درس قرآن 35

(Dr Zahoor Ahmed Danish, Karachi)

سورۃ ص
قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ،اس کی آخری کتاب اور اس کا ایک معجزہ ہے ۔ یہ دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے۔اس نے اپنے سے پہلے کی سب الہامی کتابوں کو منسوخ کردیا ہے۔ اوران میں سےکوئی بھی آج اپنی اصل صورت میں محفوظ نہیں ۔ البتہ قرآن تمام پہلی کتابوں کی تعلیمات کواپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے ۔اور قرآن مجید واحد ایسی کتاب کے جو پوری انسانیت کےلیے رشد وہدایت کا ذریعہ ہے اللہ تعالی نے اس کتاب ِہدایت میں انسان کو پیش آنے والےتما م مسائل کو تفصیل سے بیان کردیا ہے جیسے کہ ارشادگرامی ہے کہ و نزلنا عليك الكتاب تبيانا لكل شيء قرآن مجید سیکڑوں موضوعا ت پرمشتمل ہے۔مسلمانوں کی دینی زندگی کا انحصار اس مقدس کتاب سے وابستگی پر ہے اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اسے پڑ ھا اور سمجھا نہ جائے۔ قرآن کریم کا یہ اعجاز ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی حفاظت کا ذمہ خود لیا۔اور قرآن کریم ایک ایسا معجزہ ہے کہ تمام مخلوقات مل کر بھی اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہیں۔قرآن کی عظمت کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جاسکتا ہے ہ یہ کتاب جس سرزمین پر نازل ہوئی اس نے وہاں کے لوگوں کو فرشِ خاک سے اوجِ ثریا تک پہنچا دیا۔اس نےان کو دنیا کی عظیم ترین طاقت بنا دیا
سورۂ صٓ مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔( خازن، تفسیر سورۃ ص، ۴/۳۰)۔ اس سورت میں 5رکوع،88 آیتیں ، 732 کلمے اور3067حرف ہیں ۔( خازن، تفسیر سورۃ ص، ۴/۳۰)
وجہ تسمیہ:اس سورت کی ابتداء میں حروفِ مُقَطَّعات میں سے ایک حرف’’ صٓ ‘‘ ذکر کیا گیا ، اس مناسبت سے اسے سورۂ صٓ کہتے ہیں ۔
اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں کفار سے ان کے عقائد کے بارے بحث کے ضمن میں اسلام کے بنیادی عقائد جیسے توحید،نبوت و رسالت اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کو ثابت کیا گیا ہے اور اس سورت میں یہ چیزیں بیان کی گئی ہیں ۔
(1)…اس سورت کی ابتداء میں بتایا گیا کہ کفار صرف تکبُّر اور عناد کی وجہ سے رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مخالفت پر عمل پیرا ہیں اور انہیں اس بات پر تعجب ہو رہا ہے کہ انہیں میں سے ایک ڈر سنانے والا عظیم رسول تشریف لایا
اور اس نے ان سب بتوں کی عبادت کو باطل قرار دے دیاجن کی وہ بڑے عرصے سے عبادت کرتے چلے آ رہے ہیں ۔
(2)…اپنے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلانے والی سابقہ امتوں کے دردناک انجام کو بیان کر کے کفارِ مکہ کو نصیحت کی گئی کہ اگر وہ بھی اپنی سرکشی پر قائم رہے تو انہیں بھی ہلاک کر دیا جائے گا۔
(3)…حضرت داؤد،حضرت سلیمان اور حضرت ایوب عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعات تفصیل کے ساتھ بیان کئے گئے اور حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق،حضرت یعقوب،حضرت اسماعیل،حضرت یَسَع اور حضرت ذُوالکِفْل عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعات اِجمالی طور پر بیان کئے گئے اور ان واقعات کو بیان کرنے سے مقصود نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو کفار کی طرف سے پہنچنے والی اَذِیَّتوں پر تسلی دینا ہے۔
(4)…آخر میں حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تخلیق اور شیطان کے انہیں سجدہ نہ کرنے والا واقعہ بیان کیا گیا۔
قرآن کریم کی تلاوت بجائے خود اجر و ثواب کا باعث ہے، چاہے پڑھنے والا اس کے معانی و مطالب کو سمجھتا ہو یا نہ سمجھتا ہو۔ اس کے ایک ایک حرف پردس دس نیکیاں ہر پڑھنے والے کو ملیں گی جیسا کہ حدیث میں فرمایا گیا ہے تاہم یہ محض اللہ کا فضل و کرم ہے کہ وہ ہر پڑھنے والے کو اجر عظیم سے نوازتا ہے لیکن بغیر سمجھے پڑھنے سے ثواب تو یقیناً مل جائے گا لیکن قرآن کے نزول کا جو اصل مقصد ہے، وہ اسے حاصل نہیں ہو گا۔ وہ مقصد کیا ہے؟ ہدایت اور روشنی، یہ تو صرف اسے ہی ملے گی جو قرآن کو سمجھنے کی اور اس کے معانی و مطالب سے آگاہی حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔ آج اس قرآن کے پڑھنے والے تو لاکھوں نہیں، کروڑوں کی تعداد میں ہیں لیکن اس میں بیان کردہ اصول و ضوابط اور تعلیمات و ہدایات کو سمجھنے والے کتنے ہیں ؟تھوڑے، بالکل تھوڑے۔اللہ ہمیں کلام مجید کا فہم عطافرمائے ۔آمین
نوٹ:پیارے قارئین :رب آپ کو سلامت رکھے ۔کلام مجید سے اپنا رشتہ مضبوط کریں ۔خدمت کلام مجید کے لیے ہم بھی کوشاں ہیں ۔رب ہمیں بھی اخلاص عطافرمائے ۔آپ ہمارے پیارے ہیں آپ کو کیرئیر کونسلنگ ،،طبی و شرعی مسائل کی رہنمائی یا پھر زندگی کے کسی اہم گوشے کے متعلق کی مشورے کی حاجت ہوتو آپ ہم سے رابطہ کرسکتے ہیں ۔کیونکہ ہمارا عزم مختصر سی زندگی میں ہمیشہ کی زندگی کے لیے کوشش ہے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: DR ZAHOOR AHMED DANISH

Read More Articles by DR ZAHOOR AHMED DANISH: 323 Articles with 271918 views »
i am scholar.serve the humainbeing... View More
10 Jun, 2020 Views: 208

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ