دعا و استغفار کی رات

(Muhammad Riaz, Islamabad)
اس دنیا میں بسنے والے تمام انسان اللہ تبارک و تعالی کی بے شمار نعمتوں سے مستفیض ہوتے ہیں؛ فرق بس اتنا ہے کہ اللہ رب العزت نے اپنی حکمت کاملہ سے کسی کو کم اور کسی کو زیادہ نعمتوں سے نوازا ہے۔


اللہ رب العزت کے خصوصی فیضان کے لمحات میں سے وہ لمحات بھی ہیں جن کی گواہ نصف شعبان کی رات بنتی ہے۔ اِس کی فضیلت اس قدر ہے کہ مسلمان سال بھر اِس رات کا انتظار کرتے ہیںکیونکہ اس رات میں دعائوں کی قبولیت کا پروانہ سنایا گیا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ پوری دنیا کورونا وائرس سے دہشت میں مبتلا ہے، اِس رات کی اہمیت اِس اعتبار سے مزید بڑھ جاتی ہے کہ اللہ پاک ہی بیماری سے شفا دینے والے ہیںشب ِبرات کو غنیمت جان کر کورونا وائرس کے خاتمے کیلئے دعا کریں؛ اس لئے یہ بہترین موقع ہوگا جب ہم پوری انسانیت کیلئے اِس وبائی مرض سے چھٹکارے کی خاطر دعائیں مانگیں۔

اس دنیا میں بسنے والے تمام انسان اللہ تبارک و تعالی کی بے شمار نعمتوں سے مستفیض ہوتے ہیں؛ فرق بس اتنا ہے کہ اللہ رب العزت نے اپنی حکمت کاملہ سے کسی کو کم اور کسی کو زیادہ نعمتوں سے نوازا ہے۔ غور کریں تو یہی نعمت کیا کم ہے کہ ہمیں انسان بنایا اور اشرف المخلوقات ہونے کاتاج ہمارے سرپر سجایا۔ اگر عقلی طور پر دیکھیں تو اللہ تبارک وتعالی کی نوازشات کا بدلہ ہمیں اپنی وسعت کے مطابق ہمہ وقت شکر کا نذرانہ پیش کر کے دینا چاہئے، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم ایسا نہیں کرتے اور کچھ لوگ تو ایسے بھی ہیں جو بالکل ہی شکر کے جذبات سے عاری ہیں۔ بات یہیں ختم نہیں ہوجاتی بلکہ اِس سے بھی آگے بڑھ کر حضرتِ انسان احکامات خداوندی سے سرتابی اور روگردانی کر کے اپنے ناشکرا ہونے اور عملا باغی ہونے پر خود ہی مہر ثبت کر دیتا ہے۔

اگرہم شکراور نا شکری کے معاملے کو اپنی روز مرہ کی زندگی کے آئینے میں دیکھیں گے تو ہمیںاپنی پوزیشن کا بخوبی اندازہ ہوجائے گا۔ مثال کے طور پر اگر کوئی ملاز م اپنے مالک کی عنایات کا بھرم رکھتے ہوئے اپنی سعادت مندی کا ثبوت پیش کرتا ہے تو اس کا مالک نہ صرف یہ کہ اس سے خوش ہوتا ہے بلکہ اپنی عنایات کے سلسلے کو مزید دراز کردیتا ہے؛ اِس کے بالمقابل اگر کوئی ملازم اپنے مالک کی جانب سے عطا کردہ سہولیات کے باوجود اپنے اعمال سے اپنی وفاداری ثابت نہیں کرتا ہے تو مالک اس سے ناراض ہونے کے ساتھ کبھی اس کو کسی شکل میں سزا دیتا ہے تو کبھی ملازمت سے ہی نکال باہر کرتا ہے۔ہاں یہی ملازم اگر اپنی غلطی کو سدھار کر مالک کا فرما نبردار اور وفا دار بن جاتا ہے تو دوبارہ اپنے مقام اور مالک کی عنایات کو حاصل کرلیتا ہے۔

مذکورہ تناظر میں جب ہم اپنی حالت کا جائزہ لیتے ہیں تو اِس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ یقینا ہم نے اپنی نافرمانیوں سے مالکِ حقیقی اللہ رب العزت کو ناراض کر دیا ہے؛ اس کا تقاضا تو یہ تھا کہ اللہ تعالی ہمیںاپنی نعمتوں سے ہی محروم کردیتالیکن یہ اس کی شانِ کریمی کا عظیم مظہر ہے کہ اب بھی ہم نعمت ِ خداوندی سے لطف اندوز ہورہے ہیں؛ ہاں ہماری بد اعمالیوں اور کرتوتوں کی وجہ سے کبھی کبھار اللہ تبارک ہمیں متنبہ کرنے اور ہماری آزمائش کے لئے کچھ پریشانیوں سے یعنی سزا سے ہمیں دو چار کر دیتا ہے، جیسا کہ اِ س وقت پوری دنیا کورونا وائرس کی لپیٹ میں ہے۔ یہ وہ موقع ہے جس سے سبق لے کر ہمیں راہِ راست پر آجانا چاہئے اور اپنی وفاداری کے تمام تار اللہ اور رسول اللہ ۖ سے جوڑ لینا چاہئے۔
یہاں یہ سوال پیدا نہیں ہونا چاہئے کہ جب یہ سزا نافرمانی کی پاداش میں ہے تو پھر بظاہر فرما نبردار نظر آنے والے افراد بھی اِس سے متاثر کیوں ہیں؛ کیونکہ قرآنی اصول کے مطابق امر بالمعروف اور نہی عن المنکر (اچھائی کا حکم کرنا اور برائی سے روکنا) کی ذمہ داری میں کوتاہی اجتماعی پریشانی کا سبب بنتی ہے۔

تمام آثارو قرائن سے جب یہ بات ظاہر ہوگئی ہے کہ ہم نے اپنی بد اعمالیوں سے اللہ رب العزت کو ناخوش اورناراض کر دیا ہے تو اب ہمارے سامنے صرف ایک ہی راستہ اپنے گناہوں سے سچے دل سے توبہ اور اس کے بعداطاعت شعاری سے عبارت پاکیزہ زندگی کا بچتا ہے۔ یوں تو جس لمحے ہی ہمیں اپنی غلطیوں کا احساس ہوجائے اسی وقت توبہ کرکے نیک زندگی کا آغاز کر دینا چاہئے کیونکہ اِس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ آنے والی ساعتوں میں ہمارے جسم و روح کا رشتہ برقرار رہے گا۔ البتہ کچھ خاص لمحات ایسے ہوتے ہیں جب اللہ رب العزت کی خصوصی توجہ کا فیضان عام ہوتا ہے؛ جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمیںسعادتِ دارین کا طلبگار ضرور ہوناچاہئے۔

ایک حدیث پاک میں ہے: جب نصف شعبان کی رات ہوتی ہے تو ایک پکار لگانے والا پکار لگاتا ہے کہ: ہے کوئی بخشش طلب کرنے والاکہ میں اس کو بخش دوں؟ ہے کوئی سوال کرنے والا کہ میں اس کو عطا کروں؟ لہذا جو جس چیز کا سوال کرتا ہے اس کو وہ چیز دے دی جاتی ہے سوائے مشرک کے۔ (الجامع الصغیر) اسی طرح ایک دوسری حدیث میں ہے: اللہ تعالی نصف شعبان کی رات اپنے بندوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور استغفار کرنے والوں کو بخش دیتے ہیں اور رحم طلب کرنے والوں پر رحم فرماتے ہیں اور اہلِ بغض (کینہ پرور)کو ان کی حالت پر چھوڑ دیتے ہیں۔ (الجامع الصغیر) برات کے معنی نجات اور چھٹکارے کے ہیں۔ شعبان کی رات کو `شب ِ برا ت`اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ یہ گناہوں سے نجات اور خلاصی کا ایک بہترین موقع ہے۔ شعبان کے مہینے کے حوالے سے ہمارے ذہن میں یہ بات ضرور رہنی چاہئے کہ یہ پورامہینہ ہی بابرکت اور باعثِ فضیلت ہے اور یہی وہ مہینہ ہے جب بندوں کے اعمال اللہ رب العزت کے دربار میں پیش کئے جاتے ہیں۔ ایک روایت کے مطابق حضرت اسامہ نے رسول اکرم ۖ سے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول ۖ! میں آپ کو شعبان سے زیادہ کسی اور مہینے میں روزہ رکھتے نہیں دیکھتا ہوں؟

آپ ۖ نے جوابا فرمایا: رجب اور رمضان کے بیچ میں یہ وہ مہینہ ہے جس میں بندوں کے اعمال ربِ کائنات کے دربار میں پیش کئے جاتے ہیں، اسی لئے میں یہ چاہتا ہوں کہ میرے اعمال اِس حالت میں اٹھائے جائیںکہ میں روزے سے ہوں۔(نسائی)ہم میں سے کوئی یہ نہیں چاہتا کہ اس کی بد اعمالیاں اللہ رب العزت کے دربار میں پیش ہوں اس لئے جلد از جلد توبہ کرلیںتاکہ ہمارے نامہ اعمال سے گناہ مٹ جائیں؛ کیونکہ گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسا ہوجاتا ہے گویا کہ اس نے گناہ کیا ہی نہیں۔

شعبان کی فضیلت کے پیشِ نظر ہمیں اِس رات کو اِس اعتبار سے بہت اہم بنالینا ہے کہ ہم ہر طرح کے غیر شرعی رسم و رواج سے بچتے ہوئے حتی المقدور اِس شب کو شبِ عبادت و دعا بنالیں اور اگلے دن روزہ بھی رکھیں۔ نبی اکرم ۖکا ارشاد گرامی ہے: جب نصف شعبان کی رات آجائے تو تم اس رات میں قیام کرواور اس کے دن کا روزہ رکھو۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Riaz

Read More Articles by Muhammad Riaz: 16 Articles with 4376 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Apr, 2020 Views: 151

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ