بھائیو! کورونا سے لڑنا نہیں ،ڈرنا ہے !

(Habib Rizwan, Karachi)

عجیب بلا ہے کورونا بھی کسی کو نہیں پتا کیا کرنا ہے بس جس نے جو سن لیا اور دیکھ لیا آگے پہنچانا اپنی ذمہ داری جان کر پھیلا رہا ہے گو کہ کچھ باتیں تواتر کے ساتھ سامنے آرہی ہیں ہے کہ صابن سے ہاتھ دھونے ہیں اور ہرتھوڑی دیر بعد بیس سکینڈ تک دھونے ہیں۔ کسی سے ہاتھ نہیں ملانا زبانی کلامی یا آنکھون کےراستے دل ملانا کافی ہے۔ معاشرتی دوری رکھنی ہے ۔ البتہ ماسک کے استعمال کے بارے میں دنیا اب بھی کنفیوز ہے۔ اور دنیا سے زیادہ کنفیوز اپنی دھرتی اور اس کے حکمران۔ کہتے ہیں کورونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے اب کون سمجھائے ان کو کہ اس لڑائی میں آپ کورونا سے چمٹ جائیں یا کورونا آپ سے نتیجہ تو وہی نکلے گا جو کورونا چاہے گا۔۔۔ توپس ثابت ہوا کہ اس سے دست بدست لڑائی میں نہیں جیتا جاسکتا تو پھر فرارکی راہ ہی رہ جاتی ہے اور فرار کی راہ ڈر کے بعد ہی سوجھتی ہے جو عملی طور پر دنیا کررہی ہے۔ بڑی مشکل سے خان صاحب ٹائیگر فورس پر مانے کہ اپوزیشن نے رولا ڈال دیا۔ کسی ایک بات پر رکتے ہی نہیں کبھی لاک ڈاون کبھی کرفیو کبھی کیئرفار یو اور جیسے ہی نسیم حجازی کے کردار میدان عمل میں آئے تو حکومت بھیگی بلی بن جاتی ہے۔ اور پھر بھگتنا پولیس کو پڑا آخری جمعہ جس جذبہ ایمانی کے تحت ادا کیا گیا اس کا عملی مظاہرہ اہل کراچی نے خوب دیکھا۔ نماز ضروری فریضہ اب کیا اہل ایمان کو کورونا سے ڈرا کر روکو گے؟ ویسے ویڈیو غور سے دیکھیں تو لگتا ہے کہ کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو نماز پڑھنے تو نہیں آئے تھے لیکن پرانا حساب ضرور چکا رہے تھے،پھر نسیم حجازی کے کرداروں نے نعرہ مستانہ لگایا اور پولیس یونیفارم سے خوب کورونا مار بھگایا۔ اب ان اہل ایمان کو کون سمجھائے کہ ریاست کو آپ کی فکر نہیں بھائی اگر کورونا کے شکار ہوئے تو ریاست کے متھے پڑو گے۔علاج تو دور ریاست کی تو پھر تدفین کی بھی سکت نہیں رہے گی۔ پھر کیا ریاست تدفین فنڈ کے لیے بھیک مانگتی رہے گی ؟ اللہ کے بندوں غور کیوں نہیں کرتے؟ اور تو اور صاحبو یہ معاشرتی دوری بھی کس مقام پر لے آئی ہے کہ آپ کو گھر پر ٹھہرنا ہے اور اس وقت تک ٹھہرنا ہے جب تک وہ مخلوق آپ کو زبردستی گھر سے نا نکال دے جس کے خوف سے آپ کورونا سے پہلے مزدوری، آفس اور کاروبار کے بہانے رات اندھیرے ہی فرار ہوجاتے تھے مزے سے زندگی گزر رہی تھی آفس اور دکان میں ۔ اب تو حالت یہ ہے کہ گھر میں ڈیڑھ سو مرتبہ یہ خیال آتا ہے کہ ٹیپو سلطان کے قول پر عمل کرجائیں اور نکل پڑیں گھر سے، آخر کورونا کیا بگاڑ لے گا کس حد تک بگاڑے گا اور آخر کب تک بگاڑے گا؟ لیکن بھائی گھر پر تو کورونا سے بھی زیادہ درد ناک وقت چل رہا ہے۔ قبل کورونا جب محدود وقت کے لیے گھر آتے تو کبھی کبھار خاطر مدارت تو ہو ہی جاتی اور اب یہ خاطر مدارت مستقل مقدر۔ اب کون ولی اللہ ہوگا جس کو اس کے گھر والے کام کرنے والا سمجھتے ہوں جو لاک ڈاون کی وجہ سے گھر سے کام پر مجبور ہے۔ اہل خانہ کا تو یہی ایمان ہے کہ دوست آفس نہیں آتے اس لیے موصوف کام گھر لے آیا اور کونسا کوئی خاص کام کررہا ہے یہ نکما۔ اب ایسے میں کیا کام اور کیا ڈیٹ لائن سب چوپٹ۔ آپ گھر سے کام کرپائیں یا نہیں ایک بات تو طے ہے کہ آپ کی موجودگی ان کے لیے یہ یقین خاطر کہ پانی کی موٹر بھی آپ نے ہی کھولنی ہے۔ بجلی کا بورڈ آپ نے ٹھیک کرنا ہے۔ دروازوں کو رنگ بھی کرنا ہے۔ واشنگ مشین کی مرمت بھی کرنی ہے۔کچن کا پرانا چولہا بھی ٹھیک کرنا ہے۔ نہیں آتا تو یوٹیوب سے سیکھ کر کریں آخر کو یہ کمپیوٹر آفس سے لائے کس کام کے لیے ہیں ۔۔نجانے کہاں کہاں سے کیا کیا کام نکال لیتی ہے یہ مخلوق ؟ اور تو اور بیل بجے تو دروازہ کھولنے کے ذمہ دار بھی آپ ہیں۔ اب تو حال یہ ہے کہ پڑوس کے کسی ایک دروازے پر دستک ہوتو محلے کے تمام شوہرات حکم سے پہلے ہے دروازے پر ہوتے ہیں۔ جائیے جی ذرا دیکھیے دروازے پر کون ہے؟ اب آپ لاکھ کہیں کہ اے اللہ میاں کی اتنی بڑی بھینس پڑوس کا دروازہ بج رہا ہے جواب ملے گا تب بھی دیکھ کر تو آئیں کہیں سرکاری راشن تو نہیں پہنچا ان کے گھر ۔ کورونا سے ہم وفات کی سعادت حاصل کرپائیں گے یا نہیں لیکن یہ لاک ڈاون ضرور ہمیں شہید کردے گا اورپھر تاریخ میں جس قسم کا شہید کہلائے جائیں گے اس کے ذکر کی یہاں اجازت نہیں۔ لاک ڈاون کے شہید ہوئے تو بعد میں آپ کو اپنے ذکر پر بہت شرمندگی ہوگی۔ تو بھائیوں بہتر راستہ ہے کہ نکل پڑیں گھر سے ٹوٹ پڑیں کورونا پرخوب گلے لگالیں کورونا کو اور پہنچیں سیدھا آئیسولیشن میں پھر دیکھیں یہ گھریلو ستم گر آپ کے قریب آکر دکھائیں۔ آئسولیشن میں نہ تو کوئی آپ کو دروازے کھولنے بھیجے گا نہ پانی کی موٹر چلانے۔ اگر آپ خود بھی عادت سےمجبور ہوکر جانا چاہیں گے توآہنی ہاتھ کہاں پڑے سوچ ہے آپ کی۔ اب اس آئیسولیشن سے کورونا داغ مفارقت دے یا آپ،،،، ایک بات تو طے ہے کہ زندگی جتنی بھی گزرے گی آرام سے گزرے گی یا آرام سے گزر ہی جائے گی آپ کو جب تک علم ہوگا آپ ٹیپو سلطان کے قول کی تعبیر بن چکے ہوں گے اور اس کے بعد پھر آپ کو کچھ نہیں کرنا اللہ سلامت رکھے ایدھی چھیپا والوں کو منہ دکھائی کا بھی موقع نہیں دیتے انتہا کی حد تک اس حدیت پر عمل کرتے ہیں کہ میت کو اس کے مقام تک پہنچانے میں جلدی کیا کرو اگر نیک ہے تو اس کو جلدی ہوگی اور بد ہے تو آپ جلدی جان چھڑائیں ۔۔ لیکن اتنا جلدی!!! بھائی سکون کا ایک سانس تو لینے دیں بڑی مشکل سے تو سوئے تھے اور آپ چلے پہنچانے وہاں جہاں پھر سوال ہوں گے کہاں گئے تھے ؟ کیوں گئے تھے؟ کیا کرکے آئے ہو؟
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 90 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Habib Rizwan
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: