مشکل وقت میں چین نے دوستی کا کیا حق ادا

(Mehr Iqbal Anjum, )

پاکستان اور چین کی دو ستی، تنقید کرنے والے آج جان چکے ہیں کہ پاک چین دوستی لازوال ہے، دونوں ملکوں کے مابین ایسا رشتہ ہے جسے دنیا کی کوئی طاقت ختم نہیں کر سکتی،دونوں ملک ایک دوسرے کی مشکل کو آسان کرنے میں ایک دوسرے سے آگے ہوتے ہیں، پاک چین دوستی پر شک کرنے والے اب دونوں ممالک کی دوستی پر رشک کر رہے ہیں۔دونوں ممالک کی دوستی ایک مضبوط دیوارکی مانند ہے۔اس بات میں کو ئی شک نہیں کہ پاکستان کے ہر مشکل وقت میں چین نے پاکستان کا سا تھ دیا ، بات پاکستان کی معاشی ترقی کی ہو یا پھر دیگر ممالک کے سا تھ تعلقات کی دونو ں ممالک نے ہمیشہ ایک دوسرے کے لئے اہم ترین کردار ادا کیا ہے۔چین سے پھیلنے والے کرونا وائرس نے دنیا میں تو تباہی مچا ہی دی لیکن اب چین میں کیسز میں کمی آ چکی ہے، چین نے کرونا کے خلاف بحیثیت قوم جنگ لڑی اور جیت کر دنیا کو بتا دیا کہ چین میں کچھ کر گزرنے کی صلاحیت ہے، امریکہ نے چین کو طعنے دیئے تھے تا ہم اب امریکی صدر بھی چین سے مدد مانگنے پر مجبور ہو چکے ہیں، سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان نے بھی چینی ہم منصب کو فون کر کے چین سے کرونا وائرس سے نمٹنے کے لئے مدد مانگی ہے جس پر چینی صدر نے سعودی عرب کو یقین دہانی کروائی کہ چین سعودی عرب کی اس ضمن میں مدد کرے گا۔دنیا بھر میں کورونا وائرس نے دنیا بھر میں اپنے پنجے گاڑے ہوئے ہیں، اس بیماری کا آغاز چینی شہر ووہان سے ہوا، جب ووہان میں کورونا کے کیسز کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہونا شروع ہوا تو حکومت نے ووہان کو لاک ڈاؤن کر دیا تھا جس کے باعث اب وہاں کورونا کے کیسز کی تعداد گھٹ کر نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔اب چین میں کرونا وائرس کے کیسز کم ہونے کے بعد چینی حکومت نے ووہان شہر کو سرگرمیوں کے لیے جزوی طور پر بحال کر دیا ہے اور لاک ڈاؤن کے بعد سے پہلی ٹرین کو ووہان میں داخلے کی اجازت مل گئی ہے۔ چینی حکام نے ووہان کو داخلے کے لیے کھولا ہے، شہر سے باہر جانے پر اب بھی پابندی عائد ہے۔ ووہان میں موجود لوگوں کو شہر سے باہر جانے کی اجازت 8 اپریل کو دیئے جانے کا امکان ہے۔ ووہان ریلوے اسٹیشن پر عملہ اب بھی حفاظتی لباس پہنے ہوئے ہے اور ووہان سے ڈومیسٹک فلائٹ آپریشن بھی 8 اپریل کو بحال کیے جانے کا امکان ہے۔

چین نے کرونا وائرس سے نمٹنے کے بعد پاکستان کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا جس پر ساری دنیا حیران ہے، کہ چین خود وائرس کا شکار ہے ابھی بھی مریضوں میں کمی ہوئی لیکن مریض آ رہے ہیں اس کے باوجود چین پاکستان کی مدد کر رہا ہے،چینی ڈاکٹرز کی آٹھ رکنی ٹیم پاکستان پہنچی ہے جو طبی سامان بھی ساتھ لائی ہے، چینی ڈاکٹروں کی ٹیم دو ہفتے تک پاکستان میں رہے گی اور پاکستان کو کرونا سے نمٹنے کے لئے تربیت اور آگاہی دے گی،چینی ڈاکٹروں کا زیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی اور چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے چینی مہمانوں کا استقبال کیا۔ پاکستان میں چین کے سفیر بھی اس موقع پر موجود تھے۔این ڈی ایم اے کے ترجمان کے مطابق چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کو رونا کے خلاف میں چین نے بروقت مدد ہمیں پہنچائی۔ آنے والے سامان میں کورونا کی تشخیص کی ایک لاکھ پانچ ہزار سے زائد کٹس شامل ہیں اس کے علاوہ بیس لاکھ سے زائد ماسک اور 77 ہزار میڈیکل کور بھی بھیجے گئے ہیں۔ خصوصی پرواز میں217 وینٹی لیٹرز اور 50ہزار میڈیکل دستانے بھی شامل ہیں۔ علی بابا فاونڈیشن اور جیک ما فاونڈیشن نے 50 ہزار ٹیسٹنگ کٹس اور 5 لاکھ حفاظتی ماسک پاکستان کو دیئے جا چکے ہیں۔ چین نے درہ خنجراب کے ذریعے دو ٹن ماسک، ٹیسٹ کٹس، وینٹی لیٹرز، طبی حفاظتی لباس بھی پاکستان کے حوالے کئے ہیں۔چین نے سندھ اور گلگت کے الگ الگ طبی سامان بھیجا ہے جو وہان کی مقامی انتظامیہ نے وصول کیا۔اس موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمو دقریشی کا کہنا تھا کہ چینی طبی ماہرین کی معاونت سے کورونا کے خلاف نبرد آزما ہونے میں مدد ملے گی اور اس وبا سے نمٹنے کیلئے ہماری استعداد کار میں اضافہ ہوگا۔ چین کورونا وبا پر قابو پانے کیلئے پاکستان کی بھرپور معاونت کر رہا ہے ملک میں وینٹی لیٹرز کی تعداد بڑھا رہے ہیں پاکستان اور چین کورونا کے چیلنج سے نمٹنے کے لئے قریبی اشتراک عمل اور تعاون جاری رکھیں گے۔ چین نے ایک بارپھر ثابت کر دیا کہ چین پاکستان کا بہترین دوست ہے۔

پاکستان کا بہترین دوست چین ضرورت کے مطابق پاکستان کی ہر ممکن مدد کر رہا ہے، چین صحت کے عملے کو محفوظ رکھنے، ٹیسٹ کٹس اور وینٹی لیٹرز فراہم کر رہا ہے، چین کو دوسرے ممالک سے بھی وینٹی لیٹرز کے آرڈرز ہیں لیکن وہ ترجیحی بنیادوں پر پاکستان کو وینٹی لیٹرز فراہم کر رہا ہے۔ جسطرح پاکستان نے مشکل وقت میں چین کا ساتھ دیا تھا، اسی طرح اب چین بھی کورونا وائرس کے خلاف مقابلہ کرنے کیلئے پاکستان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کر رہا ہے،چین سے پاکستانی طلبہ کو واپس نہ لانے پر حکومت پر کڑی تنقید کی گئی لیکن آج لوگ حکومتی فیصلے کی تائید کر رہے ہیں، کیونکہ ایران سے زائرین آئے تو پاکستان میں اب کرونا کی کیا صورتحال ہو چکی سب کے سامنے ہے ، اگر ایران سے زائرین نہ آتے تو شاید پاکستان میں کرونا کے مریضوں کی یہ حالت نہ ہوتی، پاکستان کے صوبے پنجاب میں کرونا کے پانچ سو سے زائد مریض ہو چکے ہیں جبکہ ملک بھر میں بارہ ہلاکتیں ہو چکی ہیں، آئے روز کرونا کے مریضوں میں اضافہ ہو رہا ہے ان حالات میں چین کی جانب سے پاکستان کی مدد انتہائی خوش آئند امر ہے۔

گورنر پنجاب کی درخواست پر چینی یونیورسٹی نے لاہور میں اسپتال کے قیام کا اعلان کیا ہے،گور نرپنجاب ،چینی قونصل جنرل ،وی سی یو ایچ ایس اور چینی یونیورسٹی کے در میان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس کے بعد چینی کن مینگ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے وائس چانسلر نے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی، گورنر پنجاب چودھری سرور کا کہنا ہے کہ چینی یونیورسٹی پاکستان کو کورونا ٹیسٹ کی کٹس ، ماسک اور دستا نے بھی عطیہ کر یگی،چینی کن مینگ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا وفد آئندہ ہفتہ لاہور آئیگاپاک چینی دوستی پوری دنیا کیلئے مثال ہے چینی تعاون پر ان کا شکر یہ ادا کرتے ہیں۔چین کی طرف سے پاکستان کو امدادی سامان دینے اور ڈاکٹر کی ٹیم بھیجنے پرمسلم لیگ ن کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں محمد شہباز شریف نے چین کے وزیراعظم لی ی چیانگ اور چینی صدر شی جن پنگ کو خط لکھا ہے جس میں انہوں نے کورونا وائرس کے خلاف جنگ جیتنے پر چین کو مبارکباد پیش کی ہے۔ خط میں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اس مشکل وقت میں چین کی پاکستان کی مدد کرنا، دیرینہ دوستی اور نئے عزم کا اعادہ ہے۔ آپ نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کی صورت میں بھی پاکستان کی مدد کی، مشکل کی اس گھڑی میں چین کی جانب سے طبی سازو سامان کی مدد پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔ چین کی مدد سے قیمتی جانیں بچیں گی اور کورونا کے خلاف جنگ میں مدد ملے گی، پاک چین دوستی پر تمام پاکستانیوں کو فخر ہے، چین ہر گھڑی کا ساتھی ہے۔

چین نے جس بہترین نظم و ضبط کیساتھ کرونا وائرس پر قابو پایا وہ دنیا کیلئے ایک مثال ہے، کرونا کے حوالے سے پاکستان چینی ڈاکٹرز کے علم، تجربے اور مہارت سے بھرپور استفادہ کرے گا۔ ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ نبھانا آئرن برادرز کی ایک شاندار روایت ہے، دونوں ممالک کے عوام کو اس مخلصانہ دوستی پر فخر ہے، پاکستان کی معاشی ترقی کیلئے تعاون ہو یا مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے اصولی موقف کی حمایت، چین ہمیشہ پاکستان اور اس کے عوام کی توقعات پر پورا اترا ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mehr Iqbal Anjum

Read More Articles by Mehr Iqbal Anjum: 101 Articles with 34555 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
01 Apr, 2020 Views: 182

Comments

آپ کی رائے