انجیر اور شرح منافع

(RIAZ HUSSAIN, Chichawatni)
اکستان کی سر زمین پر تقریبا 18 ہزار من سالانہ انجیر پیدا ہوتا ہے, جبکہ یہاں سالانہ تقریباً 28 ہزار من انجیر کی مانگ ہوتی ہے.اسی لیے ہمیں اس مانگ کو پورا کرنے کے لئے ترکی، ایران اور افغانستان سے سالانہ تقریباً 10 ہزار من خشک انجیر خرید کر پاکستان لانا پڑتا ہے

انجیر کا پودا اور انجیر

اللہ کریم نے اپنے محبوب خاتم النبین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے ہمیں رہنمائی فرمائی، اشرف المخلوقات کے لیے بے شمار نعمتیں پیدا فرمائیں جن کا شمار ہمارے بس کی بات نہیں، اللہ رب العزت نے ایسی ایسی نعمتوں سے نواز ا جو انسانی زندگی کے لیے نا صرف بے مفید ہیں بلکہ ان کی شرح کو بڑھا کر کارآمد بناتے ہوئے مزید منافع بخش بنایا جا سکتا ہے، بس ذرا توجہ اور کوشش کی ضرورت ہے۔ مالی دا کم پانی لانابھر بھر مشکاں پاوے۔۔ مالک (رب) کا کم پھل پھُل لانا لاوے یا نا لاوے۔۔۔ الکاسب حبیب اللہ (محنتی اللہ کا دوست ہے)۔اللہ تعالیٰ کی ذات کسی کی محنت کا حق نہیں رکھتی۔ دوستو! درخت اللہ کی خاص نعمت ہے، سایہ بھی اور پھل بھی۔ آج میں ایک ایسے درخت کے متعلق تحریر کر رہا ہوں (منقول) جو ایک خاص نعمت، بیماریوں کے خلاف لڑنے کی قوت رکھتی ہے، وطن پاکستان کی اہم ضرورت ہے، منافع بخش اور سب سے بڑھ کر ایک آدمی کی پہنچ میں بھی آ سکتی ہے۔ یہ ہے جنت کا تحفہ انجیر۔۔ #پاکستان کی سر زمین پر تقریبا 18 ہزار من سالانہ انجیر پیدا ہوتا ہے, جبکہ یہاں سالانہ تقریباً 28 ہزار من انجیر کی مانگ ہوتی ہے.اسی لیے ہمیں اس مانگ کو پورا کرنے کے لئے ترکی، ایران اور افغانستان سے سالانہ تقریباً 10 ہزار من خشک انجیر خرید کر پاکستان لانا پڑتا ہے.یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں انجیر اس قدر مہنگا ہے کہ عام آدمی اسے کھانے کے بارے سوچ ہی نہیں سکتا.انجیر کی فصل لگانے کے لئے دس/10 فٹ کے فاصلے پر قطاریں بنا کر اور ان قطاروں میں دس/10 فٹ کے فاصلے پر ہی پودے لگائے جاتے ہیں. اس طرح ایک ایکڑ میں تقریباََ 435 پودے لگائے جاسکتے ہیں.یاد رہے کہ ایک دفعہ لگایا ہوا انجیر کا پودا 15 سے 20 سال تک بھر پور پیداوار دیتا ہے. نرسری میں انجیر کا ایک پودا تقریباََ 50 روپے میں مل جاتا ہے. اس طرح پودے لگانے کا فی ایکڑ خرچ تقریباََ 22 ہزار روپے ہو سکتا ہے.ایک پودا کم از کم 6 کلوگرام پیداوار دیتا ہے. اس طرح سے ایک ایکڑ سے تقریبا 2600 کلو یا 65 من تازہ انجیر حاصل کیا جا سکتا ہے. اگر انجیر کو خشک کر لیا جائے تو تقریباََ 1430 کلو صافی خشک انجیر حاصل کیا جا سکتا ہے.اب اگر انجیر کی قیمت کی بات کی جائے تو خشک انجیر پرچون میں 800 روپے سے لیکر 1200 روپے فی کلو تک بکتا ہے.لیکن حالیہ مارکیٹ سروے کے مطابق تھوک میں انجیر کا ریٹ 500 روپے فی کلو ہے.اگر کسان کا انجیر کم از کم 400 روپے فی کلو بھی فروخت ہو تو 1430 کلو گرام خشک انجیر کی آمدن 5 لاکھ 70 ہزار روپے فی ایکڑ بنتی ہے.اور اگر انجیر کو بغیر خشک کئے ہوئے تازہ تازہ بیچا جائے تو اس کا ریٹ کم از کم 100 روپے فی کلو تک لگ جاتا ہے. اس حساب سے 2600 کلوگرام تازہ انجیر 2 لاکھ 60 ہزار روپے میں بک جائے گا.اگر دیکھا جائے تو آمدن کے لحاظ سے انجیر کسی بھی طرح دوسری فصل یا باغ سے پیچھے نہیں ہے.پاکستان میں انجیر تقریباً ہر جگہ اگایا جاسکتا ہے، اگر زیادہ سے زیادہ لوگ انجیر کی کاشت شروع کردیں، تو نہ صرف وہ خود منافع کمائیں گے، بلکہ پاکستان کو دوسرے ملکوں سے انجیر نہیں خریدنا پڑے گا، اور ہر عام آدمی تک یہ بہترین پھل پہنچ سکے گا.سوچئیے گا ضرور، کیونکہ سوچنا جرم نہیں ہے..؟؟شہری آبادی میں رہنے والے لوگ گھر کے صحن یا چھت پر ایک بڑے گملے میں بھی لگا سکتے ہیں، جو اس گھر کے لیے کافی مفید ثابت ہو سکتا ہے، انجیر کا پھل گرمیوں میں تیار ہو جاتا ہے جسے ہم بآسانی درخت سے ہی توڑ کر کھا سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ میرے وطن کے کاشتکاروں کو انجیر لگانے کا موقع اور برکت عطا فرمائے۔آمین۔

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 142 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: RIAZ HUSSAIN

Read More Articles by RIAZ HUSSAIN: 117 Articles with 48909 views »
Controller: Joint Forces Public School- Chichawatni. .. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: