اپنا سا انداز۔۔۔۔!

(Faraz Tanvir, Lahore)
جب کوئی آپ کی بات کو آپ کے بیان کو سچ نہیں مانتا آپ کو سچا نہیں جانتا تو کیا ہے کہ یہ بات آپ کے لئے پریشانی کا باعث بنتی ہے آپ کو دکھ دیتی ہے آپ کے دل میں غصہ و نفرت کے جذبات پیدا کرتی ہے اور آپ کے سچا ہونے کے باوجود بھی آپ کی شخصیت میں چند منفی خصائص پیدا کرنے کی وجہ بن جاتی ہے جب کہ سچ کا راستہ نیکی اور بھلائی کا راستہ ہے تو پھر کیوں آپ سچ کے باوجود کسی بھی قسم کی برائی کا ارتکاب کر گزریں جبکہ برائی کی طرف لے جانے و الا راستہ تو جھوٹ کا راستہ ہے سچائی کا نہیں سوچئیے تو کیوں۔۔۔؟

وہ اس لئے کہ شاید ہم سچ جیسی خوبی رکھنے کے باوجود دوسروں کے رویے اور باتوں کو صبر سے برداشت کر لینے کا وصف جو کہ موجود تو ہر انسان میں ہے لیکن ہم اس سے وقت پڑنے پر کام نہیں لے پاتے آپ یہ کیوں نہیں سوچتے جو آپ ہیں سو آپ وہ ہیں کسی کے کہہ دینے یا نہ ماننے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا آپ سچے ہیں تو ہیں چاہے کوئی آپ کو جھوٹا ثابت کرنے کی چاہے جتنی کوشش بھی کر لے آپ کے سچا ہونے پر آپ کا دل گواہ ہے آپ کا رب جانتا ہے تو پھر جھگڑا کس بات کا۔۔۔؟ بات تو یہیں ختم ہو جاتی ہے جان لیں کہ صرف ایسا شخص کے جس کا بیان خود مشکوک ہوتا ہے یا جو خود جھوٹ بولتا ہے وہی آپ کے بیان کو شک کی نگاہ سے دیکھے گا اور جو خود سچا ہے وہ یقیناً سچے کی سچائی کو ایک نظر میں بھانپ لینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

چونکہ ہر انسان اپنی ذات کے آئینے میں ہی دوسرے کا پرتو دیکھتا ہے دوسروں کا مشاہدہ کرتا اور دوسروں کی شخصیت متعین کرتا ہے سو جو آپ کو جیسا سمجھتا ہے یا کہتا ہے جان لیں کہ وہ شخص حقیقت میں خود ایسا ہے جیسا کہ وہ آپ کو کہتا یا سمجھتا ہے کہ ہر ایک کو دوسروں میں اپنا عکس اپنا رگ اپنی چھب اور اپنا سا انداز نظر آتا ہے۔

آپ یہ بات جان لیں اور سمجھ لیں تو ہم اپنی زندگی میں ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں سے پیدا ہونے والی رنجشوں اور ناخوشگوار واقعات پر بہت حد تک قابو پا سکتے ہیں۔

چھوٹی چھوٹی باتیں ہی انسانی زندگی کو بڑے بڑے ناخوشگوار واقعات و حادثات سے دوچار کرنے کا سبب بن جاتی ہیں اور بہت سی چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھتے ہوئے ہی انسانی زندگی کو خوشگوار دلکش اور حسین بنایا جاسکتا ہے۔

اللہ تعالٰی سب کو نیکی و بھلائی کی توفیق عنایت فرمائے کہ انسان حسن تدبیر اور اپنے آپ میں موجود فطری خوبیوں اور صلاحیتوں سے کام لیتے ہوئے اپنی اور اپنے سے وابستہ افراد کی زندگیوں کو فائدہ پہنچانے کے قابل بن سکے اپنے اور دوسروں کے جذبات و احساسات کا خیال رکھے خود بھی سکھ چین سے رہے دوسروں کے لئے بھی سکھ چین سے رہنے کا سامان کرنے کے قابل بن کے رہے (آمین)۔
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 599 Print Article Print
About the Author: uzma ahmad

Read More Articles by uzma ahmad: 265 Articles with 240871 views »
Pakistani Muslim
.. View More

Reviews & Comments

اسلام علیکم! محترم جناب ذوالفقار صاحب حوصلہ افزائی پذیرائی اور دعاؤں میں یاد رکھیے گا
اللہ آپ کو ہمیشہ خوش و خرم رکھے آمین
By: Faraz Tanvir, Lahore on Jun, 27 2011
Reply Reply
0 Like
متحرم فراز تنویر صاحب

السلام علیکم

جناب ! آپ نے بہت ہی اہم جانب بڑی خوبصورتی سے توجہ دلوائی ہے۔ جس کے لئے آپ شکریہ کے مستحق ہیں کہ اسطرح کے موضوعات سے ہماری زندگیوں میں بہتری لانے کی کوشش کر تے ہیں۔ اللہ آپ کو زندگی مٰیں بے شمار خوشیاں عطا فرمائے -آمین
By: ZULFIQAR ALI BUKHARI, Bahwalpur on May, 13 2011
Reply Reply
0 Like
Language: