صدر پاکستان کی دعوت پر اجلاس اور متفقہ اعلامیہ

(Abdul Quddus Muhammadi, )

مولانا محمد حنیف جالندھری جنرل سیکرٹری وفاق المدارس العربیہ پاکستان
جس دن سے کرونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں لاک ڈاؤن کا سلسلہ شروع ہو ا،خوف وہراس کی فضا پیدا ہوئی،بعض ممالک میں اموات کا آغاز ہوا اور اس وبا نے پاکستان کے دروازوں پر دستک دینا شروع کی اس دن سے جہاں حکومتی، انتظامی،طبی،معاشی اور دیگر حوالوں سے یہ وبا ایک چیلنج تھا وہیں دینی حوالے سے اس معاملے کی نزاکت بہت زیادہ تھی۔ایک طرف انسانی جان کے تحفظ کامسئلہ تھا،لوگوں کو ایک خطرے سے بچانا مقصود تھا،حکومت کے ساتھ تعاون پیش نظر تھا جبکہ دوسری طرف یہ بات بھی پیش نظر تھی کہ مسلمانوں کے نزدیک صرف اسباب اور احتیاط ہی سب کچھ نہیں اگرچہ اسباب اختیار کرنے کا حکم ہے، احتیاط ضروری ہے،جان بچانا فرض ہے لیکن اصل چیز اﷲ رب العزت کا امر ور فیصلہ ہے۔ اﷲ رب العزت کی نصرت اور رحمت کے حصول کے لیے رجوع الی اﷲ،عبادات و اعمال کا اہتمام اور دعاوں کا سلسلہ از حد ضروری ہے۔الحمداﷲ علماء کرام نے ہمیشہ کی طرح مشکل کی اس گھڑی میں اپنی ذمہ داری کما حقہ ادا کی۔دونوں پہلوؤں کو پیش نظر رکھا، سخت خوف وہراس کے عالم میں میدان عمل میں نکلے،قوم کی مکمل رہنمائی کی،تمام مکاتب فکر کے علماء کرام نے ایک موقف اپنایا، ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا، آج کئی ہفتوں کے بعد حکومت اور دیگر سب طبقات اسی اعلامیہ پر آگئے۔ کاش! یہ سب شروع میں ہی کرلیا جاتا ……اس عرصے میں بعض مقامات پر،بد انتظامی کا مظاہرہ کیا گیا ……دوہرے رویے،امتیازی سلوک،علماء دشمنی،اسلام بیزاری کے عجیب وغریب نمونے سامنے آئے ……حکومت اور خاص طور پر سارے صوبائی یونٹ تو ابھی تک کسی بات پر متفق نہیں ہوپائے،وفاق کی پالیسی کچھ اور ہے، سندھ میں کچھ اور چل رہا ہے،کشمیر کی صورتحال ہی مختلف ہے،خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کا منظر نامہ جداہے،گلگت بلتستان الگ ہی دنیا ہے پھر سیاسی جماعتوں کی اپنی اپنی راگنی ہے جبکہ علماء کرام پہلے دن سے متفقہ اعلامیہ پر ہیں اب خود اندازہ کیجیے کہ فرقہ واریت کہاں ہے؟اور بحران کے اس دور میں کس نے قوم کو تقسیم کیا؟

بد قسمتی سے تمام تر بد انتظامی اور ناکامی کا ملبہ مساجد پر ڈالاگیا،کء جگہوں پرمساجد کے ائمہ وخطباء کی گرفتاریاں ہوئیں،علماء کرام کو ہراساں کیا گیا،کرونا کے ایشو کو مذہب کے ساتھ نتھی کرنے کی کوشش کی گئی،تبلیغی جماعت کا بدترین میڈیا ٹرائل ہوا اوریوں ہر گزرتے دن کے ساتھ حالات مزید خراب سے خراب ہوتے چلے گئے لیکن ہم نے الحمد ﷲ اس صورت حال میں بھی ہمت نہیں ہاری اور اپنا کام کرتے رہے،اپنی بساط کے مطابق کوشش میں لگے رہے۔ہم نے اپنے ا س اصولی موقف کے لیے الحمداﷲ بہت سا ہوم ورک کیا،رائے سازی پر توجہ دی،میڈیااور سوشل میڈیا کے ذریعے دینی طبقات کا مقدمہ لڑا،ہرطبقہ فکر نے ہماری تائید وحمایت کی ،ہم نے مسلسل تمام مکاتب فکر کے علماء کرام سے رابطہ رکھا،مشاورت کا سلسلہ جاری رہا،اتحاد تنظیمات مدارس پاکستان کے قائدین اور دینی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے رابطہ اور مشاورت رہی خاص طور پر شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب نے سب سے اہم اورموثر کردار ادا کیا,مولانا فضل الرحمن ہمیشہ کی طرح رہنمائی فرماتے رہے ،محترم ومکرم مفتی منیب الرحمن پیش پیش رہے,وفاق المدارس الشیعہ اور وفاق المدارس السلفیہ نے اپنا موقف آ جانے کے باوجود تائید کی اس سلسلے میں قاضی نیاز حسین نقوی اورمولانا یاسین ظفر کا ممنون ہوں۔مولانازاہدالراشدی،مولانا عبدالمالک اور جناب سراج الحق نے مکمل تائید کی,صاحبزادہ اویس نورانی,محترم حافظ عاکف سعید اور ہمارے رفقاء میں سے مولاناڈاکٹر عادل خان,مولانا ڈاکٹر سعید اسکندر,مولانا امداد اﷲ نے بھرپور کردار ادا کیا-جن علماء کرام کو کسی قسم کی پریشانی یا مسائل کا سامنا کرنا پڑا ان کا ہر ممکن تعاون کیا،تبلیغی جماعتوں کو درپیش صورتحال پر اپنی بساط کے مطابق جدوجہد کی اس حوالے سے بہت سے لوگوں اور طبقات کابھرپور تعاون شامل رہا ۔

بالخصوص مسلم لیگ ق کے سربراہ چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الہی صاحب نے ہمیشہ کی طرح سب سے بڑھ کر تعاون بھی کیا اور کلیدی کردار ادا کیا اور اس سلسلے میں برادرم حافظ عمار یاسر صوبائی وزیر معدنیات اور برادر محترم راسخ الہی نے قابلِ قدر تعاون کیا ،حافظ طاہر محموداشرفی مسلسل سرگرم عمل رہے …… میں سب کا تہہ دل سے شکرگزار ہوں۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پہلے دن سے ہی علماء کرام کے تعاون کی قدر کی جاتی،تمام مکاتب فکر کے سرکردہ حضرات کو اعتماد میں لے کر ایک بیانیہ تشکیل دیا جاتا لیکن بدقسمتی سے ایسا نہ ہوسکا لیکن خیردیر آید درست آید کے مصداق الحمداﷲ اب صدر پاکستان کی دعوت پر تمام مکاتب فکر کے قائدین، حکومتی ذمہ داران اور اسٹیک ہولڈرز کا اہم ترین اجلاس ہوا۔اس اجلاس میں چاروں صوبوں،آزادکشمیر،گلگت بلتستان اور وفاقی دارالحکومت کی طرف سے بھر پور نمائندگی تھی اور الحمداﷲ اتفاق رائے سے ایک فارمولہ طے پایا اور سب نے مساجد کو کھلا اور آباد رکھنے پر اتفاق کیا ……وفاقی وزیر مذہبی امورمحترم جناب پیر نورالحق قادری اور اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹرقبلہ ایاز نے اس اجلاس کے انعقاداور متفقہ اعلامیہ کی ترتیب وتدوین میں قابلِ تحسین کرداراداکیا۔ اس موقع پر میں نے اپنی گفتگو میں اپنے دیرینہ موقف کا اعادہ کیا کہ احتیا طی تدابیر اختیا ر کرتے ہوئے مساجد کو آباد رکھا جائے کیونکہ اس وبا سے چھٹکارا پانے کے لیے رجوع الی اﷲ، اعمال واذکار اور دعاؤں کا اہتمام کرنے کی اشد ضرورت ہے اور یہ کام علماء کرام کی قیادت ورہنمائی کے بغیر ممکن نہیں اسی طرح ہم سمجھتے ہیں کہ اس وقت کرونا وائرس سے زیادہ جو خوف وہراس ہے، لوگ جس ڈپریشن کا شکا ر ہیں طرح طرح کی باتیں سن کر جس طرح نفسیاتی مریض بنتے جارہے ہیں انہیں درست رہنمائی مہیا کی جائے،انہیں قران وسنت اور دینی تعلیمات کی روشنی میں حوصلہ دینے اور ان میں امید جگانے کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے منبر ومحراب سب سے زیادہ کردار ادا کرسکتے ہیں۔

آج اس موقع پر جب الحمداﷲ اتفاق رائے سے ہم سب ایک نتیجے تک پہنچے ہیں میں حکومت اور عوام سے کہنا چاہوں گا کہ سب خصوصی دعاؤں اور اعمال کا اہتمام کریں تاکہ اﷲ رب العزت اس آزمائش سے ہمیں نجات دیں اور اس فیصلے کو پوری قوم ہی نہیں پوری امت کے لیے خیرکا باعث بنائیں۔اﷲ رب العزت ہماری مساجد کے کھلنے کو پورے عالم اسلام کی مساجد،حرمین شریفین اور ہر جگہ کا لاک ڈاؤن ختم کرنے کا ذریعہ بنادیں ……یہاں میں پوری قوم سے انتہائی دردِ دل سے یہ اپیل کرنا چاہوں گا کہ اپنی اپنی مساجد میں اور اپنی بساط کے مطابق احتیاطی تدابیر کا بطور خاص اہتمام کریں،ان پر عمل کریں اور کرائیں،کسی کو انگلی اٹھانے یا شکایت کا موقع نہ دیں ……یاد رکھیں اسلام مخالف اور سیکولر عناصر ایسے کسی موقع کی تلاش اور تاک میں ہوں گے جسے وہ اسلام،مسجد،مذہبی طبقات اور علماء کرام کے خلاف استعمال کرسکیں ہمیں دعاؤں کے ساتھ ساتھ عملی طور پر بھی اس کا اہتمام کرنا ہے کہ ہم کسی قسم کی بے احتیاطی اور غیر ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کریں ……مجھے اﷲ رب العزت کی رحمت سے امید ہے کہ اﷲ رب العزت مشکل کی اس گھڑی میں ضرور ہمارے ساتھ کرم اور فضل والا معاملہ فرمائیں گے اور جلد اس صورتحال سے نجات دیں گے…… ان شاء اﷲ
۲۵؍ شعبان المعظم۱۴۴۱ھ...۱۹؍اپریل۲۰۲۰ء
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abdul Quddus Muhammadi

Read More Articles by Abdul Quddus Muhammadi: 115 Articles with 79066 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Apr, 2020 Views: 180

Comments

آپ کی رائے