کورونا وائرس: یہ خزاں کی زرد سی شال میں جو اداس پیڑ کے پاس ہے

(Dr Salim Khan, India)

دروازے کی ڈبل گھنٹی سن کر ٹن ٹن سمجھ گئی للن وارد ہوگئے ہیں۔ اس نے دروازہ کھول کر سیدھے حمام کی جانب اشارہ کیا اور بولی ’ پہلے ہاتھ پھر بات‘
للن نے جیب سے سینٹائزر کی بوتل نکال کر ہاتھ صاف کرتے ہوئے کہا ہم اپنا انتظام ساتھ رکھتے ہیں اس لیے تم حمام میں ہاتھ دھولیا کرو۔
ٹن ٹن اس کے ہاتھ سے سینیٹائزرجھپٹ کر بولی اسپتال کے اندر مفت میں مل جاتا ہے اس لیے لگے نوابی دکھانے ۔ کل سے ایک میرے لیے بھی لانا۔
ٹھیک ہے بیگم ’جو حکم ، جی حکم ، مالِ مفت دلِ بے رحم ‘۔
اچھا ! کہیں اس کمبخت کورونا نے تمہیں شاعر تو نہیں بنا دیا۔
للن کو پرانا گانا یاد آگیا ’میں شاعر تو نہیں ۰۰۰‘ وہ اسے گنگناتے ہوئے اندر لباس تبدیل کرنے کے لیے جانے لگا ۔
ٹن ٹن بگڑ کر بولی بیچ میں کیوں رک گئے ۔ اگر مجھے دیکھ کر آگے کا مصرع بھی گاتے تو کیا زبان گھس جاتی ۔ پہلے تو بار بار پورا گانا سناتے تھے ۔
للن بولا دیکھو بیگم پہلے وہ تم پر فٹ ہوجاتا تھا اب نہیں ہوتا ۔
کیا مطلب ! کیا اب بھی میں’ حسیں‘ نہیں ہوں ۔
یہ میں نے کب کہا؟
اچھا تو کیا کہا؟ پہلے بتاو پھر اندر جاو۔
بات یہ ہے کہ شاعری آگئی، عاشقی آگئی ، شادی ہوگئی اور ختم فسانہ ہوگیا۔ اس لیے پورا گانے کی ضرورت باقی نہیں رہی ۔
ٹن ٹن سمجھ گئی بات کو گھمایا جارہا ہے ۔ اس نے بھی موضوع بدلتے ہوئے کہا ’کیوں جی آج اسپتال میں مریض بہت زیادہ تھے کیا؟‘
جی نہیں آج کل کورونا کے ڈر سے لوگ اسپتال میں آنے سے بھی ڈرتے ہیں ۔ انشورنس کے باوجود گھر میں بیٹھ کر دکھ سہتے ہیں۔
ٹن ٹن کو اس جواب میں پھر شاعری کی بو ُ آئی۔ اس نے پوچھا اگر ایسا ہے تو گھر آنے میں تاخیر کیوں ہوئی۔ وہاں بیٹھ کر شاعری کررہے تھے کیا؟
جی نہیں واپسی میں کلن کے ساتھ اس کے گھر چلا گیا تھا ۔
اس ماحول میں کلن کے گھر جانے کی کیا ضرورت تھی؟ آپ نے بشیر بدر کا یہ شعر نہیں سنا ۔
کون سا؟ شعر ان کے تو بہت سارے اشعار سن رکھے ہیں۔ تم کس کی بات کررہی ہو؟
ٹن ٹن بولی وہی بے سبب والا:
یونہی بے سبب نہ پھرا کرو ، کوئی شام گھر میں رہاکرو میں غزل کی سچی کتاب ہوں مجھے چپکے چپکے پڑھا کرو
للن بولا میں تو کچھ اور سنا تھا تم نے اس میں کوئی خرد برد تو نہیں کردیا؟
جی ہاں میں تمہاری زوجہ ہوں اس لیے یہ ضروری تھا ۔ کسی اور سے کہتی تو وہی کہتی جو بشیر بدر نے کہا ہے لیکن آپ سے کیسے کہہ سکتی ہوں ؟
ٹن ٹن کی ذہانت پر للن حیران رہ گیا ۔ وہ بولا لیکن تم اگر ’میری نصف‘ بہتر ہو تو ’چپکے چپکے ‘ کیوں علی الاعلان کیوں نہیں ؟
ٹن ٹن ہنس کر بولی تو کیا پورے محلے کو سناوگے ۔ جاو چپ چپ کپڑے بد لو۔ تھک گئے ہوگے ۔
للن شکریہ ادا کرکے اندر ونی کمرے کی جانب بڑھا اور منہ ہی منہ میں اپنے آپ سے بولا ’جان بچی تو لاکھوں پائے لوٹ کے ۰۰۰۰۰اور رک گیا ۔
عقب سے بیگم کی آواز آئی : رک کیوں گئے ۔ محاورہ پورا کرو ۔ اپنے آپ کو بہت عقلمند سمجھنے لگے ہو کیا؟
للن بولا جی نہیں کسی زمانے میں مجھے یہ خوش فہمی تھی لیکن تم نے دور کردی ۔ شکریہ ۔
زہے نصیب اب بولو کھانا لگاوں یا چائے بناوں ؟
چائے بنا دو ۔ میں کلن کے گھر پر کھانا کھاکر آیا ہوں ۔
کلن کے گھر کھانا ۔ وہاں تو کھانا بنانے والا کوئی ہے نہیں؟
للن کو ہنسی آگئی۔ وہ بولا بیگم تو کیا اس کامطلب ہے وہ کھانا نہیں کھاتا ؟ بھوکا رہتا ہے؟ کھانا کھانے کے لیے کھانا بنانے والے کی ضرورت نہیں ہوتی ؟
ٹن ٹن کی سمجھ میں یہ منطق نہیں آئی ۔ اس نے سوال کیا تو کیا اس کے منتر پڑھکر پھونکنے سے کھانا ازخود بن جاتا ہے ۔ ایسا ہے تو مجھے بھی وہ منترسکھادو
اول تو ایسا کوئی منتر ہے نہیں اور ہوگا تب بھی میں تمہیں نہیں بتاوں گا ۔
وہ کیوں ؟ مجھے کیوں نہیں بتاوگے ؟
اس لیے کہ جنتر منتر سے اتنا لذید کھانا تھوڑی نا بنے گا جتنا کے تم بناتی ہو؟
اپنی تعریف سن کر ٹن ٹن پھولی نہیں سمائی ۔ وہ بولی آپ جھوٹ بولتے ہیں ۔ مجھے بیوقوف بناتے ہیں ۔
للن کو ٹن ٹن بار بار حیرت کے جھٹکے دے رہی تھی ۔عام طور اپنی تعریف سن کر اس کی عقل فوت ہوجاتی تھی لیکن اب ایسا نہیں ہوا تھا ۔ یہ خطرے کی گھنٹی تھی اس لیے کہ اگر یہی وار بیکار ہوجائے تو شوہر نامدار کے پاس بچتا ہی کیا ہے؟ اس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا بیگم اس کا پتہ تمہیں کیسے چلا؟
اس میں کون سی بڑی بات ہے ۔ اگر میرے ہاتھ کا کھانا اتناہی لذید ہوتا تو آپ کلن کے گھر جانے کے بجائے اس کو اپنے گھر لاتے۔
وہ ایسا ہے نا بیگم کہ اچانک مہمان کو لاکر تمہیں زحمت دینے کے بجائے میں نے دعوت قبول کرلی ۔ ہم لوگ اس کو کسی دن بلا کر کھانا کھلا دیں گے۔
یہ اچھی تجویز ہے لیکن میرے پہلے سوال کا جواب آپ نے نہیں دیا کہ کھانا اگر بنایا نہ جائے تو وہ کیسے بن جاتا ہے؟
میں نے یہ نہیں کہا ۔ تمہارا سوال تھاکہ وہاں کوئی کھانا بنانے والا نہیں ہے تو کھانا کیسے ملا؟ اس نے ہوٹل سے منگوایا اور اپنے ساتھ مجھے بھی کھلا دیا۔
لیکن میں نے سنا ہے آج کل کو دیش بندی کے سبب سارے ہوٹل بند ہیں۔
جی ہاں، وہاں بیٹھ کر کھانا ممنوع ہے لیکن باورچی خانہ کھلا ہے کھانا لےکر جایا جاسکتا ہے اور منگوانا بھی ممکن ہے ورنہ کیا کلن جیسے لوگ کورونا کھائیں گے؟
ٹن ٹن بولی اب بات سمجھ میں آئی ۔ آپ بات سیدھے بولنے کے بجائے جلیبی کی طرح گھما پھرا کر بولتے ہیں ۔
جی ہاں سارا قصور میرا ہے۔ خیر یہ بتاو کہ بشیر بدر کے شعر میں ترمیم کا خیال تمہیں کیسے آیا ؟
ٹن ٹن ہنس کر بولی: وہ میری سہیلی من ُمنُ ہے نا اس نے اپنے کمرے میں یہ شعر ترمیم کرکے فریم کروا رکھا ہے ۔
اچھا تو تم اس کورونا کے لاک ڈاون میں اس کے گھر گئی تھیں؟
وہ تو کولکاتہ میں رہتی ہے بس ،ٹرین اور ہوائی جہاز سب بند ہے ۔ ایسے میں ممبئی سے کولکاتہ میں کیسے جاسکتی ہوں؟
اوہو تم نے نہیں دیکھا لاکھوں لوگوں نے اس دوران سیکڑوں میل پیدل سفر کیا ۔ اس میں کون سی بڑی بات ہے؟ خیر تواس فریم کا پتہ کیسے چلا؟
دیکھو زمانہ بدل گیا ۔ ٹکنالوجی نے فاصلے کم کردیئے ہیں ۔ویڈیو کال کے دوران میں نے دیوار پر لگی فریم دیکھ لی ، اس میں کون سی بڑی ببات ہے؟
للن جھینپ کر بولا : ہاں۰۰۰ اچھا سمجھ گیا ۔
ٹن ٹن موبائل دکھا کر بولی ابھی نہیں سمجھے ۔ یہ دیکھومیں نے ویڈیو بنالی ہے ، اس نے کتنا اچھا رنگ کروایا ہے۔ مجھے بھی بالکل ایسا ہی رنگ کروانا ہے۔
ہاں ہاں لیکن کورونا کو تو جانے دو ۔ یہ کہتے ہوئے للن نے فریم دیکھا تو اس پر شعر مختلف تھا ۔ وہاں لکھا تھا :
یونہی بے سبب نہ پھرا کرو ،ذرا اپنے گھر میں رہا میں غزل کی سچی کتاب ہوں مجھے چپکے چپکے پڑھا کرو
للن بولا بھاگوان یہ تو کچھ اور لکھا ہے۔ جو تم نےسنایا وہ نہیں ہے۔
جی ہاں لیکن اس کا خاوند اسپتال میں کام نہیں کرتا جو کورونا کے باوجود ڈیوٹی پر جانا پڑے۔ سیلس مین ہے، آج کل گھر ہی میں پڑارہتا ہے۔
للن بولا اوہو سیلس مین سے یاد آیا ۔ وہ جو زوماٹو والا ڈیلیوری بوائے کلن کے گھر کھانا لے کر آیا تھا اس نے بشیر بدر کی اسی غزل کا ایک شعر سنادیا تھا ۔
ہوگا تمہاری طرح نیم شاعر ۔ جس طرح نیم حکیم خطرہ ٔ جاں ہوتا ہے اسی طرح نیم شاعر خطرۂ ادب ہوتا ہے لیکن اس کو شعر سنانے ضرورت کیوں پڑی؟
ہوا یوں کے کلن نے دروازہ کھولا تو آواز آئی صاحب آپ کا پارسل کنڈی میں لٹکا ہوا ہے ۔ شکریہ ۔
کلن بولا کیوں آج بخشش نہیں لوگے کیا ؟ اس کے جواب میں دور سے ہی وہ شعر سناکر رفو چکر ہوگیا ۔
کون سا شعر ؟ ٹن ٹن چڑ کر بولی :دنیا بھر کی تفصیل بتا دی لیکن شعر نہیں سنایا ۔
وہی حاصلِ غزل جو زبان زدِ عام ہے:
کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے یہ نئے مزاج کا وقت ہے ذرا فاصلہ سے ملا کرو
ٹن ٹن بولی لگتا ہے من من کی طرح اس نے بھی کوئی گڑ بڑ کردی ۔
جی ہاں ٹن ٹن چونکہ یہ وباء کسی خاص شہر تک محدود نہیں ، اس نے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لےرکھا ہے ۔اس لیے یہ ترمیم فی الحال ٹھیک ہی ہے۔
چلو مان لیا وہ ٹھیک ہے لیکن اس غزل کا مقطع میری سمجھ میں نہیں آیا ۔
اچھا وہ کیا ہے؟ چونکہ مشہور نہیں ہوا اس لیے ذہن سے اتر گیا ۔
ٹن ٹن بولی وہی کہ :
یہ خزاں کی زرد سی شال میں جو اداس پیڑ کے پاس ہے یہ تمھارے گھر کی بہار ہے، اسے آنسوؤں سے ہرا کرو
اس شعر کو سن کر للن سناٹے میں آگیا ۔ وہ بولا کیا بات کہی ہے بشیر بدر نے کمال کر دیا صاحب۰۰۰ کمال کی بات کہہ دی ۔
ٹن ٹن بگڑ کر بولی وہی تو میں پوچھ رہی ہوں کہاس شعر میں کیا بات کہی گئی ہے اور آپ بس تعریف کے پل باندھے جارہے ہیں۔
بھئی اگر کورونا سے قبل یہ غزل اتنی مشہور نہیں ہوگئی ہوتی تو مستقبل کا مورخ اس کا شان نزول اس وباء کو قرار دے دیتا ۔
اچھا وہ کیسے؟
للن نے کھڑکی سے باہر اشارہ کرکے کہا ٹن ٹن مجھے بتاو کیا اس شہر ِ وحشت میں ایسی ویران سڑک تم نے کبھی دیکھی تھی اور اس اداس پیڑ کو دیکھو کس طرح موسمِ خزاں پر گریہ کناں ہے۔ کون سوچ سکتا تھا کہ یہ بستی اک شہر خموشاں میں بدل جائے گی ۔ میرے خیال میں یہ اس کی بہترین منظر کشی ہے۔
ٹن ٹن بولی خزاں کی حد تو بات تو میری سمجھ میں آگئی لیکن وہ دوسرا مصرع اوپر سے چلا گیا جس میں شاعر اسے ہمارے گھر کی بہار کہہ رہاہے ۔
مجھے تو اس کا مطلب یہ سمجھ میں آتا ہے کہ یہ ہمارے ہاتھوں کی کمائی یعنی اپنے اعمال کا نتیجہ ہے اور اب وقت آگیا کہ ہم رودھو کر توبہ و استغفار کریں ۔
ٹن ٹن یہ معنیٰ سن کر چونک پڑی وہ بولی کیا بات ہے واقعی ۔ کورونا کی وباء پر اس سے اچھا شعر اور کون سا ہوسکتا ہے ۔ واقعی کمال کا شعر ہے ۔ لیکن انہوں نے اس صورتحال سے گزرے بغیر تصور خیال میں یہ کیسے دیکھ لیا؟
للن ہنس کر بولا اسی لیے تو ہندی والے کہتے ہیں ’جہاں نہ پہنچے روی (سورج) وہاں پہنچے کوی ‘ ۔
ٹن ٹن بولی جی نہیں ۔ اپنا بشیر بدر تمازت والا سورج نہیں بلکہ خوشخبری سنانے والا چودھویں کا چاند ہے۔





 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1199 Articles with 434023 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Apr, 2020 Views: 684

Comments

آپ کی رائے