موسم گرما کی سبزیوں کے ضرر رساں کیڑے ، نقصان اور انسداد

(Sajjad Ali Shakir, Lahore)

 تحریر: گلزار احمد اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایگریکلچر

سبزیاں انسانی خوراک کا اہم جزو ہیں ۔جد ید تحقیق کے مطابق خوراک میں سبزیوں کا استعمال بہت ضروری ہے کیونکہ ان میں حیاتین ، معدنیات اور ریشے وافر مقدار میں پائے جا تے ہیں۔ سبزیاں بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت پید ا کرنے کے ساتھ ساتھ ز ہریلے اور فاسد مادوں کے اخراج کا سبب بھی بنتی ہیں۔ یہ غذا کو متوازن کر کے ا نسانی صحت کو برقرار رکھتی ہیں لہذا سبزیوں کی پیداوار بڑھانے پر خاص توجہ دینی چاہیے ۔ پاکستان کی آب و ہوا اور موسم سبزیوں کی کاشت کے لیے موزوں ہیں۔ اس لیے مختلف اقسام کی سبزیاں سال بھر ملک کے کسی نہ کسی حصے میں کاشت ہوتی ہے۔ موسم گرما میں کاشت کی جانے والی سبزیوں میں کھیرا ، تر، خربوزہ ، تر بوز، گھیا توری، حلوہ کدو، ٹینڈا، پیٹھا کدو ، کریلہ، کدو ، بھنڈی ، بینگن، ٹماٹر و غیرہ شامل ہیں موسم گرما کی سبزیات پر حملہ آور ہونے والے ضرر رساں کیڑے اور ان کا انسداد درج ذیل ہے۔ ۱۔ چور کیڑا (Cut worm) : یہ کیڑا تقریباً تما م سبزیوں پر حملہ آور ہوتا ہے۔ جن میں خاص طور پر ٹماٹر ،آ لو، مرچ، بھنڈی توری اور دیگر بیلدار سبزیا ں شامل ہیں۔ اس کی سنڈی رات کے وقت ننھے پودوں اور ٹہنیوں کو کاٹ کر نقصان پہنچاتی ہے اور دن کے وقت زمین میں چھپ جاتی ہے۔ یہ سنڈی کھاتی کم اور نقصان زیادہ کرتی ہے۔ چور کیڑے کی سنڈی کا حملہ مئی تک زیادہ ہوتا ہے۔ ۲۔ کدو کی لا ل بھونڈی (Red Pumpkin Beetle) )اس کے میزبان پودوں میں کدو، چپن کدو ، گھیا توری، ٹینڈا ، خربوزہ ، تربوز ، تر اور کریلا شامل ہیں۔ بالغ بھونڈی, لمبوتری ، سخت چمکیلے نارنجی سرخ رنگ کے پروں والی ہوتی ہے۔ اس کا نچلا حصہ کالے رنگ کا ہوتاہے۔مادہ جڑوں کے قریب نمدار زمین میں ایک ایک کر کے یا ڈھیر کی شکل میں تقریبا ً ۳۰۰ انڈے دیتی ہے۔ انڈے نارنجی رنگ کے ہوتے ہیں ۔ اس کی سنڈی کا جسم خاکی اور سر بھورے رنگ کا ہوتا ہے۔ اپریل سے ستمبر تک اس کی نسل چلتی ر ہتی ہے اور اگست میں یہ کثرت سے ملتی ہے۔ سنڈیاں ابتدا میں پتوں کو کاٹ کر کھاتی ہیں ۔ بعد میں تنوں اور جڑوں میں سوراخ کر کے اندر داخل ہو جاتی ہیں جس سے پودے سوکھ جاتے ہیں جبکہ بالغ بھونڈیاں صرف پتوں کو کاٹ کر کھاتی ہیں۔ حملہ شدہ پودے بار آوری کی ابتدائی مدت میں سوکھنا شروع ہو جاتے ہیں۔ ۳۔چتکبری سنڈ ی (Spotted ballworm) یہ زیادہ تر بھنڈی پر حملہ آور ہوتی ہے۔ اس سنڈی کا پروانہ چھوٹا ہوتاہے۔ جس کا سر ، دھڑ اور اگلے پر سبز رنگ کے ہوتے ہیں۔ اس کی سنڈیاں دھبے دار ہوتی ہیں جو شگوفوں ، ڈوڈیوں اور پھل کے اندر سوراخ کر کے نقصان پہنچاتی ہیں۔ حملہ شدہ شگوفے مرجھاکر سوکھ جاتے ہیں اور حملہ شدہ پتے جالی نما ہو جاتے ہیں جس سے پتوں میں خو راک بنانے کاعمل رک جاتا ہے اور حملہ شدہ پھل استعمال کے قابل نہیں رہتا۔ ۴۔ چست تیلا(Jassid) :یہ ٹماٹر ، بینگن ، بھنڈی توری ، مرچ، خر بوزہ اور لوبیا پرحملہ کرتا ہے۔ بچہ اور جوان دونوں پتوں کی نچلی سطح پر حملہ کر کے رس چوستے ہیں ۔ جس سے فصل پیلی ہوجاتی ہے ۔ فصل کے پتے الی جم جانے سے سیاہ ہوجاتے ہیں اور حملہ شد ہ پتے اوپرکی جانب مڑ کر کپ کی شکل بناتے ہیں جو بعد میں خشک ہوکر گرنا شروع ہوجاتے ہیں۔ اس کی افزائش نسل دسمبر تک مختلف فصلوں اور سبزیوں پر ہو تی ہے۔ ۵۔ سفید مکھی(Whitefly)اس کا حملہ بینگن ، بھنڈی ، مرچ، ٹماٹر، خر بوزہ ، گھیا کدو او ر دیگر بیلدار سبزیوں پر ہوتا ہے۔ بالغ اور بچے پتوں کی نچلی سطح سے رس چوستے ہیں اور ان میں میٹھا رس خا رج کر تے ہیں جس پر سیاہ الی لگ جاتی ہے جس سے پتوں میں خوراک بنانے کا عمل متاثر ہوتاہے۔ اس کی کچھ اقسام سبزیوں میں وائرسی بیماریاں پھیلا نے کا سبب بنتی ہیں۔ ۶۔ سست تیلا(Aphids):سست کیڑے کا حملہ بینگن، بھنڈی توری، ٹماٹر ، تر بوز اور دیگر سبزیات پر ہوتاہے۔ اس کے بالغ اور بچے پتوں کی نچلی سطح سے رس چوس کرنقصان پہنچاتے ہیں۔ اپنے جسم سے ایک میٹھا مادہ خارج کرتے ہیں جس کی وجہ سے پتوں پر سیاہ قسم کی اــلی لگ جاتی ہیں اور پتوں کا ضیائی تالیف کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ شدید حملے کی صورت میں فصل کالی ہوجا تی ہے۔ اس کا حملہ وسط فروری سے مارچ میں شدید ہوتا ہے۔ چھوٹے پودوں کی بڑھوتری رک جاتی ہے اور پودے خاطر خواہ پیداوار بھی نہیں دیتے ۷۔ لیف مائنر: (Leaf miner)اس کیڑے کا حملہ تمام سبزیوں بلخصوص ٹنل کاشتہ سبزیوں میں شدت کے ساتھ ہوتا ہے۔ یہ کیڑا پتوں کا سبز مادہ کھرچ کر کھاتا ہے اور پتوں پر بے ڈھنگی سفید لکیریں نظر آتی ہیں۔ ۸۔ پھل کی مکھی:(Fruitfly) یہ سائز میں گھریلو مکھی کے برابر ہوتی ہے۔ جبکہ اس کا رنگ زردی مائل ہوتا ہے اور پروں پر سیاہی مائل بھورے رنگ کے داغ ہوتے ہیں ۔ پھل کی مکھی گرمیوں کی سبزیوں پر حملہ آور ہوتی ہے۔ جن میں خربوزہ، کالی توری، کھیرا ، تر ، کریلے ، بینگن اور دیگر بیلدار سبزیات شامل ہیں۔ بالغ مکھی پھل کی جلد میں انڈے دیتی ہے جس سے حملہ شدہ پھل کی شکل خراب ہوجاتی ہے چند دن بعد سنڈیا ں نکل آتی ہیں جو پھل کو اندر سے کھا کر خراب کر د یتی ہے۔ پھل گلنا سڑنا شروع کر دیتا ہے اور استعمال کے قابل نہیں رہتا۔ مون سون کے موسم میں پھل کی مکھی کا حملہ شدید ہوتا ہے اس کی سنڈیا ں زمین میں جا کر پیوپا بن جاتی ہیں جن سے نئی مکھیاں نکلتی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sajjad Ali Shakir

Read More Articles by Sajjad Ali Shakir: 114 Articles with 67308 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Jun, 2020 Views: 1123

Comments

آپ کی رائے