فتح مکہ : عفو درگزر کے ذریں اوراق سے مزین باب

(Muhammad Ansar Usmani, Karachi)

10 رمضان المبارک 8 ہجری اسلامی تاریخ کا سنہرا باب ہے۔ آج کی تاریخ میں مکہ کی سرزمین سیرت مقدسہ کی آب و تاب سے چمک اٹھی تھی ۔ آج کے دن سے آٹھ سال پہلے اسی سرزمین سے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو اپنے وطن سے اپنے رفیق غار کے ساتھ رات کے اندھیرے میں مدینہ کی طرف ہجرت کرنا پڑی تھی۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے وطن عزیز کو خیرباد کہہ دیا تھااور مکہ سے نکلتے وقت خدا کے مقدس گھر خانہ کعبہ پر ایک حسرت بھری نگاہ ڈال کر یہ فرماتے ہوئے مدینہ روانہ ہوئے تھے کہ :’’ اے مکہ ! خدا کی قسم ! تو میری نگاہ محبت میں تمام دنیا کے شہروں سے زیادہ پیارا ہے، اگر میری قوم مجھے نہ نکالتی تو میں ہرگز تجھے نہ چھوڑتا۔لیکن آٹھ سال بعد آپ صلی اﷲ علیہ وسلم دس ہزار صحابہ کرام کا ایک عظیم لشکر لے کر انتہائی مسرت کے ساتھ عظیم فاتح کے طور پر نبوی شان و شوکت کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے اور کعبۃ اﷲ کو اپنے سجدوں کے جمال و جلال سے مقدس گھر کی عظمت کو سرفراز فرمایا۔

معاہدہ صلح حدیبیہ میں یہ بات محرر لکھ چکے تھے کہ آئندہ دس برس تک فریقین کے درمیان جنگ نہ ہوگی، پھر کون سا ایسا سبب تھا کہ جس کی وجہ سے صلح نامہ کے فقط دو سال بعد تاجدار دو عالم صلی اﷲ علیہ وسلم کو اہل مکہ کے سامنے ہتھیار اٹھانے کی ضرورت پیش آئی اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم ایک عظیم لشکر کے ساتھ فاتحانہ حیثیت سے مکہ میں داخل ہوئے،اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اس کا سبب کفار مکہ کی ’’ عہد شکنی ‘‘ اور حدیبیہ کے صلح نامہ سے غداری تھی۔ باوجود ابوسفیان کی کوششوں کے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے حلیفوں پر ہونے والے مظالم کے بعد ان کا مکمل ساتھ دیا اور ان کو مشکل کی اس گھڑی میں تنہا نہیں چھوڑا۔ قبیلہ بنی خزاعہ جو صلح حدیبیہ میں آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا حمایتی تھا،ایک عرصہ سے بنی بکر سے جنگ کی حالت میں تھا۔ اسی طرح ایک مدت سے کفار قریش اور دوسرے قبائل عرب کے کفار مسلمانوں سے جنگ کرنے میں اپنا سارا زور صرف کر رہے تھے، لیکن صلح حدیبیہ کی بدولت جب مسلمانوں کی جنگ سے کفار قریش اور دوسرے قبائل کفار کو اطمینان ملا تو قبیلہ بنی بکر نے قبیلہ بنی خزاعہ سے اپنی پرانی عداوت کا انتقام لینا چاہا اور اپنے حلیف کفارِ قریش سے مل کر بالکل اچانک طور پر قبیلہ بنی خزاعہ پر حملہ کردیا ۔ اس حملہ میں کفار قریش کے تمام رؤسا یعنی عکرمہ بن ابی جہل، صفوان بن امیہ و سہیل بن عمرو وغیرہ بڑے بڑے سرداروں نے علانیہ بنی خزاعہ کو قتل کیا،جو کہ بنی خزاعہ سے ہی نہیں بلکہ مسلمانوں سے کیے جانے والے عہد نامے کی کھلی خلاف ورزی تھی۔

بے چارے بنی خزاعہ اس خوفناک ظالمانہ حملہ کی تاب نہ لاسکے اور اپنی جان بچانے کے لئے حرم کعبہ میں پناہ لینے کے لئے بھاگے،بنی بکر کے ظالم جنگجوؤں نے حرم میں تلوار چلانے سے ہاتھ روکا اورنہ حرم الٰہی کا احترام کیا، اس حملے میں بنی بکر کا سردار ’’نوفل ‘‘ اس قدر جوش انتقام میں آپے سے باہر ہو چکا تھا کہ وہ حرم میں بھی بنی خزاعہ کو نہایت بے دردی کے ساتھ قتل کرتا رہا اور چلا چلا کر اپنی قوم کو للکارتا رہا کہ پھر یہ موقع کبھی ہاتھ نہیں آسکتا، چنانچہ ان درندہ صفت خونخوار انسانوں نے حرم الٰہی کے احترام کو بھی خاک میں ملا دیااور حرم کعبہ کی حدود میں نہایت ہی ظالمانہ طور پر بنی خزاعہ کا خون بہایااور کفار قریش نے بھی اس قتل و غارت اور کشت و خون میں خوب خوب حصہ لیا۔اس حملے میں بنی خزاعہ کے 23 آدمی قتل ہوئے اورقریش کا اس حملے میں عملی طور پر حصہ لینا اور بنی خزاعہ کے آدمیوں کو قتل کرنا ثابت کرتا ہے کہ انہوں نے معاہدہ حدیبیہ کو توڑ ڈالا تھا۔گویا یہ حملہ قبیلہ بنی خزاعہ پر نہیں آپ صلی اﷲ علیہ وسلم پر کیا گیا تھا۔اس کے بعد آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں مدد کے لیے قبیلہ بنی خزاعہ کے لوگ آئے تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم بہت غمگین ہوئے اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کو سامان باندھنے کی تلقین فرمائی۔ مدینہ میں جنگ کی تیاریاں شروع ہوچکی تھیں۔

آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اﷲ پاک سے اس جنگ کی پوشیدگی کی دعا بھی فرمائی کہ کسی طور مسلمانوں کے مکہ پر چڑھائی کی خبر کفار قریش تک نہ پہنچ جائے۔ اس حوالے سے صحابہ کو ہمہ وقت مستعد رکھا گیا تھا کہ کوئی جاسوسی کرنے کی کوشش نہ کرے ۔ حضرت حاطب بن ابی بَلتَعَہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جو ایک معزز صحابی تھے، انہوں نے قریش کو ایک خط اس مضمون کا لکھاکہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم جنگ کی تیاریاں کر رہے ہیں، لہٰذا تم لوگ ہوشیار ہو جاؤ، اس خط کو انہوں نے ایک عورت کے ذریعہ مکہ بھیجنے کی کوشش کی، اﷲ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اﷲ علیہ وسلم کو بذریعہ وحی اس خط کا بتایا۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت علی و حضرت زبیر و حضرت مقداد رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کو فوراً اس عورت کے پیچھے روانہ کیا تاکہ اس سے جاسوسی خط برآمد کیا جائے ۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت حاطب بن ابی بَلتَعَہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو بلایا اور فرمایا کہ اے حاطب ! یہ تم نے کیا کیا ؟ انہوں نے عرض کی یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم آپ میرے بارے میں جلدی نہ فرمائیں نہ میں نے اپنا دین بدلا ہے نہ مرتد ہوا ہوں، میرے اس خط کے لکھنے کی وجہ صرف یہ ہے کہ مکہ میں میرے بیوی بچے ہیں اور مکہ میں میرا کوئی رشتہ دار نہیں ہے جو میرے بیوی بچوں کی خبر گیری و نگہداشت کرے ،میرے سوا دوسرے تمام مہاجرین کے عزیز و اقارب مکہ میں موجود ہیں جو ان کے اہل و عیال کی دیکھ بھال کرتے رہتے ہیں، اس لئے میں نے یہ خط لکھ کر قریش پر احسان رکھ دیا،تا کہ میں ان کی ہمدردی حاصل کر لوں اور وہ میرے اہل و عیال کے ساتھ کوئی برا سلوک نہ کریں۔

حضرت حاطب نے روتے ہوئے عرض کی یا رسول اﷲ ! صلی اﷲ علیہ وسلم میرا ایمان ہے کہ اﷲ تعالیٰ ضرور ان کافروں کو شکست دے گا اور میرے اس خط سے کفار کو ہرگز ہرگز کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت حاطب رضی اﷲ عنہ کے اس بیان کو سن کر ان کے عذر کو قبول فرما یا مگر حضرت عمر رضی اﷲ عنہ اس خط کو دیکھ کر اس قدر طیش میں آگئے کہ آپے سے باہر ہو گئے اور عرض کی یا رسول اﷲ! صلی اﷲ علیہ وسلم مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس منافق کی گردن اڑادوں، دوسرے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم بھی غیظ و غضب میں بھر گئے، لیکن رحمت عالم صلی اﷲ علیہ وسلم کی جبینِ رحمت پر اک ذرا شکن بھی نہیں آئی اور آپ نے حضرت عمر رضی اﷲ عنہ سے ارشاد فرمایا کہ اے عمر ! کیا تمہیں خبر نہیں کہ حاطب اہل بدر میں سے ہے اور اﷲ تعالیٰ نے اہل بدر کو مخاطب کرکے فرمادیا ہے کہ:’’ تم جو چاہو کرو، تم سے کوئی مواخذہ نہیں ‘‘۔ یہ سن کر حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کی آنکھیں نم ہو گئیں اور وہ یہ کہہ کر بالکل خاموش ہوگئے کہ :’’ اﷲ اور اس کے رسول کو ہم سب سے زیادہ علم ہے ۔‘‘ اسی موقع پر قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی۔ترجمہ :’’اے ایمان والو ! میرے اور اپنے دشمن کافروں کو دوست نہ بناؤ‘‘۔ اس کے بعد حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اﷲ عنہ کو معاف فرما دیا۔ (بخاریج۲ص۲۱۶ غزوۃ الفتح)

سرزمین عرب پر پہنچنے کے بعدمکہ فتح کرنے ، اپنے سخت دشمنوں کو عام مفافی دینے اور بیت اﷲ شریف کو360 بتوں اور حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہ السلام کی شبیہوں سے پاک کرنے کے بعدآپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے کفر کے شرم سار، اپنی پیشانیوں کو جھکائے ہوئے کفارقریش کے جم غفیر کو دیکھا تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی لرزاں و ترساں مجمع میں اشراف قریش پر نظر پڑی۔یہ وہی لوگ تھے جو آپ کے راستوں کو کانٹوں سے سجاتے ،پتھروں کی بارش کرتے ، اونٹ کی اوجھڑیاں پیٹھ مبارک پہ رکھتے، قتل کی کوششیں کرتے،کئی سالوں تک آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کو اپنی بہتان تراشیوں اور شرمناک گالیوں سے قلب مبارک کو تکلیف دینے والے تھے۔ لیکن یہ تمام مشرکین و ظالمین آج ان لوگوں کے سامنیمجرم بنے کھڑے تھے جنہیں یہ حقیر سمجھتے،ان کی تذلیل کرتے، ان کو غلام بنا کر بیچنے کو فخر سمجھتے تھے۔ سر ورکونین صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان سب باطلین عقیدہ اشخاص کو چھوڑ دیا اور فرمایا:’’آج تم پر کوئی عذاب نہیں ،جاؤ تم سب آزاد ہو‘‘۔ تاریخ انسانی میں اس سے پہلے کسی فاتح کی کتاب ِزندگی میں کوئی ایسا حسین و زریں ورق نہیں ملتا کہ جس میں عفو درگزر کی اس سے بڑی مثال موجود ہو۔آج تک کوئی ایسا فاتح نہیں گزرا کہ جس نے اپنے دشمنوں کے ساتھ ایسا حسن سلوک کیا ہو۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Ansar Usmani

Read More Articles by Muhammad Ansar Usmani: 25 Articles with 7842 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 May, 2020 Views: 218

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ