سیاسی نمک پارے

(Muhammad Nafees Danish, )

اے لوگو! شیر آرہا ہے ، شیر آرہا ہے، شیر آ رہا...!

یہ مشہور کہاوت تو آپ نے سنی ہو گی، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ شیر چرواہے یا چوکیدار کو چیر پھاڑ کرکھا جاتا ہے۔

مجھے آج یہ کہاوت اس لئے یاد آئی ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے 13 مارچ 2020 سے لے کر اب تک کئی بار ڈیڈ لائنز دی ہیں کہ اگلے 15 دن کرونا کے لئے بہت اہم ، اگلا ہفتہ اہم ہے ، 14 اپریل تک سب کچھ سامنے آجائے گا اور اب کہا جارہا ہے کہ 25 اپریل یا اپریل کے آخر تک کرونا کی صحیح صورتحال پاکستان میں واضح ہوگی ، حکومتوں کی طرف سے بار بار نئی ڈیڈ لائنز نے عوام کو مزید غیر سنجیدہ کر دیا ہے ، احتیاطی تدابیر اختیار کرنے والے اکثر لوگوں نے بھی اب بے احتیاطی شروع کر دی ہے اس لئے حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنا جو بیانیہ بھی تشکیل دے اس بیانیے کی تشکیل سے پہلے تیاری ضرور کر لیا کرے ، 19/20 کا اگر فرق ہو تو وہ چلتا ہے بہت زیادہ اندازہ غلط نکلے تو پھر تشکیل کردہ بیانیے کو نقصان پہنچتا ہے ، ویسے بھی ہمارے ملک بلکہ دنیا بھر میں کرونا وائرس کو ایک طبقہ وباء کے بجائے سازش سمجھ رہا ہے ، کسی کا کہنا ہے کہ یہ یہودی سازش ہے ، کوئی کہہ رہا ہے کہ امریکا کا پلان ہے اور کسی کی نظر میں اس سازش کے پیچھے چین ہے ، ایک پڑھے لکھے دوست نے کہا کہ آئندہ دنیا میں جنگیں ایسے ہی لڑی جائیں گی اور ہتھیاروں کے بجائے جراثیموں کے ذریعے اپنے مخالفین پر حملہ ہوگا اصل صورتحال کو اللہ جانتے ہیں ، لیکن جو لوگ اسے وبا کے بجائے سازش کہہ رہے ہیں ان پر ایک ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ لوگوں کو یہ بتائیں کہ اس سازش سے محفوظ کیسے رہا جاسکتا ہے صرف سازش کہہ کر عوام کو کنفیوژ کرنا اس موقع پر مناسب نہیں ہوگا۔

ہمارے ملک میں ایک دوسرا ایشو آٹا اور چینی بحران پر چل رہا ہے ، خان صاحب کے چاہنے والے کہتے ہیں کہ جہانگیرترین کا قصور ہے جبکہ خان صاحب بے گناہ ہیں حالانکہ جب سپریم کورٹ نے جہانگیر ترین کو نااہل قرار دے دیا تو ایک سزا یافتہ فرد کو خان صاحب نے فیصلہ سازی کے کلیدی عہدوں پر کیوں بٹھایا ، یہ خان صاحب کی غلطی ہے ، باقی واقفان حال کہتے ہیں کہ اس وقت منظر کچھ اور ہے جبکہ پس منظر کچھ اور چل رہا ہے ، شہباز شریف اپنی گوٹی فٹ کر چکے ہیں ، میاں نواز شریف صاحب نے بھی دشمنوں کی فہرست تبدیل کر لی ہے ، گجرات کے چودھریوں سے خواجہ سعد رفیق کی اپنے بھائی سمیت 20 سال بعد ملاقات صرف ملاقات نہیں ہے ، کرونا کی وجہ سے کھیل کچھ دبا ضرور ہے لیکن کھیل جاری ہے ، کوئی انہونی نہ ہوئی تو عید کے بعد سیاسی پارہ بہت ہائی ہوگا ، ملک میں بہت سے کھیل ایک ساتھ چل رہے ہیں ، نتائج کا انتظار کریں یہاں ہر ایک کا اپنا غم ہے دینی طبقے میں بے چینی بڑھ رہی ہے ان کا ایک غم یہ بھی ہے کہ دینی مدارس کی مکمل بندش ، تبلیغی جماعت کی تبلیغ ، شب جمعہ ، نماز جمعہ اور شب برات پر پابندی کے بعد اب حکومتوں کا اگلا نشانہ رمضان المبارک میں تراویح پر نظر آرہا ہے ۔حالانکہ تراویح پر پابندی نہیں لگنی چاہیے؛ کیونکہ تراویح کی نماز ایک علاقے کی مسجد میں علاقے والے ہی پڑھتے ہیں ، نماز جمعہ کی طرح نہ کراوڈ بڑا ہوتا ہے اور نہ ادھر ادھر سے لوگ آتے ہیں ، صرف اہل علاقہ ہوتے ہیں اور وہ بھی محدود تعداد میں اس لئے نماز تراویح پر پابندی بنتی نہیں ہے ، البتہ احتیاطی تدابیر جو حکومت تجویز کرے اسے مسجد کمیٹی اور نمازی حضرات کو بھی اختیار کرنا چاہیے ۔

قومی سلامتی کے اداروں کو بھی ایک اور طرف توجہ کرنی چاہیے کہ اس وقت ملک کو یکجہتی کی ضرورت ہے؛تاکہ لوگ ایک دوسرے کے درد کو بانٹیں لیکن گلوکار ضامن علی جیسے لوگ قوم میں انتشار پھیلا رہے ہیں ، حضرت ہندہ رض اور سیدنا امیرمعاویہ رض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت کے روشن ستارے ہیں ان کی توہین ، تضحیک یا تذلیل کرنے کا کسی کو حق نہیں ہے ، یہ ہمارے لیے لحمہ فکریہ ہے کہ سندھ میں ہونے والی اس گستاخی پر ابھی تک کوئی بھی قانونی کاروائی کیوں نہیں ہوئی۔

میری اپنے تمام دوستوں سے گزارش ہے کہ سوشل میڈیا پر دل کی بھڑاس زیادہ نکالنے کے بجائے اگر قانونی کاروائی پر توجہ دیں تو اس کے زیادہ بہتر نتائج نکلیں گے ، گستاخ صحابہ کو قانونی شکنجے میں جکڑنے میں اگر ہم کامیاب ہوگئے تو اس سے وہ تنہائی کا شکار ہوگا ، تجربہ یہی رہا ہے جو قانونی گرفت میں آجائے لوگ اس سے دور بھاگتے ہیں ، اس لئے انہیں قانونی شکنجے میں جکڑیں ، سیاسی جماعتوں کے کارکن الیکشن سے پہلے سرگرم ہوتے ہیں لیکن الیکشن ختم ہوتے ہی گھروں کو چلے جاتے ہیں مگر دینی جذبہ رکھنے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے محبت کرنے والے کبھی بھی ایسے معاملہ پر سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں؛ اس لئے وہ ہر وقت متحرک رہتے ہیں۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Nafees Danish

Read More Articles by Muhammad Nafees Danish: 32 Articles with 7298 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Apr, 2020 Views: 285

Comments

آپ کی رائے