! اے کورونہ ! تیرے آنے کا غم ! اور نہ جانے کا غم ! پھر زمانے کا غم ! کیا کریں

(Dr Zuhaib Arshad, Multan)
قوموں کو وبائیں نہیں جہالت برباد کرتی ہے

اے میری قوم تیری احتیاط پے ہنسی آئی
جانے کیا بات ہے ہر بات پے ہنسی آئی
نظام روک دیا گیا دنیا لاشوں کے انبار سمبھالے انھیں دفنانے کی جگہ ڈھونڈ رہی ہے پوری دنیا کا نظام تہس نہس ہوگیا اور میری قوم کو شغل لگانے سے فرصت ہی نہیں موت کا کھل آگ کی طرح ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لیتا چلا جا رہا ہے اور میری قوم سمجھتی ہے کہ یہ بس کسی میلے میں لگے موت کے کنویں سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں کیا ہم کبھی اس قابل ہو سکیں گے کہ آنے والی مصیبت کو وقت سے پہلے جانچ کر بچنے کا انتظام کر لیں یا ہماری کم عقلی موت سر پے آنے کے بعد بھی ہمیں اسے محض تماشا سمجھنے پے مجبور کرتی رہے گی بات تو یہ ہے کہ جن کے مر گئے ان کے لیے کورونہ سچ ہے اور باقیوں کے لئے یہ تب تک ڈرامہ ہے جب تک وہ خود اس کی لپیٹ میں نہیں آتے کورونہ سے مرنے والے ہر شخص کی موت کا ذمہ کچھ نا کچھ ہر اس شخص کے سر بھی ہے جو اسے مذاق سمجھتے ہیں میری ایسے لوگوں سے گزارش ہے کہ ایک چکر کورونہ کے وارڈ کا ضرور لگائیں کیوں کہ جب کورونہ ہے ہی نہیں تو آپ کو کس بات کا ڈر کورونہ کو ڈرامہ سمجھنے والو تیار رہو یہ ڈرامہ کہیں آپ کے گھر تشریف نہ لے آئے
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr Zuhaib Arshad
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Jun, 2020 Views: 149

Comments

آپ کی رائے