اَوْ اَ دْ نیٰ۔ شعری مجموعہ/ محبوب الٰہی عطاؔ

(Prof. Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)

اَوْ اَ دْ نیٰ۔ شعری مجموعہ/ محبوب الٰہی عطاؔ
٭
ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی
‘جناب محبوب الٰہی عطاؔ کی شاعری کا مجموعہ ہے جس میں حمدیہ اور نعتیں، سلام، منقبتیں شامل ہیں۔ عطاؔ کی شناخت تو رباعی گوئی ہے۔ پیش نظر مجموعے میں حمدیہ رُباعیات، نعتیہ رباعیات کے علاوہ منقبت اور غزلیات اور چند گیب بھی مجموعے کا حصہ ہیں۔اَوْ اَدْ نیٰ عربی زبان کا لفظ ہے اور قرآن مجید کی سورۃ النجم (53)، آیت (9)میں بیان ہوا ہے۔ شاعرموصوف نے یہ آیت کتاب کے ابتدائی صفحہ پر عربی اور اردو ترجمہ کے ساتھ لکھ دی ہے۔فَکانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْ نیٰ (ترجمہ: یہاں تک کہ صرف دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا)۔اَوْ اَدْ نیٰ کی معنی جو آیت میں بیان ہوئے ”یا اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا“۔ قرآن میں دو کمانوں کے درمیان فاصلے کے کم ہونے کی بات ہوئی ہے۔ اردو لغت کے مطابق ’ادنیٰ‘ کے معنی قریب، قریب تر، نزدیک تر، کم رتبہ، کم حیثیت، چھوٹے درجے کا، تھوڑا، معمولی سا، خفیف سا، چھوٹا سا، نچلے حصے سے تعلق رکھنے والا کے ہیں۔ کتاب کا یہ عنوان شاعر کی عاجزی، انکساری، خاکساری،ناچاری، خفیف، چھوٹا، کم رتبہ ہونے کا اظہار کرتا ہے۔ عطاؔ صاحب کی یہ آٹھویں تصنیف ہے۔ اس سے قبل عطائے رسول ﷺ، آئینہ در آئینہ، چرخِ اطلس، زمزمہِ ہاتف، انوارِسروش، مطلعِ انوار، لِی مَعَ اللہ اور اب اَوْ اَدْ نیٰ ایک بیش بہا اور قیمتی نگینہ کے طور پر سامنے آیا ہے۔ محبوب الٰہی عطا ؔ صاحب خیبر پختونخواہ کے ضلع ہری پور کے موضع ”مومن“ صالح سے تعلق رکھتے ہیں۔ موبائل پر جب انہوں نے بتایا کہ ان کا تعلق ہری پور سے ہے تو میں نے ان سے یہی کہا کہ آپ تو پاکستان کے سابق چیف آف آرمی اور سابق صدر کے جنرل ایوب خان کے شہر کے ہیں۔ ایوب خان صاحب ہری پور کے گاؤں ’ریحانہ‘ میں پیدا ہوئے اور اسی جگہ پلے بڑھے۔ ایوب خان صاحب کے علاوہ سردار بہادر خان بھی ریحانہ سے تعلق رکھتے تھے۔
یہ عمدہ کتاب مجھ تک کیسے پہنچی، کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کسی کو نوازنا چاہے، کچھ دینا چاہے تو اسباب و علل از خود فراہم کردیتا ہے۔ ادبی جریدہ ’سلسلہ‘ کے چیف ایڈیٹر مرتضیٰ شریف صاحب کا فون آیا، کہا کہ کوئی صاحب آپ کا پوسٹل ایڈریس اور فون نمبر مانگ رہے ہیں، کہتے ہیں کہ وہ کوئی کتاب آپ کو بھیجنا چاہتے ہیں، کیا دے دوں، میں نے کہا دے دیجئے۔ بات آئی گئی ہوگی۔ نہ ان کا فون آیا اور نہ ہی میں نے معلوم کیا۔ ایک دن کورئیر سے ایک پیکٹ موصول ہوا جس میں یہ خوبصورت کتاب تھی، پوسٹل ایڈریس میرے ہی گھر کا تھا، لیکن میرا نام اس طرح لکھا ہوا تھا ”سید احمد رئیس“، میرا نام ’رئیس‘ اس میں شامل تھا، میں سمجھا کہ غلطی سے لکھ دیا ہوگا۔ کتاب کھولی تو دل باغ باغ ہوگیا، کیا عمدہ کتاب ہے۔ سرسری مطالعہ کے دوران ہی احساس ہورہا تھا کہ سید احمد رئیس کوئی اور صاحب ہیں، یہ میں نہیں ہوں،اب میرا تجسس بڑھتا گیا، کہ کیسے یہ معمہ حل ہو اور یہ معلوم ہوسکے کہ یہ کتاب میرے علاوہ کسی اور سید احمد رئیس کو بھیجی جانا تھی، غلطی سے مجھے پوسٹ کردی گئی ہے۔ پیکٹ پر بھیجنے والے محبوب الٰہی عطاء کا نام اور موبائل نمبر بھی لکھا تھا۔ میں نے فون کیا، جواب میں محبوب الٰہی عطا ء صاحب کی آواز نے کانوں کو خوشگوار تاثر سے سرشار کیا، اس لیے کہ آواز میں دھیما پن، شائستہ جملے، اپنائیت کا احساس، محسوس ہی نہیں ہورہا تھا کہ دو اجنبی محو ِ گفتگو ہیں۔ میں نے ساری بات گوش گزار کی، وہ سمجھ گئے، یہ کتاب عطاؔ صاحب نے کسی اور صاحب کے توسط سے سید احمد رئیس صاحب کو پوسٹ کرنے کی ذمہ داری سونپی تھی، انہیں کسی نے میرے ایڈریس کے لیے مرتضیٰ شریف صاحب کا نمبر دیا کہ ان سے ایڈریس مل جائے گا، مختصر یہ کہ سید احمد رئیس صاحب کے بجائے میرا ایڈریس ان تک پہنچ گیا اور کتاب بھی مجھے پوسٹ کردی گئی۔ میں نے محبوب الٰہی عطاؔ صاحب سے کہا کہ آپ مجھے سید صاحب کا ایڈریس دے دیں میں انہیں یہ کتاب پوسٹ کردونگا، انہوں نے ازراہ عنایت فرمایا کہ نہیں اب یہ کتاب آپ کی ہوئی، میں نے عرض کیا کہ میری تخلیقی مصروفیات میں کتابوں کا مطالعہ اور ان پر لکھنا بھی ہے اگر آپ اجازت دیں تو میں اس کتاب پر بھی اظہار خیال کروں۔عطاء صاحب نے خوشی سے مجھے ا س بات کی اجازت دی۔
محبوب الٰہی عطاؔ صاحب ایک دین دار، عاشق رسول ﷺ، علم و ادب میں ہمہ وقت مصروف رہنے والی شخصیت ہیں۔ آپ کا کہنا ہے کہ ان کے پاس کوئی باقاعدہ ڈگری نہیں، بس عشق رسول ﷺ میں نذرانہ عقیدت کے پھول پیش کرتے رہتے ہیں۔ عطا ؔ صاحب کی اس بات کی تائید ڈاکٹر محمد سفیان صفیؔ جنہوں نے کتاب کا پیش لفظ ”تجلیات اَوْاَدَنیٰ“ کے عنوان سے لکھا، ابتداء ہی ان الفاظ سے کی ہے ”مسلسل ریاضت اور ان تھک محنت کو شعاِ زیست بنانے والا یہ بوڑھا، گوشہ نشین شاعر زمانے کے سرد و گرم سے بے نیاز اپنے نغمہَ سرمدی کے الاپ میں ہمہ تن سعی آزماہے۔ حمد و نعت و منقبت کی پاکیزگی اس کے انفاس میں ہمہ وقت محو پرواز رہتی ہے“۔ ڈاکٹر صفیؔ محبوب الٰہی عطاؔ کی شاعری کو مسلسل ریاضت اور ان تھک محنت کا حاصل قرار دیتے ہیں جب کہ محبوب الٰہی عطاؔ کی شاعری جس میں رباعی، حمد، نعت، سلام اور منقبت ہی نہیں بلکہ غزلیات اس بات کی غمازی کرتیں ہیں کہ اس کلام کا خالق یقینا کوئی اعلیٰ تعلیم یافتہ اور تجربہ کار تصنیف کار ہے۔اللہ کی حمد بیان کرنا، رسول مقبول ﷺ کی شان میں نعت مقبول ﷺ کا نذرانہ پیش کرنا اپنی جگہ ہے عطاء صاحب شاعری کے رموز اوقاف اور علمِ عروض سے بَہرہَ مَند اور صاحب اقبال ہیں۔ ان کے اشعار کے بارے میں حسرتؔ کا یہ شعر منطبق آتا ہے۔
شعر در اصل ہیں وہی حسرتؔ
دل میں سنتے ہی جو اُتر جائیں
عطاؔء صاحب کی اشعار پڑھنے والے پر یہی صورت برپا کرتے ہیں، وہ پڑھنے والے کے دل میں اتر جاتے ہیں۔
پیش نظر مجموعہ جیسا کہ پہلے کہا کہ حمد، نعت رسول مقبولﷺ، منقبت، اقبال سے عقیدت کے پھول، غزلیات اور گیتوں کا مرقع ہے۔ میرے پیش نظر کیونکہ ’اَوْ اَدْنیٰ‘ ہے اور شاعرِ موصوف کی پہچان در اصل رباعی گوئی ہے،اس موقع پر مجھے ان کی نعتیہ رباعیات سے استفادہ سے محروم رہ جانے کا افسوس ہی رہے گا۔ آپ کی رباعیات کے مجموعے ”چرخِ اطلس“ پر اردو ادب کے معروف ادیب و شاعر احمد ندیم قاسمی اور پروفیسر ڈاکٹر فرمان فتح پوری کی رائے جناب ڈاکٹر محمد سفیان صفیؔ نے مجموعے کے تعارف میں نقل کی ہیں۔ احمد ندیم قاسمی نے محبوب الٰہی عطاؔ کے مجموعے ”چرخ،ا طلس“ پر اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے لکھ کہ ”محبوب الٰہی عطاؔ کی رباعیات کا مجموعہ دیکھ کر مجھے مسرت بخش حیرت ہوئی پھر ایک تو عطا صاحب صنف رباعی میں طبع آزمائی کی۔ اس پر مستزاد یہ کہ سبھی رباعیات نعتیہ ہیں۔ ہر رباعی میں حضور گرامی ﷺ سے وارفتگی کی حد تک محبت اور انتہا درجے کی عقیدت کا نہایت مؤدبانہ اظہار ہوا اور کسی بھی رباعی میں عطا صاحب حد ادب سے آگے نہیں بڑھے“۔اسی طرح پروفیسر ڈاکٹر فرمان فتح پوری مرحوم نے لکھا ”بحمد اللہ محبوب الٰہی عطاؔ کو رباعی گوئی کی خصوصی توفیق عطا ہوئی تبھی تو انہوں نے نعت جیسے لطیف و نازک موضوع پر کمال مہارت کے ساتھ ’چرخِ اطلس“کے نام سے ایک پورا مجموعہ اردو کو دیے دیا ہے“۔
محبوب الٰہی عطاؔ کی شاعری کو پڑھ کر دل و دماغ یہ بات ماننے کو تیارنہیں کہ محبوب الٰہی عطاؔ اعلیٰ تعلیم یافتہ نہیں، بقول ڈاکٹر محمد سفیان صفیؔ کہ ’مسلسل ریاضت اور اَن تھک محنت کو شعازِ یست بنایا ہے‘۔ شاعر موصوف کی اس محنت اور ریاضت کو سلام۔ ان کے کہے ہوئے اشعار رباعی، حمد یا نعت رسول مقبولﷺ، منقبت یا سلام عقیدت یا ان کی غزلیات ہوں مجموعہ حسن وجمال کا مرقع، عقیدت و احترام کی بلندی کو چھوتا دکھائی دیتا ہے۔سید احمد رئیس نے سچ لکھا کہ ”محبوب الٰہی عطاؔ کے مجموعے دیکھے تو آنکھوں سے لگائے اور چاہا کہ ہر مصرعے، ہر سطر کو صفحہ اول پر متسم کرلوں“۔ یہی سچ ہے عطاؔ صاحب نے نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کی شان اقدس میں جو کلام تخلیق کیا ہے، وہ محبت اور عقیدت کا انمول اظہار پھر اس عقیدت کو جن الفاظ میں پیش کیا اس نے ان کی خواہش، آرزو عقیدت کو چار چاند لگادیے ہیں۔ دیکھئے محبوب الٰہی عطاؔ کی ایک رباعی۔
ہو ذوق ہنر کیسے نہ مشتاق کمال
سرکار ؑ کی مدحت کا ہے درپیش سوال
تلوار پہ چلنے میں سبک گام تو ہوں
رکھتا ہوں مگر پھونک کے میں پائے خیال
شاعری کی صنف حمد اللہ تبارک و تعالیٰ کی مدح و ثنا کے لیے مخصوص ہے۔ یہ صنف دراصل روح ادب ہے۔ اللہ نے جس کو بھی حرف و قلم سے رشتہ جوڑنے کی سعادت بخشی ہے اس نے اول اول اپنے مالک کی حمد سے ہی اپنے علمی، ادبی و شاعرانہ سفر کا آغاز کیا۔ محبوب الٰہی عطاؔ نے بھی حمدیہ رباعیات کہیں، ان کی کہی ہوئی حمد رسمی نہیں بلکہ مالک کائینات کے عشق میں ڈوب کر لکھی ہیں۔ان کی زبان پاکیزہ اور الفاظ شستہ اور بلیغ ہیں۔لہجہ مودب اور منکسرانہ ہے۔ ان کے اس مجموے کا آغاز ہی حمدیہ رُباعی سے ہوا ہے۔الفاظ کے استعمال کی ایک مثال نیچے درج پہلی رباعی میں لفظ ’مئے القا‘کا استعمال کیا حسین انداز ہے۔
ہوں تجھ سے ہے ربط تیرا درکار مجھے
رکھنا مئے القا سے سرشار مجھے
خالق ہے، مالک ہے، وارث ہے تُو
سورنگ سے ہے تجھ سے سروکار مجھے
محبوب الٰہی عطاؔ کا کلام کئی جہت سے دل میں اندر تک اتر جانے والا ہے۔ وہ شریعت سے واقف، کتاب و سنت کے بحرِ ذخار کے سچے عاشق اور صاحب فضل و کمال ہیں۔ نعت رسول مقبول ﷺ کی ادائیگی میں باریک بینی، احتیاط اور ادب شناسی میں موصوف شاعر کامیابی سے گزرے ہیں۔ انہیں زبان و بیان پر غیر معمولی دسترس حاصل ہے۔ دیکھئے نعتیہ رباعی۔
بے آس کو بھی آس دلاتے ہیں آپ ؑ
جو ہو نہ سکے کر کے دکھتے ہیں آپ ؑ
مانا کسی لاق تو نہیں ہوں میں حصورؑ
لیکن کسی لائق بھی بناتے ہیں آپ ؑ
محبوب الٰہی عطاؔ نے منقبت بھی کہیں۔
سید نا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شان میں بیان کی گئی منقبت کا ایک شعر۔
نگار حُسنِ وحدت برملا صدیقِ اکبر ؓ ہیں
جمال مصطفی کا آئینہ صدیقِ اکبر ؓ ہیں
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شان میں بیان کی گئی منقبت کا ایک شعر
آسماں میں بھی ہیں چرچے جن کی یاری کے عطاؔ
تاجدارِ انبیاء ؑ کے آپ ایسے یار ہیں
سید نا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شان میں بیان کی گئی منقبت کا ایک شعر
فلک والے بھی جن کی سیرت و صورت پہ نازاں ہیں
جناب حضرت عثمان ؓ ایسے جانِ جاناں ہیں
سید نا حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی شان میں بیان کی گئی منقبت کا ایک شعر
شیر یزداں نے درِ خیبر اکھاڑا جب عطاؔ
اُن کے بازو میں تھی اُ س دم قوتِ پر وردگار
سلام عقیدت در حضور حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کی شان میں بیان کی گئی منقبت کا ایک شعر۔
کمال دلبری کا آئینہ ہیں فاطمہ زہر ا ؓ
نگارِ حُب محبوبِ خدا ہیں فاطمہ زہرا ؓ
ان کے علاوہ مناقبت بحضور سید شیخ عبد القادر جیلا ؒ، سیدنا غوثِ اعظم، حضرت داتا سید علی ہجویریؒ، خواجہ خاجگار معین الدین چشتی ؒ، حضرت بابا فرید گنج شکر ؒ کے علاوہ علامہ اقبال ؔ کے لیے بھی نذرانہ عقیدت پیش کیا ہے۔ لکھتے ہیں۔
جبریل ؑ سے وابستہ پرواز تری
گونجی سرِ لاہوت بھی آواز تیری
نسبتی غزلیں بھی مجموعے کا حصہ ہیں۔ نسبتی غزلوں کے چند اشعار
وابستہ تیرے در سے جو میری حیات ہے
بندہ نواز پہ بھی تیری اِلتفات ہے
وہ نرالے حسینوں میں ہیں جس طرح ہے انوکھی یہ اُن سے مری التجا
جس کا کوئی نہ نعم البدل ہو عطاؔ مجھ کو بے مثل ایسی عطا چاہیے
ڈوب جانے کے بھی امکاں نہیں دیکھے جاتے
عزم پختہ ہو تو طوران نہیں دیکھے جاتے
رہتے ہیں تصرف میں مرے نت نئے طوفاں
ہوں جب سے عطاؔ بحرِ محبت کے بھنور میں
اپنی سی کر کے دیکھ چکے حادثے تمام
اہلِ جنوں کے ہو نہ سکے حوصلے تمام
کسی کے خواب مرے خواب بن گئے ہیں عطاؔ
نہ جانے کس کی نظر میں بسا ہوا ہوں میں
آخر میں عطاؔ صاحب کے ایک شعر پر اپنی بات ختم کرتا ہوں۔
ہنگامہئ حیات سے آگے کی بات کر
اے عشق حدِ ذات سے آگے کی بات کر
(9اپریل2020ء)
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 755 Articles with 642376 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More
09 Apr, 2020 Views: 599

Comments

آپ کی رائے