وبا، بلا، حادثہ اور توبہ!!

(Anwar Graywal, Bahawal Pur)

 کبھی نہیں سوچا تھا کہ جمے جمائے کاروبار ٹھپ ہو جائیں گے اور اچھے بھلے لوگ محتاجی کی حدوں کو چھونے لگیں گے۔ وبائیں تو پہلے بھی آتی رہی ہیں، مگر پورے عالم کا احاطہ کرنے والا عذاب بنی نوع انسان نے کرونا کی صورت میں پہلی مرتبہ دیکھا ہے۔ احتیاط، پرہیز اور علاج ایک طرف، دیکھنے والی بات یہ ہے کہ وبا نے کس طرح ترقی یافتہ اقوام کو بھی بے بس کر کے رکھ دیا ہے۔ لاکھوں لوگ لقمہ اجل تو بن ہی چکے ہیں، معاشی مسائل نے کس قدر لوگوں کو متاثر کیا ہے، اس کا کوئی حد حساب ہی نہیں۔ جان کی بازی ہارنے والوں کے علاوہ بے شمار چھوٹے کاروبار ہیں، جن کا وجود ہی ختم ہو کر رہ گیا ہے، بے شمار لوگ ایسے ہیں جو اپنی بساط سے بہت زیادہ قرضوں کے بوجھ تلے دب رہے ہیں، ابھی وبا جاری ہے، ابھی تو لاک ڈاؤن میں نرمی ہے، نرمی کے بعد اﷲ معاف فرمائے مرض میں گرمی آئے گی، جس پرہیز اور احتیاط کی ضرورت ہے، اس پر ایک فیصد بھی عمل نہیں کیا جارہا، مرض بھی بڑھ رہا ہے، مریض بھی اور مرنے والوں کی تعداد بھی۔ بے احتیاطی بھی اور لاپروائی بھی۔ بعید نہیں کہ عید وغیرہ کے بعد دوبارہ لاک ڈاؤن کی نوبت آجائے اور پہلے سے بھی سخت انداز میں ۔

ٹڈی دَل کا نام تو سن رکھا تھا، مگر ہوتی کیا ہے، اور کرتی کیا ہے؟ یہ اب دیکھا۔ جیسے آسمان پر ہلکے بادل ۔ لاکھوں پروں کی پرواز سے پورے ماحول میں گونج سنائی دیتی ہے، اسے دیکھتے ہی بے ضرر، مجبور، غریب اور بے بس کسانوں کی جان نکل جاتی ہے۔ کیونکہ جہاں یہ ’بادل‘ اتر گیا وہا ں دیکھتے ہی دیکھتے فصل کے تمام پتوں کو چٹ کر گیا۔ جہاں چند منٹ قبل سر سبز فصل لہلہا رہی ہوتی ہے، وہاں کچھ ہی دیر بعد ٹنڈ منڈ شاخیں دکھائی دیتی ہیں۔ اگر معاملے کو معمول کے مطابق دیکھا جائے تو کسان کی فصل ایک ترتیب سے سفر کرتی ہے، زمین کی تیاری، بیج کی کاشت، آبیاری، دیکھ بھال ۔ کسان کے لئے سب سے خوبصورت منظر وہ ہوتا ہے جب اس کی فصل زمین سے سراٹھا کر ہر طرف سبزہ پھیلا دیتی ہے، اور دوسری بڑی خوشی اس وقت ہوتی ہے جب فصل پک کر تیار ہوتی ہے۔ اس دوران کوئی معمولی مسائل کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے، کوئی بیماری لگ گئی، کوئی کھاد وغیرہ کی کمی بیشی ہوگئی، مگر یہ کم ہی ہوتا ہے کہ فصل تیار ہو اور وہ صبح جا کر دیکھے تو وہاں سبزہ نام کی کوئی چیز بھی نہ ہو۔

اﷲ تعالیٰ نے قرآن پاک میں متعدد مقامات پر ایسی ہی صورت حال کا نقشہ کھینجا ہے، کہ بہترین ماحول میں فصل تیار ہوتی ہے، اور اس کا مالک اس گھمنڈ میں ہوتا ہے کہ سب اس کی محنت اور قسمت کی پیداوار ہے، اس میں اﷲ تعالیٰ کی مدد اور طاقت کو بھول جاتاہے، نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اگلے روز جب وہ اپنے باغات اور کھیتی میں جاتا ہے، تو پورے منظر کو اجاڑ اور ویران پاتا ہے۔ کسان کا تو سال بھر کا سرمایہ فصل ہی ہوتی ہے۔ مگر اس کی بے بسی دیدنی ہوتی ہے جب اس کے سامنے لاکھوں کی تعداد میں ٹڈیاں زبردستی اس کی فصل پر اتر کر اسے چٹ پٹ کر جاتی ہیں۔ وہ ٹین بجاتا ، شور مچاتا رہ جاتا ہے، اس کے بیوی بچے بھی اس کے ساتھ ہو لیتے ہیں، مگر تمام تر کوششوں کے باوجود وہ اپنی فصل بچانے میں کامیاب نہیں ہو پاتا۔

بے بسیوں اور بے چارگیوں کے اس عالم میں عین عید کے موقع پر پی آئی اے کا طیارہ عین اس وقت کریش ہوگیا جب رن وے سامنے دکھائی دے رہا تھا۔ ساحل پر آکر کشتی ڈوبنے کا محاورہ سنتے آئے تھے، مگر منزل پر پہنچ کر طیارہ گرتے دیکھ بھی لیا۔ قادرِ مطلق کی حکمت ملاحظہ کیجئے کہ جہاز میں بیٹھے لوگوں میں سے بھی کسی کو بچا سکتا ہے، اور گھر میں بیٹھے لوگوں پر طیارہ گرا کر بھی کسی کی جان لے سکتا ہے۔ جمعۃ الوداع سے فارغ ہو کر لوگ ابھی گھروں میں آرام کر ہی رہے تھے کہ ان کے اوپر بم کی مانند طیارہ آن گرا، کس کے خواب خیال میں یہ منظر ہوگا؟ ابھی تو کہانیاں برآمد ہوں گی، لندن سے آنے والی ایک فیملی کی کہانی ، کہ وہاں لاک ڈاؤن کی وجہ سے انہیں پاکستان آنے میں بہت تاخیر ہو گئی تھی، پھر کراچی کی فلائیٹ میسر نہیں تھی لاہور سے آنا پڑا، کیونکہ ان کا وقت اور مقام وہی لکھا جا چکا تھا۔ پھر اس ائیر ہوسٹس کی ڈیوٹی کی بات کہ عین موقع پر اس کا نام فہرست سے تبدیل ہوگیا ۔

وبا، بے روز گاری، بھوک، ٹڈی دل کے حملے اور عید کے موقع پر طیارہ کا دل خراش حادثہ، کیا ہمارے لئے یہ تمام معاملات کسی عذاب کی مانند نہیں؟ کیا ہم تمام لوگوں نے ان وباؤں اور سزاؤں کو مدنظر رکھ کر توبہ کر نے کی کوشش کی ہے؟ کیا رمضان المبارک کی صورت میں توبہ کرنے کا ایک سنہری موقع ہمارے ہاتھ سے نکل نہیں گیا؟ توبہ تو ہم لوگوں نے خوب کی ہے، سوشل میڈیا پربھی ایک دوسرے کو بہت سی دعائیں اور وظیفے بتائے ہیں، مگر شاید یہ سب کچھ زبانی جمع خرچ ہے، توبہ کی ہے مگر وہ زبان تک ہی محدود ہے، دل سے نہیں ہوئی، زبانی توبہ کے باوجودعمل کی نوبت نہیں آئی، اپنے معاشرے میں کرپشن سمیت تمام برائیاں جوں کی توں موجود ہیں۔ یہ وبائیں، یہ عذاب، یہ حادثے ہمیں پکار پکار کر بتا رہے ہیں کہ اوپر کوئی ہے، جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے۔ مگر کیا کیجئے کہ ہم توبہ کرتے ہیں مگر اپنے معاملات کو توبہ کے سانچے میں ڈھالنے کے لئے تیار نہیں ،یا اس کی توفیق نہیں ملتی۔ قادرِ مطلق ہمیں معاف فرما اور عمل کی توفیق عطا فرما، ان بلاؤں ، وباؤں اور حادثوں سے ہمیں نجات عطا فرما! آمین۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: muhammad anwar graywal

Read More Articles by muhammad anwar graywal: 598 Articles with 248816 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 May, 2020 Views: 179

Comments

آپ کی رائے