کورونا۔۔"میں اپنے اللہ کو سب جا کر بتاؤں گی"۔

(Prof Khursheed Akhtar, Islamabad)

کورونا وائرس کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور بہت کچھ لکھا جاتا رہے گا اس میں جدید تحقیق سے لےکر بائیو لیجکل وار کا کوئی حربہ ھو یا مذھبی اور سماجی سوچ اور تھیوری کا کوئی پہلو، سب پر بحث چلتی رہے گی۔وہ کسی کی بات بڑی درست لگتی ہے کہ اللہ کو رحم آنا ھے اپنے مظہر پر اور اللہ کو رحم آئے گا۔کوئی اس کو نئے ورلڈ لیڈر سے تشبیہ دے رہا ہے تو کوئی سرے سے وائرس کی حقیقت ماننے سے ھی انکاری ہے البتہ جدید سائنسی اور فکری تحقیق کی بجائے مذھبی توجیہات کا رحجان مسلمانوں میں زیادہ ھے لیکن دل کے کسی نہاں خانے میں انہیں بھی ویکسین کا ھی انتظار ھے ۔البتہ اور باقی لوگوں کی طرح میں بھی سوچتا ہوں اور کبھی نیٹو اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے دنیا بھر میں ڈھائے جانے والے مظالم کی طرف بھی رخ جاتا ہے ،اپ کے سامنے داعیش کے نام پر شام میں،بائیولیجیکل ویپن کی آڑ میں عراق کے اندر، دھشت گردی کے نام پر افغانستان میں اور یادش بخیر قلعہ جنگی کا منظر آپ کو پتہ ھو گا ھزاروں افغانی بچے بھون دئیے گئے تھے۔کشمیر میں دیکھیں ظلم کی کون سی داستان ہے جو نہیں رقم ھوئی کیا ھم اللہ تعالیٰ کو علیم،بصیر اور خبیر نہیں مانتے یا یہ سب مکافات عمل ھے۔یہ بھی بعید از قیاس نہیں ہے کہ جس شامی بچی نے کہا تھا کہ "میں اپنے اللہ کو سب جا کر بتاؤں گی" کیا اس نے بتا تو نہیں دیا کیونکہ سپر پاور کا دعویدار امریکہ اور نیٹو اس وقت سب سے زیادہ کورونا وبا کے آگے بے بس ھیں اور ھسپتالوں میں جگہ باقی نہیں رہی۔ماسک تک نہیں ملتے اور ٹرمپ کو حجاب پہننے کی ھدایت کرنی پڑی۔شامی بچے کشتیوں میں مارے گئے اوندھے منہ پڑی ایان کی لاش تو آپ کو یاد ھوگی جلتے لاشے اور مٹتی عزتیں تو سنا ھو گا، کیا ظلم تھا جو نہیں ھوا ، اور کیا ھے جو نہیں ھو رھا اس قیامت خیز منظر میں بھی جعلی سینٹائزر ، ماسک،اور دیگر آلات بیچنا شروع کر دیئے ہیں ھمارے پاکستانی بھائیوں نے۔اور یہاں تک کہ کسی ذاتی دشمنی پر قتل کر کے کورونا کیس ظاہر کرنے کی روایت چل نکلی ہے، ایک سوچ یہ بھی ہے کہ موجودہ وبا کئی ملکوں کے لیے رحمت بن کر آئی اور سوئے ہوئے بیدار ہو گئے مگر سازشی تھیوری سے لیکر مذہبی نقطہء نظر اور سوچ تک ایک چیز تو بہرحال مشترکہ ھے کہ بیماری مو جود ھے اور لوگ مر بھی رہے ہیں جن کو بچانے کے لیے کوئی حکمت عملی بنے گی کیا کوئی مسلم ملک یہ کاوش سر انجام نہیں دے سکتا،کیا انہوں نے علم، تحقیق اور ترقی کے راستے بند کر رکھے ہیں، کیا یہ مغرب کی ذمہ داری ہے؟ ان پر غور ضروری ہے تاہم اس کے ساتھ انسانیت پر ڈھائے جانے والے ظلم، سرکشی کے انداز اور تباہ کن کیمیائی ہتھیاروں کے بارے میں بھی سوچنا ھو گا کیونکہ ایک طاقت تو ھے جو سب پر ھاوی اور ظلم برداشت نہیں کرتی اس نے کہیں صدا سن لی ھو اور شامی بچی کی آہ اس تک پہنچ گئی ھو، تو پھر کیا بچے گا شریک، شریک کار اور خاموش سب مارے جائیں گے۔اج کورونا وائرس دنیا کے لئے سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔صرف چین ایسا ملک ہے جو اپنی محنت کو منوا چکا ہے باقی تو ماسک ڈھونڈتے پھر رہے ہیں۔ھمارے ھاں ملاوٹ، ناجائز منافع خوری اور ناپ تول میں کمی کی سماجی برائیاں اپنے عروج پر ھیں انسانی جان بے مول ھو چکی ہے لیکن امید اور رب کی رحمت کا دامن وسیع ھے کوئی تو بچے گا جو نوحے لکھنے کے ساتھ علم و شعور سے منور ھو گا۔ بہرحال شامی بچی میں اپنے اللہ کو سب جا کر بتاؤں گی، کی بازگشت پھر بھی جینے نہیں دیتی، کہیں اس نے بتا تو نہیں دیا؟ اور اللہ کا قہر دنیا کو اپنی لپیٹ میں تو نہیں لے رہا!!!

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 93 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Khursheed Akhtar

Read More Articles by Prof Khursheed Akhtar: 68 Articles with 16156 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: