کیا آپ بھی دوسروں کے خلاف بدزنی کا شکار ہیں؟ مثبت سوچ شخصیت میں کیا تعمیری تبدیلی لا سکتی ہے؟ جانیے

(Al Ikhlas, Karachi)

میں نے کئی سال ایک ایسے ادارے کے ساتھ کام کیا ہے کہ جس کی سربراہی ایک انتہائی قابل شخص کے ہاتھ میں تھی، لیکن لوگوں کے ساتھ اس کا معاملہ اس طرح کا ہوتا تھا کہ جیسے وہ دوسروں کو بےوقوف سمجھتا ہو، ادارے میں کام کرنے والے لوگوں سے اس کے بات کرنے کا انداز انتہائی ذلت آمیز ہوتا تھا، اس رویے کا بالآخر نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے ماتحت تمام افسر آہستہ آہستہ اس سے بدزن ہو گئے، وہ برآمدوں میں اکٹھے ہو جاتے اور اس کے خلاف ایک دوسرے سے شکایتیں کرتے، ان کی بحث کا انداز کچھ اس طرح کا ہوتا کہ جیسے وہ صورت حال کی بہتری چاہتے ہوں، لیکن سچائی یہ تھی کہ اپنے سربراہ کی کمزوریوں کا ذکر کر کے وہ سب اپنی ذمہ داریوں سے دست بردار ہو جاتے تھے، لیکن ان تمام افسروں میں سے ایک پرو ایکٹو (Proactive) تھا، اس نے حالات کا رونا رونے کے بجائے صورت حال کا بغور مطالعہ کیا، اگرچہ ادارے کے سربراہ نے اس کے ساتھ بھی دیگر ماتحت افسروں جیسا ہی سلوک کیا، لیکن اس نے بجائے منہ بسورنے اور اپنے افسر کی برائی کرنے کے اپنے سربراہ کی توقعات سے زیادہ کام کر کے دکھایا، نتیجہ یہ ہوا کہ اگلی میٹنگ میں سب کے لیے حسب معمول وہی ذلت آمیز رویہ اور "یہ کرو" " وہ کرو" جیسے الفاظ تھے، سوائے ایک شخص کے، اس شخص کے لیے تھا کہ
" تمہارا کیا خیال ہے؟"

سٹیفن آر کووے نے اپنی مشہور کتاب " پر اثر لوگوں کی سات عادات" میں اس قصہ کو ذکر کیا ہے، حقیقت یہ ہے کہ کامیابی کے لیے انسان کا پرو ایکٹو (Proactive) ہونا انتہائی ضروری ہے، پرو ایکٹو ہونے کا مطلب یہ ہے کہ پیش آنے والے واقعات پر صرف ردعمل دینے اور حالات کے اپنے حق میں نہ ہونے کا رونا رونے کے بجائے موجودہ ممکنہ وسائل کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے حالات و واقعات کا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے اور پھر اپنے لیے حالات کو حتی الامکان سازگار بناتے ہوئے مستقبل کی منصوبہ بندی کی جائے۔

ہماری ناکامیوں کی ایک بہت بڑی وجہ ہمارا یہی طرز عمل ہے کہ ہم خود کچھ بہتر کرنے کی کوشش ہی نہیں کرتے، بلکہ دوسروں کو اپنی تمام پریشانیوں اور ناکامیوں کی اصل وجہ قرار دے کر ہاتھ پر ہاتھ دھرے اپنےحال پر ماتم اور ماضی پر افسوس کرتے رہتے ہیں۔

جب بھی ہم یہ سوچتے ہیں کہ مسئلہ کہیں باہر ہے، تو دراصل یہ سوچ ہی سب سے بڑا مسئلہ ہے، دوسروں کو زندگی کی تمام ناکامیوں اور پریشانیوں کی وجہ قرار دے دینا نہایت آسان ہے، لیکن حالات پر قابو پانے کی کوشش کرنا اور اپنے آپ کو بہتر بناتے ہوئے مستقبل کی منصوبہ بندی کرنا ہی مشکل کام ہے، مثلاً: اگر کسی کی ازدواجی زندگی متاثر ہے، تو ہر وقت بیوی کی غلطیوں کا تذکرہ کرنے اور یہ بات کہہ دینے سے کہ میں ان تمام مسائل کا ذمہ دار نہیں، حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی، لیکن اگر وہ شخص واقعتاً صورت حال کی بہتری کے لیے سنجیدہ ہے، تو پھر اسے پرو ایکٹو بننا ہوگا، یعنی تمام مسائل کا ذمہ دار خود کو سمجھتے ہوئے اپنی بیوی کو سدھارنے کے بجائے اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کرنی ہو گی، چنانچہ ملاحظہ فرمائیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مردوں کو ان کی بیویوں کے بارے میں یہی نصیحت کی ہے کہ بیویوں کی کمزوریوں سے صرف نظر کرتے ہوئے بجائے شدت کے ذریعے معاملات خراب کرنے کے، ان کے ساتھ نرمی سے پیش آیا جائے اور ان کی خوبیوں پر نظر رکھتے ہوئے اپنا طرز عمل بہتر کیا جائے، مسلم کی روایت ہے کہ آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
کوئی شوہر اپنی بیوی سے تعلقات یک دم ختم نہ کرے، اس لیے کہ اگر اسے اپنی بیوی کی کوئی بات ناگوار گزری ہو گی، تو یقیناً اس میں کچھ باتیں پسندیدہ بھی ہوں گی۔
(صحیح مسلم: باب الوصیة بالنساء، ج، ١ ص، ۴٧۵)

حقیقت یہ ہے کہ دین اسلام نے اسی بات کی تلقین کی ہے کہ اندھیرا اندھیرا کہنے سے تاریکی دور نہیں ہو گی، ضرورت اس امر کی ہے کہ امید کا کوئی دیا جلایا جائے، دوسروں پر تنقید کرنے سے بہتر ہے کہ خود میں بہتری لانے کی کوشش کی جائے، چنانچہ آج سے تقریباً چودہ سو سال پہلے عرب کے بےآب و گیاہ ریگستان میں جب ظلم کی گھٹا ٹوپ تاریکیوں کا خاتمہ ہوا اور رشدو ہدایت کا آفتاب طلوع ہوا، تو اس نے قیامت تک آنے والے اپنے تمام پیروکاروں اور فرزندان اسلام کو خالق کائنات کا یہ اٹل فیصلہ سنا دیا کہ خدائے بزرگ و برتر اس وقت تک کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا (خواہ وہ حالات کی ستم ظریفی کا کتنا ہی رونا روئے) جب تک وہ قوم خود اپنی حالت نہ بدلے۔
(الرعد ١١: ١٣)

سچ تو یہ ہے کہ اس قانون خداوندی پر عمل نہ کرنے کی وجہ ہی سے ہم مسلمان اپنی انفرادی زندگیوں میں اور دنیا بھر میں بحیثیت مجموعی ذلت و رسوائی کا شکار ہیں، کیونکہ ہم اپنے حالات کو بہتر بنانے کے بجائے حالات پر ماتم کرنے اور اپنی ناکامیوں کی اصل وجہ خود کو قرار دے کر مستقبل کی منصوبہ بندی کرنے کے بجائے سارا الزام دوسروں کے سر ڈالنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

اللہ کرے کہ ہم مسلمان اس اٹل ربانی قانون کو سمجھ کر اس پر عمل کرنے والے بن جائیں تاکہ پھر سے اپنی انفرادی و اجتماعی زندگیوں میں عروج، سربلندی اور طاقت و قوت حاصل کر سکیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Al Ikhlas

Read More Articles by Al Ikhlas: 6 Articles with 5141 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Mar, 2020 Views: 474

Comments

آپ کی رائے