حکومت پاکستان بھی مسلمان ہے

(Muhammad Nafees Danish, )

جب سے کرونا وائرس کی وبا پاکستان میں آئی اسی وقت سے مختلف تجزیہ نگاروں نے اپنے تخمینے لگانے شروع کر دیے ہیں اور جتنا ہوسکا اس کا خوف عوام میں بٹھا دیا ہے اور جو کسر باقی رہ گئی تھی وہ ایران سے آئے پاکستانی زائرین نے پوری کر دی ہے اور ان اس پر بحث و مباحثہ شروع ہو گیا ہے۔کل پاکستان کے معروف صحافی حامد میر نے اپنے پروگرام میں بتایا کہ عالمی طاقتوں کی غفلت سے آج دنیا کرونا وائرس کا عذاب سہہ رہی ہے کیونکہ 2004 میں ایک امریکی سائنس دان نے امریکی حکومت کو خبردار کیا تھا کہ دنیا چین کو چمگادڑ کھانے سے روکے چمگادڑ کے گوشت اور جوس سے دنیا بھر میں وہ تباہی آئے گی جس کا اندازہ لگانا ممکن نہیں انہوں نے کرونا کا نام لے کر اپنی حکومت کو کرونا کے خطرے سے آگاہ کیا ، 2007 میں پھر امریکی سی ، آئی ، اے نے دنیا کو وارننگ دی کہ چین کو چمگادڑ کھانے سے روکا جائے ، 2014 میں مائیکروسوفٹ کے بانی بل گیٹس جو اس وقت دنیا کے امیر ترین شخص ہیں انہوں نے بھی دنیا کو خبردار کیا کہ کرونا کی بیماری دنیا بھر میں پھیل سکتی ہے ، 2019 میں امریکی اداروں نے پھر خبردار کیا لیکن سب سکون کی نیند سوتے رہے ، نتیجہ آج دنیا کرونا کے عذاب کو بھگت رہی ہے ، اس میں کوئی شک نہیں کہ کرونا کا وائرس اسلامی تعلیمات کو نظرانداز کرنے کی وجہ سے پھیلا ، چمگادڑ جیسا حرام کھانا کرونا کی بنیاد ہے ، لیکن جیسے گولی یہ نہیں دیکھتی کہ میں کسی مسلمان کے سینے میں جارہی ہوں یہ غیرمسلم کے ایسے ہی کرونا وائرس بھی اب یہ نہیں دیکھ رہا کہ میں حلال کھانے والے کے جسم میں داخل ہورہا ہوں یا حرام کھانے والے کے ، بس وہ انسانی جسموں میں داخل ہوکر انسانوں کی بے بسی کا مذاق اڑانے میں مصروف ہے ، آج دنیا جس کرب سے گزر رہی ہے اس کا ذمہ دار کون ہے ، کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکا نے ایک وائرس بنا کر چین میں چھوڑا تاکہ چین کی معیشت تباہ ہوجائے ، مشاہدات سے معلوم ہو رہا ہے کہ پہلی بات درست ہے کہ چین کے چمگادڑ کھانے کی وجہ سے دنیا میں کرونا آیا ، بہرحال ان دونوں نقطعہ نظر میں بات جس کی بھی درست ہو ، اس وقت مسئلہ اس بحث میں پڑنے کا نہیں ہے اس وقت مسئلہ اپنے آپ کو بچانے کا ہے ، امریکا کی ایک ریاست کے بارے میں سوشل میڈیا پر میں نے ایک خبر پڑھی کہ وہاں لوگ راشن کے بجائے اسلحہ خرید رہے ہیں ، کسی نے پوچھا کہ آپ اسلحہ کیوں خرید رہے ہو تو جواب ملا کہ دنیا میں جو لاک ڈاون کی کیفیت ہے آنے والے دنوں میں معیشت کی حالت خراب ہو جائے گی لوگ لوٹ مار کریں گے اس لئے اپنے تحفظ کے لئے اسلحہ خرید رہے ہیں ، یہ خبر درست بھی ہوسکتی ہے اور غلط بھی لیکن کرونا وائرس کا جو خطرناک اسپیل چل رہا ہے تمام ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ اسپیل جلد ختم ہونے والا نہیں ہے ، حج جیسے فرض کی ادائی بھی کھٹائی میں پڑ چکی ہے ، کہنے والے کہہ رہے ہیں کہ 2020 میں کسی بھی قسم کی تقریب کے انعقاد کو بھول جاو ، ویسے پاکستان کی خوش قسمتی یہ ہے کہ پاکستان میں 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے ، کرونا نوجوانوں کے لئے بہت زیادہ خطرناک نہیں ہے ، دوسری بات اگر لوٹ مار ہوتی ہے یا دنیا جس کی لاٹھی اس کی بھینس والے اصول پر چلتی ہے تو یقین جان لیں کہ یہ نوجوان اپنے گھروں کا بھی تحفظ کریں گے اور وطن عزیز پاکستان کا بھی ،ہمارے صوبہ پنجاب میں گزشتہ ایک ہفتہ سے لاک ڈاون جاری ہے اور تقریباً 12 اپریل 2020 تک یہ لاک ڈاون جاری رہے گا ، درمیان میں کرفیو بھی لگے گا ، 13 اپریل 2020 سے محدود وقت کے لئے کاروبار کرنے کی اجازت ہوگی ، لاک ڈاون کو میڈیا کی مکمل سپورٹ حاصل ہے اس لئے اس کی سختیاں اس حد تک بڑھی ہیں کہ نماز جمعہ کے اجتماعات تک محدود کر دئیے گئے ، مساجد میں عام نمازیوں کو آنے کی اجازت نہ ملی ، مدرسہ بنوری ٹاون کراچی اور جامعہ فاروقیہ کراچی کا فتویٰ سامنے آیا کہ لوگ جمعہ کی نماز گھروں میں بھی باجماعت ادا کر سکتے ہیں کیونکہ نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے مسجد کا ہونا ضروری نہیں ہے ،ایک فتویٰ یہ بھی گردش میں تھا کہ نماز جمعہ گھروں میں نہیں ہوسکتی، بہرحال نماز جمعہ کے بعد کچھ لوگوں کو دیکھا تو وہ علماء کرام کو کوس رہے تھے کہ علماء کو یہ پابندی قبول نہیں کرنی چاہیے تھی ، میں نے عرض کی علماء کرام یہ فرما رہے ہیں کہ حکومت نے اسلام کو نقصان پہنچانے کے لئے لوگوں کو مسجد میں آنے سے نہیں روکا بلکہ بظاہر حکومت نیک نیت لگ رہی ہے کہ حکومت نے لوگوں کو کرونا سے بچانے کے لئے یہ اقدامات اٹھائے ہیں، اور یہ بات سمجھانے کی کوشش کی کہ پاکستان کی حکومت چلانے والے بھی مسلمان ہیں ، یقیناً یہ کڑوے گھونٹ ہیں لیکن انسانی جانوں کو بچانے کی نیت سے اگر یہ قدم اٹھایا ہے تو اسے بھی قبول کرنا چاہیے، مساجد کے نماز جمعہ کے اجتماعات میں وقتی طور پر محدود افراد شریک ہوئے ہیں ، یہ مشکل وقت ان شاءاللہ ہمیشہ نہیں رہے گا ، اس لئے مایوس نہ ہوئیں، علماء کرام کبھی بھی دین کے بنیادی اصولوں پر سمجھوتا نہیں کریں گے ، نماز جمعہ کو محدود کرنے کی حکومتی حکم کی تعمیل اس لئے کی گئی ہے کہ تاکہ عوام نقصان سے بچ سکیں ، باقی حکومت پاکستان کی کوشش تھی کہ وائرس کی وجہ سے مساجد بند ہو جائیں مگر علماء کرام نے نمازیوں کی محدود تعداد کو تو قبول کیا ہے لیکن مساجد کی بندش قبول نہیں کی اس پر علماء کرام کو خراج تحسین بنتا ہے ، مفتی تقی عثمانی صاحب فرما رہے تھے کہ چند افراد کی تجویز ہماری نہیں تھی ، ہم چاہتے تھے 15 یا 20 افراد کی جماعت کی اجازت ہو لیکن 4 یا 5 افراد کی جو اجازت ملی ہے اس کے خلاف بھی مزاحمت نہیں کریں گے بلکہ فیصلے کو قبول کریں گے ، میرے خیال سے دینی طبقے میں ایک طبقہ آج بھی ایسا ہے جو کہ کرونا وائرس کو سنجیدہ نہیں لے رہا ہے ، یقین جان لیں یہ غیر سنجیدگی نقصان دے گی ، کرونا وائرس ایک وبا ہے اسے عذاب سمجھیں یا آزمائش، یہ ہمارے لئے مشکل گھڑیاں ہیں ، ہمارا ملک وسائل سے خالی ہے ، ایسے خالی ہاتھ اتنے بڑے وبا کا سامنا کرنا یقیناً یہ ہماری ریاست اور قوم کی فتح ہوگی ، اس لئے جذبات میں مت آئیں ، حکومت ، اپوزیشن ، عدلیہ ، میڈیا ، ڈاکٹرز ، ادارے ، پارلیمنٹ ، تاجر حتی کہ اکابر علماء سب ایک صفحے پر ہیں ، سب کورونا سے نجات چاہتے ہیں ، سب اپنی قوم کا تحفظ چاہتے ہیں ، آپ نوجوان سوشل میڈیا پر بیٹھ کر کوئی نئی لائن مت لیں ، قومی سوچ اپنائیں، اور اپنی حفاظت خود کریں اور اللہ تعالیٰ سے اجتماعی طور پر اپنے گناہوں کی معافی مانگیں ۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 54 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Nafees Danish

Read More Articles by Muhammad Nafees Danish: 19 Articles with 2895 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: