کورونا : سب کو معلوم ہے باہر کی ہوا ہے قاتل

(Dr Salim Khan, India)

نوول کورونا کی وباء کو کویڈ 19 اس لیے کہا جاتا ہے کہ 2019 میں اس کا انکشاف ہوگیا تھا ۔ چین کے اندر کورونا کے مریضوں کی تشخیص وسط دسمبر 2019 میں ہوگ اور دسمبر کے اواخر میں اس کا سرکاری اعتراف کرلیا گیا ۔ ایک ماہ کے اندر اس نے چین و ایران کے اندر جو تباہی مچائی اور اٹلی و اسپین میں جس طرح پیر پھیلانے شروع لیے اسے دیکھتے ہوئے 31جنوری 2020 کو اقوام متحدہ نے اس کے عالمی آفت ہونے کا اعلان کر کے ساری دنیا کواس کی متوقع تباہ کاری سے خبردار کردیا لیکن افسوس کے کسی اس کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےکورونا کو چینی وائرس کہہ کر اس کا مذاق اڑایا۔ان کا کہنا تھا چونکہ یہ وائرس چین سے پھیلا ہے اس لئے میں اسے چینی وباء کہوں گا۔ امریکی صدرکواگر یہ گمان ہے کہ وہ حکومت ہند کی طرح اقوام متحدہ کو بھی ڈرا نے دھمکا نے میں کامیاب ہوجائیں گے تو وہ غلطی پر ہیں ۔ فرانس کے صدر ایمونیل میکرون نے ٹرمپ کے بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے تنقید کی۔ فرانسیسی صدر نے اقوام متحدہ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ڈبلیو ایچ او چین امریکی تنازع سے الگ رکھنا چاہیے۔

ٹرمپ کو اس بات کا قلق ہے کہ عالمی ادارہ صحت نے کورونا وائرس کی وباء کے دوران چین پر زیادہ توجہ مرکوز کی ہےجبکہ امریکہ اس کو بڑے پیمانے پر اعانت فراہم کرتا ہے اور چین ادارے کی توجہ کا محورومرکز بن جاتا ہے۔ یہ فطری بات ہے جو ڈبلیو ایچ او کو اہمیت دے گا وہ اس کی توجہات کا مرکز بنے گا اور مذاق اڑائے گا عدم توجہی کا شکار ہوجائے گا۔ٹرمپ نےڈبلیو ایچ او کے چین کی خاطر امریکی سرحدیں جلد کھولنے کا مشورہ مسترد کرتے ہوئےاعلان کیا کہ وہ عالمی ادارہ صحت کے لیے امریکی فنڈز کو روک رہے ہیں کیونکہ انہیں اس پر بہت طاقتور گرفت حاصل ہے۔ اسے کہتے ہیں رسی جل گئی مگر بل نہیں گئے مشیت کی اتنی بڑی مار کے باوجود ابھی تک دماغ ٹھکانے نہیں آیا۔ اب جبکہ کورونا سے سے متاثر ہونے والے ممالک میں امریکہ سرِ فہرست ہے اور وہاں مرنے والوں کی تعداد بھی 12 ہزار سے تجاوز کرچکی ہےٹرمپ کو عالمی ادارہ صحت پر چین کی طرفداری کا الزام لگا کر دھمکی دینا زیب نہیں دیتا۔ وہ اگر ابتداء میں ہی ڈبلیو ایچ او کی تنبیہ کو سنجیدگی سے لیتے تو انہیں یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔

اتفاق سے جب اقوام متحدہ نے کورونا کو عالمی وباء قرار دیا اس سے ایک دن قبل وطن عزیز میں کورونا کا پہلامتاثر سامنے آگیا تھا لیکن یہاں حکومت ، عوام اور میڈیا میں سے کسی نے اس کی جانب سنجیدہ توجہ نہیں کی۔ ماہِ فروری کے اندر ملک بھر میں منعقد ہونے والے بڑے بڑے سرکاری اور غیر سرکاری پروگروموں کی فہرست شاہد ہے کہ پوری قوم اس سے پوری طرح بے نیاز تھی ۔ 28بڑے اہتمام ہوئے جن میں ہزاروں لوگ ایک دوسرے کے ساتھ مل جل رہےتھے۔طوالت کے پیش نظراس تفصیل کویہاں ہذف کیا جارہا ہے مگر وہ انٹر نیٹ پر موجود ہے۔ ان میں مرکزی حکومت کے زیر نگرانی فوجی سازوسامان کی عالمی نمائش بھی شامل تھی ۔ اس کو وزیردفاع راجناتھ سنگھ نے اپنے حلقۂ انتخاب لکھنو میں منعقد کیا تھا اور وزیر اعظم اپنے لاو لشکر کے ساتھ وہاں موجود تھے۔ وہ دنیا بھر میں اسلحہ کی خریدو فروخت کرنے والوں کی توجہات کا مرکز بناہوا تھا ۔ اس کے بعد نمستے ٹرمپ کا تماشہ ہوا اورمودی و ٹرمپ سماجی فاصلوں کی حدود و قیود کو پھلانگ کر بغلگیر ہوگئے ۔ٹرمپ کی خدمت میں لاکھوں لوگوں کی سلامی پیش کی گئی۔ ان کے استقبال کی خاطر لاکھوں لوگوں کو ایسے وقت میں ایک جگہ جمع کیا گیا جبکہ کورونا چین اور ایران میں ہزاروں لوگوں کو متاثر کرچکا تھا ۔

کورونا کے تعلق سے وسطِ مارچ تک ملک بھر میں یہی ماحول بنا رہا ۔ وزیراعظم نریندر مودی نے تو اپنے آپ کو ہولی ملن سے دور رکھا مگر ان کی حکومت نے 14 مارچ کو اسے قومی آفت تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ یہ دراصل اپنی ذمہ داریوں سے فرار کی ایک سعی تھی ۔ ایک دن کے اندر حکومت کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو گھوم جاو کرکے اگلے دن دوپہر ۳ بجے اسے قومی آفت تسلیم کرلیا گیا ۔ اس کامطلب یہ تھا کہ وباء کا شکار ہوکر مرنے والا حکومت کی امداد کا مستحق قرار ہوگا لیکن شام کو ۶ بجے کی تفصیلات میں سےمدد والی شق غائب تھی۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت کو بہت سارے لوگوں کی ہلاکت کا اندیشہ تھا اور ان کو مدد دینے کے نتیجے میں خزانے پر بوجھ خطرہ محسوس کیا جارہا تھا۔ مودی سرکار نے اس وقت لازمی احتیاطی تدابیر پر عوام کے ٹیکس کا روپیہ خرچ کرنے کے بجائے مجرمانہ بخالت سے کام لیا ۔ حکومت کا نظام ملوکیت، آمریت یا جمہوریت میں سے کوئی بھی ہو لیکن اگر وہ عوام کے جانی تحفظ پر سرکاری خزانے کے استحکام کو ترجیح دینے لگے تو چنگیزیت بن جاتا ہے۔ علامہ اقبال نے ابلیس کی مجلس شوریٰ میں اس راز کو فاش کردیا تھا ؎
مجلسِ ملّتہو یا پرویز کا دربار ہوہے وہ سُلطاں، غیر کی کھیتی پہ ہو جس کی نظر
تُو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہُوری نظامچہرہ روشن، اندرُوں چنگیز سے تاریک تر!

کورونا کو روکنے کی خاطر لاک ڈاون یقیناً ایک موثر حربہ ہے۔ ماہرین کے مطابق 30دن میں کورونا کا ایک متاثر 403 لوگوں تک اس جرثومہ کی ترسیل کا سبب بن سکتا ہے لیکن اگر وہ لاک ڈاون پر عملدرآمد کرے تو پھیلاو ڈھائی افراد تک محدود رہ جاتا ہے ۔ اس طرح کورونا کے سماجی پھیلاو کی زنجیر کو توڑا جاسکتا ہے لیکن یہ تلخ حقیقت سامنے آرہی ہے لاک ڈوان کے بعد سے متاثرین ومہلوکین کی تعداد میں تیزی اضافہ نظر آرہا ہے۔وطن عزیز کے اندر ۱۵ مارچ کے دن کورونا کو قومی آفت مان لیا گیا ۔ اس سے پہلے والے ہفتے میں ۷۴ نئے کیس آئے تھےلیکن 30جنوری سے 8 مارچ تک کے 37 دنوں میں 39 لوگ متاثر ہوگئے اس لیے جملہ تعداد 113 تک پہنچ گئی ۔ اس بیچ سرکاری طور دو لوگوں نے کورونا سے جان گنوائی۔ 16 مارچ سے لے کر 22 مارچ کے ہفتے میں 290 نئے معاملات سامنے آئے جنتا کرفیو تک کل تعداد 403 تک جاپہنچی تھی۔ مرنے والوں میں ڈھائی گنا کا اضافہ ہوا اور وہ 5 پر پہنچ گئی۔ اس کے بعد والے دو ہفتوں میں لاک ڈاون بھی شروع ہوگیا تھا پھر بھی 4980 نے کیس آئے اور جملہ تعداد 5383 تک جاپہنچی ۔ اس عرصے میں مرنے والوں کی تعداد میں 30 سے زیادہ گنا کا اضافہ دیکھنے کو ملا اور وہ تعداد 169ہوگئی۔

خلاصہ یہ کہ ابتدائی ۵۲ دنوں میں کل 403 کیس اور 7 اموات لیکن بعد کے ۱۷ دنوں میں 4980معاملے اور169 ہلاکتیں ۔ سوال یہ ہے کہ تعداد گھٹنے کے بجائے بڑھی کیسے؟ یوگی جیسے تنگ نظر سیاستدانوں کے پاس اس کا آسان سا جواب یہ ہے کہ تبلیغی جماعت کے وجہ سے ایسا ہورہا ہے لیکن اس کی حقیقت کچھ اور ہے۔ کورونا کے مریض کی تشخیص کے لیے تفتیش لازمی ہے۔ 25 مارچ تک ہندوستان کے ہر دس لاکھ کی آبادی پر صرف 22 لوگوں کی جانچ پڑتال ہوئی اور اس کے بعد اب اوسطاً ہر روز 95 لوگوں کا ٹسٹ ہو رہا ہے ۔ ظاہر ہے زیادہ لوگوں کو جانچ ہو گی تبھی نا زیادہ معاملات سامنے آئیں گے۔ تبلیغی جماعت کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر چیک کیا جائے گا تو ان میں سے کورونا کے متاثر نکلیں گے ۔ دوسروں میں تلاش کریں گے تو وہاں ملیں گے ۔ اس لیے متاثرین کی تعدادمیں بڑا اضافہ نظر آیا۔ فی الحال کل جانچ کی تعداد22ہزار سے بڑھ کر 42 ہزار اور پھر ایک لاکھ 20ہزار تک جاپہنچی ہے ۔ اس طرح جانچ کے مقابلے مریضوں کافیصد دیکھیں تو اس میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہے۔ یہ 0.024سے0.033 سے ہوتا ہوا0.042تک پہنچا ۔

ہندوستان میں اب تک ہونے والی جانچ پڑتال بین الاقوامی معیار سے بہت کم ہے۔ ناروے میں ہر دس لاکھ باشندوں میں سے 19 ہزار کی جانچ ہوئی اس کے بعد سوئزرلینڈ کا نمبر آتا ہے جہاں 18ہزار فی دس لاکھ لوگوں کی تفتیش ہوئی اٹلی میں یہ تعداد 11 ہزار اور امریکہ میں 5ہزار سے زیادہ ہے جبکہ ہندوستان میں صرف 92ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اتنے کم کیس منظر عام پرآئے ہیں ۔ ٹسٹ میں تاخیر کی وجہ غالباً مناسب تعداد میں ٹسٹ کٹس کی عدم موجود گی تھی ۔ اب ان کا انتظام ہوگیا ہے اور وزارت صحت کے مطابق پہلے جہاں ایک دن میں ایک ہزار ٹسٹ ہوتے تھے اب دس ہزار ٹسٹ ہونے لگے ہیں اور آنے والے دنوں میں اس کی رفتار بڑھا کر ایک لاکھ یومیہ تک پہنچانے کا عزم ہے۔

زمینی حقیقت یہ ہے کہ امریکہ میں اب تک 20 لاکھ سے زیادہ کورونا ٹیسٹ ہو چکے ہیں ا ور اس سے ساڑھے چار گنا زیادہ آبادی والے ہندوستانمیں ۹ اپریل تک صرف 1 لاکھ 30 ہزار نمونوں کا ہی ٹیسٹ کیا جا سکا ہے۔ ایسے میں اندازہ لگا یا جا سکتاہے کہ امریکہ جیسے ملک کے مقابلے میں ہندوستان کہاں کھڑا ہے اور ابھی کتنی لڑائی باقی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ کورونا کے پھیلاو کی اصل صورتحال بڑے پیمانے پر ٹسٹ کیے بغیر سامنے نہٰیں آئے گی۔ حکومت اگر پہلے سے کٹس اور دوسرے حفاظتی آلات کی فراہمی پر توجہ دیتی تو حالات بہتر ہوسکتے تھے لیکن افسوس کے اس نے فضول کاموں میں اپنا وقت ضائع کردیا ۔ عوام کے اندر پائی جانے والی عدم سنجیدگی کے لیے بھی سرکار اور ذرائع ابلاغ مجرمانہ حد تک ذمہ دار ہے۔
(۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰جاری)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1250 Articles with 460753 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Apr, 2020 Views: 158

Comments

آپ کی رائے