مقام اہل بیت اور ادائیگی خُمس

(Imtiaz Ali Shakir, Lahore)

 مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان خم کے مقام پر آپﷺ نے خطبہ فرمایا ، حمد وثنائے الٰہی اور وعظ و نصیحت کے بعد فرمایا: اے لوگو’’تمہارے درمیان دو عمدہ اور گرانقدرامانتیں موجودرہیں گی۔یہی روایت امام احمد بن حنبلؒ نے زیادہ موثراورخوبصورت الفاظ میں نقل فرمائی ہے۔رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا’’لوگو بیشک میں تمہارے درمیان دو جانشین چھوڑے جارہا ہوں۔ایک کتاب اﷲ(قرآن مجید) ہے اور دوسری میری عترت( اہل بیت) ہیں۔جب تک تم ان دو کا دامن تھامے رہوگے کبھی بھی گمراہی سے دوچار نہ ہوگے’’کتاب اﷲ‘‘ جس میں ہدایت اور نور (روشنی) ہے یعنی قرآن مجید اﷲ کی رسی ہے جو آسمان سے زمین تک کھچی ہوئی ہے اور بیشک لطیف خبیر (اﷲ سبحانہ وتعالیٰ) نے مجھے خبر دی ہے کہ قرآن مجیداور اہل بیت کبھی بھی ایک دوسرے سے جدا نہ ہونگے حتیٰ کہ بروزقیامت حوض کوثر کے قریب مجھ سے ملیں گے‘‘رسول اﷲ ﷺنے کتاب اﷲ(قرآن مجید)کی تعلیم وتربیت اوراحکامات پرعمل کی بہت زیادہ تاکید فرمائی اورپھرفرمایامیرے اہل بیت ’’میں تمہیں اپنے اہل بیت کے ساتھ حسن سلوک خدمت اورپیروی کی سفارش اور تاکید کرتا ہوں‘‘رسول اﷲ ﷺ نے اہل بیت کے متعلق یہ جملہ تین مرتبہ دہرایا۔اہل علم ودانش کے مطابق’’کتاب اﷲ‘‘ جس میں ہدایت اور نور (روشنی) ہے یعنی قرآن مجید اﷲ کی رسی ہے جو آسمان سے زمین تک کھچی ہوئی ہے۔قرآن مجید نبی کریم رؤف الرحیم ﷺ کے دل پرنازل ہونے والے قرآن مجید کے اندراﷲ پاک کے احکامات بلاترتیب اتارے گئے۔نزول قرآن کی اہل ہستی کے وجودکے حصوں آپ ﷺ کے اہل بیت کے مقام ومرتبے کااندازہ لگاناکیسے ممکن ہوسکتاہے؟زمین وآسمان سے بھی آگے عرش الٰہی پربمعہ جوڑے تشریف لے جانے والی ہستی کی عترت(اہل بیت)کی شان اورمقام ومرتبہ اﷲ تعالیٰ جانتاہے یارسول اﷲ ﷺجانتے ہیں۔رسول اﷲ ﷺنے فرمایاقرآن مجید اوراہل بیت کبھی جدانہیں ہوں گے اورقیامت کے روزحوض کوثرکے قریب آپﷺ سے ملیں گے۔بے شک قرآن مجید اورآپﷺ کے اہل بیت آپ کے جانشین ہیں جوبروزقیامت آپ ﷺسے ملیں گے تویقین رکھیں آپ ﷺ کے عظیم جانشین ہمارے اعمال وسلوک کی گواہی دیں گے اوریہی گواہی ہمارے لئے سزا وجزاء کاتعین کرے گی۔نبی کریم ﷺ سے منسوب ایک روایت ہے کہ’’میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کی مانندہیں‘‘اہل علم ودانش کے مطابق نبوت ایسا عالیشان مرتبہ ہے جس سے کسی دوسرے طبقے کے حامل فرد کو ، خواہ وہ کتنا ہی معزز و مکرم کیوں نہ ہو، تشبیہ نہیں دی جا سکتی۔انبیاء کرام اﷲ تعالیٰ کے وہ خاص بندے ہیں جنہیں اﷲ رب العزت نے گمراہ بھٹکی ہوئی انسانیت کی رہنمائی ورہبری کیلئے معبوث فرمایا۔کسی عام انسان کیلئے انبیاکرام کے مقام ومرتبے تک پہنچناتودوراُن کی شان بیان کرنابھی ممکن نہیں جب رسول اﷲ ﷺ فرمائیں کہ’’میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کی مانندہیں‘‘ توبلاشبہ آپ ﷺ کی امت کے علماء کرام کی شان مقام ومرتبہ بہت اعلیٰ وارفعٰ ہے۔ختم نبوت ﷺ کے بعد کتاب اﷲ(قرآن مجید)کی تعلیم وتربیت شان اہل بیت مقام اہل بیت وخدمت(خمس) اہل بیت کی حقیقت واحکامات عام لوگوں تک پہنچانے کی عظیم ذمہ داری جسے سعادت کہیں توزیادہ مناسب ہوگاعلماء کرام کے حصے میں آئی اوراسی سعادت کے طفیل آپ ﷺ کی امت کے علماء کو بنی اسرائیل کے انبیاء جیسی شان مقام ومرتبہ عطاہوا۔اہل علم کی ایک بڑی نشانی اﷲ پاک نے قرآن مجیدکے اندرکچھ یوں ارشادفرمائی’’بیشک میرے بندوں میں سے علماء ہی ہیں جو اﷲ سے ڈرتے رہتے ہیں‘‘(الفاطر، 35 : 28)میرے اورآپ کے آقاومولاسرکاردوعالم ﷺنے اپنی امت کے علماء کیلئے بلندوبالامقام ومرتبے کی بشارت فرمائی ہے لہٰذااس بات میں شک کی کہیں کوئی گنجائش نہیں پریہ فیصلہ کرنابہت بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ کون سے علماء کرام ہیں جن پریہ بشارت صادق آتی ہے۔جب تاریخ بتاتی ہے کہ نبی کریم ﷺکی عترت(اہل بیت)کوشہیدکرنے والے یزیدکے لشکرمیں تقریباً18ہزارحافظ قرآن تمام کے تمام قاری اورنمازی تھے تویہ حقیقت سمجھنے میں کسی قسم کی مشکل نہیں رہتی کہ قرآن مجید کے حافظ وقاریوں کے دل قرآن مجیدمیں موجودہدایت ونورکی روشنی سے منورہوئے ہوتے تووہ کبھی بھی یزیدی لشکرکاحصہ نہ بنتے۔بات بہت سیدھی سی ہے جب رسول اﷲ ﷺ نے فرمادیاہے کہ کتاب اﷲ اورمیری اہل بیت کبھی ایک دوسرے سے جدانہیں ہوں گے توپھریہ کیسے ممکن ہے کہ سینے میں قرآن مجیدکانورسمایاہواورمقام اہل بیت سمجھ نہ آئے؟علماء کرام کے ذمے اتناہی ہے جتناکہ کتابی شکل میں دستیاب ہے جبکہ اہل بیت حضورکریم ﷺ کے جانشین کی حیثیت میں سرکارﷺ کے ساتھ مکمل رابطے اورسینہ باسینہ علم ودانش کے ساتھ فیوض وبرکات اورکرامت کے بھی مالک ومختارہیں۔اُن علماء کرام جورسول اﷲ ﷺ کے فرمان پرپورااترتے ہیں سے معذرت کے ساتھ کہناچاہتاہوں کہ راقم مسلم گھرانے میں پیداہوا اور35سال کی عمرتک خمس کے متعلق بالکل بے خبررہاجبکہ نماز،روزہ زکوۃ حج وعمرہ سمیت دیگرعبادات حقوق اﷲ حقوق العباد اوردیگرایسی کئی عبادات جوچند منٹ میں سترسال یاہزارسال کے گناہ معاف کروانے کی اہلیت رکھتی ہیں کے متعلق کافی کچھ سمجھایااوربتایاگیا۔35سال کی عمرمیں بھی کسی مولوی نے نہیں بلکہ درویش ہستی مرشِدکریم سیّدعرفان احمدشاہ المعروف نانگامست بابامعراجدین جوراقم کے رہنماورہبرہیں نے سمجھایاکہ خمس کیاہے اورکس کیلئے ہے مقام اہل بیت کیاہے شان اہل بیت کیاہے اوراہل بیت کے ساتھ محبت ادب واحترام کے تقاضے کیاہیں اوراہل بیت کی خدمت کس قدرلازم ہے۔اکثریت کی طرح راقم بھی یہ سمجھنے کیلئے بیتاب وبے قرارتھاکہ ہم اہل بیت کی پہچان کیسے کرسکتے ہیں؟مرشِدحضورنے سمجھایاکہ سیّدسخی،سوہنے،دلیر ہوتے ہیں زیادہ آزمائش کی کوشش انسان کوگمراہ کرسکتی لہٰذاجوکوئی کہے کہ میں سیّدہوں تمہارے ذمے مان لیناہے۔وہ سیّدہے کہ نہیں یہ معاملہ اُس کے اوررسول اﷲ ﷺ کے درمیان ہے تمہیں حساب وکتاب کرنے کی ضرورت نہیں۔ خمس کاذکرآتے ہی زیادہ ترمسلمان بے خبری کااظہارکرتے ہیں یعنی اکثریت کوخمس کے متعلق علم ہی نہیں خمس کے بارے میں مولوی حضرات بھی بہت کم ذکرکرتے ہیں گہرے مطالعے یاگہری تحقیق کرنے والے ہی خمس کی حقیقت سے واقف ہیں اوراُن میں سے بھی بہت تھوڑے لوگ خمس اداکرتے ہیں ۔کچھ لوگ سوال کرتے ہیں کہ خمس زکو ۃ کا متبادل ہوسکتا ہے؟خمس ہرگززکوۃ کامتبادل نہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا’’اور جان لو کہ جو کچھ مالِ غنیمت تم نے پایا ہو تو اس کا پانچواں حصہ اﷲ کے لیے اور رسول ﷺکے لیے اور رسول اﷲﷺ کے قرابت داروں(اہل بیت) کے لیے ہے اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں کے لیے ہے۔ تم اﷲ پر اور اس (وحی) پر ایمان لائے ہو جو ہم نے اپنے (برگزیدہ) بندے پر (حق و باطل کے درمیان) فیصلے کے دن نازل فرمائی وہ دن (جب میدان بدر میں مومنوں اور کافروں کے) دونوں لشکر باہم مقابل ہوئے تھے اور اﷲ ہر چیز پر قادر ہے‘‘(سورۃ الانفال،41)مذکورہ بالا آیت مبارکہ میں مال غنیمت کے پانچویں حصہ کو خمس کا نام دیا گیا ہے۔ آئیے پہلے دیکھتے ہیں کہ مال غنیمت کس کو کہتے ہیں؟زیادہ تر خیال کیاجاتاہے کہ مال غنیمت اس مال واسباب کوکہاجاتاہے جوکسی جنگ کوفتح کرنے کے نتیجے میں حاصل ہوجبکہ رسول اﷲ ﷺنے فرمایا’’کتاب اﷲ اورآپ سرکارﷺ کی عترت(اہل بیت)کبھی جدانہیں ہوں گے اورحوض کوثرکے مقام پرآپ سے ملیں گے ‘‘فرمان رسول اﷲ ﷺ سے ثابت ہوتاہے کہ اہل بیت کابابرکت اورباعث رحمت سایہ قیامت تک انسانیت اوردیگرمخلوقات پرقائم رہے گا۔صدقہ وخیرات اہل بیت کیلئے سختی سے منع فرمایاگیاہے اوراہل بیت کے دراقدس پرخمس اداکرنے کاحکم ہواہے۔خمس صرف جنگ سے حاصل ہونے والے مال غنیمت پرہی نہیں بلکہ اہل ایمان کی سال بھرکی کمائی کاپانچواں حصہ ہے خمس کازکوۃ کے ساتھ دوردورتک کوئی تعلق نہیں زکوۃ مال کی میل کچیل ہوتی ہے جبکہ خمس مال کاپاکیزہ وحلال جزہے جوبڑی محبت وعقیدت کے ساتھ اہل بیت کی خدمت میں پیش کیاجاناچاہیے خمس اداکرنے والے پریہ بھی لازم ہے کہ اپناخمس تقسیم نہ کرے بلکہ ایک ہی سیّدزادے کی خدمت میں پیش کرے۔جسے اہل بیت کی سچی اورکھری محبت نصیب ہوجائے اسے کسی عقیدے ومسلک کی قیدنہیں رہتی دراصل اہل بیت کی محبت ہی ایمان ہے اوراہل بیت کی محبت ہی کتاب اﷲ’قرآن مجیدسے دنیاوی وآخری فوائدحاصل کرنے کیلئے شرط اول ہے اہل بیت کی محبت وادب نصیب نہیں توکوئی کسی بھی وقت یزیدی لشکرکاحصہ بن سکتاہے یعنی قرآن مجیدکاحافظ وقاری ہونے کے باوجودگمراہ ہوسکتاہے جبکہ اہل بیت کی محبت دل میں موجودہوتوپھرقرآن مجیدبھی مہربان ہوجاتاہے اپنے اندرچھپے خزانوں کے راز کھول دیتاہے ۔قرآن مجید اوراہل بیت کی محبت دل میں سماجائے احکامات پرلبیک کہنے کی توفیق مل جائے تو پھراﷲ تعالیٰ دنیاوآخرت کی عزتیں،نعمتیں اورمقام ومراتب عطافرماتاہے۔بے شک کتاب اﷲ اوررسول اﷲ ﷺ کے اہل بیت کی محبت واحترام دونوں لازم وملزوم ہیں۔خمس آپ سرکارﷺ کے اہل بیت کاحق ہے جسے مبینہ طورپرچھپایاگیااورچھپایاجارہاہے نبی کریم ﷺ کی امُت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کی مانند مقام پانے کے خواہش مندہیں توپھرخمس کامسئلہ جواہل بیت کاحق ہے لوگوں کے سامنے کھل کربیان کریں
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Imtiaz Ali Shakir

Read More Articles by Imtiaz Ali Shakir: 629 Articles with 282065 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Jun, 2020 Views: 125

Comments

آپ کی رائے