لمحہ فکریہ

(Saeed ullah Saeed, Karachi)

کرنل کی بیوی


بیس مئی کو تقریباً شام پانچ بجے ہزارہ ایکسپریس وے پر پولیس کی جانب سے روکے جانے کے بعد خود کو کرنل کی بیوی ظاہر کرنے والی خاتون کی جانب سے موقع پر موجود پولیس اہلکاروں اور ان کے انچارج سے کی جانے والی بدتمیزی اور بزور طاقت رکاوٹ توڑ کر وہاں سے نکل جانے کے بعد یہ واقعہ ہر سو موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ اس واقعے کی اہمیت کا اندازہ آپ اس بات سے لگا لیجیے کہ عالمی میڈیا کے لیے بھی اس سے صرف نظر کرنا ممکن نا رہا اور انہوں نے بھی اسے اپنے ہاں نمایاں جگہ دی۔

واقعے کے بعد پاکستان کے سوشل میڈیا صارفین مختلف انداز میں اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اس کے خلاف پوسٹیں شئیر کررہے ہیں۔ اس واقعے سے نا صرف ملک کی بدنامی ہوئی بلکہ عوامی سطح پر لوگوں میں یہ تشویش بھی پھیل گئی ہے کہ اگر ایک لیفٹیننٹ کرنل کی سویلین بیوی بنا کسی اختیار کے صرف اپنے شوہر کے عہدے کی وجہ سے سرعام ایک پولیس آفیسر کی عزت کا تماشہ بناکر قانون کو پیروں تلے روند سکتی ہے تو اس بے اختیار عورت کے با اختیار شوہر کے طاقت اور رعب و دبدبے کا کیا عالم ہوگا؟ عوام کو اب یہ غم بھی کھائی جارہی ہے کہ اگر ایک با اختیار پولیس آفسر اپنے عملے سمیت ایک آرمی آفیسر کی بے عہدہ بیوی کی بدمعاشی کے آگے ہاتھ کھڑے کرسکتے ہیں تو عام آدمی کا کیا حال ہوگا۔؟
ایک اور نکتہ سوشل میڈیا پر یہ بھی اٹھایا جارہا ہے کہ جب آرام دہ گاڑی میں بیٹھی لیفٹننٹ کرنل کی بیوی چند منٹ کا انتظار نا کرسکی اور غصے میں باوردی پولیس اہلکاروں پر چڑھ دوڑی تو ان لوگوں کے اندر اشتعال کیوں نہ پیدا ہو جن کو مختلف چیک پوسٹوں پر چلچلاتی دھوپ میں گھنٹوں کھڑا کیا جاتا ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ اس شر سے خیر کا پہلو برآمد ہوسکتا ہے اگر حکومت ماہرین اور متعلقہ اداروں کے ذمہ داران کو بٹھاکر اس پہلو پر غور کریں۔ اگر ایسا ہوجائے تو اس سے یقیناً وطن عزیز میں جاری شورش میں کمی آسکتی ہے۔

آخری پوائنٹ جس کی وجہ سے میں یہ سطور لکھنے پر مجبور ہوا وہ یہ کہ: واقعے کے بعد جہاں کرنل کی اہلیہ کے خلاف لوگ غم و غصے کا اظہار کررہے ہیں، وہی ان پولیس والے کی خدمت میں سلامِ عقیدت بھی پیش کررہے ہیں۔ کوئی ان کو سیلوٹ مارنے کے لیے بے تاب ہے تو کئی پھولوں کے ٹوکرے ان کی خدمت میں بھیجنے کے لیے بے چین ہیں۔ واقعے کا سرسری جائزہ لینے والوں کے لیے تو ایسا کرنا باعث فخر ہوگا لیکن مجھے تعجب ہے کچھ صاحبانِ علم و بصیرت پر کہ وہ بھی اس پولیس آفسر کو نذرانہ عقیدت پیش کرنے میں پیش پیش ہیں، جو اس بد تہذیبی کا نشانہ بنا۔ اگر چہ میں ان احباب کی خلوص کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس مسئلے پر پولیس سے سوال ہونے چاہیے ناکہ انہیں مظلوم ثابت کرنے کی کوشش۔

آپ ذرا غور فرمائیں کہ اس آرمی آفیسر کی بیوی کی جگہ اگر ایک عام آدمی ہوتا اور وہ پولیس والوں سے اس سے کہیں کم درجے میں بدتمیزی کرتا، تو کیا پولیس فورس کے جوان اور آفیسر ان کے سامنے یونہی منمناتے رہتے؟ کیا آپ نہیں سمجھتے کہ عام آدمی اگر یہ حرکت کرتا۔ تو اب تک وہ سلاخوں کی پیچھے نا ہوتا؟ سوال یہ بھی ہے کہ کن وجوہات کی بنا پر پولیس اس بدتہذیب عورت کو فوری طور قانون کی گرفت میں نا لا سکی؟ موقع پر موجود پولیس والوں کی گرفت سے جب ایک عورت ڈنکے کی چوٹ پر دھمکیاں دیتے ہوئے نکل گئی تو انہیں بقیہ مجبور و لاچار مسافروں کی حالت پر رحم کیوں نا آئی؟ سوال اور بھی بہت ہیں مگر جس ملک میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس والے والا معاملہ ہو تو وہاں ہاتھ ذرا ہولا رکھنے میں ہی عافیت ہے کہ ہر بیوی کا میاں کرنل نہیں ہوتا۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Saeed ullah Saeed

Read More Articles by Saeed ullah Saeed: 109 Articles with 68911 views »
سعیداللہ سعید کا تعلق ضلع بٹگرام کے گاوں سکرگاہ بالا سے ہے۔ موصوف اردو کالم نگار ہے اور پشتو میں شاعری بھی کرتے ہیں۔ مختلف قومی اخبارات اور نیوز ویب س.. View More
21 May, 2020 Views: 626

Comments

آپ کی رائے