شکریہ دعوت اسلامی!!!

(Dr Zahoor Ahmed Danish, Karachi)

ہم کچھ لوگوں کو سر پر عمامہ سجائے مسجد ہی کی جانب جاتے دیکھتے تھے ۔جن میں اکثریت نوجوانوں کی ہوتی تھی ۔اچھا لگتاتھا۔لیکن چونکہ اسی دور میں جی رہے ہیں ۔میڈیا اور دیگر سوچ و فکر اور نظریہ بدلنے والی طاقتوں نے سوچ بدل ڈالی ۔یہ مولوی ملاں اور بس مسجد۔ملت کی تعمیر اور انسانیت کی خدمت کے لیے ان کا کوئی کردار نہیں !!!!!!!!!!!!!
لیکن یہ سب تو فریب تھا!!!!!!!!
ان سے بڑھ کر تو ہمددراور حب الوطنی میں نے کسی اور میں و نہیں دیکھی ۔مجھ کچھ یاد پڑتا ہے ۔2007کے زلزلے میں کشمیر اور سرحد کے مشکل ترین راستوں پر ہری عمامے والوں کو بس اور لاچار لوگوں کے لیے مسیحا بنتے دیکھا۔
جب جب ملک کو ضرورت پڑی ان ہرے عمامے والوں کو بے لوث کام کرتے ہوئے دیکھا۔مجھے لبرل اور سوشلسٹ طاقتوں کو نہایت بے حس اور نفاق کی مثال پایا۔پورا سال ان کا ایک ہی کام دیکھامذہب کچھ نہیں ۔یہ مولوی کچھ نہیں ۔لیکن دعوتِ اسلامی نے ثابت کردیا کہ صرف مفروضوں پر نہیں بلکہ عملی میدان میں اترکر ثابت کرنا ہوگا۔
ابھی کل ہی تو بات ہے ملک میں تھیلسیماکے مریضوں کی زندگیوں کو خطرہ پیش آیا تو دعوتِ اسلامی کے امیر کی ایک آواز پر ملک کے طول و عرض سے جوانوں نے خون کے عطیات بنا کسی اشتہاری مہم اور فوٹوسیشن کے پیش کیے ۔کئی قیمتی جانیں بچ گئیں ۔ریاست بھی اس معاملے میں بے بس تھی ۔لیکن ان عظیم لوگوں نے عظیم کام کیا۔
میں بیٹھا سوچ رہاتھا۔یہ لوگ مولویوں کے پیچھے کیوں پڑے رہتے ہیں ۔مجھے بات سمجھ آگئی !!اسلیے کہ نہ خود کچھ کرنا ہے اور نہ کسی کو کچھ کرنے دیناہے تو بھلا پھرایک کام ہی بچا اور وہ تنقید ہے لہذا ان لبرل طاقتوں نے یہ میدان سنبھال رکھاہے ۔
()ملک کو مالی مدد کی ضرورت پڑی دعوتِ اسلامی سرفہرست
()ملک کو شعور و آگاہی کے میدان میں آگے بڑھانے میں دعوتِ اسلامی کے سینکڑوں تعلیمی ادارے اس کی بہترین مثال
()عالمی سطح پر اسلام کا سافٹ امیج بحال کرنے کی ضرورت پڑی تو دعوتِ اسلامی ایک عمدہ شناخت کے طورپر دنیا بھر میں اپنا لوہامنوا گئی ۔
()جب بات ہوئی جرائم کی بیخ کنی کی تو دعوتِ اسلامی نے اخلاقی ،معاشرتی ،مذہبی تربیت کے وہ اعلی کارنامے سرانجام دیے کہ معاشرے کا بے باک ،بداخلاق طبقہ اخلاقی قدروں کی معراج کو پہنچ گیا۔()جدیددور نے کروٹ لی تو ابلاغ کی دنیا میں بہتراور سلیقہ شعار معاشرے کی وضع داری کی بات ہوئی تو مدنی چینل کی نہایت ہی عمدہ کوشش قابل تعریف ہی نہیں قابل تقلید ہے۔
()گونگے بہرے اور اندھے معاشرے کا اپاہج طبقہ جو قابل رحم بھی ہوتے ہیں اور قابل توجہ بھی ۔جن کی خدمت کے لیے جن کی بہتری کے لیے پاکستان کی کئی حکومتیں کوشش نہ کرسکیں دعوتِ اسلامی نے ان کی تعلیم ،نگہداشت اور بہتری کے لیے اپنی پوری طاقت کے ساتھ شعبہ قائم کیا جو بہتری اور عمدہ انداز میں اس محرورم طبقے کی خدمت کے لیے پیش پیش ہے ۔
یہی نہیں اور بہت کچھ جو ہمارے علم میں بھی نہیں دعوتِ اسلامی کررہی ہے ۔
ہمیں اس کردار اور اس انداز فکر اور کوشش نے بہت متاثر کیا۔
اس پر اور کیا کہیں شکریہ دعوتِ اسلامی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شکریہ دعوتِ اسلامی ۔۔۔۔۔
میں نہیں جانتے تھے !!!!!!!!!!!!!ہم نہیں پہچانتے تھے !!!!!!!
تم نے کردیکھایا!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!شکریہ دعوتِ اسلامی

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: DR ZAHOOR AHMED DANISH

Read More Articles by DR ZAHOOR AHMED DANISH: 353 Articles with 304459 views »
i am scholar.serve the humainbeing... View More
17 Apr, 2020 Views: 1054

Comments

آپ کی رائے
ڈاکٹر ظہوردانش !!
میں ایک عام نظریہ رکھتاہوں۔ہزار اختلاف کے باوجود آپ کے مضامین شوق سے پڑھتاہوں۔میں دیکھا آپ کے بڑے دل اور بڑی سوچ اور منصف طبیعت کے آدمی لگتے ہیں ۔یہ تحریر مجھے خود اچھی لگی ۔بلکہ میری وائف نے اس پر کہا کہ آپ سے پرسنل رابطہ کیا جائے ۔بہر حال آپ کسی ٹی وی چینل پر بھی آئیں لوگ آپ کو سن کر اور فائدہ اُٹھا سکتے ہیں
By: rana shujat asghar, islamabad on Apr, 18 2020
Reply Reply
1 Like