کرونا کے مثبت اثرات

(Syeda Khair-ul-Bariyah, Lahore)

کرونا وائرس نے گزشتہ سال کے آخر سے پوری دنیا کو خوف کی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ چین سے شروع ہونے والا یہ وبائ مرض بیشتر ممالک کی آبادی کو لقمہء اجل بنا چکا ہے۔ اس سے نمٹنے کے لیے نہ صرف مختلف تدابیر اختیار کرنے کو یقینی بنانے کی کاوشیں جاری ہیں بلکہ لاک ڈاؤن جیسا انتہائ قدم بھی ہر ملک کو اٹھانا پڑا ہے۔ سوشل میڈیا دیکھ لیں یا نیوز چینلز سب نے اپنی استطاعت کے مطابق سنسنی پھیلائی ہوئی ہے۔ یہ سارے ذرائع منفی سوچ کو پھیلانے کا باعث بن رہے ہیں۔

سورہ الشرح میں اللہ نے واضح کر دیا: ان مع العسر یسرا "بے شک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے"۔ یہ تو ہے وہ وعدہ جو اللہ نے انسان سے کیا ہے۔ اب آئیے انسانی فطرت کی طرف جو ہمیشہ یہی فکر کرتی ہے کہ آدھا گلاس خالی ہے۔ جو گلاس میں آدھی سطح تک پانی موجود ہے اس کی طرف اس کا دھیان نہیں جاتا۔ زندگی جب بھی کسی مسئلے سے دوچار ہوتی ہے بس وہ مسئلہ ہی نظروں کے سامنے گھومتا رہتا ہے۔ جو نعمتیں، آسائشیں، مہربانیاں اور کرامات ہماری زندگی سے جڑی ہوتی ہیں وہ نظر انداز کر دی جاتی ہیں۔ کرونا کے اس عالمی مسئلے کو ہی دیکھ لیجئیے۔ دو سو نو ممالک میں یہ وبائ مرض انسانی جانوں کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ لاک ڈاؤن، ہسپتالوں میں ہنگامی صورتحال، اشیاۓ خوردونوش کی ذخیرہ اندوزی، کاروبار و تجارت کا جام پہیہ، تعلیمی سرگرمیوں کا منجمد ہونا، عالمی معیشت کا بحران وغیرہ وغیرہ۔ ایک عام فہم آدمی یہی تصور کرتا ہے جیسے زندگی کشکول لیے موت سے ہر ساعت کی بھیک مانگ رہی ہو۔ لگتا ہے نا زندگی رک گئ ہے؟یہ رکی کیوں ہے؟کیونکہ رکنا ضروری تھا۔ وہ جو آسمانوں میں "کن فیکوں" کا مالک ہے اس نے کسی گہری مصلحت کے تحت دنیا کو اس آزمائش سے دوچار کیا ہے۔ جب گاڑی ایک لمبے سفر پہ نکلتی ہے تو بیچ میں انجن کو ٹھنڈا کرنے کے لیے اسے روکا جاتا ہے۔ مقصد سفر روکنا نہیں ہوتا بلکہ آگے کے طویل سفر کے لیے گاڑی کو تیارکرنا ہوتا ہے۔

کرونا بے شک ایک قدرتی آفت ہے۔ اللہ ہم سے ناراض ہے کیونکہ ہم نے اس کی بنائ ہوئ دنیا میں اپنی مرضی سے زندگی گزاری۔ اللہ کے قوانین کے منافی زندگی بسر کی۔ ہم اپنے گھر میں کسی کو اپنی مرضی سے رہنے دیتے نہیں اور اللہ کی زمین پر اپنی من مانی کرتے پھرتے ہیں۔ ہم بے شک اپنی حد بھول گۓ تھے اور واپس اپنی حد میں جانا ضروری تھا۔ ماں باپ بھی اولاد کو صحیح راستے پر لانے کے لیے اس سے ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں۔ مقصد اولاد سے لاتعلقی نہیں ہوتا بلکہ ان کی بھلائ ہوتا ہے۔ اللہ ستر ماؤں سے بڑھ کر چاہنے والا ہے۔ اس نے اس آفت کے ذریعے ہمارے اعمال کی ہمیں سزا بے شک دی ہے لیکن بھلائ کا پہلو بھی رکھا ہے۔ زندگی جو تیز قدموں سے آگے بڑھ رہی تھی وہ یکدم تھم گئ ہے۔ یعنی تیزی سے رواں دواں زندگی کو تھک کر سانس لینے کی ضرورت تھی اور اس فکر کی ضرورت تھی کہ وہ کہاں کوتاہی پر ہے؟ کیوں معاملات پکڑ میں نہیں آ رہے؟ آگے جا رہے ہیں لیکن ہر قدم پہ ایک نئ غلطی کیوں کرتے جا رہے ہیں؟ کیا پا رہے ہیں؟کیا کھو رہے ہیں؟جس کو اپنا رہے ہیں کیا وہ اپنانے کے لائق ہے؟ جس کو کھو رہے ہیں کیا وہ کہیں سے کھونے کے لائق ہے؟یہ اور ان جیسے کئ سوالات اور ان سے منسلک کئ معاملات کی گتھی کو سلجھانے کے لیے زندگی نے رک کر سانس لیا ہے۔

لاک ڈاؤن کی حالت میں اگر ہم گھروں میں محصور ہیں تو اس کو قید و بند ہر گز نہیں سمجھنا چاہئیے۔ یہ ایک موقع ہے بہت سے بگڑے معاملات کو سدھارنے کا۔ ہم اس وقت کو قیمتی جانتے ہوۓ زیادہ سے زیادہ عبادات میں خود کو مصروف کر سکتے ہیں۔ رب کی قربت حاصل کرنا بہت سی دنیاوی فکروں سے آزادی کا سبب ہے اور روحانی کیف و سکون حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ روزگار سے وابسطہ مختلف پریشانیاں جو اگر کسی کو گھیرے ہوۓ تھیں تو یہ وقت بہترین ہے کہ انسان ان گتھیوں اور مسائل کو سلجھانے کا کوئ حل نکالے۔ جہاں جہاں کوتاہیاں برتی گئ ہیں ان کا سد باب کرے۔ ہم اس مشکل گھڑی میں اپنے پیاروں کے ساتھ ایک چھت تلے وقت گزار رہے ہیں۔ یہ لمحات کسی نعمت سے کم نہیں۔ افراتفری کی زندگی میں گھر واپس آ کے بھی انسان باہر کے معاملات میں پھنسا رہتا تھا۔ اب اس یکدم ٹھہراؤ نے اپنے پیاروں کے ساتھ رشتہ مضبوط کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ بہت سے رشتے چاہے وہ میاں بیوی ہوں، بہن بھائ ہوں یا کوئ اور قریبی تعلقات جو کسی وجہ سے دکھ گۓ تھے ان وجوہات کو رفع کرنے کا اس سے بہتر اور کوئ وقت نہیں ہو گا۔ آپس میں بیٹھ کر رنجشیں دور کریں، مستقبل کے بہترین فیصلے کریں اور ماضی کی تلخیوں کو بھول جائیں۔ جب اللہ کا فضل ہو اور یہ آفت ہم پر سے ٹل جاۓ تو ہم ایسی مضبوط ڈوریوں سے اپنے پیارے رشتوں سے بندھے ہوں کہ کوئ باہری قوت یا غلط فہمی اس ڈور کو کچا نہ پڑنے دے۔

لاک ڈاؤن کے دور میں مجھے منیر نیازی کی بہترین نظم "ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں" یاد آ رہی ہے:-

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں
ضروری بات کہنی ہو، کوئ وعدہ نبھانا ہو
اسے آواز دینی ہو، اسے واپس بلانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
مدد کرنی ہو اس کی، یار کی ڈھارس بندھانا ہو
بہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
بدلتے موسموں کی سیر میں دل کو لگانا ہو
کسی کو یاد رکھنا ہو، کسی کو بھول جانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
کسی کو موت سے پہلے، کسی غم سے بچانا ہو
حقیقت اور تھی کچھ اس کو جا کے یہ بتانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں

ہم سب نے کہیں نہ کہیں کسی معاملے میں دیر ضرور کی ہے۔ یہی وہ ساعتیں ہیں جن میں ہم سوچ بچار کر کے کسی بھی دیر کو مزید دیر ہونے سے روک سکتے ہیں۔ ان لمحوں کو غوروفکر کرنے میں گزارئیے اور ایک بہتر اور مثبت شخصیت کی حیثیت سے دوبارہ معاشرے میں آگے بڑھئیے۔ ہمیں دشمنوں اور حاسدین سے بھی دوری اختیار کرنے کا موقع ملا ہے۔

عالمی معیشت کا حال جو بھی ہو لیکن ہر فرد نے ذاتی طور پر فضول خرچی بند کر دی ہے۔ خواتین کے بلاوجہ کے مارکیٹ کے چکر اور لمبی بے مطلب شاپنگ ختم ہو گئ ہے اور وہ اب زیادہ وقت گھر میں رہتی ہیں یعنی خاوند کی معاشی حالت قدرے بہتر ہو گئ ہے۔ ہوم ڈیلیوری ختم ہو گئ ہے کیونکہ اس سے بھی کرونا کے پھیلنے کا خدشہ ہے اور یہ بھی بے جا پیسہ لٹانے والی بات ہے۔ بیوٹی پارلر میں لمبا خرچہ کرنے کے بعد بھی ویسے ہی نظر آنا۔ یہ سلسلہ بھی تھم گیا ہے۔ یعنی جو خاندان ان خرچوں کا شکار تھے وہ چاہے وقتی طور پر لیکن ان اخراجات سے آزاد ہو گۓ ہیں۔

وہ طلباء جو تعلیمی لحاظ سے ذرا کمزور ہیں یا کسی وجہ سے اچھی تیاری نہیں کر پاۓ ان کو اپنے امتحانات کی بہترین تیاری کرنے کا موقع ملا ہے۔ فرقہ وارانہ سرگرمیوں کا بالکل خاتمہ ہو گیا ہے اور تمام اسلامی ممالک بحیثیت مسلمان اور تمام انسان بحیثیت انسان اکٹھے ہو گۓ ہیں۔ دہشت گردی کے واقعات بھی ناپید ہو گۓ ہیں اور جزبہءایثاروقربانی عالمی سطح پہ نظر آ رہا ہے۔

صفائ نصف ایمان ہے۔ اس پہ باقاعدہ عمل کا آغاز اب ہوا ہے اور ہر شخص صفائ ستھرائی کی اہمیت کو جان گیا ہے۔

ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ پردہ واجب اب سمجھا گیا ہے۔ موت کے خوف نے چہرے کو ڈھانپنے پر مجبور کر دیا ہے۔ "میرا جسم میری مرضی" کا نعرہ نقارہء خدا کے ذریعے ایک زبردست تماچے سے موت کا شکار ہوا ہے۔ اب وہ خواتین بھی چہرہ ڈھانپنے پر مجبور ہیں جو اپنے جسم کو اپنی ملکیت سمجھتی تھیں۔

اب آب و ہوا اور اپنے گرد ماحول کو دیکھ لیجئیے۔ فضائ آلودگی میں حد درجہ کمی آئی ہے کیونکہ نہ اتنا گاڑیوں کا دھواں ہے نہ ہی فیکٹریوں اور کار خانوں کا۔ ہر طرف سکون محسوس ہوتا ہے۔پہلے کی نسبت شور ختم ہو چکا ہے۔ جھیلیں، تالاب، سمندر، دریا شفاف ہو گۓ ہیں اور ان میں آبی جانور آزاد ہیں اور خوش دکھائی دیتے ہیں۔ بہت سی اموات ہر سال فضائ آلودگی کے باعث واقع ہوتی ہیں۔ ان میں انشاء اللہ خاطر خواہ کمی ہو گی۔

غرض زندگی سادگی کی راہوں پہ چل پڑی ہے اور سکون کی آغوش میں جا بیٹھی ہے۔ جو اشخاص فکروغم میں گرفتار ہو کر رہ گۓ تھے انہیں اس وقت نے مسائل کا حل ٹھنڈے اور پر سکون ذہن سے تلاش کرنے کا موقع دیا ہے۔ جہاں یہ وبائ مرض بلاشبہ ایک بہت بڑا خطرہ ہے وہیں ایک ٹھہراؤ اور اطمینان کی فضا انسان کے اندر موجود ہے۔ زمین نے سکون پایا ہے اور اس کی زندگی لوٹ آئ ہے۔ درخت لہلہا رہے ہیں، سبزہ دکھائ دے رہا ہے اور فضا میں زہریلے مواد ختم ہو رہے ہیں۔

ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ ہر اندھیرے کے بعد اجالا ہے۔ ہر مصیبت میں ایک امید کا در کھلا رہتا ہے۔ کرونا ایک عالمی تباہی ضرور ہے لیکن اس نے بہت سے امید کے در کھول دیے ہیں۔ بات ہے سمجھنے کی بات ہے محسوس کرنے کی اور اس گھڑی سے بہترین نتائج حاصل کر کے زندگی کو صحیح راستے پر چلانے کی۔ اللہ ہم سب کو اس کی توفیق دے۔ آمین۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syeda Khair-ul-Bariyah

Read More Articles by Syeda Khair-ul-Bariyah: 21 Articles with 15729 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Apr, 2020 Views: 481

Comments

آپ کی رائے