کرونا وائرس اور اسلامی تعلیمات!

(Syed Noorul Hassan Gillani, )

’’کرونا وائرس ‘‘ ایک ایسا وائرس جس نے تاریخ کے اوراق کو یک دم ہلاکر رکھ دیا ہے ، جہاں اس کا آغاز چین کے شہر ووہان سے ہوا تو دیکھتے ہی دیکھتے طوفان کی طرح پوری دنیا میں پھیل گیا اور آج تباہی کا سبب بنا ہوا ہے ۔ کرونا وائرس کا آغاز تو چین سے ہی ہوا مگر دیکھا جائے تو چین اس وائرس سے کافی حد تک چھٹکارا پاچکا ہے ، جہاں پر حالات معمول پر آرہے ہیں مگر یہاں پر سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر چین اس وائرس سے لڑنے میں کامیاب کیسے ہوگیا؟ حالانکہ ابھی تک اس کا علاج دریافت نہیں ہوا ، اس کا جواب یہ ہے کہ جب چین میں کرونا وائرس کا حملہ ہوا تو ابھی کورونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد چند ایک تھی کہ پوری چینی قوم نے ماسک پہننے کے ساتھ ساتھ تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرنا شروع کر دیں تھیں اگر کہیں کوئی غفلت نظر آتی تھی تو چینی پولیس پوری قوت سے قانون پر عمل کرا رہی تھی ڈاکٹروں نے رضاکارانہ طور پر خود کو کورونا کے مریضوں کے علاج کے لئے پیش کیا پڑوسی ممالک سے سرحدیں بند کر دی گئیں اور ذرائع آمد و رفت محدود کرنے کے ساتھ ساتھ ان راستوں پر حفاظتی انتظامات سخت کر دیے گئے ،ماسک ختم ہو گئے تو ہر شخص نے انفرادی طور پر ماسک کے متبادل کا انتظام کیا اور صرف حکومت کو ذمہ دار ٹھہرانے پر اکتفا نہیں کیا چینی قوم نے بھی حکومت کا بھرپور ساتھ دیا اور اب حالات یہ ہیں کہ جہاں سے کرونا نے جنم لیا اب اس شہر میں ایک بھی کرونا وائرس سے متاثرہ مریض نہ ہونے کے برابرہیں ۔مگر وہی اگر آج دیکھا جائے تو نام نہاد سپرپاور امریکہ آج اس وائرس کے سامنے گٹھنے ٹیک چکا ہے ، اس کے علاوہ اس وائرس نے دنیا کے دوسرے تمام ممالک میں بھی تباہی مچارکھی ہے ، جہاں پر متاثرہ افراد کی تعداد میں بہت تیزی سے اضافہ ہورہا ہے ، اموات کی شرخ کم ہے ، اس وائرس سے بہت لوگ صحت یاب بھی ہورہے ہیں ۔کرونا وائرس ایک موزی مرض جس نے پوری دنیا کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے اور دنیا اﷲ پاک کی مطلق العنانیت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوگئی ہے۔ سپر پاور ملک اور جدید سائنس لیبارٹریز والے ممالک بھی اس ان دیکھے وائرس کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں اور اسی رب کی طرف متوجہ ہیں جو رب صلہ رحمی، ایثار و قربانی اور حقوق العباد کا حکم دیتا ہے۔ وائرس کے ملک میں پنجے گاڑھتے ہی حکومت وقت نے فیصلہ کیا کہ ملک میں لاک ڈاؤن نافذ کیا جائے۔ حکومت وقت کے لئے یہ فیصلہ بہت ہی مشکل تھا کیونکہ ملک میں ایک کثیر آبادی دیہاڈی دار اور متوسط طبقہ کی ہے مگر اسی طبقہ کی خاطر حکومت نے بہت سے پیکجز بھی دیے ۔ وقت کی نزاکت کو مد نظر رکھتے ہوئے ہر شہری کو اپنے تئیں احساس کے جذبہ کو بروئیکار لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ احساس جیسے انسانی جذبہ کے تحت ہر فرد کو اپنے طور پر کوشش کرنا ہوگی تاکہ مشکل کی اس گھڑی میں وباء کے ساتھ ساتھ بھوک اور افلاس کے ساتھ بھی لڑا جا سکے۔اس مشکل کی گھڑی میں متوسط طبقے کو صرف کرونا وائرس کا خطرہ نہیں بلکہ بھوک وافلاس کا بھی خطرہ ہے ۔ اس مرض سے بچنے کے لیئے جہاں احتیاط کی ضرورت ہے وہاں احساس بھی وقت کی ضرورت ہے۔ ہر فرد کا یہ فرض ہے کہ صرف خود کو قرنطینہ نہ کریں بلکہ اردگرد کے ہمسائیوں پر بھی نظر دوڑا لیں ہو سکتا ہے کہ کوئی ہمسائیہ ضرورت مند ہو اور صرف اپنی سفید پوشی اور بھرم کے لیے خاموش ہو۔ آپ کا پہلا حق آپ کے ہمسائیوں کا ہے ان کا احساس کریں اور ان کی مدد اور بھلائی کی بھی کوشش کریں، بے شک آج دنیا کرونا وائرس سے لڑنے کیلئے جن جن احتیاطی تدابیروں کا ذکر کررہی ہے ، اس کا حکم اسلام نے ہمیں 14سو سال پہلے دے دیا تھا اور بے شک اسلام دوسروں کے ساتھ بھلائی کا بھی حکم دیتا ہے ، بس ہمیں اپنے پیارے نبی کے بتائے ہوئے راستے پر چلنا ہے اور ان کی سنت پر عمل کرنا ہے کیونکہ یہ وقت اﷲ کی طرف سے ہمارے لئے آزمائش کا ہے ، اور ہمیں اﷲ کی اس آزمائش پر پورا اترنا ہے۔ اس وقت ملک میں دیہاڑی دار طبقہ سب سے زیادہ مشکلات سے دوچار ہے ان کا احساس کرنا بھی ہمارا فرض ہے۔ حکومت نے جو امدادی پروگرامز شروع کئے ہیں وہ بہتر ہے مگر اس بھلائی میں ہمیں بھی اپنا حصہ ڈالنا چاہیے ،یہ نہایت مناسب ہے اور وقت کی ضرورت ہے،کیونکہ پاکستان میں سفید پوش طبقہ بھی موجود ہے ان کی امداد بھی وقت کی ضرورت ہے،کرونا وائرس اپنی جگہ اور جہاں لاک ڈاؤن ہے کاروبار زندگی معطل ہے ۔وہاں پر حکومت پاکستان متوسط طبقے کی امداد کیلئے پیکجرز دے رہی ہے یہ ٹھیک ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ مخیر حضرات بھی جہاں غرباء سے تعاون کررہے ہیں وہاں پر سفید پوش طبقہ کو بھی یاد رکھیں۔اس وقت کرونا وائرس کے خلاف ڈاکٹرز ، پیرامیڈیکل اسٹاف اور پاک آرمی کے بہادر جوان اپنی جانوں پر کھیل کر فرنٹ لائن پر کھڑے لڑرہے ہیں ہمیں حکومت کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا،کرونا وائرس میں ہلاکتوں کا تناسب دو تین فیصد سے زیادہ نہیں اور اگر ہم پرہیز اور احتیاط کریں اور حکومتی اقدامات کو کامیاب بنانے کیلئے حکام سے تعاون کریں تو یہ شرح مزید کم ہو سکتی ہے۔گھروں میں بیٹھیں‘ بلا ضرورت باہر نہ نکلیں‘ مصافحہ اور معانقہ سے اجتناب کریں۔ ہاتھوں کو اکثر دھوتے رہیں بلکہ وضو کرنے سے پہلے ہاتھ صابن سے دھوئیں۔ اجتماعات میں جانے سے گریز کریں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ استغفار بکثرت کریں انشاء اﷲ ہم اس وباء سے نجات ضرور حاصل کریں گے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Noorul Hassan Gillani

Read More Articles by Syed Noorul Hassan Gillani: 44 Articles with 13741 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 May, 2020 Views: 505

Comments

آپ کی رائے