وباؤں کا مقابلہ ممکن ہے؟

(Sarwar Siddiqui, Lahore)

جب سے کرونا وائرس کا عذاب آیاہے اس سے پوری دنیا متاثرہوئی ہے حالات کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ کرونا وائرس نے اس سال مسلمانوں کی ایک بنیادی عبادت حج کے انعقاد پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ سعودی حکومت نے مسلم ممالک سے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی تیزی سے پھیلتی وبا کے پیش نظر ادائیگی حج کیلئے معاہدوں سے فی الحال گریز کرے۔ تاریخی طور پر ماضی میں بھی حج کے انعقاد میں رکاوٹیں کھڑی ہوتی رہی ہیں۔ تاریخی حوالوں سے پتہ چلتا ہے کہ کئی بار بیماریاں پھیلنے، مکہ مکرمہ پر چڑھائی اور عازمین حج پر رہزنوں کے حملوں کے باعث حج متاثر ہوتا رہا ہے۔ 1000 ھ میں حج بڑھتے ہوئے سفری اخراجات اور دوسرے مسائل کی وجہ سے نہ منعقد ہو سکا۔ تاریخ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ 1831 میں انڈیا کی طاعون کی وبا ء پھیلنے سے دو تہائی عازمین حج جاں بحق ہو گئے جن کی تعداد ہزاروں میں بتائی جاتی ہے جس کے باعث حج کی ادائیگی متاثر ہوئی چونکہ ان دنوں بہتر سفری سہولیات نہ ہونے کے برابر تھیں زیادہ ترلوگ بحری جہازوں کے ذریعے حج کا فریضہ انجام دیاکرتے تھے بیشتر مذہبی سکالرز اور علماء اس حدیث کا بھی حوالہ دیتے ہیں جس کا مفہوم ہے کہ اگر کسی علاقے میں طاعون کی وبا ء پھیلے تو وہاں مسلمانوں کو جانے سے گریز کرنا چاہیے اور چونکہ اس سال کرونا وائرس کی وباء پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے سعودی عرب میں ان دنوں رات کا کرفیو نافذ ہے اس کے تناظر میں فی الحال سعودی حکومت فیصلہ نہیں کرپارہی کہ اس سال حج کا فریضہ انجام دیا جائے یا نہیں کیونکہ اس علاقے میں یہ وباء پھیلی ہے وہاں سے دوسرے علاقوں میں مسلمان کو سفر نہیں کرنا چاہیے۔ سعودی عرب میں کووڈ 19 وائرس سے 119 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ سعودی حکومت نے بیت اﷲ شریف میں عبادت اور طواف کو محدود بھی کیا ہے۔ یہ فیصلہ کرونا وائرس کی وجہ سے ہوا ہے۔ سعودی عرب میں کرونا وائرس کے کیس بڑھتے جا رہے ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اﷲ رب العزت کے کرم سے حج کے ایام سے کہیں پہلے یہ وبا ء ختم ہو جائے گی اور حج کا انعقاد ممکن ہو گا لیکن اس کے انعقاد پر ابھی تک سوالیہ نشان موجود ہے اس صدی کے سب سے خوفناک عذاب کے نتیجہ میں دنیا بھر میں نوول کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 30لاکھ کے قریب اور ہلاکتیں50,000 3,سے زائد ہوگئی ہیں اس وقت امریکہ دنیا میں سب سے زیادہ مریضوں والا ملک بن گیا ۔ تاریخی اعتبار سے یہ وبائیں دنیا میں پہلی بار نہیں آئیں گذشتہ 50 برسوں میں کئی انفیکشن ارتقا ء پا کر جانوروں سے انسانوں تک تیزی سے پھیلے ہیں۔ ہر انفیکشن کی علامات مختلف ہوتی ہیں انسان ہمیشہ سے ہی جانوروں کی وجہ سے بیمار پڑتے رہے ہیں۔ درحقیقت زیادہ تر نئے انفیکشن جنگلی حیات سے ہی آتے ہیں۔ حال ہی میں یہ پایا گیا کہ سانس کی شدید تکلیف پیدا کرنے والا وائرس سارس مْشک بلاؤ کے ذریعے چمگادڑوں سے انسانوں تک آیا جبکہ چمگادڑوں نے ہی ہمیں ایبولا وائرس دیا اس بیماری کی علامات میں سانس لینے میں دشواری ہے جس سے انسان کے پھیپھڑے شدید متاثرہوتے ہیں مریض احتیاطی تدابیرسے صحتیاب ہوجاتاہے ایک اور وائرس جس کا نام زیکاہے جس میں بیماری کی علامات میں جوڑوں کا درد اور جلد دار خارش شامل ہیں اس میں مریض تیزی سے صحت یاب ہوسکتاہے کیونکہ انفیکشن کے بعد مرنے کے امکانات صرف 20% ہیں بروقت علاج سے مرض پرقابوپایاجاسکتاہے اس خطرناک وائرس جس کا نام ایبولاہے اسے دہشت کی علامت بھی کہاجاسکتاہے اس میں کمزوری اور بخاربیماری کی نمایاں علامات ہیں یہ کرونا سے بھی خطرناک وائرس ہے جس میں موت کا امکان 90 % ہے ایک اور وائرس جسے ماہرین نے ماربرگ بخار کا نام دیاہے اس میں بیماری کی علامات ہاضمہ اور معدہ کی پریشانیوں کے سبب 10 دن بعد موت واقع ہوجاتی ہے کیونکہ انفیکشن کے بعد مرنے کا امکان : 88 % ہے۔ بیماری کی علامات : ذہنی الجھنوں کے بعد نفسیاتی طورپر انسان کی موت واقع ہوجاتی ہے نپاہ نامی وائرس کاانفیکشن ہونے کے بعد مرنے کے امکانات 75% بیان کئے جاتے ہیں اس وائرس سے انسان کااعصابی نظام بری طرح متاثرہوجانے سے انسان ٹوٹ پھوٹ کر رہ جاتاہے۔ایک اور وائرس جسے کریمین کانگو بخار کانام دیاگیاہے اس کی بیماری کی علامات میں منہ اور ناک سے ٹکراؤ اور خون کااخراج تیزی سے ہوتاہے اس انفیکشن کے بعد مرنے کے امکانات : 40% ہیں ڈاکٹروں نے ایسے مریضوں کو بلڈپریشر نارمل رکھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ایک اور بیماری انفلوئنزا ہے یہ بڑی عام سی بیماری ہے عموماً موسم کی تبدیلی کے باعث ہرسال محدود مدت کیلئے آتی ہے یہ بھی وائرس کے نتیجہ میں پھیلتی ہے انسانوں کے علاوہ بندر واحدجانور ہے جسے نزلہ،زکام ہوتا ہے اس مرض میں ،چھینکیں، جلن اور گلے میں سوزش ہوتی ہے انفیکشن کے بعد مرنے کے امکانات 13% ہیں،حال ہی میں جو بیماری عالمی وباء بن گئی ہے اسے کروناوائرس کا نام دیاگیاہے اس بیماری کی علامات میں سانس کی نالی میں انفیکشن،شدید بخار اور نمونیہ ہوجاتاہے یہ خطرناک اس لئے ہے کہ یہ چھوت کی بیماری ہے بڑی آسانی سے ایک سے دوسرے شخص میں منتقل ہوجاتی ہے یہ قابل ِ علاج ہے احتیاطی تدابیراختیارکرکے اس سے چھٹکارا ممکن ہے اس وائرس میں انفیکشن کے بعد صحت مندافراد کے مرنے کے امکانات صرف 3% ہیں لیکن بچوں،بوڑھوں اور بیماروں پر یہ حملہ آورہوجائے تو ان کی جان بھی جا سکتی ہے کیونکہ کرونا وائرس سے مرنے کی بڑی وجہ انسان کا خوف زدہ ہونا ہے۔ اور دوسری وجہ ایلوپیتھک میڈیسن سے علاج ہے کیونکہ ایمیونٹی کے کم ہوتے ہی بیماری جسم پر حاوی ہو جاتی ہے اگر ایمیونٹی یعنی قوت مدافعت طاقتور ہے تو انسان پر کوئی بھی بیماری حملہ آور نہیں ہو سکتی اور اگر قوت مدافعت بڑھانی ہے تو فروٹ اور کچی سبزیاں کھائیں اور کوکونٹ کا پانی پئیں اور کولڈ ڈرنک، فاسٹ فوڈ ،جنک فوڈ پراسیس، فوڈ پیکڈ فوڈ اور سگریٹ بالکل چھوڑ دیں اگر صحت مند انسان بھی خوف زدہ ہو جائے تو وہ مر جائے گا جیسا کہ پرانا مقولہ ہے کہ ڈر موت کا بھائی ہے۔ اس مرض کا واحد علاج احتیاط ہے چونکہ اس نے عالمی وباء کی شکل ا ختیارکرلی ہے اس لئے زیادہ خوفناک ہوگئی ہے ویسے بھی مشہورمقولہ ہے احتیاط علاج سے بہترہے ہم سب کو احتیاط کی ضرورت ہے دوسروں کے ساتھ ہاتھ ملانے،گلے لگانے سے گریزکیاجائے،ہجوم والے مقامات پرجانے سے پرہیزکریں،ماسک کااستعمال کریں،وقتاً فوقتاً 20-20 سکینڈ اچھے طرح ہاتھ دھونے سے وائرس سے بچاجاسکتاہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sarwar Siddiqui

Read More Articles by Sarwar Siddiqui: 209 Articles with 54151 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Jun, 2020 Views: 225

Comments

آپ کی رائے