آرایس ایس اور مسلم تنظیموں کا تاریخی پس منظر آخری قسط، مجموعی تبصرہ

(Rameez Ahmad Taquee, Karachi)
آج جب کہ آرایس ایس اتحادی جماعتیں حکومت میں ہیں اور اگر انہیں مسلمانوں کے خلاف کوئی قانون یا بل پاس کرانا ہوتا ہے، تو کچھ جماعتوں کو معاشرتی مسائل میں الجھا کر بڑی آسانی سے وہ اپنا مقصد پورا کر لیتی ہیں اور ہم ہمیشہ کی طرح شور شرابہ مچانے کے علاوہ کچھ اور کرنے کے قابل نہیں رہ جاتے؛ کیوں کہ آر ایس ایس کی توروزِ اول ہی سے یہ چال تھی کہ مسلمانوں کو انہی چھوٹے چھوٹے مسائل میں الجھا کر رکھا جائے، چنانچہ کبھی شاہ بانو کیس، تو کبھی یونیفارم سول کوڈ، تو کبھی لے پالک بل، تو کبھی انہدام بابری مسجد۔ غرضے کہ اس نے کبھی ہمیں ان سے اوپر اٹھ کر سوچنے کا موقع ہی نہیں دیا اور ہم بھی شاید اس کی اس چال کو بروقت سمجھ نہیں پائے اور پھر اس کے خلاف صدائے احتجاج کے طور پر جلسوں کا سہارا لیا، جس پر بلا شک و شبہ ہم نے اپنی محنتیں بھی ضائع کیں اور عوام کا اربوں روپیہ بھی،
Rameez Ahmad Taquee, Indiaآک
رمیض احمد تقی، انڈیا

یقیناً ہمارے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ یہ مسلم تنظیمیں آر ایس ایس کی ہم عصر ہونے کے باجود کس طرح اپنے مقاصد سے منحرف ہوتی چلی گئیں؟ اور اس نے کیسے بازی جیت لی! دراصل ہم متحد ہوکر بھی ٹکڑوں میں بکھر گئے اور ہم متحد بھی ہوتے تو کیسے ہوتے، ہم نے تو ایک ہی تنظیم کے دو دو ٹکڑے کر لیے اورپھر ان کے اپنے الگ الگ دودو صدروسیکریٹری بنا لیے، جن کے اپنے الگ الگ افکارو خیالات اور طریقۂ کار ہیں، جبکہ آر ایس ایس کی وہ تمام شاخیں انہی احکام کی تعمیل کرتی ہیں جوان کے صدردفترناگپور سے نافذ ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس ہماری ان تنظیموں کا کبھی کوئی سپریم اور صدر دفتر رہا ہی نہیں، بلکہ وہ سب خود میں ایک آزاد مملکت کی خود مختار ریاستیں ہیں؛ اس لیے ان کے افکار بھی الگ ہیں اور طریقۂ کار بھی جداگانہ، حالانکہ ان سب کا دین بھی ایک ہے، اللہ بھی ایک ہے، رسول بھی ایک ہے اور مقدس کتاب قرآ ن مجید بھی ایک ہے، لیکن پھر بھی ٹکڑوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ قومی یکجہتی، مسلکی خیر سگالی کا دعویٰ تو سبھی کرتے ہیں، لیکن عملی زندگی اس سے بالکل خالی ہے، بلکہ ایک کا وجود دوسرے کو کانٹے کی طرح چبھتا ہے اورجب وہ خود متحد نہیں ہوئے، تو عوام بھی ان الگ الگ قائدین کے ساتھ کیسے متحد ہوسکتے ہیں؟ آج ہمارا مد مقابل آپسی ہزاروں ا ختلافات کے باوجود ہمارے خلاف متحد ہوچکا ہے، مگر بڑے ہی د کھ اور افسوس کی بات ہے کہ مسلم پرسنل لابورڈ، جمعیت علمائے ہند، جماعتِ اسلامی اور جمعیت اہل حدیث وغیرہ دیگر مسلم تنظیمیں اور اداریں اپنے ایک مقصد یعنی اعلائے کلمۃ اللہ اور اقامتِ دین میں متحد ہونے کے باوجود نہ توان کا مقصد ایک رہا اور نہ طریقۂ کار میں وہ کبھی متحد ہوسکے، ورنہ کیا مجال تھی کہ اتنی ساری قدیم تنظیموں کی ساری کوششوں کے باوجود اس ملک کے مسلمان دلت سے بھی بد تر تصور کیے جا تے۔ آرایس ایس نے بھی مختلف جماعتیں اورشاخیں بنائی تاکہ وہ اپنی توجہات کو ہر طرف یکساں مبذول کرسکے اور ہر ایک سے اس کی ذمہ دارویوں کا حساب بھی لے سکے؛ چنانچہ اس کی متحرک ونگوں میں وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل، ویدیا بھارتی، جے وندے ماترم اور ابھینو نامی شاخوں نے پورے ملک میں آر ایس ایس کی تحریک کو کامیاب بنا نے میں جو کارنامے انجام دیے ہیں، وہ اس کے مقصد کے حصول میں انتہا ئی کارآمد ثابت ہوئے ہیں؛خواہ وہ غلط اورانسانیت سوز ہی رہے ہوں۔ نیز اس نے ہر شاخ کو ایک خاص مقصد کے تحت ایک خاص کام پر مامور کردیا ہے، سو اس نے اپنی کسی شاخ کو رفاہی کاموں پر لگا رکھا ہے، تاکہ اس کو عوام کا اعتماد حاصل رہے، تو کچھ کو ہندوتوا ایجنڈے کی تبلیغ پر مامور کردیا ہے، تاکہ اس کی فکروسوچ کے حاملین ملک میں پیدا ہوجائیں۔ اس کے پیچھے یہ وجوہات بھی رہی ہوں گی کہ کسی وقت اگر اس کی کوئی خاص شاخ حکومت کے ہتھے چڑھتی ہے، تو اس کا اثر پوری فکر پر نہ پڑے اور وہ اپنی بقیہ شاخوں کے ساتھ اپنے مشن کو عملی جامہ پہنانے میں ہمہ تن مصروف رہے۔ اس کے برعکس ہم نے جہاں بھی کوئی شاخ یا ذیلی تنظیم قائم کی، اول تو وہ کسی ایک اصول پر قائم نہیں رہ سکی اور ثانیاً اس کی آڑمیں مسلمانوں کے نام نہاد سیکڑوں محافظ اور رہنما کھڑے ہوگئے، جو خود اپنی ذات کی بھی رہنمائی نہیں کرسکتے، چہ جائے کہ وہ مسلمانوں کی قیادت کا بار سنبھال سکیں۔ اس کا دوسرا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ صرف ایک مسئلہ کی خاطر ہم نے اپنی ساری متحدہ قوت کو ضائع کردیا۔ اگر ہم چاہتے اور امت کے تیئیں اخلاص کا مظاہرہ دکھا تے، تو آپس میں کام تقسیم کرلیتے کہ فلاں تنظیم صرف قضیۂ بابری مسجد کو دیکھے، دوسرا مسلم پرسنل لا سے متعلق مسائل کو دیکھے، تو تیسرا جیلوں میں بند بے گناہ مسلم قیدیوں کے لیے رہائی کے اسباب پر غور و خوض کرے وغیرہ وغیرہ ؛ لیکن جب ہمارا کوئی پلان اور ویژ ن ہی نہیں ہے اور ہم امور کی انجام دہی میں متحد بھی نہیں ہیں، تو صرف بابری مسجد کا قضیہ حل کرنے کے لیے جمعیۃ علمائے ہند، آل انڈیامسلم پرسنل لا بورڈ اوردوسری ملی تنظیمیں بہ یک وقت اس پر اپنی پوری محنتیں صرف کررہی ہیں اور امت کا بے انتہا سرمایا بھی۔

یہاں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ آرایس ایس کو ہمیشہ سے ہی حکومت کی سرپرستی حا صل رہی ہے، لیکن اس کے ساتھ ہمیں اس سچائی کو بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ آزادی کے بعد خود انہی حکومتوں نے اس پر تین مرتبہ پابندیاں بھی عائد کی تھیں، لیکن پھر بھی اس کے حوصلے میں کوئی کمی نہیں آئی اور وہ مسلسل ہندو راشٹر کے قیام کی کوششیں کرتے رہے۔ یہ ہماری شومیِ قسمت ہی کہیے کہ ہندوستان وپاکستان میں منقسم ہوکر نہ صرف ہم نے اپنا وقار کھویاہے، بلکہ رہی سہی اپنی طاقت بھی گنوادی اور جس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ہم نے بیسواں، چالیسواں، پچاسواں اور صد سالہ اجتماعات منعقد کیے، وہ بھی لاحاصل رہے، البتہ ان جلسوں اور اجتماعات میں ہم جومنصوبے تیار کرتے تھے، ان سے ہمارامد مقابل ضرور پوری طرح واقف ہوجاتا تھا، اور اس کو ہمارے ہی خلاف استعمال کرتا تھا۔ آج جب وہ حکومت میں ہیں اور انہیں مسلمانوں کے خلاف کوئی قانون یا بل پاس کرانا ہوتا ہے، تو کچھ جماعتوں کو معاشرتی مسائل میں الجھا کر بڑی آسانی سے وہ اپنا مقصد پورا کر لیتے ہیں اور ہم ہمیشہ کی طرح شور شرابہ مچانے کے علاوہ کچھ اور کرنے کے قابل نہیں رہ جاتے؛ کیوں کہ آر ایس ایس کی توروزِ اول ہی سے یہ چال تھی کہ مسلمانوں کو انہی چھوٹے چھوٹے مسائل میں الجھا کر رکھا جائے،چنانچہ کبھی شاہ بانو کیس، تو کبھی یونیفارم سول کوڈ، تو کبھی لے پالک بل، تو کبھی انہدام بابری مسجد۔ غرضے کہ اس نے کبھی ہمیں ان سے اوپر اٹھ کر سوچنے کا موقع ہی نہیں دیا اور ہم بھی شاید اس کی اس چال کو بروقت سمجھ نہیں پائے اور پھر اس کے خلاف صدائے احتجاج کے طور پر جلسوں کا سہارا لیا، جس پر بلا شک و شبہ ہم نے اپنی محنتیں بھی ضائع کیں اور عوام کا اربوں روپیہ بھی، حالانکہ آر ایس ایس نے جس طرح اپنی مختلف ذیلی تنظیموں سے ایک ہی مقصد کا کام لیا، ہر چند کہ وہ سیاسی طور پر بظاہر الگ الگ بکھرے ہوئے نظر آئے، مگراپنے ہدف کو پانے کے لیے ان سبھوں نے مل کر ایڑی چوٹی کا زورلگایا۔ اس طرح آر ایس ایس اپنی ذیلی تنظیموں اور علاقائی شاخوں کی مدد سے پورے ملک میں ہمارے خلاف جال بنا۔ اللہ کے فضل سے ہمارے پاس بھی اس سے پہلے ہی سے مدارس ومکاتب کا سلسلہ رہا ہے، نیزمساجد کا پنج وقتہ نظام اور کام کرنے کے لیے تبلیغی جماعت کا خاموش طریقۂ کار بھی تھا، لیکن ہم نے کبھی اس کی طرف توجہ نہیں دیا اور سارے کام اپنے طریقے سے کیا اور دشمنوں کو اپنی محفل دکھائی، تو اس کے نتائج اور ثمرات بھی آج ہمارے سامنے ہیں !!
ختم شد۔۔۔۔۔۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rameez Ahmad Taquee

Read More Articles by Rameez Ahmad Taquee: 89 Articles with 40474 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 May, 2020 Views: 160

Comments

آپ کی رائے