آج میرا بیٹا ہمیں کہانی سنائے گا۔۔۔شوبز ستاروں کے بچے قرنطینہ کے دنوں میں


بچوں کو اس وقت بہت مشکل سے نا صرف کنٹرول کرنا پڑ رہا ہے بلکہ مصروف رکھنے کے لئے بہت محنت بھی کرنی پڑ رہی ہے۔۔۔یہ مسئلہ صرف عوام کا ہی نہیں بلکہ شوبز ستاروں کا بھی ہے اور سب اپنے اپنے طریقوں سے بچوں کو مصروف رکھ رہے ہیں-

احسن خان
احسن خان ہمیشہ ہی کوئی مثبت کام کر کے لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنا لیتے ہیں اور اس وقت بھی وہ سوشل میڈیٰا پر اپنے بیٹوں کے ذریعے ایک مثبت اور انتہائی مزیدار کام کر رہے ہیں۔۔۔وہ عوام کو آگاہی دے رہے ہیں کہ بچوں کے ساتھ اچھا وقت کیسے گزر سکتا ہے۔۔۔بچوں کو اس مشکل وقت میں لڑنے کے لئے تیار کیسے کرنا ہے۔۔۔ان کی ایکٹیویٹی ہے اپنے بچوں سے روزانہ کہانیاں سننا۔۔۔کوئی نا کوئی ایک کتاب چن کر ان کے بچے انہیں کہانی سناتے ہیں اور وہ اسی دلچسپی سے سنتے ہیں جیسے کہ کوئی بچہ-


ثروت گیلانی
ثروت گیلانی اس مشکل وقت میں جہاں گھر میں قید ہیں وہیں وہ اپنا فرض کچھ اس طرح بھی نبھا رہی ہیں کہ ان والدین کو جو اپنے بچوں کو مصروف رکھنا چاہتے ہیں اور پریشان ہیں۔۔۔ویڈیوز کے ذریعے مختلف آئیڈیاز دے رہی ہیں۔۔۔انہوں نے ایک ایسی ویڈیو بھی بنائی جہاں مختلف سبزیاں، سادہ کاغذ ، کچھ رنگ جمع کئے اور بچوں کو مصروف رکھنے کے لئے بتایا کہ کس طرح پینٹ کے ذریعے بچے مختلف ڈیزائنز بنا سکتے ہیں اور سبزیاں پیپر پر اچھے مارکس چھوڑ سکتی ہیں ۔۔۔اس ایکٹیویٹی کی وجہ سے بچے اسکرین ٹائم سے بھی بچے رہیں گے ارو ان کا ذہن بھی مثبت رہے گا-


آئزہ خان
آئزہ خان نے اس مشکل وقت میں اپنے بچوں کے ساتھ جو وقت گزارا ہے وہ اسے بہت قیمتی جانتی ہیں اور اس دوران وہ اپنی بیٹی کو مصروف رکھنے کے لئے اس سے مختلف ویڈیوز بھی بنواتی ہیں اور آگاہی دینے کے طریقے بھی سکھارہی ہیں۔۔یوں لگتا ہے کہ مستقبل کی میزبان تیار ہو رہی ہے-

View this post on Instagram

Lets learn about the virus.. #AttackTheVirus

A post shared by Ayeza Khan (@ayezakhan.ak) on


سعدیہ امام
سعدیہ امام اپنی بیٹی میرب کے ساتھ گھر میں آئسولیشن کے دن گزار رہی ہیں۔۔۔دونوں ماں بیٹی روزانہ لائیو جاتے ہیں اور عوام کو طریقے بتاتے ہیں کہ وہ کیا کیا گیمز کھیلتے ہیں۔۔۔سعدیہ امام گھر میں سارے بورڈ گیمز کھیلتی ہیں اور دونوں ماں بیٹی ایک دوسرے کے ساتھ خوب مستی کرتے ہیں-

Most Viewed (Last 30 Days | All Time)

Comments

آپ کی رائے
Language: