انڈیا، چین فوجی ٹکراؤ کتنا سنگین؟


انڈیا کی شمال مشرقی ریاست سکم اور اورمرکز کے زیرانتظام علاقے لداخ میں انڈیا اور چین کی سرحد پر حالیہ فوجی جھڑپوں کے بعد دونوں ملکوں نے عارضی لائن کے نزدیک اضافی فوجی تعینات کر دیے ہیں۔

لائن آف ایکچویل کنٹرول ( ایل اے سی ) کی دونوں جانب فوجی نگرانی اور گشت بڑھا دی گئی ہے۔

فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ لداخ میں سرحد کے نزدیک چینی فوج کے ہیلی کاپٹر بھی پرواز کرتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔ ڈیمچوک، دولت بیگ اولڈی، دریائے گلوان اور پینگونگ سو جھیل کے اطراف میں انڈین اور چینی فوج نے اپنی تعیناتی مضبوط کر دی ہے۔

مشرقی لداخ میں پینگونگ سوجھیل کے نزدیک دو ہفتے قبل چینی اور انڈین فوجیوں کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی تھی۔

ذرائع ابلاغ میں فوجی ذرائع سے شائع ہونے والی بعض خبروں کے مطابق اس ٹکراؤ کے بعد چینی فوجیوں نے جھیل کے مشرقی کنارے پر جو ان کے کنٹرول میں ہے، مزید گشتی کشتیاں اتار دی ہیں۔

ان خبروں میں مزید کہا گیا ہے کہ چینی فوجیوں نے نہ صرف گشت بڑھا دی ہے بلکہ ان کا رویہ بھی کافی جارحانہ ہوتا جا رہا ہے۔ جھیل کے مغربی کنارے پر 45 کلومیٹرعلاقے پر انڈیا کا کنٹرول ہے۔ اس خطے میں انڈین گشتی کشتیاں تعینات رہتی ہیں۔

انڈیا اس خطے میں کچھ عرصے سے موٹر گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے ایک سڑک تعمیر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ چینی فوجی اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ جھیل کے شمال میں ایک پہاڑ ہے۔ اس کی ڈھلانوں کو فنگرز کا نام اور نمبر دیا گیا ہے۔ ایل اے سی ان ہی علاقوں سے گزرتی ہے۔

گذشتہ پیر کو بیجنگ میں چین کے سرکاری میڈیا میں کہا گیا کہ 'مغربی سیکٹر کی گلوان وادی میں انڈیا کے ذریعے یکطرفہ اور غیر قانونی تعمیرات کے ذریعے موجودہ صورتحال کو بدلنے کی کوشش کے بعد پیپلزلبریشن آرمی نے اپنا کنٹرول سخت کر دیا ہے۔'
 


گذشتہ چند ہفتوں میں ایل اے سی پر چینی اور انڈین فوجیوں کے ٹکراؤ کے کم ازکم چار واقعات سامنے آئے ہیں۔

وادی گلوان میں پینگونگ سو جھیل کے نزدیک دونوں ملکوں کے فوجیوں کے درمیان 5 مئی کو ہاتھا پائی کے علاوہ لوہے کی راڈ اور ڈنڈوں کا بھی استعمال ہوا تھا۔ اس لڑائی میں دونوں جانب کے فوجی زخمی ہوئے تھے۔

اس واقع کے بعد لداخ سے دو ہزار کلو میٹر دورشمال مشرقی ریاست سکم میں بھی انڈیا چین سرحد پرناکولا خطے میں دونوں ملکوں کے فوجیوں کے درمیان اسی طرح کا ٹکراؤ ہوا ۔ مئی کے وسط میں انڈین بری فوج کے سربراہ جنرل منوج نراؤنے نے کہا تھا کہ لداخ اور سکم کے ان دونوں واقعات کا ایک دوسرے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

انھوں نے کہا تھا 'دونوں جانب سے جارحانہ رویہ اختیار کیا گیا تھا اور دونوں جانب کے فوجی زخمی ہوئے تھے۔'

تجزیہ کار اننت کرشنن کا کہنا ہے کہ گرمیوں کے موسم میں دونوں ملکوں کے فوجیوں کے درمیان آمنے سامنے کے ٹکراؤ کی صورتحال بڑھ جاتی ہے۔ ' جاڑوں کی برف کے بعد موسم گرما میں دونوں جانب کے فوجی ایل اے سی کے اپنے اپنے مفروضوں کی بنیاد پر خطے میں گشت اور نگرانی بڑھا دیتے ہیں۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ سرحدی علاقے میں سڑک، تعمیرات اور فوجیوں کے گشت کے سلسلے میں روایتی طور پر چین کو فوقیت حاصل رہی ہے۔ لیکن پچھلے کچھ سالوں سے انڈیا سرحدی علاقوں میں اپنے بینادی ڈھانچوں کو مضبوط کر رہا ہے جس سے انڈین فوجیوں کی نقل وحرکت اور گشت آسان ہو گئی ہے۔ آئندہ دو برس میں انڈیا اپنے سرحدی علاقوں میں ساڑھے تین ہزار کلو میٹرلمبی 61 عسکری اہمیت کی حامل سڑکیں تعیمر کر چکا ہو گا۔

چین کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج ہے
ماضی میں ایل اے سی پر فوجیوں کے درمیان چھوٹے موٹے اختلافات ہوتے تھے، جو بحث وتکرار تک محدود رہتے تھے لیکن اب چینی فوج کا رویہ پہلے کے مقابلے زیادہ جارحانہ اور سخت ہے۔ انڈیا میں یہ بات اب شدت سے محسوس کی جا رہی ہے کہ انڈیا-چین سرحد کے متنازعہ علاقوں میں چین کا رویہ اپنے علاقائی دعوے کے ضمن میں منظم طریقے سے سخت ہوتا جا رہا ہے۔
 


چین سے انڈیا کے تعلقات میں کورونا کی عالمی وبا کے ابتدائی دنوں میں اس وقت مزید تلخی پیدا ہوئی جب ملک کے ایک سرکردہ بینک کے دس فی صد حصص چین کی ایک کمپنی نے خرید لیے۔

اس واقع کے بعد انڈیا نے ملک میں چین کی سرمایہ کاری روکنے کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری کے قانون میں ترمیم کا ایک آرڈیننس جاری کر دیا۔

روزنامہ ’ہندو` میں ایک مضمون میں سابق سفارتکار گوتم بمبا والے کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ چین کی سرمایہ کاری روکنے کا سرحدی ٹکراؤ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ 'حقیقت یہ ہے کہ دونوں جانب سے ایل اے سی پر جارحانہ گشت ہو رہا ہے۔ اب دونوں جانب بہتر سڑکیں اور سہولیات ہیں۔ اس بات کا بہت زیادہ امکان ہے کہ کہیں نہ کہیں دونوں کو ایک دوسرے کا سامنا ہو گا۔'

انڈیا نے کورونا کی وبا کے دوران یہ قومی مہم چھیڑ رکھی ہے کہ چین سے امریکہ کے تعلقات خراب ہونے کے بعد اب بیشتر کمپنیاں چین سے نکلنا چاہیں گی۔ انڈیا کو اس صورتحال کا فائدہ اٹھا کر سرمایہ کاری کے لیے چین کا متبادل بن جانا چاہیے۔

انڈیا میں حکمراں جماعت کے بہت سے حامی چین کے سامان کا بائیکاٹ کرنے کی بات کرتے ہیں۔ چین میں انڈیا کی ان 'چین مخالف' کوششوں پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔

چین کے اخبار گلوبل ٹائمز نے سرکاری موقف کی ترجمانی کرتے ہوئے لکھا ہے 'معاشی اعتبار سے تباہ کن لاک ڈاؤن کے باوجود انڈیا عالمی صنعتی نظام میں چین کی جگہ لینے کا خواب دیکھ رہا ہے۔ سخت گیر عناصر کا یہ کہنا کہ انڈیا چین کی جگہ لینے کے راستے پر ہے صرف قوم پرستی کے بلند نعرے کا ترجمان ہے اور کچھ نہیں۔' اس میں مزید لکھا ہے 'چین کو پیچھے چھوڑنے کا تصور اقتصادیات سے نکل کر فوجی سطح تک پہنچ چکا ہے۔ کچھ لوگوں کو اب یہ غلط فہمی ہو گئی ہے کہ وہ سرحدی معاملے ‎میں چین کا سامنا کر سکتے ہیں۔ اس طرح کی سوچ بلا شبہ خطرناک اور گمراہ کن ہے۔

بیجنگ یونیورسٹی کے ایک سرکردہ تجزیہ کار کیانگ فینگ نے منگل کو شائع ہونے والے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ کورونا کی عالمی وبا کے دوران چین اور امریکہ کے تعلقات خراب ہو رہے ہیں۔ اس سے انڈیا کے سیاستدانوں میں قیاس آرائی کا رحجان بڑھ گیا ہے۔

سیاستدان، میڈیا اور یہاں تک کہ فوج بھی اس صورتحال میں چین کی جگہ لینے کا ایک بہترین موقع دیکھ رہے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں: ’انڈین فوج بھی سرحدی علاقون میں اپنی طاقت مستحکم کر رہی ہے۔ کورونا کی وبا سے ممکن ہے کہ فوجیوں کی نقل و حرکت، گشت، تعیناتی وغیرہ متاثر ہو لیکن انڈین فوج سرحدی تعلقات کے ضمن میں وہ نامعقول حد تک زیادہ سخت رویہ دکھانے کی کوشش کررہی ہے۔‘
 


کیان فینگ لکھتے ہیں 'اگرانڈیا غیر دوستانہ ماحول کو مزید ہوا دینے کا انتخاب کرتا ہے تو نہ صرف اس سے کورونا کی وبا روکنے میں مشکلات پیدا ہوں گی بلکہ ملک کی معیشت کی بحالی پر بھی اس کا منفی اثر پڑے گا۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ انڈیا نے گزرے ہوئے برسوں کے درمیان انڈیا چین سرحد پر سڑکیں، فضائی پٹیاں ہیلی پیڈ اور ہوائی اڈے تعمیر کر لیے ہیں اور اس وقت بھی تیزی سے کام چل رہا ہے۔

چین کی طرح انڈین فوجی بھی اب سرحدوں پرگشت کر رہے ہیں اور ضروری نوعیت کی تعمیرات بھی جاری ہیں۔ دونوں کا رویہ جارحانہ ہے۔ کسی ایک کے پیچھے ہٹنے کی صورت میں ہی حالیہ کشیدگی میں تبدیلی ممکن ہے۔


Partner Content: BBC URDU

Most Viewed (Last 30 Days | All Time)

Comments

آپ کی رائے
Language: