میری امی نے ابو کی دوسری شادی کو دل پر لے لیا تھا۔۔۔والدین کے بڑے بچے جنہوں نے باپ کی دوسری شادی کو سہا
|
|
|
گھر میں جب زندگی معمول کے مطابق چل رہی ہو اور پھر اچانک زندگی کا پیرہن
بدل جائے۔۔۔وہ ماں باپ جن کی بنیاد پر گھر کی عمارت کھڑی ہو ، اگر ان میں
ہی بٹوارہ ہوجائے تو پھر گھر کا شیرازہ تو بکھرتا ہی ہے۔۔۔پاکستانی شوبز
انڈسٹری میں ایسے کچھ ستارے ہیں جنہوں نے گھر کے بڑے بچے ہونے کا فرض بھی
نبھایا اور ماں باپ کے درمیان ہونے والے جھگڑوں کو سہا بھی۔۔۔
علی عباس
علی عباس مشہور اداکار وسیم عباس کے سب سے بڑے صاحبزادے ہیں اور ان کے دادا
عنایت حسین بھٹی اپنے وقت کے مشہور میوزک پروڈیوسر اور گلوکار تھے۔۔۔علی
عباس کی زندگی میں سب سے مشکل وقت آیا جب وہ محض تیرہ سال کے تھے اور ان کے
والد وسیم عباس نے دوسری شادی کر لی۔۔۔صبا حمید سے ان کی شادی کا سنتے ہی
علی عباس کی والدہ نے اس بات کو دل پر لے لیا۔۔۔ان کا سب سے بڑا بیٹا علی
بھی ابھی چھوٹا ہی تھا لیکن وہ سنبھل نہیں پارہی تھیں۔۔۔علی سے چھوٹی دو
بہنیں تھیں اور علی کو ان کو بھی سنبھالنا تھا۔۔۔لیکن علی کا کہنا ہے کہ
میں خود بھی نہیں سنبھل پا رہا تھا۔۔۔وہ وقت اب گزر چکا ہے لیکن اگر میں اس
وقت کا سوچوں تو وہ بہت مشکل وقت تھا اور مجھے ایک بڑے بیٹے کی طرح اپنا
کردار نبھانا تھا-
|
|
|
|
سونیا حسین
اداکارہ سونیا حسین کا کہنا ہے کہ ان کے والد نے جب دوسری شادی کی تو وہ اس
وقت بہت کم عمر تھیں اور انہیں نہیں پتہ تھا کہ ان کی امی کیوں بار بار
بیہوش ہو رہی ہیں۔۔۔سونیا کے والد نے بیٹے کے لالچ میں دوسری شادی کی جبکہ
ان کی پہلی بیوی بھی ماں بننے والی تھیں۔۔۔یعنی سونیا حسین کا چھوٹا بھائی
بھی آنے والا تھا۔۔۔سونیا کا کہنا ہے کہ میں آج تک اس لمحہ کی یادوں میں گم
ہوں۔۔۔سب میری امی سے افسوس کر رہے تھے اور مجھے یہ نہیں پتہ تھا کہ ہمارے
ساتھ ہو کیا گیا ہے۔۔۔شاید میں بڑی بیٹی ہو کر بھی اپنی ماں کے دل تک پہنچ
نہیں پا رہی تھی۔۔۔اب سب نارمل ہے لیکن ایک بڑی بیٹی کی حیثیت سے میں آج تک
اس لمحہ میں قید ہوں۔۔۔
|
|
|
|
سجل علی
اداکارہ سجل علی کی حال ہی میں آصف رضا میر کے بڑے صاحبزادے احد سے
شادی ہوئی ہے اوروہ کافی خوش بھی ہیں۔۔۔لیکن سچ تو یہ ہے کہ کہ گھر کی بڑی
بیٹی کی حیثیت سے سجل نے بہت کچھ سہا۔۔۔وہ بھی سہا جو سہنے کی ان کی عمر تک
نا تھی۔۔۔ان کے والد نے ان کی خوبصورت ماں کو چھوڑ کر دوسری شادی کر لی تھی
اور اس شادی کو کرنے کی کوئی وجہ آج تک سجل کی سمجھ میں نہیں آئی۔۔۔سجل نے
گھر کے بڑے بچے کی طرح کام کرنا شروع کیا اور اپنی ماں کو آہستہ آہستہ اس
غم سے نکالنا چاہا۔۔۔لیکن وہ خود اس لمحہ کی قید میں ہیں اور آج تک وہ
تکلیف یاد کر کے سوچتی ہیں کہ کتنا مشکل ہے سب سے بڑا بچہ ہونا۔۔۔
|
|
|
|