پولن الرجی سے بچاؤکی حفاظتی تدابیر وعلاج

(Hakim Ahmad Hussain Itthadi, )

 اﷲ تعالیٰ نے جسم انسانی کو ایک نہایت موثر دفاعی نظام سے نوازا ہے جوانسان کوبے شماربیماریوں اورمضراثرات سے بچاتا ہے جب جسم پرکوئی بیماری یانقصان دہ چیزحملہ آورہوتی ہے تو یہ فورامتحرک ہوجاتا ہے لیکن کبھی کبھار یہی ڈیفنس سسٹم غیرضروری طورپرایسی اشیاء کے خلاف حرکت میں آجاتاہے جونقصان دہ نہیں ہوتیں لیکن دفاعی نظام کابے جا عمل جسم میں کچھ کیمیاوی تبدیلیوں کا باعث بن جاتا ہے جس سے کئی تکالیف جنم لیتی ہیں ان تکالیف کوالرجی یعنی حساسیت کہتے ہیں۔یہ ایک دفاعی حیاتین Immunoglobulin E کی وجہ سے ہوتا ہے اورسفیدخلیات WBCسے کیمیای اجزاء Histamine ہسٹامین وغیرہ باہرنکلتے ہیں جن سے الرجی کی علامات ظاہر ہوتی ہیں اس ضمن میں تحقیق ومطالعہ اورتجربات سے جومعلومات حاصل ہوئی ہیں استفادہ عام کے لئے نذرقارئین ہیں ۔
خوشنماپھولوں کے درمیان چھوٹے چھوٹے پیلے رنگ کے دانے پولن یازرگل کہلاتے ہیں جوشہدکی مکھیوں اور دوسرے حشرات الارض کے جسم سے چپک کر نرپوووں سے مادہ پودوں تک پہنچتے ہیں بعض پودوں ،درختوں اورگھاس کے پولن یعنی زردانے اتنے مائیکروسائزاوربے وزن ہوتے ہیں کہ ہروقت کروڑوں اربوں کی تعدادمیں ہوامیں گردش کرتے رہتے ہیں اور انسان کی سانس کی نالی میں داخل ہوکرحساسیت پیداکردیتے ہیں۔ الرجی کی کئی اقسام ہیں کیمیائی اجزاء دواؤں اوردیگراشیاء سے بھی الرجی ہوسکتی ہے کھانے پینے کی اشیاء مثلاکیلا،چاول میں سیروٹونین Serotoninالرجی کا باعث بن جاتاہے ۔فضامیں موجود انتہائی باریک اوربے وزن اشیاء اورذرات جوسانس کی نالی میں داخل ہوکر الرجی پیداکرسکتے ہیں ان میں دھول،مٹی اور پولن گرین وغیرہ شامل ہیں پولن دنیا بھر میں ہوتی ہے جب کوئی پودایادرخت خاص طورپرجن کے پھول نمایاں نہیں ہوتے اپناپولن فضامیں چھوڑ رہا ہوگایہ اس موسم میں زیادہ ہوتی ہے لہذااسے موسمی الرجی بھی کہاجاتاہے ۔

فروری سے موسم بہارمیں اسلام آباد کے شہریوں کوپولن الرجی کی علامات ظاہرہونا شروع ہوجاتی ہیں آنکھوں میں خارش،چھینکیں اورسانس میں گٹھن عمومی علامات ہیں ایمرجنسی اور ہسپتالوں میں رش لگ جاتا ہے ادویہ اورآکسیجن ناپیدہوجاتی ہے لوگ شہربدرہونے لگتے ہیں اسلام آباد سے لاہورکی جانب 80کلومیٹردورپہنچ کرمریض ٹھیک ہوجاتا ہے اس طرح مارچ اپریل ان کیلئے عذاب بن کرگزرتے ہیں اس کی وجہ جنگلی شہتوت broussontia papyrifera یاPaper Mulberryکوقراردیاجاتاہے اس کے علاوہ بہت سے پودے بھی اس کا سبب ہوسکتے ہیں اٹک میں بھی لوگوں کو یہی مسئلہ درپیش ہے اسی طرح وسط جون سے اکتوبرتک ایبٹ آباد سے سرگودھا تک جنگلی بھنگ Cannabis یاHemp sativa کے پودوں میں پولن ہوتا ہے جوشدیدالرجی پیداکرتاہے لاہورمیں موسم بہارمیں سنبل اورگھاس کاپولن اورکراچی میں موسم گرما میں امریکن گھاس اورکیکرکے پولن سے الرجی کے کچھ کیسیزسامنے آئے ہیں اگران علاقوں میں حفاظتی تدابیر کواختیارکیا جائے تو پولن الرجی سے محٖفوظ رہاجاسکتاہے واضح رہے کہ الرجی ہرکسی کونہیں ہوتی بلکہ ایسے افراد جن میں الرجک پارٹیکلزسے متاثرہونے کی صلاحیت ہوصرف وہی اس کا شکارہوتے ہیں اور یہ کوئی وبائی مرض نہیں ہے لہذاایک شخص سے دوسرے کونہیں لگ سکتی الرجی ہونے کی صلاحیت انسان کے اپنے اند ہوتی ہے ۔

سانس کی نالی ناک اورگلے سے ہوتی ہوئی پھیپھڑوں کے ہوائی خانوں Air Sacsمیں جاکرختم ہوتی ہے لہذاالرجی کی علامات بھی اس سے مطابقت رکھتی ہیں۔چھینکیں،ناک میں خارش،ناک کابہنا،ناک کے پچھلے حصہ میں ریشہ (کیرا)یعنی بلغم حلق میں گرنا،ناک بندرہنا،گلاخراب رہنااورگلے میں خراش ،کھانسی خشک وتر،سانس کی نالیاں تنگ ،سانس لینے میں دشواری،گٹھن اورتنگی،سینے سے سیٹیاں بجنے کی آوازآناحتی کہ سانس رکنااوردمہ کی کیفیت پیداہوجانا۔آنکھوں میں ریت سی محسوس کرنا، سرخی،جلن،پانی بہنا،چہرے اورجسم پرخارش ،بدن تھکاوٹ کا شکاراوربسااوقات بخار ہوجاتاہے۔ یہاں یہ امرقابل ذکرہے کہ مذکورہ علامات فلووغیرہ سے بھی لاحق ہوجاتی ہیں لہذاتشخیص مرض ضروری ہے ٹھنڈ لگنے یا مرچیں سونگھنے سے چھینکیں آنا،کولڈڈرنکس یاکھٹی چیزوں کے استعمال سے گلاخراب ہو جائے اورکھانسی ہویاپیازکاٹتے ہوئے آنکھوں میں خارش اورپانی بہنا الرجی نہیں ہے بلکہ ناک کی نالیوں کازیادہ حساسHypersensivityہونے کی وجہ سے ہے۔

الرجی کی علامات کاانحصار اس بات پر ہے کہ الرجی کاعمل جسم کے کس حصہ پر ہورہاہے اگرجلدپرحساسیت ہوتوسکن الرجی،آنکھ میں ہوتو آئی الرجی Ocular Allergy اوراگرسانس کی نالی میں الرجی ہوتو اسے Allergic Asthmaکہتے ہیں پاکستان میں سانس کی الرجی کی متعدد وجوہات ہیں ایسے علاقے جہاں گندم کاشت ہوتی ہے وہاں گندم کی فصل کی کٹائی پرتھریشرچلنے سے گردوغبارفضامیں اڑتاہے جوسانس کی تکالیف اورشدیدگٹھن کاباعث ہوتا ہے اسی طرح موسم گرمامیں تیزابی مصالحہ سے پکائے آم،موسم سرما میں کھٹے کینواورمالٹوں سے بھی الرجی کی علامات پیداہوجاتی ہیں جبکہ ڈسٹ الرجی کی بڑی وجہ دھول،مٹی کے ذرات اورہاؤس ڈسٹ مائٹHouse Dust Mite ہوتاہے جوگھروں میں قالین،گدوں اور روئی سے بھری اشیاء میں رہتا ہے یہ کیڑا مائیکروآرگنیزم ہے جوآنکھ سے اوجھل رہتاہے اس کے ذرات فضا میں اڑتے ہیں تو ان سے سانس کی الرجی پیداہوتی ہے جودمے کی شدید علامات کی صورت میں ہوتی ہے دنیابھر میں Asthmatic Allergy کی بڑی وجہ ہاؤس ڈسٹ مائٹ ہے۔
پولن الرجی سے بچاؤحفاظتی تدابیراختیارکرنے سے ممکن ہے۔اس لئے گھر سے جاتے وقت ناک اور منہ کو کسی کپڑے،رومال یاماسک سے ڈھانپ کر نکلیں۔صرف کسی ضروری کام کے لئے باہرجائیں۔گھروں اوردفاترکے دروازے اورکھڑکیاں بند رکھیں۔نماز فجر سے صبح10بجے تک اور شام 4بجے سے 7بجے تک فضا میں پولن کی مقدار مقابلتا زیادہ ہوتی ہے اس لئے ان اوقات میں الرجی کے مریض باہرنکلنے سے اجتناب کریں اوران اوقات میں باہر سیریاورزش نہ کی جائے بہترہے کہ ورزش گھرمیں ہی کرلی جائے۔دوران سفرگاڑی کے شیشے بند رکھیں اورباہر کی ہوااندر نہ آنے دیں۔ ائیرکنڈیشنرکااستعمال مفیدہے بشرطیکہ ventبندرکھاجائے اورباہرکی ہواکواندر نہ آنے دیاجائے۔البتہ کروناوائرس کے خدشہ کے پیش نظراے سی استعمال نہ کیاجائے تو اچھاہے۔مریض کو بھاری کام سے بچنا چاہئے ،مریض صفائی یاگردوغبار والے کام مثلاباغبانی،گھاس کاٹنااورجھاڑپونچھ سے مکمل پرہیزکرے۔اپنے گھروں کو برومBroomسے ہرگز صاف مت کریں۔کمروں کے اندرصفائی گیلے کپڑے سے کی جائے تاکہ دھول نہ اڑے اورمریض صفائی ہونے کے آدھے گھنٹے بعدتک اس کمرے میں نہ آئے۔ ابلتے پانی کی بھاپ لینا،نیم گرم پانی کے غرغرے کرنا اور ناک کو صاف پانی سے دھونے سے فائدہ ہوتاہے اورالرجی کا باعث بننے والے ذرات دھل جاتے ہیں ۔ناک میں روغن زیتون،ویزلین یاسرسوں کا تیل لگایا جائے تاکہ پولن گرینز ناک کے نتھنوں کے ساتھ چپک جائیں اور سانس کی نالی میں مزیدآگے نہ جائیں اور انہیں کچھ دیربعد دھوکردوبارہ روغن لگالیں۔الرجی کی تکلیف میں روزانہ 14سے 20گلاس پانی پینافائدہ مند ہوتاہے۔ہمیشہ ہلکاگرم پانی پیا جائے۔مریض کومکمل آرام دیاجائے اور وہ اپنی نیندپوری کرے،ذہنی تفکرات،زچگی،دماغی وجسمانی تھکاوٹ اورکمزوری سے الرجی بڑھنے کا امکان ہوتا ہے۔بھوک باقی ہوتوکھانے سے ہاتھ کھینچ لیاجائے ۔رات کاکھاناکم کھائیں۔چاول،دال،دہی، کیلا ،گٹکا،پان مصالحہ،الکوہل اورتمباکونوشی سے پرہیز کیا جائے۔مرچوں ،مصالحہ دارغذاؤں،اچار،چائے اورکافی پینے سے اجتناب کیاجائے ۔اپنے کمروں کو الرجنز سے پاک رکھیں اوراپنے میٹرس روزانہ صاف کریں۔کمروں میں Air Purifierکااستعمال کیاجائے تاکہ ہواآلودگی اورالرجی کے ذرات سے پاک ہوجائے نیزمریض کو اس صاف ستھری فضامیں رکھا جائے۔ پالتوپرندوں کوگھروں کے باہررکھیں اور انہیں کمروں میں مت آنے دیں کیونکہ ان کے پروں کے ساتھ پولن گرینزاندرکمروں میں داخل ہوسکتے ہیں۔ہوامیں نمی کا تناسب 30سے 40فیصدتک ہو، اسے مناسب رکھنے کے لئے Cool-mist Humidifier استعمال کرنا چاہئے بصورت دیگرمریض کو تکلیف بڑھ سکتی ہے۔ ناک کی سوزش کاباعث بننے والی وجوہات مثلاتیزخوشبویابدبو،پنکھے کی تیزہوا،ایئرکنڈیشنرکی ٹھنڈی ہوا،دھواں خاص طورپرڈیزل یاسگریٹ کادھواں،یکدم گرم جگہ سے سردجگہ پرآجانااورٹھنڈے پانی سے منہ دھونے سے بچناچاہئے۔غسل ہمیشہ بلحاظ موسم تازہ یاہلکے نیم گرم پانی سے کریں پانی ٹھنڈانہ ہو۔جلدکی خشکی الرجی کوبڑھاتی ہے لہذاصابن کا انتخاب احتیاط سے کریں اورنہانے کے بعدجسم پرتولیہ زیادہ نہ رگڑیں نیزجلدپرلوشن یاآئل وغیرہ ضرور لگاتے رہیں ۔باہرسے گھرواپسی پراندرداخل ہونے سے قبل واش روم میں اچھی طرح غسل کرلیں بالخصوص سرکے بال خوب دھولیں کیونکہ کھلی فضا سے پولن گرینزبالوں میں اٹک جاتے ہیں۔باہرسے آکرکپڑے تبدیل کرلیں اوراتارے گئے کپڑے الگ محفوظ کردیں اورانہیں دھودیاجائے۔٭اپنے کپڑوں کو کھلی فضاکی بجائے کمرے میں سکھائیں،باہرفضامیں کپڑے پھیلانے سے پولن ذرات کپڑوں کے ساتھ چپک جاتے ہیں اور پھرتکلیف کا باعث بنتے ہیں۔سینے کے مراض میں مبتلا افراد کوپولن والے مقامات سے دور رکھاجائے۔

الرجی سے بچاؤکی بہترین تدبیر یہ ہے کہ جس چیز سے الرجی پیداہورہی ہے اس سے بچاجائے اگرایساممکن نہ ہوسکے یاپرہیزکے باوجودتکلیف برقراررہے تواس کا علاج کیا جائے۔الرجی پیداکرنے والی اشیاء سے محفوظ رہنا بہترین حکمت عملی ہے۔الرجی کے علاج کے لئے دو قسم کی ادویات موجود ہیں پہلی قسم کی ادویہ الرجی سے قبل استعمال ہوتی ہیں اوردوسری وہ جو مرض رونما ہونے کے بعد استعمال کی جاتی ہیں ،الرجی سے بچاؤ کے لئے حفاظتی ادویات الرجی کا موسم شروع ہونے سے تقریبا3ہفتے قبل شروع کردینی چاہیں اور اس موسم کے اختتام کے 2ہفتے بعد تک جاری رکھیں اپنے معالج کے مشورے سے بروقت دواؤں کاصحیح استعمال الرجی کی شدت تکلیف سے محفوظ رکھتاہے۔الرجی کاحملہ ہوجائے توبالعموم اینٹی ہسٹامین ادویہ استعمال کی جاتی ہیں جواس مرضیاتی کیفیت کو روکتی اورختم کرتی ہیں الرجی کے سب سے مفیدادویہ نیندآورنہیں ہوتی اوردیرپااثرات کی حامل ہوتی ہیں اورمریض روزمرہ کے اموربآسانی سرانجام دے سکتا ہے نیز ایسی ادویہ اینٹی بائیوٹیک وغیرہ کے ساتھ بھی دی جا سکتی ہیں ایلوپیتھک انٹرنیشنل اسٹینڈرکے مطابق Certrizine اورLoratadineکوبہترین خیال کیاجاتا ہے یہ کسی دوسری دوا سے ری ایکشن نہیں کرتی ہیں نیزان کی ایک خوراک کافی ہوتی ہے تاہم شدت تکلیف میں دن میں دو بار کھاسکتے ہیں کم قیمت ادویہ بھی بازار میں دستیاب ہوتی ہیں لیکن ان سے منہ خشک،بدن میں ٹوٹ پھوٹ،تھکاوٹ اور نیندکاغلبہ ہوسکتاہے اوران کا اثربھی 4سے5گھنٹے تک ہوتا ہے ۔

سانس کی الرجی کی شدیدعلامات رونماہوں توانہیلرکااستعمال ناگزیرہوجاتا ہے انہیلرکااستعمال کسی بھی وقت شروع اورچھوڑاجاسکتاہے اس کے ساتھ فوری ریلیف ملتا ہے اور اسے دیگرادویات کے ساتھ استعمال کیاجاسکتا ہے ۔یہ تاثربالکل غلط ہے کہ انہیلرآخری علاج ہے بلکہ اسے توکم سن بچوں کوبھی بحفاظت دیاجاسکتاہے انہیلرسے دوابراہ است سانس کی نالی میں جاتی ہے اورفوری اثرکرتی ہے اور قطعی مضراثرات نہیں ہوتے انہیلر کے بہترنتائج کے لئے اسے پلاسٹک کی بوتل Spacerلگاکراستعمال کیا جائے۔ الرجی ویکسین قوت مدافعت کوبڑھاتی ہے اور سب سے اچھاطریقہ علاج ہے مگرپاکستان میں اس کا غلط استعمال ہورہاہے الرجی ٹیسٹ یا ویکسین دوران تکلیف یاالرجی کے موسم میں کرانابے فائدہ اورجان لیوابھی ثابت ہوسکتا ہے اس علاج کو اس وقت کیاجائے جب مریض بالکل ٹھیک ہو اورموسم مرض کے آغازسے قبل مکمل کرلیاجائے نیزاسے اپنے علاقے کے مستند اورتجربہ کارماہرالرجی سے کروایا جائے ۔ویکسین الرجک پارٹیکل کے لحاظ سے تیارکرواکراستعمال کی جائے پہلے سے سٹورویکسین ہرگزاستعمال نہ کریں۔

طب یونانی کی ادویہ پولن الرجی میں کافی موثرہیں۔ انہیں ہمیشہ معالج کے مشورہ سے ہی استعمال کرنازیادہ بہترہوتاہے۔ پولن الرجی کے لئے دیسی ادویہ میں خمیرہ تریاق نزلہ یاخمیرہ خشخاش/2 1سے1چمچ صبح وشام کھلانے سے فائدہ ہوتاہے۔الرجی کے ساتھ ساتھ گلہ زیادہ خراب ہوتولعوق سپستان 2چمچ ابلتے ہوئے پانی میں شامل کرکے چائے کی طرح چسکیاں لے لے کر پئیں۔پولن الرجی کی وجہ سے سانس میں تنگی اورکھانسی کی صورت میں شربت صدر2سے 3چمچ دن میں تین باراستعمال کریں۔اس کے علاوہ خمیرہ بنفشہ یاشربت بنفشہ بھی مفیدوموثرثابت ہوتا ہے ۔یہ سب ادویہ روزمرہ زندگی میں نزلہ زکام کھانسی اورامراض سینہ میں بھی بیحدفائدہ مندہیں۔ادرک اورلیموں کا رس سانس کی الرجی کے لئے بہترین قدرتی دواہے۔پولن الرجی کے لئے گھریلوعلاج کے لئے کریلا کی جڑکاپاؤڈر10گرام،تلسی 10گرام اور شہد25 ملی لیٹر میں ملاکرصبح شام 1چائے کا چمچ استعمال کریں۔ادرک کارس،میتھی اورشہد بہترین ہوم ریمیڈی ہیں۔عناب3دانے،تخم کتاں اورمیتھی دانہ 1/2 گرام ایک کپ پانی میں جوش دے کر صبح شام پینے سے حیران کن فائدہ ہوتا ہے۔ کلونجی 1ٹی سپون ،کالی مرچ 3عدد اورادرک کاقہوہ مفیدہوتاہے یہ قہوہ کوروناوائرس میں بھی فائدہ مند ہے ۔سویابین ،سیب ،کالے چنے کی دال ،لیموں،سویٹ اورنج ،انجیر ،پائن ایپل ،اسٹابری، امرود کااستعمال زیادہ کیا جائے اورمذکورہ بالاہدایات وپرہیزپرعمل کیاجائے توسانس کی الرجی سے کافی حدتک بچاجاسکتاہے۔طبیعت زیادہ خراب ہو تواحتیاطی تدابیرکے ساتھ ساتھ اپنے قریبی معالج سے رجوع کریں ۔ نوٹ :حکیم احمدحسین اتحادی نیشنل کونسل فارطب( وزارت صحت)حکومت پاکستان کے گولڈمیڈلسٹ مستندطبیب ہیں اورنزدمارکیٹ کمیٹی عبدالحکیم میں ان کامطب ہے ۔ قارئین مزیدمعلومات کے لئے وٹس اپ نمبر 03007305499 پررابطہ کرسکتے ہیں۔ (ادارہ)

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hakim Ahmad Hussain Itthadi

Read More Articles by Hakim Ahmad Hussain Itthadi: 9 Articles with 3817 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Apr, 2020 Views: 268

Comments

آپ کی رائے