا اور اس کا حاصل بھی توحید۔ اس بیج کے ایک تناور درخت ہونے اور اس ذرہ بے مقدار کے ثریا ہونے کا نام حیاتِ محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم ہے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 205 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abdul Hameed

Read More Articles by Abdul Hameed: 8 Articles with 1674 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ