معصوم قطرہ

(شائستہ انور, کراچی)
معصوم قطرہ آج بہت اداس ہوگیا ۔اسےبار بار یہ خیال آتا کہ یہ کیسے لوگ ہیں جب ہم برستے نہیں ہیں تو اللہ تعالی سے گڑگڑا کر دعائیں مانگتے ہیں اور جب اللہ تعالی ہمیں برسنے کا حکم دیتا ہے تو ہمیں بے دریغ ضائع کرتے ہیں۔

جون کی جھلسا دینے والی گرمی تھی جس سے انسانوں کے ساتھ ساتھ چرند پرند کی زبانیں بھی منہ سے باہر تھیں۔سبھی آسمان کی طرف دیکھ رہے تھے ان کی زبانوں پر بارش کے لیے دعائیں تھیں۔جب سیاہ بادل آسمان پر اُمڈآئے تو سبھی کے بے رونق چہروں پر رونق آگئی۔پانی کا معصوم قطرہ آنکھیں پھاڑے شہر کی بلند وبالاعمارتیں دیکھ رہا تھا۔

ماں: چلو ننھے ننھے پاکیزہ قطروں جلدی کرو۔ہمیں آج اس شہر پر بارش بن کربرسنے کا حکم مل گیا ہے۔( ماں نے قدرے پیارسے کہا)
ننھا قطرہ:ماں آج ہم واقعی برسیں گے؟
ماں:(معصوم قطرے سے قدرے حیرانگی سے) کیوں بیٹا!
معصوم قطرہ: اِس شہر سے تو ہم برسے بغیر کئی بار واپس آچکے ہیں ناں ..... تو اس لیے پوچھ رہا تھا۔
ماں: بیٹا اللہ کا حکم ہو گا تو ہم برسیں گے اور آج حکم مل گیا ہے۔ اور اس شہر والوں کی دُعائیں بھی تو بارش برسنے کے لیے کتنی تھیں جو کب سے ہمارے برسنے کے لیے ترس رہے تھے۔

سارے قطرے تو پہلے ہی تیار تھے۔ وہ فوراََ بادل بن کر شہر کی طرف تیزی سے اُڑنے لگے۔معصوم قطرہ خوش تھا کہ شہر والوں کی دعائیں قبول ہوگئیں۔اور وہ اب لوگوں کے استعمال میں آئے گا۔معصوم قطرہ بہت خوش تھا کہ زمین پر پہنچ کر میں کسی کے کام آسکوں گا۔معصوم قطرہ خوشی خوشی باقی قطروں کے ساتھ جب شہر کے اوپر پہنچے تو وہاں کے لوگوں کو ایک کُھلے میدان میں جمع دیکھ کر ماں سے پوچھا ؟
معصوم قطرہ: ماں یہ سب یہاں کیا کر رہے ہیں؟
ماں: بارش برسنے کے لیے نمازِ استسقاء ادا کر رہے ہیں۔

معصوم قطرہ: اور یہ سب نے ہاتھ کیوں اُلٹے کیے ہوئے ہیں؟
ماں: بیٹا اس طرح اللہ تعالیٰ جلدی دُعا قبول کرتے ہیں۔

معصوم قطرہ: اچھا ! اس لیے یہ سب نماز ادا کرنے کے بعد اپنے ہاتھ اُلٹے کیے ہوئے دُعائیں مانگنے میں مصروف ہیں۔لوگوں کے گِڑگِڑانے کی آوازیں بھی صاف سُنائی دے رہی ہیں۔
ماں:(معصوم قطرے سے ) ان تمام انسانوں میں سے صرف ایک انسان کی دُعا قبول ہوئی ہے۔

معصوم قطرہ: ماں صرف ایک انسان! ( قدرے حیرانگی سے)
ماں: (پیار سے) ہاں بیٹا !صرف ایک انسان کی خاطر ہی ہم سب قطرے بارش بن کر اس شہر میں برسنے کے لیے آئے ہیں۔

معصوم قطرہ: ماں وہ انسان کون ہے؟ میں نے اسے دیکھنا ہے۔
ماں:یہ تو مجھے معلوم نہیں کہ وہ انسان کون ہے۔مگر اتنا علم ضرور ہے کہ اس انسان کے پیٹ میں حلال کا لقمہ ہے۔

معصوم قطرہ: حلال لقمہ کیا ہے؟
ماں: انسان وہ تمام کام جسے کرنے کا اللہ نے کرنے کا حکم دیا یا جس کام کو کرنے سے ہمارا ربّ خوش ہوتا ہو حلال کہلاتا ہے۔اور انسان ان جائز کاموں کو اختیار کرتے ہوئے جو پیسے کما کر کھانا کھاتا ہے وہ حلال لقمہ کہلاتا ہے۔

اس لیے ہمارے پیارے نبیﷺ نے فرمایا ''جب انسان اپنے پیٹ میں حرام کا لقمہ ڈالتا ہے تو اسی وجہ سے اس کی چالیس دن کی عبادت قبول نہیں ہوتی''(مسند الدیلمی:۳؍ ۵۹۱ )

چلو جلدی آؤ اس نیک انسان کی خاطربارش بن جائیں جس نے حلال روزی کھائی آؤ جلدی کرو۔۔۔ دعا قبول ہو چکی ۔۔۔برسو۔۔۔رحمت بن کر۔۔۔ماں کے اتنا کہنے کی دیر تھی کہ تمام قطرے یکجا ہو کر موسلا دھار بارش بن کرزمین پر اتر آئے۔شہر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ،مرجھائے چہرے کھل اٹھے۔حسن بھی بہت خوش تھا خوب بارش میں نہایا ۔

معصوم قطرہ بہت خوش تھا کہ اب میں پیاسے انسانوں کے کام آؤں گا ،جو کتنی مدتوں سے ہمارے برسنے کی دعائیں مانگ رہے تھے،میں انسان کی کتنی ااہم ضرورت ہوں ۔وہ مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں ۔وہ میری قدر کریں گے کیونکہ میں ا نکے بہت کام آتا ہوں ،مجھے خوشی ہوگی جب وہ اپنے بہت سارے کام کرنے کے لئے مجھے استعمال کریں گے ،جیسے پینے کے لئے ،دھونے کے لئے،خود کو صاف ستھرارکھنے کے لئے ،وغیرہ وغیرہ۔

آج معصوم قطرہ بہت خوش تھا جب اسے معلوم ہوا کہ حسن نے اسکول جانا ہے۔ معصوم قطرے کو خوشی اس بات کی تھی کہ حسن اٹھے گا منہ ہاتھ دھو کر اپنے دانت برش کرے گا اس کے ان کاموں میں میں (معصوم قطرہ )اسکی مدد کر سکوں گا۔

سو حسن نے ایسا ہی کیا۔۔ وہ اٹھا اورمنہ ہاتھ دھونے لگا،پہلے اس نے میرا استعمال کر تے ہوے اپنے ہاتھ منہ گیلے کیے اور ان پر صابن لگانے لگا۔اس دوران وہ نلکا بند کر بھول گیا اور ہم بے چارے قطرے بہتے رہے ۔۔۔۔۔۔بہتے رہے ۔۔۔۔۔بہتے رہے ۔۔۔۔۔۔ضائع ہوتے رہے۔۔۔ضائع ہوتے رہے۔۔۔ضائع ہوتے رہے۔دکھ کے مارے میں چیختا رہا کہ نلکا بند کردو ۔۔۔مجھے ضائع مت کرو۔لیکن حسن نے میری ایک نہ سنی ،منہ ہاتھ دھو نے کے بعد دانت صاف کرنے کی باری آئی ،میں اپنا پچھلادکھ بھول کر ایک بار پھر خوش ہوا کہ اب حسن اپنے دانت صاف کرنے کے دوران نلکا ضرور بند کر دے گا ۔لیکن اس بار بھی حسن نے ایسا ہی کیا ،میں ایک بار پھر۔۔۔۔۔۔۔۔
ضائع ہوتا رہا۔۔۔۔۔ہوتا رہا ۔۔۔۔۔۔ہوتا رہا ۔

مجھے بار بار یہ خیال آتا کہ یہ کیسے لوگ ہیں جب ہم برستے نہیں ہیں تو اللہ تعالی سے گڑگڑا کر دعائیں مانگتے ہیں اور جب اللہ تعالی ہمیں برسنے کا حکم دیتا ہے تو ہمیں بے دریغ ضائع کرتے ہیں معصوم قطرہ آج بہت اداس ہوگیا ،اور سوچنے لگا کہ کاش ہم اِن لوگوں کے گھر برسنے چلے جاتے جن کے گھروں میں پانی کی کمی ہے اور جنہیں پینے کے لیے پانی بامشکل میسر آتا ہے۔
پر افسوس اب کوئی فائدہ نہیں تھا حسن مجھے ضائع کر چکا تھا۔

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 384 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: شائستہ انور
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
MashaAllah bohat khubsurat tehreer hai... Allah Pak hum sb ko Amal kr nay wala banae.... Aameen
By: Summaiya Tariq, Karachi on Jun, 16 2020
Reply Reply
1 Like
ماشاء اللہ بہت اچھی اور سبق آموز کہانی ہے۔ ہلے پھلکے انداز میں بہت اہم پیغام دیا گیا ہے۔ اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ
By: Saleem Ullah Shaikh, Karachi on Jun, 15 2020
Reply Reply
1 Like
Language: