شب قدر کی فضیلت !

(Umar Rahman, kpk Dirbala)

سورة القدرمیں اللہ تعالی ارشادفرماتے ہیں:
ہم نے اس قرآن کوشب قدرمیں نازل کیاـ ـ ـ ـ ـتاآخرسورت
نیز اللہ تعالی نے فرمایا:ہم نے اس قرآن کو بابرکت رات میں اتارا(سورة الدخان)
فائدہ :شب قدراوربابرکت رات،دونوں سےایک ہی رات مرادہے، یعنی قدرکی رات ـ جورمضان کےآخری عشرے کی طاق راتوں میں سےکوئ ایک رات ہوتی ہےـ اسی شب قدرمیں قرآن مجیدکےنزول کاآغازہوایالوح محفوظ سے بیت العزت میں اتاردیاگیاجوپہلے آسمان پرہے اورپھروہاں سے وقتافوقتاحسب ضرورت ومشیت الہی نازل نازل ہوتارہاـ اس نزول قرآن کی وجہ سے اس رات کی فضیلت وعظمت واضح ہے ـ ـ ـ
لیلة القدر یاشب قدراسلامی مہینے رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں(21'23'25'27'29)میں سے ایک رات ہے ـ
جس کے بارے میں قرآن کریم میں سورة القدر کے نام سے ایک سورة بھی نازل ہوئ ہے ـ اس رات میں عبادت کرنے کی فضیلت اورتاکیدآئ ہے ـ قرآن مجید میں اس رات کی عبادت کوہزارمہینوں سے بہترقراردیاگیاہے ـ اس حساب سے اس رات کی عبادت "83"سال اورچارمہینے بنتی ہے ـ
رسول اللہﷺ نے فرمایا، بنی اسرائیل میں ایک شخص تھاجس نے ایک ہزارمہینے تک اللہ کےراستے میں جہادکیا، صحابہؓ کورشک آیاتواللہ تعالی نے اس کے بدلےمیں یہ رات عطافرمائ ـ
بعض روایات میں ہے کہ آپﷺ نے پہلی امتوں کی عمروں کودیکھاکہ بہت زیادہ ہوئ ہیں، اورآپﷺ کی امت کی عمریں کم ہیں، اگروہ نیک اعمال میں ان کی برابری کرناچاہیں توناممکن ہے تواس پر پیغمبرﷺ کورنج ہوا تواللہ تعالی نے اس کے بدلے میں یہ رات عطافرمائ ـ (,معارف القرآن ،جلد"8"صفحہ 791)
وجہ تسمیہ!
لیلة القدر کامعنی قدراورتعظیم والی رات ہے، یعنی ان خصوصیات اورفضیلتوں کی بناپریہ قدروالی رات ہے ، یاپھریہ معنی ہے کہ جوبھی اس رات بیدارہوکرعبادت کرےگا وہ قدروشان والاہوگا،
اس رات کو شرف حاصل ہواہے کیونکہ اس میں قرآن مجیدنازل ہواہے ـ قرآن مجیدکتابوں میں عظمت وشرف والی کتاب ہے ہے ـ اورنبی کریمﷺ پریہ کتاب نازل ہوئ وہ تمام انبیاء ؑ پرعظمت وشرف رکھتے ہیں، اس کتاب کولانے والے جبرئیلؑ بھی سب فرشتوں پرعظمت وشرف رکھتے ہیں، ، تویہ رات لیلة القدر بھی باقی راتوں پر عظمت وشرف رکھتی ہے
علامات!شب قدر کی علامات میں یہ بھی ہے کہ اس میں صبح سورج طلوع ہوتو اس میں تمازت نہیں ہوتی ،
شب قدرمعتدل ہوتی ہے نہ توگرم اورنہنہی سرد ، اس دن صبح سورج کمزور اورسرخ طلوع ہوتاہے ، یعنی تمازت نہیں ہوتی ،
شب قدر روشن رات ہوتی ہے ، نہ توگرم اورنہ ہی سرد ہوتی ہے ،اوراس میں کوئ ستارہ نہیں پھینکاجاتاـ ، یعنی شہاب ثاقب نہیں گرتا(مسنداحمدبن حنبلؒ)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Umar Rahman
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 May, 2020 Views: 265

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ