’’حقیقت‘‘ کی کورونا کے ہاتھوں ہلاکت کی’’حقیقت‘‘

(Sami Ullah Malik, )

کوروناسے متعلق پائی جانے والی باتیں اب بھول بھلیوں کادرجہ حاصل کرچکی ہیں۔جوبھی اس گم تاڑے میں داخل ہواپھراس کاپتا نہ چل سکا۔معلومات اورغلط بیانی کافرق مٹ ساگیاہے۔بہت کچھ بیان کیاجارہاہے۔اِس میں خالص معلومات،ابہام زدہ باتیں ، شدیدغلط بیانی بھی ہے اورصریح جھوٹ بھی ۔ کورونا سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے خواہش مندبہت کوشش کرنے پربھی درست معلومات تک نہیں پہنچ پاتے۔دعوؤں اورالزام تراشی کا بازار گرم ہے۔قیاس آرائیاں،ابہام اورتضادات ہیں۔ ایک بات پورے یقین سے کہی جاسکتی ہے…اوروہ یہ کہ پورے یقین سے کچھ بھی نہیں کہاجاسکتا۔

کم ہی لوگ ہیں،جواس بات کوسمجھتے نہ ہوں کہ ٹرمپ کیلئےجھوٹ بولناایساہی عمل ہے جیساسانس لینا۔جس طورلوگ سانس لیے بغیرنہیں جی سکتے اُسی طورٹرمپ جھوٹ کے بغیرزندہ نہیں رہ سکتے۔یہی سبب ہے کہ غورکیجیے تواندازہ ہوتا ہے کہ ٹرمپ کوروناکے حوالے سے ایک الگ حقیقت کودنیاکے سامنے پیش کرناچاہتے ہیں۔چین کااپنابیانیہ ہے اورامریکا کا اپنا۔دونوں کی کوشش ہے کہ کوروناکے حوالے سے اُسی کی بات درست تسلیم کی جائے۔کوروناکے حوالے سےٹرمپ کی قومی سطح کی یومیہ بریفنگ دنیابھرمیں دیکھی جاتی ہیں۔جوکچھ وہ کہتے ہیں وہ یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں۔ایک طرف تو کوروناکے ہاتھوں لاک ڈاؤن نافذ ہے اورسماجی فاصلے پرزوردیاجارہاہے اوردوسری طرف ٹرمپ اوراُن کے قریبی ساتھی اپنی سیاسی بنیادوالی(یعنی ری پبلکن) ریاستوں میں ایسے اقدامات کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں جن کے نتیجے میں سماجی فاصلہ برقراررکھناانتہائی دشوارہوجاتاہے۔

ٹرمپ کاایک پراناشوق یہ ہے کہ خودکوخوب سراہاجائے اورہرمعاملے میں ہرالزام دوسروں کے سروں پرتھوپ دیاجائے۔انہوں نے کئی بارچین،عالمی ادارۂ صحت اورسابق امریکی انتظامیہ کوکوروناکے پھیلاؤکاذمہ دارقراردیاہے۔اب اس سے بڑالطیفہ کیاہو گاکہ ٹرمپ نے اوباماانتظامیہ پرکوروناکی موثرویکسین کامعقول ذخیرہ نہ چھوڑنے کاالزام عائدکیاہے۔تب توکوروناتھاہی نہیں پھرویکسین کہاں سے آتی؟

اعلیٰ ترین سطح پربیٹھی ہوئی کوئی شخصیت اگرکوئی بات گھماپھراکرکہے اورکچھ بھی واضح نہ ہونے دے توزیادہ حیرت نہیں ہوتی کیونکہ یہ ایک شخصیت کامعاملہ ہے لیکن اگربیشترحکومتی یاریاستی ادارے الجھے ہوئے اندازسے کام کرنے لگیں تولوگ محسوس کرتے ہیں کہ معاملات کوکچھ کاکچھ پیش کیاجارہاہے،جھوٹ بولاجارہاہے۔

ایک اہم سوال یہ ہے کہ نام نہادماہرین کی مددسے سرکاری اداروں نے یہ بات کس بنیادپرکہہ دی کہ کوروناکی روک تھام میں فیس ماسک کاکوئی اہم کردارنہیں جبکہ امریکالاک ڈاؤن ختم کرنے اورتمام سرگرمیاں بحال کرنے کی طرف جارہاہے، وہی سرکاری ادارے کہہ رہے ہیں کہ کوروناکی روک تھام میں فیس ماسک کاکلیدی کردارہے!کوئی بھی شخص بہت آسانی سے اندازہ لگاسکتاہے کہ جب یہ کہاگیاتھاکہ کوروناکی روک تھام میں فیس ماسک کاکچھ خاص کردار نہیں تب امریکا میں ماسک کی فراہمی بہت کم تھی۔سچ تویہ ہے کہ مریضوں اورطبی عملے کیلئےبھی پورے ماسک نہیں تھے تو عوام کیلئےکہاں سے لائے جاتے؟جب ماسک کوقدرے غیراہم بتایاگیاتھاتب دراصل اس کی ذخیرہ اندوزی کی روک تھام مقصود تھی۔اب معاملہ یہ ہے کہ حکومت اگراِس طوربیان بدلے تواداروں پرسے عوام کااعتماداٹھ جاتاہے۔

مکمل غلط بیانی ایک طرف رہی،امریکابھرمیں کمزور،بے بنیاداوربے سمت کرنے والی معلومات اِس طورپھیلائی گئی ہیں گویا کھیتوں کوکھاددی جارہی ہو۔دائیں بازوکامین اسٹریم میڈیاٹرمپ کوصدرکے منصب پردوسری مدت کیلئےبھی فائزدیکھنے کا خواہش مندہے۔اس نے نام نہادماہرین کاسہارالے کریکے بعددیگرے کمزورمعلومات عوام کے ذہنوں میں ٹھونسنے کابیڑا اٹھا رکھاہے۔اپریل کے وسط میں جب امریکامیں کوروناکے ہاتھوں واقع ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد29ہزارسے زائدہوچکی تھی تب دائیں بازوکے ایک ماہر نے دعویٰ کیاکہ امریکامیں ہرسال سوئمنگ پولزمیں حادثاتی طورپرہلاک ہونے والوں کی تعداد اس سے زیادہ ہوتی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ انہوں نے یہ نہیں بتایاکہ سینٹرفورڈزیزکنٹرول نے امریکامیں بھرمیں سوئمنگ پولزمیں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 3700بتائی ہےاورکسی نے اس ماہرکویہ نہیں بتایاکہ سوئمنگ پول میں حادثات رونما ہوتے ہیں،متعدی امراض نہیں لگاکرتے۔ایک اورنام نہادماہرنے اسکول کھولنے کی حمایت کرتے ہوئے کہاکہ امریکابھرمیں اسکول کھولنے سے’’صرف‘‘دویاتین فیصدبچوں سے محروم ہوجانے کاخطرہ برقراررہے گا!اس جاہلانہ بات پراس نام نہادماہرکوبعدمیں معافی مانگناپڑی۔

عالمگیر وبانے امریکامیں بھی پنجے گاڑرکھے ہیں۔ایسے میں دائیں بازوکےعناصرکابدحواس ہوناذرابھی حیرت انگیزنہیں۔ سیدھی سی بات ہے،وبامکمل طورپرقابومیں نہیں آرہی۔ہلاکتوں کاسلسلہ جاری ہے۔ایسے میں انتہائی دائیں بازووالوں کے فردکادوبارہ صدر بننابہت مشکل دکھائی دے رہاہے۔وبائی امراض سے متعلق سی ڈی سی ماہرین ڈاکٹر فوشی اورڈاکٹر ڈیبو رابرکس کوابتدائی مرحلے میں ٹرمپ نے بہت سراہاتھا۔اُن دونوں کے بارے میں یہ تاثردیاگیاتھاکہ کوروناکی وباسے بچاؤکے سلسلے میں جوبھی رائے وہ دیں گے وہ حتمی اورانتہائی کارآمد ہوگی۔بعدمیں جب ڈاکٹر فوشی کی رائے ٹرمپ کے دوبارہ انتخاب کے حوالے سے کچھ زیادہ کارگر ہوتی دکھائی نہیں دی تب انہیں دھمکیاں بھی دی گئیں۔اس حوالے سے ٹرمپ خاموش رہے۔دونوں ماہرین کی صلاحیتوں سے کوئی انکارنہیں کرسکتامگرکوروناواقعی اتناعجیب ثابت ہواکہ اُس کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم کرنے میں دونوں کوشدید مشکلات کاسامناکرناپڑا۔

کوروناکے مریضوں اورہلاکتوں کی ممکنہ تعدادبتانے کے حوالے سے امریکامیں بیشترسرکردہ ڈاکٹروں نے جوماڈل اختیارکیاوہ غلط نکلا۔پہلے یہ کہاگیاکہ کوروناکے بارے میں ضرورت سے کچھ زیادہ ہی شورمچایاگیاہےپھرجب انہوں نے ممکنہ اموات کے اعدادوشماربتائے تولوگ حیران رہ گئے کیونکہ حقیقی اموات سے یہ اعدادوشمارخاصے کم رہے۔بہت سوں نے قوم کواس وباکے بارے میں بتانے کے حوالے سے انتہاپسندی کامظاہرہ کیااورحدسے گزرگئے۔دونوں ہی معاملات میں لوگ اس قابل نہ رہے کہ کسی پرپوری طرح بھروساکرسکیں۔

کوروناسے واقع ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں بھی جواعدادوشمارسامنے آئے ہیں اُنہوں نے عوام کااعتمادمتزلزل کرنے میں کلیدی کرداراداکیاہے۔ری پبلکن پارٹی کی حکومت والی ریاستوں میں کم ہلاکتیں دکھائی گئیں۔بعدمیں ڈاکٹروں کے اس بیان نے بھی معاملات کومزیدالجھادیاکہ انہیں ہدایت کی گئی تھی کہ اموات کے اسباب بیان کرتے وقت ریاست کے سیاسی جھکاؤکاخیال رکھا جائے۔حقیقت یہ ہے کہ اب تک کوئی بھی اس پوزیشن میں نہیں کہ صرف کوروناکے ہاتھوں ہونے والی ہلاکتوں کی اصل تعداد بتاسکے۔جولوگ مختلف امراض میں پہلے ہی سے مبتلاتھے ان کی اموات کے اسباب میں کوروناکو بھی شامل کرلیاگیااورپھریہ تمام اموات کورونا کے کھاتے میں ڈال دی گئیں۔اس کے نتیجے میں شدیدنوعیت کاابہام پیدا ہوا ہے۔

کورونامیں مبتلاہونے پرجن لوگوں کواسپتال لایاگیا،ان میں سے بیشترپہلے ہی سے مختلف امراض میں مبتلاتھے۔نیویارک اوراس کے نواح میں موجوداسپتالوں میں کام کرنے والی نارتھ ویل ہیلتھ آرگنائزیشن نے بتایاہے کہ نیویارک میں کورونا میں مبتلا مریضوں میں57فیصد پہلے ہی سے ہائپرٹینشن کے،33فیصد ذیابیطس کے اور41 فیصد موٹاپے کے مریض تھے۔یہ سب کچھ اس بات کا واضح غمّازہے کہ ماہرین اب تک کوروناکے ہاتھوں ہونے والی اموات کے حوالے سے محض قیاس آرائی کی بنیادپرکام کررہے ہیں۔کسی کوبالکل درست اندازہ نہیں کہ کورونا کے ہاتھوں واقعی کتنی ہلاکتیں واقع ہوئیں۔

امریکامیں کوروناٹیسٹنگ کامعاملہ بھی ابہام سے خالی نہیں۔نیویارک میں ٹیسٹنگ کے حوالے سے بہت سی باتیں پھیلائی گئیں۔عوام کوروناٹیسٹ کانتیجہ مثبت آنے پربھی یقین کرنے کوتیارنہیں ہوتے تھے کہ انہیں یہ لگ چکاہے۔بات ایسی الجھی ہوئی نہیں کہ سمجھ میں نہ آسکے۔ماہرین خودبھی پوری طرح نہیں جانتے تھے کہ کوئی بھی شخص کس بنیادپرکورونامیں مبتلا ہوسکتاہے۔اینٹی باڈیز کے حوالے سے کی جانے والی بحث الجھی ہوئی ہے اورکوئی بھی اس حوالے سے ہربات کودرست ماننے کیلئےتیارنہیں۔

سماجی فاصلے کے حوالے سے بھی یہی کہاجاسکتاہے۔اس حوالے سے اپنائے جانے والے پروٹوکول عجیب رہے ہیں اوران پر پوری طرح عمل بھی نہیں کرایاجاسکا۔ایک تازہ تحقیق سے معلوم ہواہے کہ بہت سے لوگ کوروناکاشکاراس لیے نہیں ہوئے کہ انہوں نے لوگوں سے تعلقات برقراررکھے تھے۔اسٹورزمیں لوگ بڑی تعدادمیں جمع ہوتے رہے مگرایساکرنے سے کچھ خاص نقصان نہیں پہنچا۔

نرسنگ ہومزاوراسپتالوں پرکورونا کاحملہ خاصاتیزاورہمہ گیرتھا۔بعض معاملات میں توپورے خاندان کورونا کے شکارپائے گئے۔نرسنگ اسٹاف کیلئےمشکلات غیرمعمولی رہیں۔امریکامیں ریاستی حکومتیں قرنطینہ مراکزقائم کرنے میں ناکام رہیں ۔ نیویارک میں جب کوروناکاعفریت بے لگام ہوکرناچ رہاتھاتب ریاستی گورنرنے بتایاکہ جن لوگوں میں کوروناکی تصدیق ہوئی ہے ان میں سے 66فیصدکوریاست کے طے کردہ پروٹوکول کے مطابق گھروں میں قرنطینہ کیاگیاہے۔ہوسکتاہے کہ ان میں سے کچھ باتیں درست یا حقیقت پرمبنی بھی ہوں مگرکوروناکی وباکوسیاسی رنگ دیے جانے کے باعث عوام اس حوالے سے اتنے’’بے حِس‘‘ہوچکے ہیں کہ اب وہ کسی بھی بات پرپوری طرح یقین کرنے کوتیارنہیں۔

کوروناکے ہاتھوں ہونے والی ہلاکتیں اپنی جگہ مگرحقیقت یہ ہے کہ’’حقیقت‘‘کوکوروناکے ہاتھوں واقع ہونے والی پہلی ہلاکت کا درجہ حاصل ہوچکاہے۔اس پورے معاملے میں اتنی تضادبیانی اورغلط بیانی کی گئی ہے کہ ماہرین کی باتوں پربھی لوگوں کااعتماد اٹھ گیاہے۔نہ توکسی بھی بات میں قطعیت پائی جاتی ہے اورنہ ایسے ماہرین ہی پائے جاتے ہیں جن پرپوری طرح بھروساکیاجاسکے۔

سائنس دان اب بھی حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کررہے ہیں۔کوروناکا اگرکوئی مثبت پہلوہے تویہ کہ اب ہم جان چکے ہیں کہ فطری علوم وفنون میں پیش رفت ارتقائی طریق سے ہوتی ہے،انقلابی طریق سے نہیں یعنی سب کچھ بتدریج ہوتاہے ۔ کورونانے یہ ثابت کردیاہے کہ ہم فطری علوم وفنون کے ماہرین کوبہت زیادہ وقعت دے بیٹھتے ہیں اورجب بھی کسی موضوع پرکچھ نہیں سُوجھتا توماہرین کی کہی ہوئی ہربات کودرست تسلیم کرلیتے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ کیاپاکستان کی مقتدرقوتیں کورونا کے نام پرپھیلائی ہوئی دہشت کاچہرہ بے نقاب ہونے کی حقیقت سے کوئی سبق سیکھنے کوتیارہیں یاپھر غلامانہ روش اب بھی سرجھکانے پرمجبور رکھے گی؟

 

Total Views: 340 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 399 Articles with 107969 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: