شب برات :عمل صالح کی رات

(Muhammad Ansar Usmani, Karachi)

اسلامی مہینوں رجب المرجب او ر رمضان المبارک کے درمیان آنے والے مہینے کو شعبان المعظم کہتے ہیں۔ اسلامی کلینڈر میں شعبان المعظم کا آٹھواں نمبر ہے، اس ماہ کی پندرہویں رات یعنی چودہ تاریخ کے سورج غروب ہونے سے لے کر پندرہویں تاریخ کی صبح صادق تک کا وقت شب برات کا ہے اور بے حد برکتوں اور فضیلتوں کا حامل ہے، شعبان وہ مہینہ ہے کہ جس کے تقریباََ دنوں میں رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم روزہ رکھتے تھے،حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہافرماتی ہیں کہ میں نے رمضان المبارک کے علاوہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو کبھی کسی مہینے کے پورے روزے رکھتے نہیں دیکھا ،سوائے شعبان المعظم کے کہ اس کے سارے دنوں میں آپ صلی اﷲ علیہ وسلم روزہ رکھتے تھے (بخاری ، مسلم ، ابو داؤد) ۔ شب برات کی فضیلت بارے زمانہ قدیم سے علماء کرام میں اختلاف کے باوجود آج تک بالکلیہ کسی نے بھی اس کی شان وعظمت سے انکار نہیں کیا۔ مشہور مفسر حضرت عکرمہ ؒ جن کی تحقیق پر ہر زمانہ کے مفسرین کو مکمل اعتبار رہا ہے ، انہوں نے سورۃ الدخان کی اس آیت انا انزلناہ فی لیلۃ مبارکۃ انا کنامنذرین0 فیہا یفرق کل امرِِ حکیم سے شب برات ،یعنی شعبان المعظم کی پندرہویں رات مراد لی ہے۔ شب برات وہ رات ہے جس کی فضیلت و اہمیت سے امت مسلمہ غافل ہو کر اعمال صالحہ سے مفر ہو چکی ہے۔ جبکہ اس رات میں تو اعمالِ صالحہ خصوصاََ نمازِ فجر و عشاء کی باجماعت ادائی، کثرتِ اذکار ، نوافل کے ساتھ تہجد کی نماز کی پابندی کرنی چاہیے۔شب برات میں خصوصاََ اور شعبان المعظم میں عموماََعبادات سے تعلق جوڑے رکھنا چاہیے،کیوں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:’’شعبان وہ مہینہ ہے جس میں اﷲ تعالیٰ پورے سال انتقال کرنے والے انسانوں کے نام لکھتے ہیں میری خواہش ہے کہ میری موت کا فیصلہ اس حال میں ہو کہ میں روزے سے ہوں ‘‘۔ ( الترغیب والترہیب ) ایک اور روایت میں فرمایا:’’اس ماہ میں اﷲ جل شانہ کے سامنے انسانوں کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں میری خواہش ہے کہ میرے اعمال اس حال میں پیش ہوں کہ میں روزے سے ہوں ‘‘۔
( مسند احمد و ابو داؤد)

شب برات رحمتوں ،برکتوں اور فضیلتوں کی رات ہے، اس رات کی فضیلت پر تقریباََ 17 صحابہ کرام ؓ سے احادیث مبارکہ وارد ہوئی ہیں، شب برات میں بہت سے اعمال رائج زمانہ میں غیر ضروری شامل کردیے گئے ہیں جن کو بڑے اہتمام اور ثواب کی نیت سے کیا جاتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ ان اعمال کی کوئی حقیقت نہیں،کوئی اصل نہیں۔ اس کے برعکس ایسے نیک اعمال کہ جن کا کرنا اس رات میں کار ِ ثواب ہے ان کو ترک کردیا گیا ہے۔ مثلاََ پندرہویں شعبان کی رات کو قبرستان جایا جاتا ہے۔ آپ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی زندگی میں صرف ایک بار شب برات کی رات کو قبرستان جانا ثابت ہے۔اس کے علاوہ مکمل حیات مبارکہ میں کبھی آپ صلی اﷲ علیہ وسلم قبرستان نہیں گئے۔ لیکن ہم جس طرح سے قبرستان جاتے، شب برات مناتے ہیں اور اس عمل کو سنت کا درجہ دیتے ہیں یہ درست نہیں۔ اگر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی سنت پر عمل مقصو د ہوتوزندگی میں کسی ایک شب برات میں قبرستان جاکر اپنے مرحومین اور میتوں کی مغفرت کی دعا کر لی جائے۔اس کے علاوہ کوئی ایسا عمل نہ کیا جائے جو خلاف سنت ہو اور جس کے کرنے سے دین میں ایک نئی بات کی ایجاد کی راہ ہموار ہوتی ہو۔ لوگوں کواس رات میں کرنے والے بہت سے اعمال صالحہ کا شعور ہی نہیں، یہاں تک کہ غفلت اور ناسمجھی میں لوگ اجتماعی اعمال کو عبادت پر محمول کرلیتے ہیں اور فرائض کو چھوڑ دیتے ہیں، نماز اس حال میں خاص طور پر ترک ہوتی نظر آتی ہے،جبکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ پندرہویں شعبان کی فجر اور عشا ء کی نماز وقت پر پڑھی جائے،بقدر استطاعت نوافل ادا کیے جائیں، صلاۃ التسبیح پڑھی جائے ،قرآن پاک کی تلاوت کی جائے جو کہ قرآن مجید کا حق بھی ہے، کثرت سے اذکارکیے جائیں اور اپنے گناہوں کی خوب اﷲ پاک سے مغفرت طلب کی جائے۔ موجودہ نازک صورت حال کہ جب پوری دنیا ایک وبا کی لپیٹ میں ہے عالم انسانیت عذاب الہی کی گرفت میں ہے تو مسلمانوں کو خاص طور رجوع اﷲ کرنا چاہئے۔ حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:’’پندرہویں شعبان کی شب اﷲ کی طرف سے آواز لگائی جاتی ہے کہ ہے کوئی مغفرت مانگنے والا کہ میں اس کو معاف کروں؟ ہے کوئی سوال کرنے والا کہ میں اس کو عطا کروں؟ ہر سوال کرنے والے کو میں عطا کرتا ہوں سوائے مشرک اور زانی کے‘‘۔( بیہقی فی شعب الایمان)

شب برات کومسلمانوں نے اجتماعی عبادت کی رات بنا دیاہے ، جبکہ یہ رات انفرادی عبادت کی رات ہے نا کہ اجتماعی عبادت کی، نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم سے اس رات میں کسی بھی اجتماعی عبادت کا کرنا ثبوت کے ساتھ نہیں ملتا جو ہمارے لیے حجت ہو، اس لیے ہمیں بھی انفرادی عبادت کرنے کو ترجیح دینی چاہیے اور اجتماعی عبادت سے بچنا چاہیے،بہت سے ثواب کے کام جو اس رات سے منسوب کردیے گئے ہیں ان کا دور تک شب برات سے تعلق نہیں، وہ غیر ضروری کام ہیں جنہیں ناکرنا چاہیے اور نا ہی ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے،جیسے حلوا پکانا،آتش بازی کرنا( اور یہ صریح فضول خرچی ہے) اجتماع کی شکل میں قبرستان جانا،گھروں کی ڈیکوریشن کرنا اور قبروں پر چادریں چڑھاناوغیرہ ( قبر پرچادر چڑھانا کسی بھی وقت صحیح نہیں) شب برات اعمال صالحہ کی رات ہے لہذا رب کو راضی کیجیے اور ایسے کاموں سے حتی الامکان بچنے کی کوشش کریں جن سے پیارے مدنی صلی اﷲ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہو۔اﷲ پاک ہمیں اس رات کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اس کی برکتیں ہم سب کو عنایت فرمائے۔ آمین
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Ansar Usmani

Read More Articles by Muhammad Ansar Usmani: 25 Articles with 7838 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Apr, 2020 Views: 354

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ