ایک دیا اور بجھا اور بڑھی تاریکی

(Rizwan Ullah Peshawari, Peshawar)

نوراﷲ فارانی

آج عالم اسلام کے مایہ ناز محقق ڈائریکٹر اسلامک اکیڈمی مانچسٹر جسٹس(ر)علامہ ڈاکٹر خالد محمود پی ایچ ڈی 96 سال کی عمر میں اس فانی دنیا سے ہمیشہ کے لیے کوچ کرگئے ۔ آپ سیالکوٹ میں 1924ء کو پیدا ہوئے۔ آپ پاکستان کے ممتاز ترین علماء کرام اور مذہبی سکالرز میں بڑے بلند مقام پر فائز تھے ۔آپ کے اساتذہ میں شیخ الاسلام حضرت علامہ شبیر احمد عثمانیؒ،حضرت علامہ ابراھیم بلیاویؒ،مفتی اعظم مفتی محمد شفیع عثمانیؒ،شیخ الحدیث مولانا محمد زکریاؒ،علامہ شمس الحق افغانیؒ ،حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ، علامہ یوسف بنوریؒ ،حضرت مفتی محمد حسن صاحبؒ بانی جامعہ اشرفیہ لاھورسرفہرست ھیں۔جب آپ دارالعلوم دیوبند میں حدیث پڑھ رہے تھے اس وقت حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ جیل میں تھے ۔ آپ نے ایک طویل عرصہ تک مولانا احمد علی لاہوریؒ،حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحبؒ،امیر شریعت سید عطا اﷲ شاہ بخاریؒ،مولانا خیر محمد جالندھریؒ،مولانا غلام غوث ھزارویؒ،مولانا مسیح اﷲ خانؒ جیسے اکابرعلماء اور اساطین علم وادب سے علمی ادبی اور روحانی فیوضات حاصل کئے ۔ آپ نے مختلف اوقات میں مختلف مدارس اور کالجز میں بحیثیت ایک عظیم محقق، استاذالحدیث اور پروفیسر کی حیثیت سے تدریسی و علمی خدمات انجام دیے ۔ ابتداء میں مری کالج سیالکوٹ میں پروفیسر رہے ۔اس کے علاوہ ایم اوکالج لاھور،ڈگری کالج خانیوال میں پروفیسر بھی رہے ۔

تنظیم اہل سنت والجماعت سے وابستہ ہو کر آپ نے تحفظ ناموس صحابہؓ کے لیے بیش بہا خدمات انجام دی۔رد رافضیت کے سلسلہ میں مولاناسید نور الحسن شاہ بخاری،مولانا عبدالستار تونسوی،مولانا اﷲ یار خانؒ،مولانا محمد نافعؒ،مولانااحمد شاہ چوکیرویؒ،مولانا قاضی مظھر حسینؒ،مفتی بشیر احمد پسروریؒ جیسی ہستیوں کے ساتھ کام کرنا پڑا۔ آپ ان مجاہد علماء سے خوب مستفید ہوئے ۔تنظیم کی طرف سے ایک معیاری اور تحقیقی رسالہ ھفت روزہ "دعوت" جاری کیا جس نے آپ کی زیرارادت رفض والحاد کے پرخچے اڑائے اور دفاع صحابہؒ کے محاذ پر بھرپورتعمیری کام کیا۔ اس سلسلہ میں عملی اور مالی مشکلات برداشت کیں اور پاکستان کے شہرشہر اور قریہ قریہ میں عظمت صحابہ رضی اﷲ عنہم کے وہ چراغ روشن کئے جن کی تابانی کی جھلک ھفت روزہ ’’دعوت‘‘ کے صفحات میں ملے گی۔آپ نے تنظیم اہل سنت کے قائد کی حیثیت سے ملک کے طول وعرض میں مقام صحابہؓ کا بھر پور دفاع کیا اور جلسوں، کانفرنسوں، مناظروں، تحریروں اور تقریروں کے ذریعے ہر محاذ پر رفض و الحاد کوللکارا۔ بعد ازاں’’دارالمبلغین ‘‘تنظیم قائم کر کے ایسے مبلغ اور شاگرد تیار کئے جنہوں نے شہرشہر اوربستی بستی عظمت صحابہؓ کے چراغ جلائے ۔

عقیدہ تحفظ ختم نبوت کے لیے تمام عمر سرگرم عمل رہے ۔قادیانیوں کے چوٹی کے مناظرین کو چاروں شانے چت کیا ۔اور ہمیشہ میدان آپ کے ہاتھ رہا۔لاہور سول سکرٹریئٹ کی مسجد میں ایک عرصہ تک خطیب بھی رہے ۔1966ء میں آپ انگلستان تشریف لے گئے ، آپ نے وہاں بھی اصحابؓ رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کے دفاع کا کام جاری رکھا۔ اور باقاعدہ ایک اسلامک اکیڈمی مانچسٹر میں قائم کی،جس کے آپ ڈائریکٹر منتخب ہوئے ،تادم واپسیں اس عہدہ پر فائز رہے ۔سنا ہے آپ کو 1970ء میں جمعیت علمائے اسلام نے لاہور کے حلقہ نمبر چار سے انتخاب کے لیے منتخب تھا…… مقابلے میں شیخ رشید، پی پی پی اور میاں طفیل محمد جماعت اسلامی تھے۔سپریم کورٹ کے شریعہ ایپیلٹ کے جج بھی رہے ۔

آپ نے ایک عظیم محقق اور مبلغ اسلام کی حیثیت سے پورے انگلستان میں عظمت اسلام کی صدائیں بلند کیں اور مرکزاسلامک اکیڈمی مانچسٹر کے ذریعے ختم نبوت صلی اﷲ علیہ وسلم، عظمت صحابہؓ، تبلیغ دین اور اشاعت حق کا فریضہ سرانجام دیا۔حضرت نے دارالعلوم دیوبند اور جامعہ اسلامیہ ڈاھبیل دونوں اداروں سے پڑھا۔جامعہ اشرفیہ لاہور میں بھی پڑھا،جامعہ دارالعلوم حقانیہ میں بھی پڑھا۔جس کا تذکرہ مولانا سمیع الحق شہیدؒ نے اپنی ڈائری میں کیا ہے ۔سند فراغ دارالعلوم دیوبند سے حاصل کی۔ان کے عقیدت مند ہمارے محترم منصور یلدرم صاحب فرماتے ہیں:’’اپنے حوالے سے کوئی تذکرہ کرنا پسند نہیں کرتے تھے ،جب بھی ان سے بات کرو وہ اپنے اکابر کا تذکرہ شروع کر دیتے ،کبھی اپنے منہ سے اپنی تعریف یا اپنے کارنامے بیان نہیں کرتے سنا۔‘‘آپ کی علمی ادبی روحانی تصنیفی تالیفی اور تحقیقی خدمات پون صدی سے زائد عرصہ پر محیط ہیں۔آپ نے جس بے جگری سے باطل نظریات وعقائد کا قلع قمع کیا ہے وہ آپ ہی کا حصہ ہے ۔آپ نے مختلف موضوعات مسائل ، اور عقائد پر بڑے دو ٹوک اور تحقیقی انداز سے قلم اٹھایا ۔اور جس موضوع پر بھی لکھا کمال کا لکھا۔بعض موضوعات پر آپ کی کتابیں آٹھ آٹھ جلدوں تک پھیلی ہوئیں ہیں۔آپ نے بیسیوں تحقیقی کتب تصنیف کیے جو رہتی دنیا تک آپ کا نام تاریخ کے اوراق پر زندہ رکھے گی۔

آپ کی چند اہم کتابوں کے نام یہ ہیں:٭……عبقات 2جلد٭……تجلیات آفتاب2جلد٭……خلفائے راشدین 2جلد٭……معیار صحابیت٭……محرم کی پہلی دس راتیں٭……دوازدہ احادیث٭……عظمت الاصحاب فی بیان ام الکتاب٭……مطالعہ بریلویت 10 جلد٭……آثارالتنزیل 2جلد٭……آثارالحدیث 2جلد٭……آثارالتشریع 2جلد٭……آثارالاحسان 2جلد٭……عقیدۃ الامت فی معنی ختم نبوت(یہ کتاب امیر شریعتؒ کی زندگی میں انکے فرمانے پہ لکھی تھی) ٭……عقیدۃ الامم فی مقامات عیسی ابن مریم٭……عقیدۃ السلام فی الفرق بین الکفر والاسلام٭……مرزاقادیانی شخصیت وکردار ۔اس کے علاوہ بھی کافی ساری کتابیں آپ نے اور مختلف موضوعات پر گراں قدر مقالات سپرد قلم کیے ہیں۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rizwan Ullah Peshawari

Read More Articles by Rizwan Ullah Peshawari: 162 Articles with 107019 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 May, 2020 Views: 299

Comments

آپ کی رائے