ایک تحریر وطن کے شہزادے بیٹے لیفٹیننٹ ارسلان ستی شہید کے نام

(Shafaq kazmi, Karachi)

ایک تحریر وطن کے شہزادے بیٹے لیفٹیننٹ ارسلان ستی شہیدکے نام از قلم شفق کاظمی۔۔۔۔۔

ایک تحریر وطن کے شہزادے بیٹے لیفٹیننٹ ارسلان ستی شہید کے نام
از قلم شفق کاظمی۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارسلان عالم ستی وطن کے شہزادوں میں سے ایک شہزادہ تھا۔شہزادے کا تعلق پاک فوج کی سندھ رجمنٹ 29 سے تھا۔ جب کہ وہ پی ایم اے 135 لانگ کورس کے پہلے شہید ہیں ۔۔۔شہزادے کو بچپن سے ہی آرمی کا بے حد شوق تھا.

وطن کا شہزادہ بیٹا جب شہید ہوا تب روزے کی حالت میں تھا۔ارسلان ستی پانچ وقت کا نمازی تھا۔اور ہر وقت وضو میں رہتا اور روز صبح قرآن پاک کی تلاوت کرتا۔

وطن کا یہ نیک بیٹا والدین کا بہت فرمانبردار بیٹا تھا۔۔ہمیشہ ماما بابا کی خدمت کرتا کبھی ان کا سر دباتا کبھی ان کی ٹانگیں دباتا۔

شہزادہ تین بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا۔سب سے بڑی بہن سے بہت ڈرتا تھا۔ایک بار وطن کے شہزادے نے اپنی بہن سے اپنی خواہش ظاہر کی۔آپی میں شہید ہونا چاہتا ہوں۔جس پہ بڑی بہن نے ناراض ہوتے ہوئے کہا۔تمہارے بعد ہمارا کیا ہوگا۔۔ارسلان ستی نے مسکراہتے ہوئے جواب دیا۔اگر میں گھر سے باہر چلا جاؤں اور میرا ایکسیڈنٹ ہوجاۓ تب بھی تو میں مر جاؤں گا۔مرنا تو ہے ایک دن سب نے۔ جو میرا وقت مقرر ہے میں اسی روز مر جاؤں گا۔تو کیوں نہ میں شہید ہوجاؤں۔شہادت جیسا رتبہ مل جائے۔

شہادت سے چند روز قبل ارسلان ستی کے دوست نے ارسلان سے پوچھا کیا کر رہے ہو۔جس کے جواب میں ارسلان نے کہا کچھ نہیں بس آپریشن کی تیاری۔ارسلان کے دوست نے ارسلان کو تنگ کرتے ہوئے کہا۔ تو بھی کر لیتا ہے آپریشن؟ جس کے جواب میں وطن کے شہزادے نے کہا "نہیں جی ہم کہاں " بس شہید ہونے آئےہیں گولی کا انتظار ہے"

وطن کے شہزادے کو شاید پہلے سے ہی معلوم تھا۔پہلے سے ہی اپنے دوستوں کو بتا دیا تھا۔وطن کے شہزادے نے جو کہا وہی ہوا۔۔ ارسلان خیبر ایجنسی کے علاقے راجگال وادی میں سرحد پار دشمن کی گولی سے شہید ہوئے ۔

شہادت سے ایک روز قبل تقریباً رات دس بجے والدہ کو کال کر کے کہا۔۔۔ماما آپ پریشان نہیں ہوں میں بلکل ٹھیک ہوں اور ٹی وی دیکھ رہا ہوں۔جبکہ وطن کا شہزادہ
اس وقت ہمارے آرام و سکوں کی خاطر بارڈر پہ تھا۔۔

ارسلان ستی شہید کے تایا فیاض ستی پاکستان نیوی میں خدمات سر انجام دیتے ہوئے شہید ہوئے تھے۔

بہت مشکل مرحلہ ہوتا ہے جب جوان بیٹے کی میت اٹھانی پڑھتی۔۔۔ارسلان کے والد شمشیر عالم ستی صاحب ارسلان کی شہادت سے دو ماہ بعد دل کا دورہ پڑھنے کی وجہ سے انتقال کر گئے تھے۔۔۔

ارسلان کا چھوٹا بھانجا ارسلان شہزادے کی تصویریں دیکھ کے اکثر کہتا ہے میں بڑا ہوکر ماموں کی طرح فوجی بنو گا۔۔۔۔میں سلام پیش کرتی ہوں ایسے جذبہ کو

جب بھی کوئی جوان شہید ہوتا ہے اس کے ساتھ ساتھ اس کے گھر والوں کی بھی بہت سی قربانیاں ہوتی ہیں۔اللّه پاک ہمارے ہیروز کو اپنے حفظ و آمان میں رکھے اور جو بھی شہید ہوئے ہیں ان کے درجات بلند فرمائے آمین ثم آمین۔۔۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shafaq kazmi

Read More Articles by Shafaq kazmi: 86 Articles with 50848 views »
Follow me on Instagram
Shafaq_Kazmi
Fb page
Shafaq kazmi-The writer
.. View More
06 May, 2020 Views: 741

Comments

آپ کی رائے