کورونا کا مقابلہ کیسے کریں؟

(Ata Ur Rehman Chohan, Islamabad)

کورونا وباء نے دنیا کا نقشہ بدل دیا ہے۔ کل کیا ہوگا، کچھ کہنا مشکل ہے۔ ہمارے پڑوسی ممالک میں کورونا کی وباء نومبر2019 کی اطلاعات آنا شروع ہوگئی تھیں۔ پاکستان میں پہلا مریض چھبیس فروری 2020 کو منظر عام پر آیا۔ اب تک یہ دنیا کےدوسوممالک میں پھیل چکا ہے اور مجموعی طور پر ساڑھے بارہ لاکھ لوگ مرض کا شکار ہو چکے ہیں اور مرنے والوں کی تعدادپینسٹھ ہزار جبکہ صحت یاب ہونے والوں کی تعداد اڑہائی لاکھ کے قریب ہے۔ پاکستان میں پانچ اپریل تک تین ہزار ایک سو افراد میں کورونا کے مرض کی تشخیص ہوئی ہے، ایک سو ستر مریض صحت یاب ہو چکے ہیں اور وفات پانے والوں کی تعداد پینتالیس (45) ہے۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان کے بقول مریضوں کی تعداد زیادہ ہے ، تشخیص کے مناسب آلات کی عدم موجودگی کی وجہ سے جانچ پڑتال کا عمل سست ہے۔

ہماری حکومت نے بروقت اقدامات نہیں کیے، اس تفصیل میں جانے کی ضرورت ہے ۔ حکومت نے تاخیر سے ہی سہی، پاک فوج کی مدد سے گزشتہ ایک ہفتے سے تیز رفتار آگاہی مہم، علاج معالجہ اور حفاظتی تدابیر کا اہتمام کیا ہے۔ ایک پہلو قابل توجہ ہے کہ ہماری نوکرشاہی کا دماغ ابھی بھی غلامانہ تصورات سے باہر نہیں نکل سکا۔ وفاقی سطح پر کورونا آگاہی کے لیے جو ویب سائٹ بنائی گئی ہے وہ انگریزی میں ہے، جو تازہ ترین معلومات اور ہدایات بھی انگریزی میں پیش کی جارہی ہیں۔ ایک ایسی زبان میں کورونا کے خلاف جنگ لڑنا جو ملک کی 98 فیصد آبادی کی سمجھ سے بالا تر ہے، سوائے وسائل کی ضیاع کے کچھ بھی نہیں۔ حد تو یہ ہے کہ غیر سرکاری سطح پر کام کرنے والی تنظیموں کا آگاہی و تشہیری مواد بھی زیادہ تر انگریزی میں ہے۔ یوں لگتا ہے کہ حکمران اور این جی اوز دو فیصد انگریزی جاننے والوں کو محفوظ رکھنا چاہتی ہے اور 98 فیصد عام پاکستانیوں کی زندگی سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتی۔ نومبر 2019 سے مارچ 2020 تک کورونا کے متوقع خطرے سے بچنے کے لیے ہم نے کیا اقدامات کیے؟ ایک ایسا سوال ہے جس پر اس مصیبت سے نکلنے کے بعد غور ہوگا۔

وزیراعظم عمران خان کے بیان کردہ خدشات پر غور کیا جائے تو ہمارے ہاں مریضوں کی تعداد تین ہزار سے کئی گنا زیادہ ہے اور آنے والے چند دنوں میں جوں، جوں تشخیصی سہولیات میں اضافہ ہورہا ہے، مریضوں کی تعداد میں ہوشربا اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔ کیا محض سفری پابندیاں اور تالہ بندی (لاک ڈاون) ہی مسئلے کا حل ہے یا ہمیں کچھ اور بھی کرنا ہوگا۔ جب کہ عوام اور حکمران بتدریج سفری پابندیوں اور تالہ بندی کو ختم کرنے پر متفق ہیں۔ کچھ ماہرین بار، بار متوجہ کررہے ہیں کہ ہم خدانخواستہ کورونا وباء کے تیسرے مرحلے میں داخل نہ ہوجائیں۔ تیسرے مرحلے کے لیے تیاری کے لیے ضروری ہے کہ ہسپتالوں میں ضروری لوازمات، لیبارٹریوں میں مطلوبہ مشینری کی فراہمی ، ڈاکٹروں اور طبی عملے کی کورونا مریضوں کو دیکھ بھال کی مناسب تربیت، ویلٹنیٹروں کی فراہمی اور حفاظتی مراکز کے لیے متبادل عمارتوں میں ضروری انتظامات کرنے کے علاوہ عوامی سطح پر بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

حالیہ چند دنوں میں جو بات سامنے آئی ہے اس کا مثبت پہلو یہ ہے کہ بائیس کروڑ آبادی والے ملک میں جس کی پچاس فیصد آبادی ناخواندہ اور جاہل ہے نے جس نظم و نسق کا مظاہرہ کیا ، حکومتی ہدایات کی پابندی کی گئی۔ مجموعی طور پر تاجر طبقے نے اشیاء ضروری کی فراہمی میں فراخدلی کا مظاہرہ کیا اور حسب سابق ذخیرہ ا ندوزی اور ناجائز منافع خوری سے گریز کیا۔ ہمیں پولیس سے ان گنت شکایات تھیں لیکن اس نازک مرحلے پر ہماری پولیس نے سابقہ سارے شکوے دور کردئیے ہیں۔ رینجر اور پاک فوج تو ہنگامی حالات سے نمٹنے کی ماہر ہے۔ ہمارے ڈاکٹر اور طبی عملہ کے اراکین نے جان ہتھیلی پر رکھ کر خدمت کی ہے۔ انفرادی اور ادارہ جاتی خیرات میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔رضا کار گلی کوچوں میں ضرورت مندوں تک سامان خردو نوش پہنچا رہے ہیں۔ تاہم ہمارے بڑے کاروباری خاندانوں کی طرف سے کوئی قابل ذکر ایثار دیکھنے میں نہیں آیا، جو اس بات کی نشانی ہے کہ ان کے پاس حرام کی دولت ہے، جو خیر کے کاموں میں خرچ ہوہی نہیں سکتی۔اس مشکل مرحلے میں قوم میں مثبت تبدیلی سے ایہ امید بند گئی ہے کہ پاکستانی قوم ایک منظم اجماعیت ہے جو مشکلات کا مقابلہ کرسکتی ہے۔

اس مرحلے پر جو مزید کرنے کی ضرورت ہے، اس بارے میں سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر کوئی پیش رفت نظر نہیں آرہی۔ تیسرے مرحلے پر ہمیں منہ چھپانے کے لیے ماسک، دستانے اور حفاظتی محلول (سینٹائزر)جس مقدار میں درکار ہوں گے، وہ کہاں سے لائیں گے۔ پوری دنیا کی مشینری جام ہے۔ بین الاقوامی آمد ورفت معطل ہے۔ ملیریا کی جس دوائی سے علاج شروع کیا گیا ہے، اس کی ہمارے پاس کتنی مقدار ہے اور تیسرے مرحلے کے لیے کتنی درکار ہوگی۔ آٹے کی ملیں اور دیگر اشیائے خردو نوش بنانے والے کارخانے بند پڑے ہیں۔ دستیاب ذخائر میں بتدریج کمی آرہی ہے۔ ایسے میں درج ذیل اقدمات کرنے کی فوری ضرورت ہے:
1. ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے رضا کاروں کی لام بندی (رجسٹریشن) اور بنیادی تربیت کا اہتمام کیا جائے۔ ہمارے ہاں رضاکارانہ خدمت کا جذبہ دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔
2. ذرائع ابلاغ باالخصوص الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا کو غیر معیاری اور غلط معلومات کی فراہمی سے روکا جائے۔
3. عوام کو باخبر رکھنے کے لیے ذرائع ابلاغ کے لیے قومی اور علاقائی زبانوں میں احتیاتی تدابیر پیش کرنے کے لیے نوجوانوں کو متحرک کیا جائے، باالخصوص یو ٹیوب اور فیس بک پر کام کرنے والے نوجوان طبقے کی صلاحیتوں سے استفادہ کیا جائے۔
4. آٹے کی ملوں سمیت اشیائے خردو نوش تیار کرنے والے تمام کارخانوں کو جملہ حفاظتی ا نتظامات کے ساتھ فوری چالو کیا جائے۔
5. ضروری ادویات کی تیاری کے تمام کارخانوں اور ترسیل کے سارے ذرائع کو فعال کیا جائے۔
6. ماسک تیار کرنے کے کارخانے فعال کیے جائیں، گھروں میں موجود سلائی مشینوں اور افرادی قوت کو استعمال میں لاتے ہوئے کروڑوں کی تعداد میں ماسک تیار کروائے جائیں۔
7. حفاظتی محلول (سینٹائزر) تیار کرنے والے اداروں کو فعال کیا جائے اور گھریلو سطح پر اس کی تیاری کے ذریعے سوشل اور الیکٹرنک میڈیا کے ذریعے آگاہی دی جائے اور سامان فراہم کیا جائے تاکہ ممکن خطرات سے نمٹنے کی تیاری کی جائے۔
8. ہسپتالوں میں بیرونی مریضوں ( او پی ڈی ) کو جلد از جلد فعال کیا جائے۔
9. عوامی ذرائع نقل و حرکت (ٹرانسپورٹ) کو ضروری احتیاطوں کے ساتھ بحال کیا جائے تاکہ مریضوں اور دیگر لازمی امور میں خلل اندازی نہ ہو۔
10. تعلیمی آن لائن کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں یکساں نصاب کی وجہ سے تو آسانی سے پورے، پورے صوبے کے پرائمری سے ایم ۔ اے کی سطح پر آن لائن تعلیم کا بندوبست کیا جاسکتا ہے۔ سرکاری سطح پر آن لائن تعلیم کے سافٹ وئیر مفت فراہم کیے جائیں تاکہ نجی تعلیمی ادارے اپنے طلبہ کو اداروں سے منسلک کرکے اپنے نظام کو چلا سکیں۔ ہماری نوجوان نسل سافٹ وئیر کی تیاری میں رضاکارانہ تعاون پر تیار ہو جائے گی۔ صرف انہیں متحرک کرنے اور ساتھ ملانے کی ضرورت ہے۔
11. سرکاری اداروں میں کام کی ویسے ہی کمی ہوتی ہے اور ان دنوں میں تو سرے سے کوئی سرگرمی ہی نہیں۔ سرکاری ملازمین کو گھر میں بیکار رکھنے کے بجائے ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تربیت کا اہتمام کیا جائے۔ جو آن لائن بھی ہوسکتا ہے۔ تمام سرکاری ملازمین کو پابند کیا جائے کہ وہ صبح نو بجے مرکزی نظام کے ساتھ منسلک ہوکر ہنگامی حالات نمٹنے کی تربیت حاصل کریں اور ان کا آن لائن جائزہ لینے کا نظام بنا یا جائے۔ اگر سرکاری ملازمین سے صرف یہی کام لے لیا جائے کہ وہ وزارت صحت اور نیشنل ڈیزاسسٹر مینجمنٹ کی طرف سے جاری کردہ ہدایات سوشل میڈیا کے ذریعے عام کریں تب بھی وباء سے بچنے کے بارے میں قوم میں آگاہی دی جاسکتی ہے۔
12. قوم کے جذبے کو قائم رکھنے، مایوسی اور پریشانی سے نکالنے کے لیے سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر جید علمائے کرام، شعراء ادیبوں، فنکاروں اور دیگر شعبہ ہائے زندگی کی اہم شخصیات کے ذریعے مسلسل مذاکرے اور آگاہی کا نظام وضع کیا جائے۔
13. مساجد اور مدارس کو بند کرنے کے بجائے اسلام آباد ضلعی انتظامیہ کی طرز مثالی مساجد و مدارس کا نظام وضع کیا جائے ۔ مساجد کو پہلے مرحلے پر مکمل سپرے اور ضروری انتظامات کے ساتھ کھول جائے، داخلے کے راستوں پر سکینر لگائے جائیں اور نمازیوں کو پابندی کیا جائے کہ وہ داخلے کے وقت تمام حفاظتی تدابیر اختیارکریں ۔ مدارس کو بھی آن لائن تعلیم دینے کی ترغیب دی جائے۔
14. گھروں میں بیکار مرد و زن کو سرگرمی نہ دی گئی تو اس سے بڑے مسائل جنم لیں گے۔ لوگوں کی صلاحتیوں کو قومی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا ہنر سیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ قوم بلا معاوضہ وہ کارنامے انجام دے سکتی ہے جس کا دنیا میں تصور کرنا ممکن نہیں۔ سفری پابندیوں کے دوران عوام الناس کو بڑے پیمانے پر گھریلو صنعتوں کی تربیت کا آن لائن سرکاری سطح پر انتظام کیا جائے اور غیر سرکاری اداروں کو متحرک کیا جائے۔
15. پاکستان اس وقت آن لائن خدمات سرانجام دینے والے ممالک میں چوتھے نمبر پر ہے۔ اگر حکومت عالمی اداروں تک رسائی اور آن لائن کام، کاج اور کاروبار کو مزید سہولیات فراہم کرے، رقوم کی ترسیل کے لیے پے پال جیسے اداروں کو رسائی دے تو نوجوان پاکستان کو آن لائن کاروباری میں دوسرے نمبر پر لے آئیں گے، روزگار اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی اضافہ ہوگا۔
16. تمام بلدیاتی اداروں کو فعال کیا جائے، فائر بریگیڈ، پانی سپلائی کرنے والے ٹینکر اور دیگر مشینری اور ملازمین کو متحرک کرتے ہوئے پورے ملک کو ایک ہفتے میں جراثیم کش سپرے کے ذریعے کورونا سے بچنے کے اقدامات کیے جائیں۔
17. جب تک تالہ بندی ضروری ہے اس دوران ہر شعبہ کی دس فیصد دکانوں کو مناسب انتظامات اور احتیاطوں کے ساتھ کھولنے کی اجازت دی جائے، جیسے نائی، دھوبی، گاڑیوں کی ورکشاپوں اور دیگر کاروباری دکانوں کو دس فیصد روزانہ کی بنیاد پر کھولی جائیں۔
18. ان اقدامات کے بعد آدھا پاکستان گھریلو صنعت میں بدل کر عالمی منڈی میں اپنا نام پیدا کرسکتا ہے۔ اگر حکومت توجہ دے تو ملک میں چند مخصوص شعبوں میں مہارت حاصل کرکے گھریلوسطح پر بڑے پیمانےپر دستکاری کا سامان تیارکروا کر بیرون ملک درآمد ات میں ریکارڈ اضافہ کیا جاسکتا ہے، بلکہ مستقل بنیادوں پر اپنی معیشت کو مستحکم کیا جاسکتا ہے۔
19. ہنگامی حالات میں رضا کارانہ طور پر خدمات سرانجام دینے والوں کی حوصلہ افزائی کےلیے خصوصی ایوارڈ دینے اور ان کی تکریم کا اہتمام کیا جائے اور فوری طور پر ایسی خدمات کی فہرست بندی کا انتظام کیا جائے۔ جیسے کئی یوٹیوبرز نے بھاری فیس والے کورسز مفت کردئیے ہیں، بہت سارے قلم کاروں نے عوامی آگاہی کے لیے بے مثال ادب پارے تخلیق کئے ہیں، کئی فنکاروں نے ایسے ویڈیو پیغامات تیار کئے ہیں جن سے لاکھوں لوگوں نے آگاہی پائی ہے۔ ایسے کالم لکھے گئے ہیں جنہوں نے عوامی آگاہی اور مشکل حالات میں رہنے کا ہنر سکھایا ہے۔
20. سرکاری اداروں میں کام کرنے والے ڈاکٹروں، معاون عملہ اراکین، پولیس، فوج اور اداروں میں مثالی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کو خصوصی انعامات و اعزازات سے نوازا جائے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ata Ur Rehman Chohan

Read More Articles by Ata Ur Rehman Chohan: 10 Articles with 2934 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Apr, 2020 Views: 193

Comments

آپ کی رائے