ہم اور ہمارا ایمان

(Roshan Khattak, Peshawar)

 بِلا شک و شبہ ہم پاکستانی مسلمان تو ہیں مگر ہمارے طور طریقے ،مسلمانوں والے ہر گز نہیں۔ دنیا بھر کی خرابیاں ہم میں موجود ہیں۔ اخلاقی لحاظ سے بھی ہم پست ترین قوم ہیں ۔ ایسا کیوں ہے ؟ یہ سوال میرے ذہن میں ہمیشہ گردش کرتا آرہا ہے۔ کافی سوچ بچار کے بعد مجھے اس کا جو جواب مِلا ، وہ قارئین کے پیشِ نظر ہے۔ ہم لوگ مسلمانوں کے گھر میں پیدا ہوئے گویا وراثتاٌ اور تقلیدی طور پر ہم مسلمان بن گئے مگر سچی بات یہ ہے کہ ایمان کسی تقلیدی عقیدہ کا نام نہیں بلکہ ایمان ایک زندہ شعور کا نام ہے ۔آدمی جب اﷲ تعالیٰ کو اس کے تمام صفاتِ کمال کے ساتھ مانے اور اس کی تمام باتوں (وحی، آخرت و انبیاء وغیرہ) پر کامل یقین کرکے اس کی تصدیق کرے ۔وہ اﷲ کے فیصلوں پر پوری طرح راضی اور مطمئن ہو جائے تو اسی کا نام ایمان ہے۔

ان چیزوں کو ماننے کی ایک شکل یہ ہے کہ ان کو باپ دادا کی تقلید کے طور پر مانا جائے ،جیسے کہ ہمارے وطنِ عزیز میں اکثریت کا حال ایسے ہی ہے مگر اس قسم کا تقلیدی ایمان وہ ایمان نہیں ہے جو اﷲ تعالیٰ کو مطلوب ہے ۔اس قسم کا ماننا با لکل بے روح قسم کا ماننا ہے۔

ایسا ایمان آدمی کے زندگی میں ایک بے اثر عقیدہ کے طور پر شامل ہوتا ہے آدمی کی زندگی میں اس کا کوئی دخل نہیں ہوتا ۔اس کی زندگی الگ رہتی ہے اور اس کا ایمان الگ۔۔۔حقیقی ایمان ایک قسم کا شعوری سفر ہے ،وہ اس کا نام ہے کہ آدمی نہ دیکھنے والے اﷲ کو دیکھ لے، وہ غیب میں چھپی ہوئی حقیقت کا مشاہدہ کرے ۔اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ایمان ایک دریافت ہے، ایک ڈسکوری ہے ، سب سے بڑی ڈسکوری ۔ جو چیز آدمی کی زندگی میں بطورِ ڈسکوری داخل ہو ، اس کا داخل ہونا محض ایک سادہ چیز کا داخل ہونا نہیں ہوتا ۔وہ ایک انقلاب ہوتا ہے۔وہ ایسا ہوتا ہے جیسے پر سکون زمین پر زلزلہ آجائے یا ٹہرے ہوئے پانی میں طوفان آجائے۔ اس قسم کا ایمان جب کسی کو مِلے تو وہ اس کی سوچ کو بدل دیتا ہے وہ اس کے مزاج کو بدل دیتا ہے ،وہ اس کے روزمرہ سر گرمیوں کے رخ کو پھیر کر ایک طرف سے دوسری طرف کر دیتا ہے ۔اس کے بعد انسان کے اندر ایک نئی شخصیّت ابھرتی ہے ۔اس کے بعد اس کے اندر ایک نیا انسان تخلیق ہوتا ہے اس کے بعد وہ ،وہ انسان نہیں رہتا جو پہلے تھا ۔اپنے قول اور عمل دونوں اعتبار سے وہ ایک نیا انسان بن جاتا ہے۔

اس وقت حکومت معاشیات کی تنگی کا رونا رو رہی ہے بلکہ اس سے قبل بھی حکومتیں معیشت کی زبوں حالی پر نو حہ کناں تھیں۔ یقینا معیشت بھی ایک مسئلہ ضرور ہے مگر اس مسئلہ کی تخلیق بھی ہماری ایمان کی کمزوری اور اخلاقیات کی کمی کی وجہ سے ہے۔ اﷲ کے فضل و کرم سے ہماری پیدائش مسلمان کے گھر اور ایک مسلمان ملک میں ہو ئی ہے مگر پیدا ہونے کے بعد ہماری تربیت ان خطوط پر نہیں ہو رہی ہے جو ایک سچے مسلمان کے لئے ہونا ضروری ہے ۔ انسان کے پیدا ہوتے ہی یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ اس کی بہترین تربیت کا آغاز کیا جائے ۔

چھوٹی عمر میں سکھائی گئی یا پڑھائی گئی باتیں یا عادات انسان کی شخصیت کا مستقل حصہ بن جایا کرتی ہیں ۔اس لئے سب سے پہلے ذمہ داری والدین پر عاید ہو تی ہے۔اس لئے کہا جاتا ہے کہ ماں کی گود بچے کی پہلی درس گاہ ہوتی ہے ۔بچہ اپنے ماں باپ کو دیکھتا ہے ۔اس کی شخصیت میں انہی کا عکس جھلکنے لگتا ہے۔ اگر بچہ اپنے ماں باپ کو پانچ وقت نماز پڑھنے دیکھتا ہے، والدین کی زبانی سیرت النبیﷺ سے متعلق باتیں سنتا ہے ،کائنات کی تخلیق اور اﷲ کی ربو بّیت سے متعلق عام فہم باتیں اس کے گوش گزار ہوتی ہیں تو یقینا بڑا ہو کر وہ ایک اچھا اور با کردار مسلمان بنے گا ۔

گھر کے بعد دوسری جگہ جس سے کسی بچے کو واسطہ پڑتا ہے وہ سکول یا مدرسہ ہوتا ہے ۔ اگر سکول میں بچے کو اسلامی اور اخلاقی تربیت نہیں دی جاتی اور تعلیم برائے روزگار دی جارہی ہو تو ظاہر ہے ۔انسان اچھی ملازمت تو حاصل کر لے گا مگر اس کی ایمان کی پختگی اور ایک اچھا مسلمان اور انسان بننے میں کمی رہ جائیگی ۔وہ اسلامی تعلیمات سے بے بہرہ رہ جائے گا ۔جب کہ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ قران پاک کی تعلیمات اور صاحبِ قران ﷺ کی سیرتِ پاک انسان کی شعوری ایمان کی پختگی اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کا ضامن بنتا ہے۔

اسلام پوری نوعِ انسانی کو دعوتِ فکر دیتا ہے ، یہ دعوت انہیں اس بات کی ترغیب دیتی ہے کہ وہ دین کو وراثت میں منتقل ہونے والی چیز نہ سمجھیں ،اسلام کا تقاضا ’’ شعوری ایمان ‘‘ہے نہ کہ ’’تقلیدی ایمان ‘‘ یعنی ہر شخص خود اپنے عقل کا استعمال کرکے اپنے دلائل سے مطمئن ہو کر اﷲ کے وجود و قدرت و حکمت کا قائل ہو جائے۔ ایسا ہو گا تو یقینا وطنِ عزیز میں ہر طرف خوشحالی اور سکونِ قلب
کی ہوا چلی گی اور موجودہ بیقراری کا خاتمہ ہوگا ۔۔۔۔۔۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: roshan khattak

Read More Articles by roshan khattak: 267 Articles with 155659 views »
I was born in distt Karak KPk village Deli Mela on 05 Apr 1949.Passed Matric from GHS Sabirabad Karak.then passed M A (Urdu) and B.Ed from University.. View More
08 May, 2020 Views: 286

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ