انسانی بقاءٰ اور قدرت

(RIAZ HUSSAIN, Chichawatni)
لیکن بعد میں بھول جاتا ہے، ان چھپائے گئے اخروٹ سے پودے بنتے ہیں او ر پھر تناور درخت ہماری غذائی ضروریات کو پورا کرتے ہیں، اسی طرح ایک اورپرندہ ہے جو اپنے معدے میں کم و بیش 100چلغوزے لے جاتا ہے، پھر ان کو مختلف جگہوں پر 10، 10کی تعداد میں زمین میں دفن کردیتا ہے

جب سے انسان پیدا ہوا ہے، نئی منزل کی طرف گامزن ہے۔ اللہ کریم نے انسان کو کس طرح پیدا فرمایا اس کا ذکر قرآن مجید میں فرما دیا، اس کے لیے درست اور غلط کی نشاندہی بھی کر دی، بار بار انسان کو اس کی حقیقت بتائی گئی ہے تاکہ اپنی حیثیت کو سمجھ سکے اللہ کے بنائے ہوئے نظام قدرت میں رہ کر زندگی گزار سکے لیکن باوجود اس کے انسان اپنے آپ کو ہر چیز سے بالا تر سمجھتا ہے، اپنی زندگی میں ایسے ایسے گھناؤنے کردار ادا کر جاتا ہے جس سے معاشرہ پناہ مانگتا ہے، پھر وقت آتا ہے کہ اپنے کیے کی سزا پانے پر اسی رب کائنات سے استغفار کرتا، استغفار کرنا بھی چاہیے اسی میں بقا ء ہے،توبہ کرنا رب کو پسند بھی ہے۔ رب نے انسان کی تخلیق کے ساتھ اس کے ماحول کو صاف ستھرا رکھنے، اس کی زندگی کے معمولات کو بہتر کرنے کے لیے بہت سی چیز روئے زمین پر پیدا فرمائیں۔ مختلف قسم کے پھل، بے بہا قسم کی جڑی بوٹیاں، سایہ دار درخت، چرند پرند، نہ جانے کیاکیا کچھ پیدا کیا، یہ سب اشرف المخلوقات کے لیے پیدا فرمایا۔ اللہ رب العزت ایسی پاک ذات ہے جو اپنے بندے سے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتی ہے۔ لیکن بندہ پھر بھی خود کو دھوکے میں ہی ڈالے ہوئے ہے۔ اللہ کریم نے انسانی ماحول کو یکساں اور خوبصورت رکھنے کے لیے اتنا کچھ پیدا کیا تاکہ میری اشرف المخلوقات اس صاف ستھرے ماحول میں زندگی گزارے،لیکن یہ ایسا ڈھیٹ ہے کہ اپنے ماحول کو خود ہی خراب کرنے پر تلا ہوا ہے۔ درخت لگانے کی بجائے کاٹنا پسند کرتا ہے برعکس اس کے جب تیز دھو پ ہوتی ہے پھر سایہ داردرخت بھی ڈھونڈتا ہے۔ کھیتوں کو آگ لگاتا ہے، ماحول کو خود خراب کرتا ہے، آگ سے وہ کیڑ ے مکوڑے بھی تباہ کر دیتا ہے جو اس کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں۔ پانی کو گندہ کرتا ہے وہ پانی جس کے بغیر زندگی ناممکن ہے۔ اتنی تباہی کے باوجود اللہ کریم کا نظام قدرت بھی عجیب ہے جسے انسان سمجھنے سے قاصر رہا ہے۔ جہاں انسان اپنی تباہی کے لیے ماحول کو خراب اور آلودہ کیے جارہا ہے وہاں رب کائنات نے پھر اپنی دوسری مخلوق سے اپنی اشرف المخلوقات کو صاف ماحول دینے کے لیے کام لیتا ہے، یعنی چرند پرند۔ انسان اپنے لیے ایک بہت عالیشان گھر تو بنا نا جانتا ہے، مہنگی گاڑی تو خرید نا پسند کرتا ہے لیکن اپنے ماحول کو پر فضا بنانے کے لیے عملی طور پر ایک دھیلے کا کام نہیں کرتا، ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والی ذات پاک پھر چرند پرند سے کام لیتی ہے، جو مختلف قسم کے پھل، سبزیایوں کے بیج کھا کر یا منہ میں دبا کر کہیں دور کھیتوں میں کاشت کرنے کا کام سر انجام دیتی ہے، ذکر کرتا چلوں کہ یہ انسان پھر ان جانوروں کو بھی نہیں بخشتا جو اس کے لیے ساز گار ماحول بنا رہے ہیں۔ ان جانوروں اور پرندوں کے شکار کرنے کے شوق میں ان کی نسل کو تباہ کرنے پر بضد ہے، مختلف خوبصورت آوازوں کو ہمیشہ کے لیے دفن کرنا چاہتا ہے، ذرا نظر دوڑا کر دیکھو کتنے پرندے ہمارے گھروں کی منڈیر، صحن میں لگے درخت پر سبز رنگ کے ٹیں ٹیں کرتے طوطے، گھریلو چڑیا، اور دیگر اقسام کے پرندے کہاں دیکھنے کو ملتے ہیں، ان کی میٹھی میٹھی آوازیں کہاں گم ہو گئی ہیں۔ ان سب کی آوازوں کو اپنے کانوں سے بھی اس اشرف المخلوقات نے ہی دور کیا ہے۔ شمالی علاقہ جات کی طرف نکلتے ہیں، جہاں سے پورے پاکستان کو پھل دستیاب ہوتا ہے۔ شمالی علاقہ جات میں گلہری ایک ایسا جانور ہے جو اخروٹ کو مختلف جگہوں پرکھانے کے لیے چھپا دیتا ہے، لیکن بعد میں بھول جاتا ہے، ان چھپائے گئے اخروٹ سے پودے بنتے ہیں او ر پھر تناور درخت ہماری غذائی ضروریات کو پورا کرتے ہیں، اسی طرح ایک اورپرندہ ہے جو اپنے معدے میں کم و بیش 100چلغوزے لے جاتا ہے، پھر ان کو مختلف جگہوں پر 10، 10کی تعداد میں زمین میں دفن کردیتا ہے، اس طرح مختلف مقامات پر چلغوزے کے درخت پیدا ہوتے ہیں، لیکن انسانی بھوک درختوں کو کاٹنے سے گریز نہیں کرتی۔ انسانی درندگی اب اس حدتک پہنچ گئی ہے کہ ہمارے سفیر پرندوں کو بھی شکار کرنے سے باز نہیں آتی، دن بدن چرند پرند کی نسلیں نایاب ہوتی جارہی ہیں۔ جہاں محکمہ وائلڈ لائف کی ذمہ داری ہے وہ خواب خرگوش میں مبتلا ہے، حکومتی سطح پر کوئی ایسا کام نظر نہیں آتاجس سے ان کی نسلوں کو محفوظ بنایا جائے، ہونا تو یہ چاہیے کہ ہم سب مل کر اپنی اپنی حیثیت کے مطابق پرندوں کو پالے یا کھلے کھیت میں ایسا ماحول پیدا کریں جہاں نہ تو شکاری آسکے نہ ہی کوئی دوسرے جانور ان کی نسل کشی کر سکیں، پالیں جائیں اور قدرتی ماحول میں ایک خوبصورت انداز میں اضافہ کیا جائے، ہمیں پھر سے ان خوبصورت پرندوں کی گنگناتی ہوئی آوازیں سننے کو ملیں گی۔ جولوگ شکار کر زیادہ شوق رکھتے ہیں خداراہ پہلے گھروں میں پرندوں کی پرورش کرو پھر جنگل میں چھوڑ کر شکار کر کے دیکھو، جو بچ جائیں گے وہ ماحول میں اضافہ کا سبب بنیں گے اور شکار کرنے کا مزہ بھی دوبالا ہو جائے گا۔ میری تمام احباب سے التماس ہے کہ پلیز شکار کرنا چھوڑ دیں کیونکہ ہمیں نہیں معلوم جس کا نشانہ لے رہے وہ کتنے بچوں کی ماں ہوگی، کتنے بچے خوراک کا انتظار کر رہے ہوں گے، آپ کے شکار سے صرف ایک جانور یا ایک پرندہ نہیں مارا گیا بلکہ اس کے پیچھے مزید اور کتنے مار ے گئے ہیں۔ مجھے امید آپ یہ تحریر پڑھنے کے بعد قدرتی ماحول کو مزید خوبصورت بنانے کے لیے خود سے جانوروں کا خیال رکھتے ہوئے اپنا اپنا کردار ادا کریں گے، انشاء اللہ پھر سے نایاب پرندے ہواوں میں اڑتے، گیت گاتے اور درختوں پر ٹولیوں کی شکل میں ملیں گے۔ شکار کرنا منع نہیں ہے، لیکن دیکھنا یہ بھی ہے کہ یہ قدرتی سفیر، ماحول کو صاف رکھنے والی ضائع نہ ہو جائے۔ شکریہ
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: RIAZ HUSSAIN

Read More Articles by RIAZ HUSSAIN: 117 Articles with 63626 views »
Controller: Joint Forces Public School- Chichawatni. .. View More
05 May, 2020 Views: 249

Comments

آپ کی رائے