اردو شاعری میں گورو صاحبان کی عظمت

(Jawed Akhtar, )

نام کتاب:اردو شاعری میں گورو صاحبان کی عظمت
مصنف:ڈاکٹر ریحان حسن
صفحات:216 قیمت:300 روپے،سنہ اشاعت:2019،مطبع:آزاد بک ڈپو، ہال بازار، امرتسر
مبصر: خان محمد رضوان
.......................................
اردو زبان مشترکہ تہذیب وثقافت کی نہ صرف ترجمان ہے بلکہ امین بھی ہے- یہی وجہ ہے کہ دیگر ہندستانی زبانوں کی بہ نسبت اردو زبان نہ صرف مقبول ہے بلکہ یہ تمام مذاہب کے لوگوں کے لیے قابل قبول بھی ہے-اردو کی دوسری سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ دنیا بھر میں بولی جانے والی تمام ہی زبانوں کے مقابلے میں اتحاد، یکجہتی،رواداری اور بھائی چارہ کی فضا اس میں خصوصیت کے ساتھ موجود ہے، اسی طرح دنیا کے تمام مذاہب کے بالمقابل مذہب اسلام کی تعلیمات میں انسانی اخوت، ہمدردی، رواداری اور امن و سلامتی کی تعلیمات زیادہ واضح اور نمایاں ہیں، یہی وجہ ہے کہ اسلام کے پیرو کاروں نے دیگر مذہبی پیشواؤں کے بالمقابل قومی اور بین الاقوامی امن و یکجہتی کی تعلیمات کو زیادہ عام کرنے کی مستحسن سعی کی ہے۔

بلا تفریق تمام ہی مذاہب میں کم وبیش انسانی اخوت اور ہمدردی کا درس دیا گیا ہے اسی طرح تمام ہی زبانوں میں چاشنی اور اس کی خوبی پائی جاتی ہے - لیکن اردو واحد زبان ہے جس میں تمام ہی مذاہب کے ادبا وشعرا اور علما نے طبع آزمائی کی ہے۔ ان میں سکھ مذہب کے شعرا اور پیشوا کچھ زیادہ ہی پیش پیش رہے ہیں- اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ اس طبقے کی زبان فارسی زدہ ہے اور ان کے مذہبی پیشواؤں نے ابتدا سے صوفیا اور اولیاء کی تعلیمات کو اپنے لیے مشعل راہ بنایا ہے- یہی وجہ ہے کہ سکھ برادری شروع سے اردو کے قریب رہی اور اس کے ادبا اور شعراء نے اردوزبان وادب کے ارتقا اور فروغ میں کارہاے نمایاں انجام دیے -

کتاب''اردو شاعری میں گورو صاحبان کی عظمت'' کی اشاعت کا مصنف کے پیش نظر اولین مقصد یہ ہے کہ گورو نانک جی کی عظمت کے ساتھ ساتھ نوگورو صاحبان کی عظمت، ان کا پیغام انسانیت و اخوت کو عام کیاجائے اور اردو داں طبقہ میں ان کی اس فکر کو پہنچایا جاسکے- اس کتاب کے شروع میں مصنف نے گورو نانک دیو جی کافرمان، گورو گرنتھ صاحب انگ، 2سے ایک اشلوک یہ بھی نقل کیا ہے-

''سبھناجیاں کااک داتا''(تمام انسانوں کو دینے والا ایک ہی خدا ہے) جس سے ان کا پیغام بالکل واضح ہوجاتا ہے، یہ وہ قیمتی اور گراں قدر درس ہے جس سے گورو صاحب کے فکری رویے کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتاہے-یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر ریحان حسن نے محنت شاقہ اور عرق ریزی کی بدولت اس ناممکن کام کو ممکن بناتے ہوئے تقریبا سینکڑوں ایسے شعراکے کلام کو اس کتاب میں یکجا کردیا جنھوں نے گورو صاحبان کو نذرانۂ عقیدت پیش کرکے قومی یکجہتی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے- اس کتاب کے پہلے باب میں اردو زبان کی پیدائش کا ذکر کرتے ہوئے اردو زبان کے ارتقاء میں گورو صاحبان کی عطا کا خصوصی ذکر بھی کیا ہے۔ اس اہم تصنیفی کارنامے کی تکمیل کے لیے انھوں نے متعدد کتب ورسائل کے زریعہ سکھ مذہب کی تاریخ کا غائر مطالعہ کیاتاکہ اردو شعرا کے کلام کے مفہوم کو موزوں انداز میں پیش کیا جاسکے- ساتھ ہی مصنف نے اہم ماخذ تک رسائی حاصل کرنے اور مواد کی فراہمی کے لئے ملک اور بیرون ملک کی لائبریریوں اور کتب خانوں تک سے معلومات فراہم کیں- اس طرح یہ کتاب گورو صاحبان پر ایک ماخذ کی حیثیت حاصل کرسکی ہے- مجھے اندازہ ہے کہ اردو میں اب تک اس نوعیت کی نہ ہی کوئی کتاب منظر عام پر آسکی ہے اور نہ ہی گورو صاحبان پریک موضوعی اتنی جامع، معلوماتی اور مستند کتاب منظر عام پر آسکی ہے-

''اردو شاعری میں گورو صاحبان کی عظمت'' ڈاکٹر ریحان حسن کی تحقیقی کتاب ہے-تحقیق کا کام اور تحقیقی عمل دونوں جانگسل عمل ہیں،اس طرح کا کام آندھی میں چراغ جلانے یا صحرا میں پھول کھلانے کے مصداق ہوتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ نو آموز بچہ آگ کی لو کو پھول کی پنکھڑی سمجھ کر اسے مس کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر ہوش مند انسان ایسی نادانی نہیں کرتا۔ اگر کوئی آگ کو آگ سمجھ کر بھی اس میں ہاتھ ڈالنے کی کوشش کرے تو اسے اپنے وقت کا ولی یا نادان ہی کہا جاے گا۔ یہی وجہ ہے کہ چالاک اور کم محنتی لوگ ایسے کاموں سے دامن بچا کر نکلنے ہی میں اپنی عافیت سمجھتے ہیں مگر ریحان حسن نے کبھی کوئی ایسا کام نہیں کیا، جسے شارکٹ یا کم محنت والا کام تصور کیا جائے،انھوں نے ہمیشہ عرق ریزی اور جاں فشانی والا کام ہی کیا ہے،یہ کتاب اس کی زندہ مثال ہے۔ اس طرح کے تصنیفی کاموں میں وقت زیادہ صرف ہوتا ہے اور خون جگر بھی زیادہ جلتا ہے مگرجو لوگ زبان وادب میں جینوئین اور آتھینٹک کام کرنے کے عادی ہوتے ہیں وہ سہل پسندی سے گریز کرتے ہیں-ڈاکٹر ریحان حسن انہیں مجاہد قلم میں سے ایک فعال اور متحرک صاحب طرز ادیب ہیں جو محنت سے کبھی جی نہیں چراتے، یہی ان کی کامیابی کی دلیل بھی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس کتاب کے ابواب کا تعارف پیش کروں تاکہ سرسری اندازہ ہوسکے کہ ابواب بندی کی نوعیت کیا ہے اور کن موضوعات کو اس میں جگہ دی گئی ہے-

یہ کتاب کل گیارہ ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلا باب:''اردو اور گورو صاحبان'' کے عنوان سے ہے۔ دوسرا باب:''اردو شاعری میں گورو نانک جی کی عظمت'' کے موضوع سے ہے۔ اس میں 67 اہم لوگوں کے کلام شامل ہیں،جس میں اﷲ یار خان جوگی، برق دہلوی، تلوک چند محروم، جگن ناتھ آزاد،جوش ملسیانی، ساحرہوشیارپوری، شفقت کاظمی، منورلکھنوی، مہدی نظمی، نظیراکبرآبادی، ودیاساگرآنندی وغیرہ خاص ہیں۔ تیسرا باب:''اردو شاعری میں گوروانگ دیوجی کی عظمت'' کے موضوع سے ہے جس میں دوشعرأ ''پنڈیداس قمر اور مہدی نظمی کا کلام ہے۔ چوتھا باب:''اردو شاعری میں گوروامرداس جی کی عظمت''کے موضوع سے ہے۔ پانچواں باب:''اردو شاعری میں گورو رام داس کی عظمت''پر ہے اس میں تین شعرأ کے کلام پر بحث کی گیٔ ہے۔

چھٹاباب:'' اردو شاعری میں گوروار جن دیو جی کی عظمت''کے عنوان سے ہے اس میں د و شعرأ کا کلام جس پر اظہارِ خیال کیا گیاہے۔ ساتواں باب:''اردو شاعری میں گورو ہر گو بند جی کی عظمت'' کے نام سے ہے۔ اس میں تین شعرأ شامل ہیں۔ آٹھواں باب:''اردو شاعری میں گورو ہررائے جی کی عظمت'' سے ہے جس میں دو شاعروں کے کلام ہیں۔ نواں باب:''اردو شاعری میں گورو ہرکشن جی کی عظمت'' کے موضوع سے ہے جس میں دو شعرأ کا کلام ہے۔ ، دسواں باب:''اردو شاعری میں گورو تیغ بہادر جی کی عظمت'' سے متعلق ہے۔ اس میں بھی دوشاعروں کا کلام جمع ہے۔ اسی طرح گیارہواں باب:'' اردو شاعری میں گورو گوبند سنگھ کی عظمت'' کے موضوع سے ہے جس میں کل بائیس شعرأ کو شامل کیا گیا ہے، ان میں اخگر فیروزآبادی،امر چند قیس، برہم ناتھ دت، پرتھوی راج ہوش، پنڈیداس قمر، تیجیندر گلاٹی ادا، صابر ابوہری، کرشن موہن، گیان چندمنصوری، مہدی نظمی اور یعقوب مسیح سلام قابل ذکر ہیں۔
اس توضیح کے بعد یہ اندازہ بحسن خوبی لگایا جاسکتا ہے کہ اس کتاب کی اہمیت اورافادیت کیا ہے۔ساتھ ہی اس کی قدروقیمت کا بھی اندازہ لگایا جاسکتاہے۔

یہ سچ ہے کہ اردو کے شعرا نے جہاں اپنا کلام حضرت محمد مصطفی، حضرت علی کرم اﷲ وجہ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالی اجمعین کی شان لم یزل میں نعت اور منقبت کی شکل میں کہے، وہیں کرشن جی، رام چندر جی اور گورو نانک دیو جی کی عقیدت وعظمت کے اعتراف میں نظمیں بھی کہی ہیں۔ ابوظفر نازش کی ایک خوبصورت نظم''حق آگاہ نانک'' کے عنوان سے گورو جی کی شان میں کہی گیٔ ہے۔ جس کا ایک بند ملاحظہ کریں:
درس یکجہتی سے مردانہ کو بالا کردیا
دم میں یہ دوہستیاں مشہور دوراں ہوگئیں
اور دونوں سے یہ فرمایا سنواے دوستو
کاوشیں اپنی غم عالم کا درماں ہوگئیں
''ہم موحد ہیں ہمارا کیش ہے ترک رسوم
ملتیں جب مٹ گئیں اجزائے ایماں ہوگئیں''

گیان چند منصور نے گورونانک جی کی شخصیت اور ان کے خصائل حسنہ کا ذکر جس استدلالی پیرائے میں کیا ہے وہ قابل ذکر ہے، لکھتے ہیں-

''انسانوں کے درمیان امیر وغریب، ادنی واعلی کاتصور ہر گزجائز نہیں البتہ انسان اپنے کرداراور علم کے سبب تولائق تعظیم وتکریم ہوسکتاہے لیکن بحیثیت انسان تمام انسان برابر ہیں اور یہی گورونانک جی نے بھی انسانوں کودرس دیا-سچ تویہ ہے کہ آپ کی ذات والاصفات جہل کی تاریکی کو ختم کرنے کا سبب تھی-''
اسی طرح سکھوں کے دوسرے گرو گورو شری انگددیو جی ہیں،ان کی شان میں مہدی نظمی نے ایک نظم'' نانک دوئم شری انگددیو''کے عنوان سے کہی ہے جس میں انہوں نے گورو جی کی روحانیت کا گن گان عمدگی سے کیا ہے۔ مہدی نظمی نے انہیں سخی اور داتا کے لفظ سے بھی یاد کیا ہے۔ان کی نطم کے چندشعر ملاحظہ کریں:
بہ سمت فطرت انسان کامل
ترا ہر نقش پا اک رہ نما ہے
مساوات واخوت، صدق وحدت
یہی بھکتی کا سیدھا راستہ ہے
لپی ایجاد کی ہے گورمکھی کی
قیامت تک جو زندہ معجزاہے
ستی کی رسم کوتونے مٹاکر
بڑا احسان عورت پر کیاہے
سخی داتاہے تو، مفلس ہے نظمی
ترے دست عطا کودیکھتا ہے

اسی طرح دیگر گوروں کی عظمت کو شعرانے اپنے کلام میں نظم کیا اور ان کی عظمت کے ترانے گائے ہیں۔ ان گورؤں میں گوروامر داس جی، گورورام داس جی، گوروارجن دیوجی، گوروہرگوبندجی،گوروہررائے جی،گوروہرکشن جی،گوروتیغ بہادرجی اور گورو گوبند سنگھ خاص ہیں۔ اﷲ یار خاں جوگی نے گورو گوبند سنگھ کے قابل فخر کارنامے پر اپنی رائے اس طرح دی ہے:
کرتار کی سوگندھ ہے، نانک کی قسم ہے
جتنی بھی ہو گوبند کی تعریف وہ کم ہے
ہرچند میرے ہاتھ میں پرزورقلم ہے
ست گوروکے لکھوں وصف کہاں تاب قلم ہے

سچ تو یہی ہے کہ گورو گوبند سنگھ جی نے اپنی پوری زندگی ظلم وجبر کے خلاف صرف کی یہی نہیں بلکہ اس راہ میں اپنے چار فرزند ان ارجمند کو بھی لگادیا مگر جیتے جی کبھی باطل کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کیا۔ یہی ان کا پیغام بھی تھا کہ وقت کے ظالم وجابر کے خلاف پوری قوت کے ساتھ لڑا جائے جسے شعرا نے اپنے اپنے طور پر نظم کیاہے-توقع ہے اس کتاب کی جامعیت اور قدر وقیمت کا اندازہ ہوگیا ہوگا-آخیر میں بلا مبالغہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ڈاکٹر ریحان حسن کا یہ ایک خالص تحقیقی اور علمی کارنامہ ہے جو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا- میں انہیں اس قابل قدر اور بیش قیمت تحقیقی تصنیف کے لیے مبارک باد پیش کرتاہوں-
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: JAWED AKHTAR

Read More Articles by JAWED AKHTAR: 7 Articles with 2699 views »
Writer; doing Ph.D. Urdu... View More
16 May, 2020 Views: 278

Comments

آپ کی رائے