تین اسپتال۔۔ایک اپیل

(Saghir Qamar, )

 جب سے یہ دنیا وجود میں آئی ہے ،وبائیں آتی رہی ہیں،کبھی کم کبھی زیادہ۔

یہ دنیاہماری ہے ہی نہیں ،اس کے بنانے والے کی ہے۔جس نے اسے بنایا وہ اس کو اپنی مرضی سے ہی اسے چلائے گا۔انسان تو محض ایک بے بس مخلوق ہے۔کرونا کی عالمگیروبا میں جہاں انسان کی بے بسی کھل کر سامنے آئی ہے ،وہاں انسان کی محتاجی اور معذوری مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک ننگا ناچ ناچ رہی ہے۔دنیا کی جدیدتہذیبیں گھٹنوں کے بل آچکی ہیں۔کسے معلوم اس دنیا کے مالک کو کیا منظور ہے۔ایسے موقعے پر رب سے دعا اور ایثار کی اشد ضرورت پہلے سے بڑھ گئی ہے۔انسان برسوں کی تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ اس دنیا میں ایک انسان ساری زندگی دوسروں کی مدد کا اور اﷲ کے احسان کا محتاج ہوتا ہے۔آج کی وبا میں سماجی دوری کے باوجود انسان انسان کی مدد کاطلب گار ہے۔پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں ایثار کے جذبے سے مالامال اصحاب خیر کی کمی نہیں ،دنیا میں ایثار کرنے والوں میں الحمدﷲ پاکستان سب سے آگے ہے۔سماجی کام کرنے والی چھوٹی بڑی سب تنظیموں نے ایسے وقت میں حق خدمت ادا کیا ہے۔ایدھی سے الخدمت اور الخدمت سے اخوت، رحمہ اسلامک ریلیف سے ریڈ فاؤنڈیشن تک سب کے کارکن جان ہتھیلی پر رکھ کر نکل کھڑے ہوئے ہیں۔یہ رب کا خاص کرم ہے،اس کی عطا ہے۔یہ وہ وقت ہے جب اﷲ اپنے بندوں سے ایثار چاہتا ہے۔دوسروں کے شان بشانہ کھڑے ہو کر یہ بات بتانے کا وقت ہے کہ ان ا شاﷲ یہ وقت بہت جلد گزر جائے گا۔ہمارے سکھ ایک ہیں تو دکھ اور آزمائش کی گھڑیوں میں بھی ہم ایک ہیں۔ دوسروں کے دکھ دردکواپنا دکھ دردسمجھنا اور اپنی تکلیف کوبھول کردوسروں کی پریشانی دورکرنے کے لئے بے قرارہوجانا ہی ایثارہے،یہی وقت کا تقاضہ ہے۔۔ حضوراکرمﷺ نے ارشادفرمایا:تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن (کامل) نہیں ہوسکتا جب تک وہ دوسروں کے لئے بھی وہی چیز نہ پسند کرے جو اپنے لئے پسند کرتاہے(متفق علیہ)۔ایثار،اخوت اور آزمائش کی اس گھڑی میں جہاں لوگوں کو خوراک اور علاج کے علاوہ دیگرضروریات کا مسٗلہ ہے وہاں رمضان المبارک میں ایثار کرتے ہوئے ہمیں ایسے اداروں کا بھی خیال رکھنا ہو گا جو برس ہابرس سے انسانیت کی خدمت میں پیش پیش ہیں۔ان اداروں کی کاکردگی آج بھی لائق تحسین ہے،انتہائی مشکل لمحات میں اس کی خدمات قدر کی نگاہ سے دیکھی جا رہی ہیں۔ایسے ادارے ہی اس ملک کا سرمایہ ہیں۔رمضان المبارک میں ہم ہمیشہ اصحاب خیر سے ان اداروں کے لیے اپیل کرتے رہے ہیں۔جن میں راولپنڈی میں قائم الخدمت رازی ہسپتال ،جنوبی پنجاب کے ایک دوردراز دراز دیہات جن پور اور آزاد کشمیر کی سیزفائیرلائین پرکھوئی رٹہ میں واقع رحمہ کے ہسپتال۔

۲۰۰۶سے قائم ہونے والاالخدمت رازی ہسپتال راولپنڈی جڑواں شہروں کے مستحق و نادار میریضوں کے لیے حقیقی معنوں میں ‘‘صحت کا ساتھی’’ ثابت ہوا ہے۔زچہ و بچہ سے متعلقہ طبی مسائل ہوں یا آئی اور جنرل سرجری،لیبارٹری ٹیسٹوں کا معاملہ ہو یا معیاری ادویات کی انتہائی کم نرخوں پرعوام کو سہولیات حاصل ہیں۔ ،2019میں الحمدﷲ رازی ہسپتال راولپنڈی نے دولاکھ اسی ہزار سے زائد افراد کو علاج کی سہولیات فراہم کی ہیں۔ اسی دوران مریضوں کی بڑھتی تعداد اور جگہ کی کمی کے مسائل کو حل کرنے اور مزید افراد تک رازی کی طبی سہولیات کی فراہمی کیلئے52 مرلے پر مشتمل ملحقہ پلاٹ کو 17کروڑ روپے کی لاگت سے خریدکر اس پر ہیلتھ کمپلکس کی تعمیرات کا آغازکیا گیا ہے۔قابل توجہ امر یہ کہ کرونا وائرس کی وبا کے دوران جہاں پبلک اور پرائیویٹ طبی مراکز نے اپنی سہولیات کو محدود کرکے وسائل سے محروم طبقے کے لیے صحت کے مسائل میں مزید اضافہ کردیا ہے وہیں رازی ہسپتال نے اپنی محدود وسائل کے باوجود اپنی طبی سہولیات جاری رکھی ہوئی ہیں۔ ان حالات میں جب تمام مخیر حضرات اور اداروں کی توجہ کا مرکز کرونا کی روک تھام بنا ہوا ہے،رازی ہسپتال کوغریب طبقے کے مفت علاج کی اپنی سہولیات کو جاری رکھنے کے لیے وسائل کی اشد ضرورت ہے۔مسحق مریضوں کو مفت علاج اور آٹھ کروڑ روپے کی لاگت سے رازی ہیلتھ کمپلکس کی تعمیرکے لیے اپنی زکوٰۃ،صدقات سے مدد کیجیے،اس یقین کے ساتھ کہ اﷲ اس مشکل گھڑی میں بھی آپ کو پہلے سے زیادہ عطا کرے گا۔آپ کی جان اور مال میں برکت دے گا۔
رحمہ اسلامک ریلیف کے دو ہسپتال اس وقت فرنٹ لائین پر اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔د س برس سے زائد عرصے میں لاکھوں نادار مریض یہاں سے مفت علاج کرا چکے ہیں۔ دیہات میں قائم ان شاندار ہسپتالوں میں وہ تمام سہولیات حاصل ہیں جو شہروں میں پسماندہ طبقے کو نصیب نہیں ہوتیں۔ان کے تمام اخراجات اصحاب خیر برداشت کرتے رہے ہیں لیکن اس عالمگیر وبا میں ہاتھ پھیلانا قدرے مشکل ہو گیا ہے۔اس لیے یہ تین ہسپتال آپ کی توجہ ،شفقت اورتعاون کے مستحق ہیں۔مشکل ادوار گزر جاتے ہیں ۔،انسان ختم ہو جاتا ہے اﷲ کی راہ میں دیا باقی رہتا ہے۔انسان کا ایک انسان پر یہی حق ہے،ایسا صدقہ جو تا صبح قیامت اجر کا باعث رہتا ہے۔

حضرت سیدنا ابو جہم بن حذیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں :’’غزوہ یرموک کے دن میں اپنے چچا زاد بھائی کو تلاش کر رہا تھا اور میرے پاس ایک بر تن میں پانی تھا۔میرا یہ ارادہ تھا کہ میں زخمیوں کو پانی پلاؤں گا۔اتنی دیر میں مجھے میرے چچا زاد بھائی نظر آئے۔میں ان کی طر ف لپکا، دیکھاتو وہ زخموں سے چوراور خون میں لت پت تھے۔میں نے ان کے چہرے سے خون صاف کیا اور پوچھا : کیا تم پانی پیو گے؟
انہوں نے گردن کے اشارے سے ہاں کی، تو میں نے پانی کا پیالہ ان کی طرف بڑھا دیا۔

ابھی انہوں نے برتن منہ کے قریب ہی کیا تھاکہ اچانک کسی زخمی کے کراہنے کی آواز آئی ، توفورا ًانہوں نے پیالہ میری طرف بڑھایا اور کہا:جاؤپہلے اس زخمی کو پانی پلاؤ۔ میں دوڑ کر وہاں پہنچا تو دیکھا کہ وہ حضرت سیدنا عمر و بن العاص رضی اﷲ تعالی عنہما کے بھائی حضرت سیدنا ہشام بن العاص رضی اﷲ تعالی عنہما تھے۔

میں نے ان سے پوچھا :کیا آپ پانی پینا چاہتے ہیں ؟ انہوں نے اثبات میں سر ہلایا،میں نے ان کو پانی دیا۔اتنے میں ایک اور زخمی کی آوازآئی ، تو انہوں نے بھی فرمایا :کہ جاؤ پہلے میرے اس زخمی بھائی کو پانی پلاؤ۔ میں دوڑ کر وہاں پہنچا تواتنے میں وہ جام شہادت نوش فرما چکے تھے۔میں واپس حضرت سیدنا ہشام بن العاص رضی اﷲ تعالی عنہما کے پا س اآیا تو وہ بھی اپنے خالق حقیقی عزوجل کی بارگاہ میں جا چکے تھے۔ پھر میں اپنے چچا زاد بھائی کے پاس آیا تووہ بھی رب کے پاس جا چکے تھے۔

امام واقدی اور حضرت سیدنا ابن الا عرابی ر حمہمااﷲ تعالی سے مروی ہے۔حضرت سیدنا خالد بن ولید رضی اﷲ تعالی عنہ جب ان کے پاس سے گزرے تو ارشادفرمایا:’’تم جیسے عظیم لوگو ں پر میری جان قربان ہو۔‘‘

حضرت عائشہ ؒ فرماتی ہیں:نبی کریم ﷺ نے تادم حیات کبھی مسلسل تین روز پیٹ بھرکرکھانانہیں کھایا،اگرہم چاہتے توخوب شکم سیر ہوسکتے تھے، لیکن ہم اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دیتے تھے(بیہقی شعب الایمان)۔

یہی وقت ہے اپنے اﷲ کو قرض دینے کا،اس کے بندوں کی پشت پرکھڑے ہونے کا،اپنے لیے اس دنیا میں رہ کر صدقہ جاریہ کا اہتمام کرنے کا،سانسوں ڈوری ٹوٹنے سے قبل اﷲ کا دیا ہوا مال اس کی راہ میں لٹانے کا۔کون جانتا کل کیا ہونے والا،کل سے پہلے اپنا آج سنوار لیجیے۔!!
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Saghir Qamar

Read More Articles by Saghir Qamar: 51 Articles with 21528 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 May, 2020 Views: 233

Comments

آپ کی رائے