آپ شرعاً قانوناً اخلاقاً مجرم ہیں!

(Muhammad Rasheedi Ul Molvi, Lahore)

آپ چاہتے ہیں کہ اس سال حج نہ ہوسکے؟ حرمین ویران رہیں؟ مطاف و مسعیٰ و ریاض الجنہ خالی رہے؟ آپ کی کوشش ہے کہ دنیا بھر کی مساجد میں نماز باجماعت پر مکمل پابندی عائد ہوجائے؟ آپ ایسا کام کر رہے ہیں کہ چند دن کے لیے ہونے والا لاک ڈاؤن کئی ماہ تک طول پکڑ جائے، اور صرف پاکستان میں غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے والے 5 کروڑ افراد بھوک سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر جائیں؟ درمیانہ طبقہ خطِ غربت سے نیچے آجائے، اور پھر سلسلہ صرف پاکستان تک نہ رکے بلکہ اسی تناسب سے پوری دنیا کا یہی حشر ہوجائے، لیکن یہ سب آپ بھلا کیسے کر رہے ہیں؟ آپ تو بزعمِ خود انتہائی نیک صالح خدا ترس متوکل علی اﷲ صاحبِ عزیمت ہیں، پھر آپ شرعاً قانوناً اخلاقاً مذکورہ گناہوں کے مجرم کیسے ہوئے؟ اگر خدا کا رتی برابر خوف ہے اور اپنا یہ گناہ جاننے کیلئے سنجیدہ ہیں تو آئیں سوچتے ہیں کہ آپ اتنے بڑے مجرم کیسے ہیں؟؟؟

لاہور پاکستان کا دل اور کاروباری مرکز ہے، شاہ عالم مارکیٹ لاہور کی ایک بڑی منڈی ہے جہاں ایک ہزار دوکانیں ہیں، سب سے چھوٹا دوکاندار روزانہ تین ہزار روپے کما کر اٹھتا ہے، اور سب سے بڑا دوکاندار دو کروڑ کو ہاتھ لگا جاتا ہے، اوسط نکالیں تو بیس کروڑ روپے کے لگ بھگ اس ایک مارکیٹ میں روزانہ کمائی ہوتی ہے، یہ دنیا کے ایک ملک کے ایک صوبے کے ایک شہر کی ایک مارکیٹ کی کمائی ہے، لاہور میں ایسی سو کے قریب چھوٹی بڑی مارکیٹیں ہیں، پھر گلی محلوں کے قریب لگنے والے بازار ہیں، شہری سطح پر کمائی اربوں میں صوبائی سطح پر کھربوں میں، ملکی اور عالمی سطح پر دنیا میں روزانہ کھربوں ٹریلین ڈالرز کی کمائی کی جاتی ہے۔(یہ اعداد و شمار میرا ذاتی تخمینہ ہے) اس وقت کورونا وائرس کے باعث پوری دنیا کی معیشت بند ہے۔

اب مزدور طبقے کو لیتے ہیں، آج کل دیہاڑی دار مزدور جو راج مستری کے ساتھ ہوتے ہیں وہ آٹھ گھنٹے مشقت کرکے 800 روپے کماتے ہیں، یہ مہینے کا 24ہزار بنتا ہے، کبھی دیہاڑی نہیں بھی لگتی، ان کی کل آمدنی یہی ہے، اس سے انہوں نے اپنے پورے خاندان کو سنبھالنا ہوتا ہے۔ اس وقت صرف 22 کروڑ آبادی کے پاکستان میں پونے دو کروڑ افراد بیروزگار ہوچکے ہیں، پانچ کروڑ ویسے ہی خطِ غربت سے نیچے ہیں۔
اب مساجد کی طرف آتے ہیں، ہمارے زیر انتظام تین مدرسوں میں بڑی جگہ ڈیڑھ کنال پر واقع مدرسہ و مسجد ہے، جہاں اوسطاً 700 نمازی جمعۃ المبارک میں ہوتے ہیں، ہمارے اس ادارے کا ماہانہ خرچ 3 لاکھ ہے، ماہانہ چندے شاہ عالمی و دیگر جگہوں پر لگے ہوئے ہیں وہ کل 11 ہزار ہیں، اس کے علاوہ تمام اخراجات غلوں اور جمعے کے بعد جاتے ہوئے نمازی جو چندہ دے جائیں اس سے پورے ہوتے ہیں، اب کورونا وائرس کے باعث شرعی قانونی اخلاقی طریقے کے مطابق گزشتہگیارہ دن سے نمازیں اور جمعہ صرف عملے کے پانچ افراد ادا کر رہے ہیں، طلباء نہیں ہیں تو ظاہر سی بات ہے کھانے پینے بجلی پانی گیس کے اخراجات اتنے نہیں ہیں، لیکن عملے کی ایک لاکھ روپے تنخواہیں مدرسے کے ذمہ ہیں، جمعے کے نمازی 700 کے بجائے 5 ہوگئے تو جمعے کا چندہ بند ہوگیا، لاک ڈاؤن سے سڑکیں خالی ہوگئیں تو سڑک پر رکھے دو غلے خالی ہوگئے، لوگوں کے کاروبار بند ہوگئے تو ظاہر سی بات ہے چندہ کس نے دینا ہے، لیکن مدرسے نے ہر ماہ ایک لاکھ روپے کے اخراجات ہر حال میں کرنے ہی کرنے ہیں، مدرسین کو بھی فارغ نہیں کرسکتے، اپنا بھی مدرسے کی خدمت کے علاوہ کوئی کاروبار نہیں، ہوتا بھی تو لاک ڈاؤن میں بند ہوتا، یہ صورتحال ہر مسجد و مدرسے کی ہے، ہر تعلیمی ادارے کی ہے، لیکن ہر ذی شعور مہتمم و منتظم نے انسانیت کے خاطر مدارس و تعلیمی اداروں کو بند اور مساجد کے نمازیوں کو عملے تک محدود کر دیا ہے۔

اب ذرا سعودیہ چلتے ہیں، ہمارا دسمبر 2018 میں عمرے کا ویزہ 9500 روپے میں لگا، لیکن چند مہینے بعد ہی ویزہ فیس 13500 روپے ہوگئی، ائیرپورٹ سے لے کر حرمین شریفین میں رکھے زمزم کے کولر تک ہمیں ’’رؤیۃ Vision2030 ‘‘جگہ جگہ لکھا نظر آیا، یہ محمد بن سلمان کا 2030 منصوبہ کیا ہے؟ آپ کو معلوم ہوگا کہ چند سال سے سعودیہ میں جوئے کے اڈے ‘ میوزیکل کنسرٹ‘ ناچ گانے کے مراکز کو آباد کیا جا رہا ہے اور ارضِ حرمین شریفین کے قریب تر فحاشی کے اڈے قائم کیے جا رہے ہیں، یہ سب کیا ہے؟ مذہبی اعتبار سے یہ قربِ قیامت میں اسلام مکہ و مدینہ تک محدود رہ جانے کی نشانی بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس سب کا سعودیہ کی معیشت سے بھی تعلق ہے، سعودیہ عرب نے تیل کے ذخائر سے معاشی عروج پکڑا تھا، اب تیل کی کھپت دنیا میں کم سے کم تر ہوتی جا رہی ہے، اس کا منظرنامہ آپ کو لاہور میں جین مندر چوک پر نظر آئے گا، جہاں اورنج لائن ٹرین اور میٹرو بس ایک دوسرے کو کراس کرتی ہیں، میٹرو بس کے چلنے میں سعودیہ کا نفع اس اعتبار سے ہے کہ وہ تیل سے چلتی ہے، لیکن اورنج لائن ٹرین میں سعودیہ عرب کا کوئی نفع نہیں کہ وہ بجلی سے چلتی ہے، یہی صورتحال پوری دنیا میں بنتی جا رہی ہے، گاڑیوں سے لے کر ہوائی جہاز تک، ریل گاڑی سے موٹر سائیکل اور رکشوں تک ہر چیز بجلی سے چلنے والی آتی جا رہی ہے، اور تیل کا استعمال کم سے کم تر ہوتا جارہا ہے، اسی چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے سعودیہ عرب کہ جس کی پوری معیشت ہی تیل پر کھڑی تھی اس نے اپنے ملک میں سیاحتی مقامات بنانے کا سوچا اور فحاشی کے اڈے بنا کر 2030 تک دنیا بھر کے عیاش طبقے کی پسندیدہ جگہ سعودیہ کو بنانے کا وژن محمد بن سلمان کے ذریعے رائج کروایا، جہاں حرمین شریفین جیسے دو مقامات انہیں پہلے ہی میسر تھے، یہی کام انہوں نے حج و عمرہ مہنگا کرکے کیا، اور اب مزید مہنگا ہوتا چلا جائے گا،وجہ صرف یہی ہے کہ مستقبل میں سعودیہ عرب نے ساری کمائی سیاحت اور حج و عمرے سے کرنی ہے، سعودیہ کی معیشت کا بڑا انحصار اس وقت حج و عمرے کی کمائی سے ہے، سال 2019 میں 76لاکھ ویزے لگے ، جن کی فیس کم و بیش 1 کھرب 14 ارب روپے سعودیہ عرب کے پاس گئی،عمرہ زائر کو آبِ زمزم ائیرپورٹ سے خریدنا پڑتا ہے، ایک پاسپورٹ پر ہمیں پانچ لیٹر زمزم 7.5 سعودی ریال(335روپے ) کا ملا، ایک سال میں76لاکھ عمرہ زائرین کو سعودیہ عرب نے 5کروڑ 70لاکھ سعودی ریال(2ارب52کروڑ پاکستانی روپے) کا زمزم ایئرپورٹس پر بیچا،سعودیہ میں ہماری آخری رات تھی تو سوچا کلاک ٹاور اندر سے دیکھ لیں، چودہویں منزل پر پہنچ کر پتا لگا کہ اس سے اوپر وہی جاسکتے ہیں جنہوں نے یہاں کمرہ لے رکھا ہو، والد صاحب رحمہ اﷲ نے کہا برائے معلومات کمرے کا کرایہ تو پوچھو، معلوم ہوا کہ تین بیڈ والے ایک کمرے کا 24گھنٹے کا کرایہ 1700ریال یعنی 75000 روپے ہے،جبکہ باہر عام ہوٹلز میں سب سے سستا ہوٹل بھی1500 روپے فی رات (فی بندہ) سے کم نہیں ہے،عمرے کیلئے جانے والے ان 76لاکھ افراد نے ہوٹل کا کرایہ بھی دینا ہوتا ہے، ویزے کے علاوہ ہوٹلز ‘ ٹرانسپورٹ ‘ کھانے پینے‘ کھجوریں‘ شاپنگ‘ زیارات سمیت کتنی کمائی سعودیہ عرب صرف حج و عمرے سے کرتا ہے یہ اندازہ صرف ویزہ فیس ‘ ہوٹلز ‘ زمزم کی کمائی سے لگایا جاسکتا ہے، خلاصتاً یہ کہ اس وقت سعودیہ عرب کی معیشت کا بڑا انحصار حج و عمرے کی کمائی سے ہے لیکن انہوں نے بھی اپنی معاشی مجبوریوں کو پسِ پشت ڈال کر فوراً سے پہلے حرمین شریفین کو بند کیا، اور وہاں صرف عملے کی جماعت جاری رکھی، اور قیامت تک آنے والی امتِ مسلمہ پر احسان کیا۔

اب آئیے بتاتے ہیں کہ آپ مجرم کیسے ہیں؟ سعودیہ عرب اور حرمین شریفین پھر ان کے احسان کی بات ہوئی تو اس ''احسان صاحب'' کو سمجھنے کیلئے کچھ بات کرنا پڑے گی ایران کی، قومی و عالمی میڈیا پر کورونا وائرس کے معاملے میں ایران کی اور وطنِ عزیز پاکستان میں ایران سے آئے زائرین کے گرما گرم بحث تو آپ نے پڑھ و دیکھ لی ہوگی، زائرین کے معاملے پر عدالتی کیس کا علم بھی ہوگا، سوشل میڈیا ٹرینڈز بھی دیکھے ہوں گے جس نے ایران اور زائرین کو خاصا متنازعہ بنا دیا ہے، اور ہر فرد یہی مؤقف رکھتا ہے کہ ایران کی بے احتیاطیاں، اور کورونا زدہ زائرین پر حکومتی کرم نوازیاں تاحال جاری نہ ہوتیں تو دنیا میں بالعموم اور پاکستان میں بالخصوص وائرس متاثرین کی حالت مختلف ہوتی، جیسے اطباء نے کہا کہ کورونا وائرس مجمع لگنے اور انسانی اختلاط سے پھیلتا ہے، تو اب دنیا بھر میں جن مذہبی جگہوں سے وائرس پھیل سکتا تھا وہ دو ہیں: 1۔ ایران/شام/عراق میں روافض کی عبادت گاہیں، 2۔ حرمین۔ کیونکہ ان جگہوں پر دنیا بھر سے لوگ جاتے ہیں، آپس میں اختلاط ہوتا ہے، ان جگہوں سے وائرس بآسانی دنیا کے ہر ہر شہر میں جا سکتا تھا، اس سلسلے میں ایران نے جو کیا اسے بیان کرنے کی چنداں ضرورت نہیں، البتہ ایک فرد میں وائرس کی تصدیق ہوتے ساتھ ہی سعودیہ عرب کا حرمین شریفین کو فوراً بند کر دینے کا اقدام لائقِ صد تحسین ہے، رہتی دنیا تک جب کبھی کورونا وائرس پھیلنے کے اسباب و جگہوں پر کوئی لب کشائی کرے گا وہ وائرس پھیلانے کے جرم میں حرمین شریفین کو چاہ کر بھی’الٹا لٹک کر بھی نشانہ نہیں بنا پائے گا،سعودیہ عرب نے اپنی ٹریلین ڈالرز کی کمائی کو ایک طرف رکھ کر قیامت تک کیلئے حرمین شریفین کو کورونا وائرس پھیلانے کے الزام سے بچا لیا۔ دنیا کی ہر مسجد بیت اﷲ کی بیٹی ہے(مفہومِ حدیث)، اس صورتحال میں حرمین شریفین پر جاری کردہ عمل پوری دنیا کی مساجد کیلئے رول ماڈل ہے، کہ عملے کے افراد نمازیں بھی جاری رکھیں تاکہ نماز کا عمل مسجد میں بھی معطل نہ ہو، اور عام افراد کو آنے کی اجازت بھی نہ ہو تاکہ انسانیت موذی مرض لگنے سے محفوظ رہے، اب اگر کسی ایک مسجد میں عملے کے افراد سے زیادہ جو لوگ نمازیں ادا کر رہے ہیں وہ در حقیقت معترضین کو مسجد کی طرف انگلی اٹھانے کا موقع دے رہے ہیں کہ ٹریلین ڈالرز روزانہ کی معیشت بند پڑی تھی، بازار خالی تھے، لیکن مریض بڑھ رہے تھے، یقیناً ایسا مسجدوں میں جانے سے ہوا، یہ اعتراض مستقبل میں نہیں اب ہی شروع ہوچکا ہے،(انڈیا کے ایک عالمِ دین کا وائس میسج وائرل ہوا، جس میں وہ کہہ رہے تھے کہ حیدر آباد میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کا ڈیٹا ہمارے پاس پہنچا، اس میں 80فیصد مسلمان ہیں، تو اب میڈیا پر یہ بحث شروع ہوچکی ہے کہ پورا ملک بند ہے، مسجدیں کھلی ہیں، لہٰذا مسلمان مسجدوں کے ذریعے اس وائرس کو پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں)، اسی طرح اگر اس سال حج نہیں ہوتا، یا مرض بڑھنے سے حرمین شریفین اور سب مساجد میں پانچ افراد کی نماز پر بھی پابندی لگا کر مساجد کو تالے لگا دیے جاتے ہیں تو اس سب کے مجرم آپ ہیں جو باوجود حکومت و کبار علماء کی ممانعت کے اپنی ضد پر اڑے رہے اور پانچ افراد کی ادائیگی پر بھی پابندی لگوا کر مساجد کو ویران کر دیا، حج معطل کروا دیا، حرمین کی رونقیں تادیر معطل رہیں، سب آپ کی ناجائز ضد کی وجہ سے ہوا، اس لیے آپ کو شرعی مجرم کہنا درست ہے!

دنیا بھر کی ٹریلین ڈالرز روزانہ کی معیشت بند ہے، دنیا کی اکثریت گھروں میں محصور ہے، سکولز کالجز یونیورسٹیز مدارس مساجد حتیٰ کے ڈینٹل/ آئی/دیگر امراض کے ہسپتال تک بند ہیں، مزدوروں کے خاندان تباہ ہوگئے ہیں،تادمِ تحریر 70 ہزار افراد لقمہ اجل بن گئے ہیں، 12لاکھ افراد کورونا میں مبتلا زندگی و موت کی جنگ لڑ رہے ہیں، ایسے میں اگر آپ چند کج فہم کوتاہ عقل ناعاقبت اندیش لوگ لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرکے کسی گلی محلہ بینک بازارمنڈی مارکیٹ شاپنگ مال دوکان گراؤنڈ مسجد کسی بھی جگہ پر بے احتیاطی کرتے ہیں ، حکومت طیارے بھیج کرزائرین کو بلواتی ہے، وزرا بھرے مجمعے لیے پھرتے ہیں،مزاحیہ ٹی وی شوز میں حسب ِ معمول تماشائی بلائے جاتے ہیں،کسی شخصیت کے یومِ وفات پر گورنرو وزیر اعلیٰ ہاؤسز میں قرآن خوانی کروائی جاتی ہے، اور ان کے اس عمل سے مرض بڑھ جاتا ہے، مرض بڑھنے سے لاک ڈاؤن کرفیو کی طرف چلا جاتا ہے یا مہینوں طویل ہوجاتا ہے تو پھر جان لیجئے کہ آپ شرعاً قانوناً اخلاقاً مجرم ہیں، آپ اقدامِ قتل کر رہے ہیں، آپ ایذاءِ مسلم کے مرتکب ہو رہے ہیں، جی ہاں آپ ایسے سنگین جرم کا ارتکاب دین سمجھ کر کر رہے ہیں تو واضح رہے کہ گناہ کو ثواب سمجھ کر کرنے والے کو توبہ بھی نصیب نہیں ہوتی
!
فارسی کا مقولہ ہے: ’’قوتِ نیکی نداری بد مکن‘‘ اگر تو نیکی کی طاقت نہیں رکھتا تو (کم از کم)برائی نہ کر، اس وقت دنیا بھر میں ہزاروں اہل ِ دل مخیر حضرات اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر بھیک مانگ کر مستحق افراد کی امداد کر رہے ہیں، کوئی راشن پہنچا رہا ہے، کوئی نقد رقم کا بندوبست کر رہا ہے، ایسے میں اگر آپ کے پاس غریبوں کی مدد کرنے کیلئے رقم نہیں ہے تو آپ اپنے گھروں میں رہ کر لاک ڈاؤن پر عمل درآمد کر کے بھی غریبوں کی امداد کرسکتے ہیں، اگر آپ گھر سے باہر نہیں نکلتے تووائرس کم پھیلے گا، جب وائرس کم پھیلے گا تو لاک ڈاؤن جلد ختم ہوگا، جب لاک ڈاؤن ختم ہوگا تو غریب لوگ کمائی کرسکیں گے، جبکہ اس کے برعکس آپ کی بے احتیاطی سے لاک ڈاؤن بڑھے گا تو غریب افرادکے مسائل بڑھیں گے اور اس کے گناہ میں آپ بھی شریک ہوں گے، حدیث میں ہے: ’’ الا کلکم راع وکلکم مسؤل عن رعیتہ‘‘(تم میں سے ہر کوئی حکمران ہے اور اپنی رعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا) ، یعنی آپ اپنے جسم پر ‘ اپنے گھر والوں پر‘ اپنے ملازمین پرحکمران ہیں اور ان کے بارے میں آپ سے سوال ہوگا، لہٰذا جہاں تک آپ کا حکم چلتا ہے انسانیت کو بچانے کیلئے ‘ بیروزگار افراد کی جلد بحالی کیلئے ‘ بیماری کے خاتمے کیلئے لاک ڈاؤن پر عمل کرنا اور کروانا آپ پر ضروری ہے، منڈی کھلی تھی تو مسجد بھی کھول لی‘جنرل اسٹور کھلا تھا تو بینک بھی کھول لیا‘ دودھ والا نکلا ہواتھا تو آپ گیند بلا اٹھا کر میدان میں نکل گئے‘ ان بے پر کے دلائل سے آپ کم فہم مخاطب کو خاموش تو کروا سکتے ہیں ، لیکن آخرت میں یہ آپ کیلئے دلیل ہرگز نہیں بن سکتی، وہاں آپ سے آ پ کے اعمال کا سوال ہوگا کہ آپ کی بے احتیاطی سے اتنے افراد تکلیف میں مبتلا ہوئے،اس کا جواب دیجئے، کون کیا کر رہا تھا یہ آپ کی نجات کیلئے حجت ہرگز نہیں ہوگا،کبھی کبھی حضو ر ﷺ بارش زیادہ‘راستہ خراب‘کیچڑ وغیرہ ہونے کے باعث ’’نمازیں اپنے گھروں میں پڑھو‘‘ کا حکم جاری فرما یا کرتے تھے اور مؤذن حضرت بلال رضی اﷲ عنہ سے اس جملے کو اذان کے بعد کہنے کا فرمایا کرتے تھے، صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم حضورﷺ کے حکم کی تعمیل فرما کر گھروں میں نماز ادا فرماتے تھے، ایسے ہی سیدنا عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما نے ایک بار طائف کی مسجد میں اذان دی اور سخت سردی ہونے کی وجہ سے اذان کے بعد ’’الا صلوا فی الرحال‘‘ (لوگو اپنے اپنے ٹھکانوں پر نماز پڑھو) فرمایا،اور پوچھنے پر یہی حدیث ِمبارکہ دلیل میں ارشاد فرمائی، جس پر تابعین رحمہم اﷲ نے عمل کیا! تو کیا آپ کی مسجد کی نمازیں حرمین شریفین سے زیادہ اہم ہیں؟ یا آپ خود کو حضور ﷺ ، صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم ، تابعین رحمہم اﷲ سے بڑا نمازی تصور کیے ہوئے ہیں؟ یاد رکھیئے اس وقت بیمار اور بزرگ افراد کا مسجد جانا ثواب نہیں بلکہ گنا ہ ہے، حضور ﷺ نے فرمایا: ’’مَنْ اَکَلَ مِنْ ہذہ الشَّجَرَۃِ الخبیثۃِ فلا یقرَبنَ مسجدَنا حتی یذہبَ ریحُہا منہ‘‘ ( جس نے اِس خبیث پودے [لہسن] کوکھایا وہ اس وقت تک ہماری مسجد میں نہ آئے جب تک اس کے منہ سے اس کی بُو نہ چلی جائے) [بخاری]، ایک اور حدیث میں ایسے شخص کیلئے ’’ولیقعد فی بیتہ‘‘ کے الفاظ بھی ملتے ہیں، تو دیکھیے یہاں صرف منہ کی بدبوپر مسجد آنے سے روکا جا رہا ہے، اور گھر میں بیٹھنے کا حکم دیا جا رہا ہے، اگر بیماری پھیلنے اور لگنے کا اندیشہ ہو تو حکم اس سے زیادہ سخت ہوتا، جیسے حضور ﷺ سے ثقیف کا ایک وفد بیعت کرنے کیلئے آیا، ان میں ایک کوڑھ زدہ مریض تھا، حضور ﷺ نے اسے شہر میں داخل نہ ہونے دیا اور پیغام بھجوایا کہ ہم نے تمہاری بیعت کر لی تم وہیں سے لوٹ جاؤ!۔ اب کوئی آپ جیسا بے وقوف اس وقت ہوتا تو وہاں بھی اعتراض کر سکتا تھا کہ وہ شخص ثقیف کے آدمیوں کے ساتھ بھی تو موجود تھا، اگر مدینہ کے لوگوں سے مل جاتا تو کیا ہوجاتا؟ (جیسے دلائل آج کل دیے جا رہے ہیں کہ بینک کھلا ہے تو مسجد بھی کھلی رہے، گھر میں اکٹھے بیٹھے ہیں تو مسجد میں اکٹھے ہوجائیں ، وغیرہ)۔

اور اگر آپ یہ سب نہیں کر رہے بلکہ انسانیت کو بچانے کی نیت سے اپنا کاروبار کام کاج مسجد مدرسہ بند کرکے گھر میں محصور ہوئے بیٹھے ہیں تو بالیقیں آپ ذمہ داری کا ثبوت دے رہے ہیں، بس ایسے میں اعمالِ صالحہ کی طرف توجہ رکھیے، فارغ وقت کو بیش قیمتی بنانے کیلئے رمضان سے قبل ہی تلاوتِ قرآن کا معمول بنا لیجئے، صبح سویرے بچوں کے بیدار ہونے سے قبل کام کاج پر نکل جانا اور رات کو بچوں کے سونے کے بعد گھر پہنچنے کے باعث مہینے مہینے آپ کی اپنی بچوں سے ملاقات نہیں ہوتی تھی تو اب اپنے بچوں کو فرصت میں پیار و محبت دیجئے، انہیں اسلامی تعلیمات سے روشناس کرائیے،انہیں نماز اور اسلام کے بنیادی عقائد سکھائیے، اور جب کبھی کسی ضروری کام سے باہر نکلیں تو اردگرد نظر رکھیئے، جہاں کہیں لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرکے انسانیت کو موت کی طرف دھکیلنے کی کوشش کرنے والا کوئی ''ناسور'' نظر آئے اس کی فوراً پولیس کو رپورٹ کیجئے، اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو اب آپ ذمہ دار انسان ہیں، آپ ہی ہیں جس پر ملک و ملت کو ناز ہے ، آپ ہی ہیں جو اسلامی تعلیمات پر عمل کرکے حقیقی مسلمان کہلانے کے حقدار ہیں، سیلوٹ ہے آپ کو!
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 85 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Rasheedi Ul Molvi
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: