بچوں پر تشدد۔۔۔معاشرتی المیہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(Munazza Syed, Sahiwal)
ربِ کائنات نے جہاں اس زمین کو بیشمار رنگوں اور روشنیوں سے سجایا وہیں بنی نوع انسان کے ساتھ تمام جانداروں کی نسل کو بڑھانے کے لئے ننھے بچوں کے اس دنیا میں آنے کا نظام قائم کیا۔چھوٹے بچوں کو کسی بھی گھر کی رونق تصور کیا جاتا ہے۔جس گھر میں بچوں کی قلقاریاں گونجتی ہیں اُسے خوش قسمت قرار دیا جاتا ہے۔بچہ اپنا ہو یا کسی اور کا،ہر انسان کو بچوں پر بے ساختہ پیار آتا ہے بلکہ شفقت اور محبت کے حوالے سے بزرگوں سے سنتے آ رہے ہیں کہ”بچے سب کے سانجھے ہوتے ہیں۔۔”اس لئے پہلے وقتوں میں اور آج بھی بہت سے گلی محلوں میں بڑوں کی آپس میں ناراضی یا جھگڑا ہونے کے باوجود ایک دوسرے کے بچوں سے ہمیشہ اپنائیت اور شفقت کا رویہ روا رکھا جاتا تھا اور رکھا جاتا ہے اور ایک دوسرے کے بچوں کے ساتھ کبھی دشمنی کرنے کا خیال تک بھی کسی کو نہیں آتا تھا۔بے شک ہمارے نبی حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بچوں پر خصوصی شفقت فرمایا کرتے تھے۔
اسی لئے ہماری معاشرتی اقدار کی اصل پہچان بھی یہی محبت ،خلوص اور رواداری ہے۔مگر آئے روز اخبارات اور سوشل میڈیا پر بچوں پر تشدد کے واقعات کی خبریں اور وڈیوز دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ربِ کائنات نے جہاں اس زمین کو بیشمار رنگوں اور روشنیوں سے سجایا وہیں بنی نوع انسان کے ساتھ تمام جانداروں کی نسل کو بڑھانے کے لئے ننھے بچوں کے اس دنیا میں آنے کا نظام قائم کیا۔چھوٹے بچوں کو کسی بھی گھر کی رونق تصور کیا جاتا ہے۔جس گھر میں بچوں کی قلقاریاں گونجتی ہیں اُسے خوش قسمت قرار دیا جاتا ہے۔بچہ اپنا ہو یا کسی اور کا،ہر انسان کو بچوں پر بے ساختہ پیار آتا ہے بلکہ شفقت اور محبت کے حوالے سے بزرگوں سے سنتے آ رہے ہیں کہ”بچے سب کے سانجھے ہوتے ہیں۔۔”اس لئے پہلے وقتوں میں اور آج بھی بہت سے گلی محلوں میں بڑوں کی آپس میں ناراضی یا جھگڑا ہونے کے باوجود ایک دوسرے کے بچوں سے ہمیشہ اپنائیت اور شفقت کا رویہ روا رکھا جاتا تھا اور رکھا جاتا ہے اور ایک دوسرے کے بچوں کے ساتھ کبھی دشمنی کرنے کا خیال تک بھی کسی کو نہیں آتا تھا۔بے شک ہمارے نبی حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بچوں پر خصوصی شفقت فرمایا کرتے تھے۔

اسی لئے ہماری معاشرتی اقدار کی اصل پہچان بھی یہی محبت ،خلوص اور رواداری ہے۔مگر آئے روز اخبارات اور سوشل میڈیا پر بچوں پر تشدد کے واقعات کی خبریں اور وڈیوز دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ذہن اس سوال کا جواب نہ پا کر ماؤف ہونے لگتا ہے کہ یہ ہمارے اردگرد کیا ہو رہا ہے، ہمارا معاشرہ کس طرف جا رہا ہے۔۔؟کون لوگ ہیں جو معصوم پھولوں کو ذرا سی شرارت پر مارمار کر موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔ایسے لوگ حقیقتا ًدرندے ہیں یا غصے کے وقت ان کے اندر کا بھیڑیا ان کی انسانیت اور شفقت ِپدری کو گہری نیند سلا کر ظلم و سفاکیت کی وہ داستان رقم کرتا ہے کہ جسے سن کر ہر رحم دل انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔

چند دن پہلے ایک درندے نے چھوٹی سی بچی کو محض اس لئے تشدد کر کے جان سے مار ڈالا کہ اس بچی نے پنجرہ کھول کر طوطے اڑا دیئے۔ایک غبارے بیچنے والے بچے پر غبارہ مہنگا دینے کی پاداش میں امیر زادوں نے کتے چھوڑ دیئے ۔اس سے پہلے ایک شخص کی وڈیو سامنے آئی جو چھوٹے چھوٹے بچوں کو الٹا لٹکا کربُری طرح پیٹ رہا تھا اور میکے گئی ہوئی ماں کے پیچھے انہیں ننھیال جانے سے منع کر رہا تھا۔بہت سے واقعات ایسے بھی سامنے آئے کہ غربت اور بھوک سے تنگ آ کر ماں یا باپ نے اپنے ہی جگر گوشوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔سکولوں اور مدارس میں، ہوٹلوں اور سڑکوں پر مزدوری کرنے والے کم عمر بچوں اور گھروں میں کام کرنے والے بچوں بچیوں کے ساتھ ایسے ایسے جنسی و جسمانی تشدد کے واقعات سامنے آئے کہ جنھیں دیکھ کر انسانیت بھی شرما جائے۔اِن تمام واقعات کو صفحہِ قرطاس پر اتارتے ہوئے روحانی تکلیف سے رونگٹے کھڑے ہو رہے ہیں ،کلیجہ منہ کو آ رہا ہے،مگر ایک سوال ہے جو ذہن پر بار بار دستک دیتا ہے کہ معصوم بچوں پر تشدد غربت سے پیدا ہونے والے مسائل کا رد عمل ہے،جہالت کا نتیجہ ہے،خوفِ خدا کی عدم موجودگی،قانون کی بالا دستی کا فقدان، فرسٹریشن ہے یا اپنے سے طاقتور کا دبا ہوا غصہ اپنے سے کمزور پر نکالنے کا عمل ہے۔۔؟

کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ اچھے بھلے انسان کا ایک دم ظالم درندے کا روپ دھار لینا انسانی جبلت کا حصہ ہے یا ذہنی دبا ؤکا نتیجہ ۔۔مگر ایک بات تو طے ہے کہ کوئی بھی انسان پیدائشی طور پر بُرا نہیں ہوتا۔اُسے ارد گرد کا ماحول اور معاشرتی سختی اور نا ہمواریاںبُرا بننے پر مجبور کرتی ہیں اور پھر وہ اپنے ساتھ گزرے تلخ رویوں اور واقعات کا انتقام پورے معاشرے سے لینے کے درپے ہو جاتا ہے جس کے لئے اس کا آسان ترین ہدف بچے ہوتے ہیں ،جوخود کو اس کے ظلم سے بچا سکتے ہیں اور نہ ہی ظالم کا ہاتھ پکڑ کراس ظلم کو روکنے کے قابل ہوتے ہیں۔

اِن سب پُرتشدد واقعات کے پیچھے وجہ جو بھی ہو مگر قابلِ غور بات یہ ہے کہ جنسی یا جسمانی تشدد کا شکار ہونے والے بچے بڑے ہو کر معاشرے کے لئے مفید شہری بن سکیں گے یا اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کے رد عمل کے طور پر مجرم بن کر سب سے انتقام لیتے رہیں گے ؟ ایسے ظالمانہ واقعات پر کب تک قانون خاموش رہے گا؟کب تک وطنِ عزیز کے بچے کیڑے مکوڑوں کی طرح دوسروں کے ظلم کاشکار بنتے رہیں گے؟ کب اس ملک میں بچوں کے حقوق کو تسلیم کیا جائے گا۔۔۔؟ کب ایسا قانون بنایا جائے گا کہ دیگر ممالک کی طرح بچے تشدد سے بچنے یا تشدد کے بعد ایک فون کال کر کے قانون کو مدد کے لئے بلا سکیں۔۔آخرکب تک ہم ایسی وڈیوز دیکھ کر بے بسی سے کڑھتے رہیں گے؟کب تک مجرموں کو چند ٹکے رشوت کے لے کر چھوڑ دیا جاتا رہے گا؟کب تک وطنِ عزیز میں قانون کی بالا دستی قائم نہیں ہو گی؟ شاید ان تمام سوالات کے جوابات ہم میں سے کسی کے پاس بھی نہیں ہیں۔

التجا ہے تو صرف یہ کہ حکومتِ پاکستان اس نازک مسئلے پر بھرپور توجہ دیتے ہوئے قانون سازی کرے اور اس قانون کے نفاذ سے غفلت برتنے والوں کو عبرت ناک سزائیں دے کر وطنِ عزیز کے بچوں کو مجرم بننے سے بچائیں۔اوراس کے ساتھ ساتھ تمام سکولوں میں پرائمری سے مڈل یا میٹرک تک نصاب میں عدم تشدد یا امن و آشتی کے لازمی مضمون کااضافہ کیا جائے جس میں طلبا کو دوسروں کے ساتھ مار پیٹ کی مذہبی و قانونی سزاؤں کو ذہن نشین کروایا جائے،شاید اسی طریقے سے ہمارا معاشرہ پر امن اور تشدد سے پاک ہو سکے اور ہماری آنے والی نسلیں انسانیت کی شیدائی بن سکیں..اللہ پاک دنیا کے تمام بچوں کو ہر قسم کے ظلم و ستم اور دست درازی سے محفوظ رکھے۔آمین
 

Total Views: 129 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Munazza Syed

Read More Articles by Munazza Syed: 9 Articles with 1859 views »
columnist and Peotess

.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: