فکرِ زماں

(Muhammad Ikrama, Sargodha)

اس مضموں کے عنوان سے آپ جو سمجھ رہے ہیں وہ بلکل درست نہیں، یہ کوئی اخلاقی تعمیر کی کاوش نہیں بلکہ اس تحریر کا مقصود صرف نظریہ علم سے شناسائی ہے.
فکر آخر ہے کیا؟ یہ دراصل ذہن کی مجہول سے معلوم کی جانب حرکت کا نام ہے. یاد رہے کے یہ حرکت ہرگز اس کو مستلزم نہیں کہ فکر کی عین منزل، حقیقت ہی ہو، یہ محظ حقیقت کی جانب، عقل کی ایک کوشش کا نام ہے.
فکر نتیجہ ہے حواس سے حاصل شدہ معلومات و احساسات کا ، حواس سے اخذ کردہ معلومات کو عقل مربوط کرتی ہے، پس تعقل شرط ہے فکر کی. یہ یاد رہے کہ تعقل کسی نظریہ کو ماننے میں رکاوٹ نہیں بنتا بلکے اس نظریہ واسطے Preservative کا کام کرتا ہے. پس بنیادی اقدار و روایات کو اگر عقل پر پیش کیا جائے تو Modern ذہن کوان روایات و عقائد کو تسلیم کرنے میں کوئی دقّت نہ ہوگی.
اسی تعقل کی بنیاد پر متکلّمین وجود میں آے . چونکہ متکلمین کا ہر اسدلال حوااسات پر یقین کو مستلزم ہے چنانچہ صوفیا اس کو قبول نہیں کرتے بلکہ اسکی ضد میں یہ کہتے ہیں کہ استدلال چونکہ عقل کی تخلیق ہے پس ایک تخلیق سے دوسری تخلیق کو سمجھنا یا خالق کو سمجھنا محال ہے. یہ وہی بات ہے جس سے ابن عربی غیر عارف کو بیان کرتے ہیں :
" جس نے حق کا مشاہدہ حق میں ، حق سے بچشم خود (مخلوق) کیا وہ عارف نہیں ".
پس جسنے عقل سے حق کی پہچان کی وہ متکلم تو ہو سکتا ہے مگر صوفیا کا غیر ہے.

زماں یا وقت؛ دو واقعیات کا درمیانی وقفہ ہوتا ہے. زماں بھی کوئی منجمد شے نہیں پس مفعول بدلنے سے اس کے معانی بدل جاتے ہیں.
زمانہ بلحاظ علم تو حقیقی ہے پر وجودی اعتبار سے حقیقی نہیں. جو شے قابل ادراک ہے، زمان اس کا احاطہ کیے ہوے ہے پر جو قابل ادراک نہیں وہ زمان و مکان سے ماورا ہے. جو زمانے سے پرے ہے، وہ قابل ادراک تو نہیں پر تمثیل و تشبیہ ، تاویل و تحریف کی گنجائش موجود ہے جسکا فائدہ مجسّمہ اور معتزلہ اٹھاتے ہیں.
زماں کی تعریف بعض حضرات یوں کرتے ہیں کہ زمانہ وہ حال (Present) ہے جس میں کوئی بھی حدث (فعل یا صفت) ہو. لفظ حدث اگر 'حادثہ' سے ماخوذ ہے تو اسکا مطلب فعل ہوگا لیکن اگر'حدیث' سے ماخوذ ہے تو اسکا مطلب کلام ہو گا جو کہ ایک صفت ہے. ابن تمییہ کا ایک قول قابل غور ہے :
اَلحَوادِث لَا اَوَّلَ لَھَا .
ترجمہ؛ حوادث کی ابتدا نہیں.
اگر اس میں حدث سے مراد صفت لو تو کوئی اعتراض نہیں لیکن اگر فعل لو تو الحاد ہے. اس پر جون پوری صاحب نے خوب لکھا ہے ملاحضہ کریں جونپوری صاحب کی "کتاب التوحید" .
یہ سمجھ لیجئے کہ زمان ضروری ہے؛ شعور میں حقیقت کو لانے کے لئے. حال کے تقاضے پورے نہ ہوں تو شعور غائب کی پہچان نہیں کر سکتا. حال بھی تغیر کا شکار ہے، جو لمحہ گزر گیا وہ گزرے وقت میں حال تھا، جو اب حال ہے وو اگلے لمحے ماضی ہو جایگا ، جو اگلے لمحے حال ہوگا وہ اس لمحہ مستقبل ہے . پس اگر میں کہوں کہ زمانہ حال کے تغیرکا نام ہے تو بلکل درست ہوگا . حال ویسے تو زمانہ کا ایک جز ہے مگر یہ جز کل کے طور پربھی اکثراستعمال ہوتا ہے.
خیر بحث اس سے آگے مزید دقیق ہو جاےگی اسکو یہیں پر سمیٹنا بہتر ہے. امید ہے آپکو کچھ سیکھنے کو ملا ہوگا.

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Ikrama
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 May, 2020 Views: 570

Comments

آپ کی رائے