ماں کا روپ

(Prof Abdullah Bhatti, Lahore)

جب سے موجودہ صدی بلکہ تاریخ انسانی کی سب سے پراسرار خوفناک جان لیوا وبا کرونا پھوٹی ہے کاروبار زندگی کے ساتھ معاشرتی زندگی کے انداز بھی ختم ہو کر رہ گئے ہیں جدید دور کا موجودہ انسان جو موجودہ ترقی یافتہ دور کے گھوڑے پر سوار لذت و سرور کی دنیا میں عالم مدہوشی ہیں دوڑا چلا جار ہا تھا کہ میں ہی فاتح زمانہ ہوں اب کو ئی زمینی یا آسمانی آفت میری ترقی کو نہیں روک سکتی اور پھر اچانک سر زمین چین ووہان شہر سے عفریت نما بیماری نے کیا انگڑائی لی کہ دیکھتے ہی دیکھتے پو ری کرہ ارض کو اپنے خونی شکنجے میں جکڑ لیا چند دنوں میں ہی لاشوں پر لاشیں گرنی لگیں کہ ہر ملک کے اپنے بیمار اور مرنے والوں کے اعداد و شمار میں پھنس کر رہ گیا ہر بندہ خوف کا شکار گھروں میں قید ہو کر رہ گیا اِس بیماری کا ایک خوفناک دلخراش پہلو یہ سامنے آیا خون سفید ہو گئے بوڑھے ماں باپ ہسپتالوں میں کمروں میں ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر مرنے لگے کو ئی ان کو پوچھنے والا نہ تھا خاوندوں کو بیویاں چھوڑ کر بھاگ گئیں والدین کو اولاد نے مڑ کر نہ دیکھا دوست رشتہ دا ر سب پرائے ہو گئے کرونا کا نام آیا نہیں کہ آپ سے سب بھاگ گئے ‘ صدیوں پرانی روایات اخلاقیات رشتہ داریاں ختم ہو کر رہ گئیں روز محشر سے پہلے قیامت بر پا ہو گئی ہر کو ئی پرایا ہو گیا کسی نے کسی کو پہنچاننے سے انکار کر دیا لیکن افراتفری نفسا نفسی کے عالم میں بھی کچھ رشتے قائم رہے بلکہ احساس ہو ا کہ دنیا میں ابھی بھی کچھ رشتے قائم و دائم ہیں کرونا لاک ڈاؤن میں ایک دن مجھے میری جوانی کے دوست پہلوان کا فون آیا جو کبھی سالوں بعد ہی کر تا تھا آج بھی کئی سالوں بعد آیا تو بولا یار لاہور آیا ہوں آپ کے درشن کر نا چاہتا ہوں میں نے کہا میں گھر ہوں تم آجاؤ تو تھوڑی دیر کے بعد ہی وہ آ گیا پہلوان جوانی میں غضب کا کبڈی پلئیر تھا یہاں تک کہ کچھ میچ پاکستان کبڈی ٹیم کے ساتھ بھی کھیلا تھا اپنے وقت کا بہت بڑا کھلا ڑی تھا بیس برس پہلے جب میں مری میں تھا تو ایک دن اچانک صبح میں نے دروازہ کھولا اجڑی ویرا ن مردوں جیسی شکل بنا کر کھڑا تھا جیسے کو ئی ساری زندگی جائیداد برباد یا ہار کر آیا ہو مجھے دیکھتے ہی گلے لگ کر دھاڑیں مار کر رونے لگا میں پریشان ہو گیا اُسے اندر لا کر بٹھا یا جوس کا گلاس لا کر ہاتھ میں پکڑایا اور کہا آرا م سے جوس پی لو پھر بات کر تے ہیں جوس کے چند گھونٹ حلق سے اتارنے کے بعد روہانی صورت بنا کر بو لا یار تمہیں پتہ ہے میری ایک سال پہلے شادی ہو ئی تھی دودن پہلے میرے گھر بیٹی پیدا ہوئی ہے میں تو دن رات بیٹے کی دعا کی تھی یہ بیٹی کدھر سے آگئی بیٹے کے لیے میں نے بابا جی سے تعویز بھی لیا تھا حکیم سے علاج بھی کرا یا تھا ماں باپ کے پاؤں بھی دبائے تھے والدین کو نئے کپڑے بھی لا کر دئیے غریبوں کو سخاوت بھی کی امام مسجد سے بھی دعا ئیں کرائیں اﷲ کے سامنے بھی نماز پڑھ کر بہت دعا کی لیکن اﷲ نے میری ایک نہیں سنی اور لڑکی دے دی میں نے بیٹا لینا تھا اُس کو پہلوان بنانا تھا اُس کو پاکستان کبڈی ٹیم کے لیے تیار کر نا تھا دنیا کو بتا نا تھا کہ یہ میرا بیٹا ہے لیکن بیٹا نہیں ہوا اِس کے ساتھ ہی پہلوان نے رونا شروع کر دیا تو میں اُٹھ کر اُس کے پاس صوفے پر بیٹھ گیا اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور بولا یا ر پہلوان ابھی تم جوان ہو نئی نئی شادی ہو ئی ہے اﷲ تم کو بیٹا بھی دے گا پھر بیٹی اﷲ کی رحمت ہو تی ہے اس طرح نہ کرو خدا ناراض ہو جا تا ہے بیٹیاں بھی بیٹے ہی ہو تے ہیں میں پہلوان کو دلاسہ دے رہا تھا لیکن اُس کی آنکھوں کے پرنالوں سے مسلسل بیٹی کے ہونے پر پانی آنسوؤں کی شکل میں بہہ رہا تھا میں حیران تھا کہ اِس میں کو ئی شک نہیں بیٹے کی خوشی سب کو ہو تی ہے اور بیٹی پر اداسی بھی لیکن اِس حد تک بیٹی ک افسوس کہ صف ماتم بچھانے بیٹھا تھا پہلوان یہاں تک کہ اداسی غم پریشانی میں بیگم اور بیٹی کو چھوڑ کر میرے پاس مری آگیا تھا میں دیر تک پہلوان کو سمجھاتا رہا لیکن پہلوان کا غم بڑھتا ہی جا رہا تھااب میں نے حوصلہ دیا کہ میں تم کو وظیفہ بتا تا ہوں اگلی بار تم کو انشاء اﷲ بیٹا ہی ہو گا تو اِس بات پر پہلوان تھوڑا سا نارمل ہوا پھر وظیفہ لے کر دودن میرے پاس رہ کر پہلوان چلا گیا پہلوان کے جانے کے بعد بھی میں کئی دن سوچھتا رہا کہ بیٹیا ں تو رحمت اور باباکی جان ہو تی ہیں یہ پہلوان کن چکروں میں پڑا ہوا ہے قافلہ شب و روز کی گردش جاری رہی ایک سال بعد پہلوان کا فون آیا وہ ٹیلی فون پر آتش فشاں کی طرح پھٹ رہا تھا آگ کے گولے بر سا رہا تھا یار تم کیسے پیر ہو تم نے بھی میرے ساتھ ڈرامہ بازی کی ہے اِس بار تمہارے وظیفے کے باوجود پھر بیٹی ہو ئی ہے میرے ساتھ پھر نا انصافی ہو ئی ہے ظلم ہوا ہے مجھے اب تم پر خدا پر بزرگوں پر والدین کی دعاؤں پر بلکل بھی یقین نہیں رہا سب جھوٹ فراڈ ہے ساری دعائیں رائیگاں گئیں میں پہلوان کو ٹھنڈا کر نے کی کو شش کر تا رہا لیکن اُس کا غصہ ساتویں آسمان پر خوب گرج برس کر فون بند کر دیا ۔ خدا نے پہلوان کو دوسری بیٹی دی تو پہلوان پاگلوں کی طرح پھٹ رہا تھا میں نے لوگوں کے گھر میں نویں دسویں بیٹی پر بھی اﷲ کا شکر کہتے سنا ہے لیکن پہلوان بیٹی کو ماننے کو تیار ہی نہیں تھا گردش ایام کے سبب ایک سال بعد پہلوان کو آخر کار اﷲ تعالی نے بیٹا عطا کیا اُس کا فون آیا کہ تمہارے وظیفے نے اب کام کیا ہے بیٹا ہوا ہے پہلوان بیٹے کی ولادت پر خوشی سے ساتویں آسمان پر دھمال ڈال رہا تھا اگلے سال خدا نے پھر پہلوان کو بیٹا عطا کیا پھر خوشی کی دھمال ڈالی اب پہلوان نے کہیں پھر بیٹی نہ ہو جائے چار بچوں پر بریک لگا دی اور بچوں کو توجہ سے پرورش کر نے لگا پہلوان کی ساری توجہ بیٹوں پر تھی بیٹیوں کو بیگم کے حوالے کر دیا تھا اُس پر دھن سوا ر تھی کہ بیٹوں کو انٹرنیشنل پہلوان اتھلیٹ بنا نا ہے دن رات اِسی دھن میں بیٹوں کے گرد منڈلاتا رہتا دوستوں سے ہی پتہ چلتا کہ بچوں کو خود میوے بادام گوشت دودھ پلاتا ہے دن رات اُن کی رکھوالی کر تا ہے پہلوان اپنی کو ششوں میں کامیاب رہا ‘ لڑکے جوان ہو کر ایک ویٹ لفٹر دوسرا پہلوان کبڈر بن چکا تھا اب اُس کا مشن تھا کہ مزید اِن کی ٹریننگ کر کے اِن کو پاکستان اور انٹرنیشنل مقابلوں کے لیے تیار کیا جاسکے کہ انہی دنوں میں کرونا کی وبا نے پورے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تو سب ہی گھروں میں بیٹھ گئے تو آج پہلوان کافی سالوں بعد پھر میرے پاس آیا اور ہمیشہ کی طرح پھر گلے لگ کر خوب رویا تو میں بولا پہلوان یار پھر تو بیٹی نہیں ہو گئی تووہ گلو گیر لہجے میں بولا یار نہیں کاش میری سات نو بیٹیاں ہو تیں آج تو میں تم سے معافی مانگنے آیا ہو ں جو میں بیس سال پہلے تمہارے پاس آیا تھا بیٹی کے غم میں لیکن اِس کرونا نے مجھے آئینہ دکھا دیا زندگی کے اصل رنگ دکھا دئیے پھر وہ بیٹھ گیا اور بولا تم جانتے ہو میں نے ساری زندگی بیٹوں پر جان چھڑکی بچیوں پر بلکل توجہ اور پیار نہ کیا کرونا بیماری آئی تو میں بھی بخار کھانسی زکام کا شکار ہو گیا خاندان والوں نے افواہ اڑا دی کہ مجھے کرونا ہو گیا ہے تو بیوی لڑکے اور خاندان والے میرے سائے سے بھی ڈرنے لگے مجھے اوپر والی منزل پر خالی کمرے میں بند کر دیا گیا میں بیس دن اُس قید میں رہا اُس قید میں میری دونوں بیٹیوں نے میری خاطر داری کی ‘ بیوی ڈر گئی بیٹوں نے حال نہ پوچھا تو دونوں بیٹیوں نے دن رات کر کے میرا پہرا دیا کسی نے ڈرایا تو دونوں کہتیں ہم جوان ہیں ہمیں بیماری کچھ نہیں کہے گی ایک بیٹی دن کو دوسری رات کو میرے کمرے کے باہر کر سی لگا کر بیٹی رہتی مجھے کھانا پانی چائے جو میں حکم کر تا وہ حاضر کر دیتیں اُن بیس دنوں میں میری بیٹیوں نے میری بیمار پرسی کی اگر یہ نہ ہو تیں تو میں خالی کمرے میں مر جاتا رات جس پہر آواز دیتا بیٹی جی ابو جی کہہ کر حاضر ہو جاتی بغیر ماسک کے میرے پاس آتی دباتی کھانا دیتی خیال کر تی پھر جاکر دروازے پر بیٹھ جاتی اِن بیس دنوں نے میری کایا پلٹ دی یار یہ بیٹیاں جو ہیں اِن میں ماؤں کا نور ہو تا ہے یہ ماں کا دوسرا روپ ہیں یا یہ رب کا نور ہیں یہ یار کس مٹی سے بنی ہیں میں نے ساری زندگی نفرت کی توجہ نہ کی بیٹوں کو پیار کیا لیکن اِن کی طرف کبھی ایک نظر سے بھی نہ دیکھا اور جب میرے اوپر مصیبت آئی بیگم بیٹے رشتہ دار چھوڑ گئے تو یہ رحمت کا سایا بن کر میرے اوپر کھڑہ ہو گئیں میری بیٹیوں نے مجھے موت کے منہ سے نکالا ہے اب بھی جب میں ٹھیک ہو گیا ہو گھر سے نکلنے لگتا ہوں تو دونوں سامنے دیوار کی طرح کھڑی ہو جاتی ہیں ابو آپ کو شوگر ہے آپ کو خطرہ ہے جو چیز لانی ہے ہم لے کر آتی ہیں پھر برقعہ ماسک پہن کر جا کر ہر چیز لے آتی ہیں یار آج میں تم سے معافی مانگنے آیا ہوں جب بیٹی کی پیدائش پر تمہارے پاس مری آیا تھا رویا تھا افسوس کیا تھا یا میں غلط تھا یار آج میری بیٹیاں میری آنکھوں کا نور بن چکی ہیں ان کو دیکھ کر میں زندہ ہو تا ہوں یا رمجھے تم بھی معاف کر دو رب سے بھی معافی لے دو پہلوان پھر میرے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا اور میری آنکھیں بھی شفقت کے دریا سے چھلکنے لگیں اور میں بھی گلو گیر لہجے میں بولا یار پہلوان یہ بیٹیا ں ماں کا دوسرا روپ اور خدا کا نور ہوتی ہیں اﷲ نے ہمیں یہ نور بخشا ہے ۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 122 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Abdullah Bhatti

Read More Articles by Prof Abdullah Bhatti: 518 Articles with 245987 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: