ہمیں لیبارٹری نہیں، کھیت چاہیے؟ خیبرپختونخوا میں سائنس کم اور چرس زیادہ

خیبرپختونخوا ایک عجیب دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک طرف دنیا مریخ پر بستیاں بسانے کی تیاری کر رہی ہے، مصنوعی ذہانت انسان کی جگہ سوچنے لگی ہے، اور بچے پرائمری اسکول میں کوڈنگ سیکھ رہے ہیں۔ دوسری طرف ہم پورے اعتماد کے ساتھ اعلان کر رہے ہیں کہ ہمیں سائنس دان نہیں، ہمیں چرس چاہیے۔ کیونکہ ظاہر ہے، نیوٹن کا سیب تو صرف سر پر گرتا ہے، جبکہ بھنگ پورے نظام پر چھا جاتی ہے۔

صوبائی حکومت نے بڑے سکون سے بھنگ کی کاشت اور اس سے جڑی صنعت کو ریگولیٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔ دلیل یہ دی گئی کہ یہ “میڈیکل” اور “انڈسٹریل” مقصد کے لیے ہے۔ عوام نے بھی سر ہلایا، کچھ نے خوشی سے اور کچھ نے حیرت سے۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ جب ہمارے اسکولوں میں سائنس کی لیب میں بلب تک نہیں، تو ہم کس قسم کی “میڈیکل ریسرچ” کا خواب دیکھ رہے ہیں؟

ہمارے سرکاری اسکولوں کا حال یہ ہے کہ بچوں کو سائنس اس طرح پڑھائی جاتی ہے جیسے کوئی جرم ہو۔ کیمسٹری کی لیب کو تالہ لگا ہوتا ہے، فزکس کے آلات الماری میں قید ہیں، اور بایولوجی میں مینڈک صرف کتاب میں نظر آتا ہے۔ استاد پوری ایمانداری سے کہتا ہے، “بیٹا یہ تجربہ امتحان میں نہیں آئے گا، اس لیے چھوڑ دو”۔ مگر چرس؟ اس پر پورا سسٹم متحرک ہے، کمیٹیاں بن رہی ہیں، قوانین لکھے جا رہے ہیں، فیسیں طے ہو رہی ہیں۔ یعنی جو چیز پڑھانی نہیں آتی، اس پر محنت نہیں، اور جو چیز ویسے ہی پھیل چکی ہے، اس پر سرکاری مہر۔ہم شاید واحد معاشرہ ہیں جہاں بچہ یہ سوال کرے تو غلط نہیں سمجھا جاتا کہ “انکل، سائنس پڑھ کر نوکری ملے گی یا بھنگ اگا کر؟” کیونکہ عملی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ سائنس پڑھنے والا بیروزگار ہے، اور کھیت میں کام کرنے والا “انڈسٹریل پارٹنر” بننے کے خواب دیکھ رہا ہے۔

حکومت کہتی ہے، “یہ ریونیو کا مسئلہ ہے”۔ ٹھیک ہے، ریونیو ضروری ہے۔ مگر کیا واقعی ریونیو کے لیے ہمارے پاس یہی واحد آپشن تھا؟ کیا ہم نے کبھی سنجیدگی سے یہ سوچا کہ اگر صوبے کے بچوں کو جدید سائنس، ٹیکنالوجی اور تحقیق کی سہولت دی جائے تو وہ بھی عالمی مارکیٹ میں حصہ ڈال سکتے ہیں؟ یا یہ خیال بہت خطرناک ہے کیونکہ اس میں وقت لگتا ہے، اور وقت تو ہمارے پاس ویسے ہی کم ہے، الیکشن جو آنے ہیں۔

دنیا میں جہاں کینابس انڈسٹری ہے، وہاں ریسرچ یونیورسٹیاں بھی ہیں، سخت نگرانی بھی ہے، اور سماجی شعور بھی۔ ہمارے ہاں ترتیب الٹی ہے۔ پہلے کاشت، بعد میں ضابطہ، اور آخر میں ایک پریس ریلیز جس میں لکھا جاتا ہے کہ “نوجوانوں کا مستقبل محفوظ ہے”۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے آپ گھر میں آگ لگا کر بعد میں فائر ایکسٹنگوئشر خریدیں۔ایک اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ہم بچوں کو اسکول میں نشے کے نقصانات پر مضمون لکھواتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ “نشہ صحت کے لیے نقصان دہ ہے”۔ اگلے دن اخبار میں خبر آتی ہے کہ حکومت نے بھنگ کی کاشت کو فروغ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ بچہ کنفیوز ہو جاتا ہے۔ وہ استاد سے پوچھتا ہے، “سر، یہ نشہ ہے یا روزگار؟” استاد کے پاس جواب نہیں ہوتا، کیونکہ نصاب اس سوال کے لیے تیار ہی نہیں۔

ہم نے کبھی یہ سوال نہیں اٹھایا کہ اگر واقعی بھنگ سے اتنا فائدہ ہے، تو پھر سائنس کیوں ضروری ہے؟ بس کھیت تیار کریں، فصل اگائیں، اور مسئلہ حل۔ مگر مسئلہ حل نہیں ہوتا، مسئلہ نیا روپ اختیار کرتا ہے۔ کیونکہ جب ایک معاشرے میں علم کی قدر کم اور شارٹ کٹ کی قدر زیادہ ہو جائے تو نتیجہ ہمیشہ ایک جیسا نکلتا ہے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ خیبرپختونخوا پہلے ہی منشیات کے مسائل سے متاثر رہا ہے۔ خاندان برباد ہوئے، نوجوان ضائع ہوئے، اور معاشرہ خاموشی سے یہ سب دیکھتا رہا۔ اب اگر ریاست خود کہے کہ “فکر نہ کریں، اب یہ سب قانونی ہے” تو یہ پیغام کتنا خطرناک ہو سکتا ہے، اس کا اندازہ شاید فائلوں میں بیٹھ کر نہیں لگایا جا سکتا۔

ہمیں یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ اس سے کسان خوشحال ہوں گے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کسان کو کبھی یہ موقع دیا گیا کہ وہ جدید زرعی سائنس سیکھے؟ نئی فصلیں، جدید طریقے، یا ویلیو ایڈڈ پروڈکٹس؟ یا پھر ہم نے آسان راستہ چنا، کیونکہ بھنگ تو پہلے ہی موجود تھی، بس اسے ایک نام دینا تھا۔ایک طرف ہم فخر سے کہتے ہیں کہ ہمارا صوبہ نوجوانوں کا ہے۔ دوسری طرف ہم ان نوجوانوں کو یہ بتا رہے ہیں کہ کامیابی کا راستہ لیبارٹری سے نہیں، لائسنس آفس سے ہو کر کھیت تک جاتا ہے۔ یہ وہ تضاد ہے جو صرف مزاح نہیں، بلکہ ایک سنجیدہ المیہ ہے۔

سائنس دان بنانا مشکل کام ہے۔ اس کے لیے استاد چاہیے، لیب چاہیے، تحقیق چاہیے، اور سب سے بڑھ کر ایک وڑن چاہیے۔ چرس اگانا نسبتاً آسان ہے۔ شاید اسی لیے فیصلہ بھی آسان لگتا ہے۔ مگر قومیں آسان فیصلوں سے نہیں بنتیں۔یہ تحریر اخلاقی خطبہ نہیں، ایک آئینہ ہے۔ ایک ایسا آئینہ جس میں ہم اپنی ترجیحات دیکھ سکتے ہیں۔ اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ ہمارا بچہ ڈاکٹر یا سائنس دان بنے، تو ہمیں اس کے لیے راستہ بنانا ہوگا۔ صرف نعرہ کافی نہیں۔ورنہ کل کو کوئی بچہ یہ کہے گا کہ “ابو، سائنس مشکل ہے، حکومت خود چرس پر فوکس کر رہی ہے”۔ اور شاید وہ غلط بھی نہ ہو۔

سوال اب بھی وہی ہے۔کیا ہم نے سائنس کو واقعی ایک موقع دیا؟یا پھر ہم نے فیصلہ کر لیا ہے کہ ہمیں مستقبل نہیں، فوری فائدہ چاہیے؟ یہ فیصلہ صرف پالیسی کا نہیں، نسلوں کا ہے۔

Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 915 Articles with 727474 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More