خوش قسمتی کیا ہوتی ہے؟

(Ilyas Mohammad Hussain, )

خوش قسمتی کسے کہتے ہیں یا پھر بدقسمتی کیسی ہوتی ہے اس کا مفہوم جاننے سے پہلے یہ قدیم چینی دور کی کہانی پڑھئے شاید آپ کا نقطہ نظر تبدیل ہوجائے۔ کہتے ہیں کسی گاؤں میں ایک بوڑھا اپنے نوجوان بیٹے کے ساتھ رہتا تھا۔ پرانا سا ایک مکان تھا، ایک کمرے میں باپ بیٹا رہتے ، دوسرے کمرے کو اصطبل بنایا ہوا تھا، وہاں ان کا گھوڑا رہتا تھا۔ یہ گھوڑا بڑا شاندار اور نہایت اعلیٰ نسل کا تھا۔ بہت پہلے بوڑھے کسان نے ایک گھوڑے کا بچہ خریدا اسے اس وقت بھی یہ شاندار لگا تھا، اس نے اسے اپنی اولاد کی طرح پالا۔ بڑا ہو کر اس گھوڑے کی خوبصورتی کی دھوم دور دور تک مچ گئی کئی شہروں سے لوگ اسے دیکھنے آتے۔ گاؤں کے رئیس نے اسے دیکھا تو پہلی نظر میں فریفتہ ہو گیا۔ اس نے بوڑھے کو بلا کر منہ مانگی قیمت کی پیش کش کی۔ کسان نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ گھوڑا نہیں ، میرا بیٹا ہے اور اپنی اولاد کو کوئی فروخت نہیں کرتا۔ اور بھی لوگوں نے خریدنے کی کوشش کی ، سب ناکام رہے۔ گاؤں کے کچھ سمجھدار لوگوں نے بوڑھے کو سمجھایا کہ تم غریب آدمی ہو، ایسے اعلیٰ نسل کے گھوڑے کو کتنی دیر تک سنبھال کر رکھ لو گے ، اچھی قیمت مل رہی ہے ، بیچ ڈالو درجنوں چور،ڈاکو بذمعاش دندناتے پھرتے ہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی یہ گھوڑا چرا کر لے جائے۔ ایسے ہر مشورے کے جواب میں وہ بابا جی مسکرا دیتے اور بس، بات ختم ہو جاتی۔

ایک دن بوڑھا کسان اور اس کا بیٹا حسبِ معمول صبح اٹھے تو دیکھا کہ ساتھ والے کمرے کا دروازہ کھلا ہے اور گھوڑا غائب ہے۔ پریشان ہو کر آس پاس دیکھا، مگر کوئی سراغ نہ ملا۔ بستی والوں کو پتہ چلا تو وہ افسوس کرنے آئے۔ جن لوگوں نے گھوڑا بیچنے کا مشورہ دیا تھا، انہوں نے فٹ سے طعنہ دیا کہ تمہیں سمجھایا تو تھا کہ گھوڑا بیچ دو ، تم اس وقت نہیں مانے۔ اب تمہاری بدقسمتی کہ بغیر کچھ لئے گھوڑا گنوا بیٹھے۔ کسان یہ سب باتیں سنتا رہا، پھر بڑے اطمینان سے بولا، بھائیو، تمہاری بڑی مہربانی کہ میرے پاس آئے ، اپنی ہمدردی کا اظہار کیا، مگر مجھے یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ اس میں بدقسمتی کہاں سے آ گئی۔ یہ درست ہے کہ میرے پاس گھوڑا تھا، جو مجھے اپنی اولاد کی طرح عزیز تھا، آج صبح وہ گھوڑا اپنے کمرے سے غائب ہے۔ اس حد تک تو یہ بات درست ہے، مگر اس کے بارے میں ابھی سے یہ کیسے طے کر لیا گیا کہ یہ بدقسمتی ہے؟

گاؤں والے اس کی باتوں پر بڑے حیران ہوئے ، آپس میں کہنے لگے کہ شائد صدمے کی وجہ سے بابے کا دماغ چل گیا ہے ، یہ بدقسمتی نہیں تو اور کیا ہے کہ ہزاروں کی مالیت کا گھوڑا چوری ہو گیا۔ بڑبڑاتے ہوئے سب لوگ واپس چلے گئے۔ دو تین دن بعد اچانک وہ گھوڑا واپس آ گیا، اپنے ساتھ وہ جنگل سے صحت مند، اعلیٰ نسل کے اکیس نوجوان گھوڑے بھی لے آیا ہرگھوڑا اپنی مثال آپ تھا۔ گاؤں بھرمیں دھوم مچ گئی۔ لوگ آ کر بوڑھے کو مبارکبادیں دینے لگے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ہم نے اس روز غلط بات کی تھی، گھوڑے کا چلا جانا بدقسمتی نہیں تھی، اصل میں تو تمہاری خوش قسمتی تھی۔ آج پورے اکیس گھوڑے تمہارے گھر آ گئے وہ بھی اعلیٰ نسل کے واہ بھئی واہ ۔ کسان نے حیرت سے یہ سب تبصرے سنے اور پھر کہا، بھائیو! مجھے ایک بار پھر تمہاری باتوں کی سمجھ نہیں آئی، میرا گھوڑا واپس آ گیا، یہ درست ہے کہ وہ اکیس گھوڑے لے آیا ہے ، مگر اس میں خوش قسمتی کی کیا بات ہے؟ گاؤں والے یہ سن کر اپنا سا منہ لے کر رہ گئے کہہ عجیب سنکی قسم کا بوڑھاہے جو بات کرو اس کا جواب الٹ دیتاہے ابھی اس واقعہ کو چند دن ہی گزرے تھے کہ کسان کا بیٹا ان جنگلی گھوڑوں کو سدھانے کی کوششوں میں مصروف تھا، ایک دن ایک سرکش گھوڑے نے اسے ایسی پٹخنی دی کہ اس کی ٹانگ ہی ٹوٹ گئی۔ طبیب نے دیکھا تو ٹانگ ٹوٹ گئی ہے اس نے مرہم لگائی اور تین مہینوں کے لئے بستر پر آرام کی ہدایت کردی۔

ایک بار پھر گاؤں امنڈ آیا۔ ہر ایک نے بوڑھے کے ساتھ ہمدردی کی۔ چند ایک نے صاف گوئی کے ساتھ اعتراف کیا کہ باباجی آپ ہی ٹھیک تھے ، ان اکیس گھوڑوں کا آنا خوش قسمتی نہیں بلکہ درحقیقت بدقسمتی کا اشارہ تھا۔ آپ کا اکلوتا سہارا ، نوجوان بیٹا زخمی ہو گیا، نجانے اس کی ٹانگ درست طور پر جڑتی بھی ہے یا نہیں ، آپ بوڑھے بندے ہو، تمام کام کاج بیٹا کرتا تھا، اب مشکل ہو گی، آپ کی قسمت خراب ہے کہ ایسا ہو گیا۔ بوڑھے کسان نے یہ سن کر ٹھنڈی سانس بھری اور قدرے جھنجھلاہٹ کے ساتھ کہا ، یارو ہر واقعے میں خوش قسمتی یا بدقسمتی نہ ڈھونڈ لیا کرو، جو بات جتنی ہے ، اتنی ہی بیان کرو، اتنی قطعیت سے کوئی فیصلہ کن رائے نہ دیا کرو، میرا بیٹا گر کر ٹانگ تڑوا بیٹھا، اس حد تک تو تمہاری بات درست ہے ، باقی خوش قسمتی یا بدقسمتی کا حتمی فیصلہ ابھی ہونا باقی ہے ، قدرت ہی اس کے بارے میں بہتر جانتی ہے۔ دو تین ہفتے گزرے ، اچانک ہی جنگ چھڑ گئی، قریبی ملک کی فوج نے حملہ کر دیا۔ بادشاہ نے جبری بھرتی کا حکم دیا۔ ریاستی اہلکار دوسرے دیہات کی طرح اس گاؤں میں بھی آئے اور بوڑھے کسان کے زخمی بیٹے کے سوا ہر نوجوان کو پکڑ کر لے گئے۔ اب پھر گاؤں والے روتے پیٹتے بابے کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ہم تو تمہیں بیوقوف سمجھتے تھے ، تم تو ہم سب سے زیادہ سیانے نکلے۔ واقعی تمہارے بیٹے کا حادثہ بدقسمتی نہیں تھا۔ سچ پوچھو تو تمہاری انتہائی خوش قسمتی تھی، ہم سب کے بیٹے جنگ لڑنے چلے گئے ، معلوم نہیں واپس لوٹتے بھی ہیں یا نہیں ، تمہارا بیٹا تو چلو تین چار ماہ میں ٹھیک ہو جائے گا۔ بوڑھے کسان کے پاس سوائے سر پیٹنے کے کوئی چارہ نہیں تھا، بے چارگی سے اس نے کہا، بھائیو اگر تم لوگ اصل بات کو سمجھ لیتے تو کبھی اتنا پریشان نہیں ہوتے۔

ہم سب بہت جلدی کسی واقعے پر خوش قسمتی ، بدقسمتی کا لیبل لگا دیتے ہیں ، حالانکہ یہ سب تصویر کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہوتے ہیں ، ہم میں سے کسی کے پاس مکمل تصویر نہیں ، تصویر کا ایک ٹکڑا ہی ہوتا ہے۔ اسی ٹکڑے کو ہم مکمل تصویر سمجھ لیتے ہیں۔ ایک ٹکڑا کبھی تصویر کو درست طریقے سے بیان نہیں کر سکتا، اس کے رنگ تک نہیں بتا سکتا۔ ہمیں حتمی رائے دینے کے بجائے انتظار کرنا چاہیے ، جو واقعہ ہوا ہے ، اسے اتنا ہی سمجھنا اور ماننا چاہیے لیکن آخرمیں ایک گذارش ہے کہ اس قدیم چینی کہانی کا موجود حالات سے کوئی تعلق نہیں کسی قسم کی مماثلت محض اتفاق ہوگا آگے آپ خود سمجھ دارہیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ilyas Mohammad Hussain

Read More Articles by Ilyas Mohammad Hussain: 321 Articles with 118126 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 May, 2020 Views: 169

Comments

آپ کی رائے