زبان ِ غیر ذریعہ تعلیم کیوں؟

(M P Khan, Buner)

 میرے ایک دوست نے سائنس میں ماسٹرڈگری حاصل کی ہے اورکئی سال ملازمت کی تلاش میں گھاٹ گھاٹ کاپانی پی کر اچھاخاصا دانشوربھی بن چکاہے۔موصوف کووالدین کی دعاؤں اور مسلسل کوششوں سے سرکاری ملازمت کے لئے زائد العمری سے قدرے سال ڈیڑھ سال قبل درس وتدریس سے متعلقہ نوکری مل ہی گئی ، مگرجوفرائض منصبی انکے حصے میں آئے ، وہ انکے تعلیمی معیارکے شایان شان نہ تھے۔ انہوں نے اپنے سائنسی علوم کی روشنی سے وطن عزیز میں ایک دیا تک روشن نہ کرسکا، حالانکہ سائنس پڑھنے سے قبل انہوں نے کشش ارضی سے باہر نکل کر لامتناہی فضاؤں میں پرواز کرنے اورخلائی کروں کو چھونے کے خواب دیکھے تھے۔پرائمری اورمڈل میں مادری اورقومی زبان میں تعلیم حاصل کی جبکہ اسکے بعدزبان غیر سے واسطہ پڑا۔ انگریزی سے طبعی مناسب نہ ہونے کی وجہ سے اس زبان میں کماحقہ دسترس حاصل نہ کرسکے، اردومیں توکمزوری کے خودمعترف تھے البتہ پشتو بڑی روانی سے بولتے ہیں اورہرقسم کے موضوعات پر بحث مباحثہ میں پیش پیش رہتے ہیں۔ سرکاری نوکری ملنے کے بعدقیافے اورگفتگوسے بڑے پائے کے دانشورلگنے لگے، لہذا جہاں کہیں مجلس میں کوئی دوست حالات حاضرہ پر اپنانقطہ نظربیان کرتے ، توموصوف فوراًاپناردعمل اختلاف رائے کی صورت میں شروع کردیتا۔

پرسوں میرے ساتھ ایک مجلس میں بیٹھے تھے کہ ا چانک اپنی تنقید کے توپوں کارخ میری طرف کردیا ۔ مجھ سے کہنے لگے ، آپ اردوزبان کوذریعہ تعلیم بنانے کے حق میں کیوں ہیں حالانکہ میرے علم اورتجربے کے مطابق انگریزی سے بہترکوئی زبان علوم کے حصول کاحق ادانہیں کرسکتی۔میں نے کہا!جناب دنیاکی کوئی قوم اپنی زبان کے سواکسی دیگرزبان میں حقیقی معنوں میں تعلیم حاصل نہیں کرسکتی۔ موصوف اپنی بات پربضدتھے کہ دنیاکے تمام سائنسی علوم انگریزوں کے مرہون منت ہیں اورانکی ہی زبان میں حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ میں نے کہاکہ دنیاکے تمام سائنسی علوم انگریزوں کے مرہون منت بالکل نہ ہیں بلکہ زیادہ ترسائنسی علوم یونانی ، لاطینی ، جرمنی اور فرانسیسی زبانو ں سے انگریزوں نے ترجمہ کرکے اس سے مستفید ہوتے ہیں جبکہ دورجدید میں چین، روس، جرمنی ، اٹلی، فرانس اورجاپان جیسے ترقی یافتہ ممالک بھی اپنی زبان میں اپنی قوم کو تعلیم دیتے ہیں اورترقی کے سفرمیں سب سے آگے ہیں۔ موصوف کہنے لگے کہ آپ کچھ بھی کہے ، مگرسائنس کی زبان انگریزی ہی ہے۔میں نے کہاکہ یہ انگریزی کی برکت ہے کہ ہم سائنس بھی اس مقصدکے لئے پڑھتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح امتحانات پاس کرکے ڈگری حاصل کریں اوراس کی بنیادپر کہیں نوکری مل جائے جبکہ اس سے آگے ہم سائنس سے مستفید ہونے کاسوچ بھی نہیں سکتے ،حالانکہ علوم کی اصل روح کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی زبان میں تعلیم حاصل کرسکے۔میری باتوں سے موصوف کے اوپر چڑھاہوادانشوری کارنگ ایسے اترگیا،جیسے جنگل کے حقیقی بادشاہ کی کہانی میں گیدڑکی شناخت ہوگئی تھی۔اپناعلمی رعب جمانے کے لئے مجھ سے الٹے سیدھے سوالات پوچھناشروع کئے۔موصوف کے پہلے سوال سے ہی ان کاعلمی معیارمعلوم ہوتاہے ، پوچھنے لگے کہ موبائل انگریزوں کی ایجادہے توچلیں آپ اردومیں موبائل کانام بتائیں۔میں زیرلب مسکرایا،معمولی سے تامل کے بعدمیں نے کہاکہ جناب موبائل فرانسیسی زبان کالفظ ہے ،جوکہ لاطینی زبان کے لفظ موبیلس سے بناہے۔ چلیں آپ انگریزی زبان میں موبائل کامتبادل بتائیں۔ میراسوال پوچھناکیاتھاکہ انکے چہرے کارنگ بدل گیااورانکاعالمانہ اندازاب جارحانہ ہوتاگیا۔ لاجواب ہوگئے توکہنے لگے کہ آپ کچھ بھی کہہ دیں مگرسائنس کی زبان انگریزی ہی ہے۔اسکے بعدجب دلیل کاسہاراختم ہواتوذاتیات پر اترآئے کہنے لگے ’’تم نے کسی یونیورسٹی سے ریگولرتعلیم حاصل نہیں کی ہے ، اسلئے تمہاراتجربہ کم ہے جبکہ میں نے ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کی ہے اورمیراتجربہ تم سے زیادہ ہے ، اس لئے میں کہتاہوں کہ انگریزی کے بغیرسائنس کاعلم حاصل نہیں کیاجاسکتا۔‘‘ میں نے ہنستے ہوئے انکاشکریہ اداکیااور کہاکہ وہ درست فرمارہے ہیں ، مگراسے اپنامطالعہ بڑھانے کے لئے کتب بینی کامشورہ دیا۔

ہم سائنس پڑھتے ہیں، میڈیکل اورقانون وغیرہ کی تعلیم حاصل کرتے ہیں ، مگرہماراعلمی معیاردنیاکی دیگرقوموں کے مقابلے میں کمزورہوتاہے، اسکی اصل وجہ زبان ِ غیرمیں حصول تعلیم ہے،جس کی وجہ سے ہم علوم کی اصل روح سمجھنے سے قاصرہوتے ہیں۔ہمارے سامنے کئی مثالیں موجودہیں۔ پاکستان کے دینی مدارس میں تمام علوم اردومیں ترجمہ شدہ ہیں اوربڑے بڑے علمائے کرام اس سے مستفیدہوتے ہیں اوربحمداﷲ پاکستانی علمائے کرام دینی علوم پرکماحقہ دسترس رکھتے ہیں، جس کی اصل وجہ انہوں نے اپنی زبان میں علوم حاصل کئے ہیں ۔ کسی غیرزبان میں کوئی علم حاصل نہیں کرسکتابلکہ رٹالگاکراچھاخاصاطوطابن سکتاہے۔ اگرہم نے سائنس اورٹیکنالوجی کے میدان میں دنیاکی ترقی یافتہ قوموں کامقابلہ کرناہے توہمیں اپنی نسل کو اپنی زبان میں تعلیم دینا ہوگی ۔ اپنی زبان میں تعلیم دیکر ہم ہرشعبہ زندگی میں ماہرین ، علماء فضلا ، دانشور اورسائنس دان پیداکرسکتے ہیں، ورنہ لکیرکے فقیر اچھے خاصے پڑھے لکھے ڈگری ہولڈرہی پیداہونگے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: MP Khan

Read More Articles by MP Khan: 100 Articles with 51343 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Apr, 2020 Views: 267

Comments

آپ کی رائے