بین الاقوامی مذہبی آزادی سے متعلق امریکی رپورٹ

(Athar Masood Wani, Rawalpindi)
عقیدے، خطے،زبان ،رنگ و نسل ،حتی کہ کسی بھی بنیاد پر انسانوں کو نفرت ،تشدد اور تادیبی کاروائیوں سے محفوظ رکھنا اقوام عالم کا مشترکہ عہد اور ایجنڈا ہے اور عالم انسانیت کے لئے انسانیت کی تقدیس کو یقینی بنانے کے لئے ابھی بہت سا کام کرنا باقی ہے۔ابھی انسانی حقوق کے تحفظ پر حسب استحقاق توجہ نہیں دی جا رہی جس سے دنیا انسانی عدم مساوات سے پیدا ہونے مسائل کے نقصانات سے نبرد آزما ہے۔مذہب،عقیدے کی آزادی انسانی حقوق کا ایک اہم عنصر ہے ۔اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں کا دنیا میں انسانی حقوق پر مشتمل آزادی کے تصورات کو مضبوط سے مضبوط بنانے کے لئے اپنے کردار کو موثر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ طاقتور ملکوں،خطوں اور نسلوں کو قوم وملک پرستی،خطے کے مفادات،دہشت گردی کی طرح کے مختلف عنوانات سے انسانی حقوق کے بالاتر مقصد کو آلودہ نہیں کرنا چاہئے۔
اطہر مسعود وانی

امریکہ کے عالمی مذہبی آزادی کمیشن نے اپنی2020کی سالانہ رپورٹ میں،2019کے دوران سوڈان میں نمایاں بہتری اور انڈیا میں مذہبی آزادی کی صورتحال کو تنزلی کی طرف قرار دیا ہے اور امریکی حکومت سے سفارشات میں مذہبی آزادی کے فروغ کے اقدامات تجویز کئے ہیں۔رپورٹ میں مذہبی آزادی کی صورتحال میں بہتری سے متعلق پیش رفت پر سوڈان اور ازبکستان کی تعریف کی گئی ہے اور متضاد صورتحال کے حوالے سے دیگر ممالک خاص طور پر انڈیا کا ذکر کیا گیا ہے کہ جہاں مذہبی آزادی کی صورتحال بہتری کے بجائے تنزلی کا شکار ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انڈیا میں 2019میں مذہبی آزادی کی صورتحال میں مزید خرابی آئی ہے۔انڈیا کی قومی حکومت نے تمام انڈیا میں مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کرنے والی قومی سطح کی پالیسیاں قائم کرنے،خاص طور پر مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لئے اپنی پارلیمانی اکثریت کا استعمال کیا ہے۔ شہریت کے قانون کے ذریعے مسلمانوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے جس سے مسلمان شہریت سے محروم کئے جانے،نظربندی ،ملک بدری اور دوسری کئی تادیبی کاروائیوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق انڈیا میں قومی سطح پر اور مختلف ریاستی حکومتوں کی طرف سے مذہبی اقلیتوں کو ہراساں اور تشدد کی ملک گیر مہمات کی بھی اجازت دی گئی ہے۔اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقریر اور ان کے خلاف تشدد پر اکسانے کے واقعات عام ہیں۔ انڈیا حکومت کی یہ صورتحال بین الاقوامی مذہبی آزادی کے ایکٹ اور اس متعلق تمام عالمی قوانین کے منافی ہے۔

بین الا قوامی مذہبی آزادی سے متعلق اس امریکی حکومت کی رپورٹ میں کشمیر کا ذکر الگ عنوان کے ساتھ کیا گیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ
''اگست2019میںبھارت کی حکومت نے مسلم اکثریتی جموں و کشمیر کی خودمختاری کو ختم کردیا اور سیکیورٹی اقدامات نافذ کیے ، جن میں نقل و حرکت او ر افراد کے اجتماع کی آزادی پر پابندی ، انٹرنیٹ اور فون تک رسائی میں کمی ، اور مذہبی رہنمائوں سمیت کشمیری رہنمائوں کی گرفتاری کے اقدامات شامل ہیں۔ نقل و حرکت اور اجتماع پر پابندیوں کی وجہ سے نماز اور مذہبی تقریبات میں شرکت کی صلاحیت محدود ہوگئی۔ کمیشن کو مساجد بند ہونے ، اماموں اور مسلم رہنمائوں کو گرفتار اور حراست میں لینے ، اور شدت پسند گروہوں کے ذریعہ دھمکیوں اور تشدد کی بھی متعدد اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔''

رپورٹ میں تجویز کیا گیا ہے کہ امریکی حکومت کی طرف سے ہندوستانی حکومت کو صورتحال میں بہتری سے متعلق اہداف کا پابند بنایا جائے،مذہبی آزادی کے خلاف کام کرنے والے افراد کے اثاثے منجمد کئے جائیں،ان کے امریکہ داخلے پر پابندی۔بھارت میں مذہبی آزادی سے متعلق امریکی سفارت خانے اور قونصلیٹ کی سطح پر سرگرمیوں میں اضافہ کیا جائے،کمیونیٹیز،مقامی عہدیداران ،پولیس کے ساتھ رابطہ رکھا جائے،خاص طور پر مذہبی آزادی کے حوالے سے متاثر ہونے والے خطوں میں۔بھارت میں تشدد میں اضافے پربھارتی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ شراکت داری کی جائے،بھارت میں مذہبی آزادی کی گنجائش پیدا کی جائے،اقلیتوں،ان کی عبادت گاہوں ،ان کے مقدس مقامات کا تحفظ اور مذہبی تشدد اور نفرت انگیز پروپیگنڈے کا مقابلہ کیا جائے۔

رپورٹ میں خصوصی تشویش والے ملکوں میں برما، چین،ایریٹیریا،انڈیا،ایران،نائجیریا،شمالی کوریا،پاکستان،روس،سعودی عرب،شام،تاجکستان ترکمانستان اور ویت نام کو شامل کیا گیا ہے جبکہ خصوصی واچ لسٹ میں افغانستان،الجیریا،آذر بائیجان،بحرین،وسطی افریقی یپبلک،کیوبا،مصر،انڈونیشیا،عراق،قزاقستان،ملائیشیا،نکاراگوا،سوڈان،ترکی اور ازبکستان کو شامل کیا گیا ہے۔رپورٹ میں خاص طور پر مذہبی آزادی سے متعلق عالمی مذہبی آزادی ایکٹ1998کا حوالہ دیا گیا ہے۔


پاکستان سے متعلق رپورٹ میں2019میں منفی رجحان بیان کیا گیا ہے۔توہین رسالت اور مرزائیوں سے متعلق قوانین اور حکام اقلیتوں کے مذہب کی جبری تبدیلی کے تدارک میں ناکام رہے ہیںجن میںہندو،عیسائی ،اور سکھ شامل ہیں۔رپورٹ میں اقلیتوں اور ان کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچانے کے علاوہ شادیوں کے ذریعے اقلیتی لڑکیوں کی تبدیلی مذہب کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے ۔اس میں موضوع سے متعلق امریکی حکومت کے لئے سفارشات بھی پیش کی گئی ہیں جن میں اس حوالے سے پاکستان حکومت سے مل کر کام کرنا بھی شامل ہے۔رپورٹ میں انڈیا سے متعلق عمومی طور پر بات کی گئی ہے جبکہ پاکستان کے حوالے سے رپورٹ میں واقعات کو بنیاد بناتے ہوئے بیان کیا گیا ہے۔

دنیا کے سب سے طاقتور ملک امریکہ کی یہ سرکاری رپورٹ بین الاقوامی سطح پر مذہبی آزادی حاصل ہونے کی ضمانت نہیں دیتی تاہم اس سے عالمی سطح کے ایک اہم موضوع کی اہمیت کا اظہار ضرور ہوتا ہے۔عقیدے، خطے،زبان ،رنگ و نسل ،حتی کہ کسی بھی بنیاد پر انسانوں کو نفرت ،تشدد اور تادیبی کاروائیوں سے محفوظ رکھنا اقوام عالم کا مشترکہ عہد اور ایجنڈا ہے اور عالم انسانیت کے لئے انسانیت کی تقدیس کو یقینی بنانے کے لئے ابھی بہت سا کام کرنا باقی ہے۔ابھی انسانی حقوق کے تحفظ پر حسب استحقاق توجہ نہیں دی جا رہی جس سے دنیا انسانی عدم مساوات سے پیدا ہونے مسائل کے نقصانات سے نبرد آزما ہے۔مذہب،عقیدے کی آزادی انسانی حقوق کا ایک اہم عنصر ہے ۔اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں کا دنیا میں انسانی حقوق پر مشتمل آزادی کے تصورات کو مضبوط سے مضبوط بنانے کے لئے اپنے کردار کو موثر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔طاقتور ملکوں،خطوں اور نسلوں کو قوم،ملک پرستی،خطے کے مفادات،دہشت گردی کی طرح کے مختلف عنوانات میں انسانی حقوق کے بالاتر مقصد کو آلودہ نہیں کرنا چاہئے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Athar Massood Wani

Read More Articles by Athar Massood Wani: 621 Articles with 320915 views »
ATHAR MASSOOD WANI ,S/o KH. ABDUL SAMAD WANI
• 2006 to 2009
Press & Publication Officer
Prime minister Secretariat, Govt. of Azad Jammu & Kashm
.. View More
30 Apr, 2020 Views: 314

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ